Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

اے محمد بن قاسمؒ دے صدا تو ہے کہاں؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 593 - Naveed Masood Hashmi - Aye Muhammad Ibn  Qasim

 اے محمد بن قاسمؒ دے صدا تو ہے کہاں؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 593)

’’را‘‘ کے سابق سربراہ اے ایس دلت اپنے ایک انٹرویو میں کہتا ہے کہ ’’مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال 1990ء؁ کے حالات سے بھی بدتر ہو چکی ہے ،اس کا کہنا تھا کہ1990ء؁ کے مقابلے میں آج حالات اس لئے زیادہ خراب ہیں کیونکہ اس میں کشمیری نوجوان قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔۔۔۔ کشمیری نوجوان مرنے سے نہیں ڈرتے، شہر والے ہوں، دیہات والے ہوں، طلباء ہوں یہاں تک کہ لڑکیاں بھی سڑکوں پر آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے آرہی ہیں۔۔۔ ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔۔۔۔ ’’را‘‘ کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ آج کشمیر کی صورت حال اس لئے بھی بہت خطرناک ہے کہ کشمیری نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھارتی فوج کی لاٹھیوں اور گولیوں کا مقابلہ پتھروں سے کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر غیر معمولی صورت حال کیا ہو سکتی ہے۔ کشمیر کے نوجوان کو نہ تو بھارتی فوج سے ڈر لگتا ہے اور نہ وہ چھپتے ہیں۔۔۔ بلکہ وہ بھارتی فوج پر پتھراؤ کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔‘‘۔۔۔

’’را‘‘ کے سابق سربراہ کا یہ انٹرویو مقبوضہ کشمیر کے نہتے مسلمانوں کی جرأت و بہادری کو چیخ چیخ کر بیان کر رہاہے۔۔۔ کشمیر کی بیٹیوں کی جرأت و بہادری کو میرا سلام پہنچے کہ جو دہشت گرد بھارتی فوجیوں کا مقابلہ چھوٹے چھوٹے پتھروں سے کر رہی ہیں۔۔۔ کشمیرکی پاکباز شہزادیاں آزادی کے حصول کیلئے آنسو گیس کے شیل برداشت کر رہی ہیں، بھارتی فوج کے ہاتھوں دھکے اور لاٹھیاں اپنے ناتواں جسموں پر سہہ رہی ہیں۔۔۔ انہیں پاکستان سے محبت ہے۔۔ پاکستان سے پیار ہے۔۔۔ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ سمجھتی ہیں۔۔۔ کشمیرکی وہ معصوم شہزادیاں کیا جانیں۔۔۔ ’’شریف‘‘، ’’جندال‘‘ ملاقاتوں کی باریکیوں کو۔۔۔ کشمیر کی وہ پاکباز بیٹیاں کیا جانیں ’’شریفوں‘‘ کے بھارتیوں سے کاروباری رشتوں کی نزاکتوں کو۔۔۔ کشمیر کی بیٹیاں تو آزادی چاہتی ہیں، بھارتی غلامی کی زنجیریں کاٹنا چاہتی ہیں۔۔۔ پاکستان کے ساتھ شامل ہو کر پاکستان کو مضبوط بنانا چاہتی ہیں۔۔۔۔

چونکہ کشمیر کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں آزادی کے خواب آنکھوں میں  سجائے اپنے پیاروں کو میدان جہاد کا شہسوار بناتی ہیں۔۔۔ شائد اسی لئے کشمیرکی سر زمین پر کوئی ایم کیو ایم نہیں ہے۔۔ کوئی جیئے سندھ نہیں ہے۔۔۔ کشمیرکی دھرتی پر کوئی حسین حقانی یا حربیار بگٹی نہیں ہے۔۔ بلکہ وہاں رہنے والے مردوں کی اکثریت ہو عورتوں کی اکثریت ہو، بچوں کی اکثریت ہو یا بوڑھوں کی اکثریت۔۔۔ وہ یہ نعرہ جھوم جھوم کر لگاتے ہیں کہ

’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘

 کشمیری پاکستان کی خاطر جانیں قربان کر رہے ہیں۔۔۔ اور ایم کیو ایم بھارت سے مدد لے کر پاکستان بالخصوص کراچی میں لاشیں گراتی رہی۔۔۔ کشمیر کی عفت مآب مائیں، بہنیں، بیٹیاں پاکستان کا پرچم چلتی گولیوں سے لہراتی ہیں۔۔۔ جبکہ وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز میڈیا میں پاکستان میں انڈین کلچر کی بدبو پھیلانے میں مصروف ہے۔

کشمیر کی بیٹیوں کی آہیں ہوں، التجائیں ہوں، دہائیاں ہوں یا سسکیاں۔۔۔ حتیٰ کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بھی’’آزادی‘‘ کی تڑپ میں بہتے ہیں۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں بھارتی فوجی’’کشمیریوں‘‘ کے لئے موت کا پیغام بن کر گھوم رہے ہیں۔۔۔ابھی پچھلے ہفتے ضلع شوپیاں کے 25 دیہاتوں کو زمینی سطح پر بھارت کے ہزاروں فوجیوں جب کہ فضائی سطح پر بھارتی ہیلی کاپٹروں نے گھیر لیا۔۔۔ پھر ان25دیہاتوں کی گھر گھر تلاشی کے دوران بے بس اور بے کس کشمیریوں پر بے پناہ لاٹھی چارج اور طاقت کا وحشیانہ استعمال کر کے۔۔۔ بھارت کے درندوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ان کا ’’انسانیت‘‘ سے کبھی واسطہ ہی نہیں رہا، بڈگام سے درجنوں بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے بھارتی فوج نے ان پر بھی زبردست تشدد کیا، سوپور میں سکولوں اور کالجوں کی ہزاروں طلباء و طالبات کو آزادی کے نعرے مارنے کے جرم میں خوفناک تشدد کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہ کیا گیا۔۔۔ ضلع کولگام میں مجاہدین نے دو بھارتی فوجی پھڑکائے تو بھارتی درندے مزید بھڑک اٹھے، بتایا جاتا ہے کہ ہندواڑہ ڈگری کالج کے طلباء نے پلوامہ اور دیگر علاقوں میں طلباء کی گرفتاری اور ان پر تشدد کے خلاف جب طلباء و طالبات نے ایک ریلی نکالنا چاہی تو بھارتی فوج ان طلباء و طالبات پر ٹوٹ پڑی۔۔۔ اور بے پناہ تشدد کر کے درجنوں طلباء و طالبات کو زخمی کر دیا۔۔۔ بھارتی تشدد سے شدید زخمی ہونے کے بعد کشمیر کی ایک بیٹی کی حالت نازک بتائی جارہی ہے، لیکن ہندواڑہ کالج کے طلباء و طالبات کی پاکستان سے محبت اور جذبہ جہاد کو سلام عقیدت پیش نہ کرنا بھی بخل ہوگا کہ ان کے بعد اسی ڈگری کالج پر نہ صرف پاکستانی پرچم لہرا دیا۔۔۔ بلکہ دل دل، جان جان۔۔۔ پاکستان، پاکستان کے نعرے بھی بلند کئے۔ جب میں کشمیر کی بیٹیوں اور بیٹوں کے آزادی کے لئے یہ سچے جذبے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اگر یہ نجم سیٹھی اینڈ کمپنی اور وزیراعظم ہاؤس کے میڈیا سیل کے ’’کن کھجورے‘‘ پاک سرزمین کی جان چھوڑ کر دہلی چلے جائیں اور مقبوضہ کشمیر کے بچے اور بچیاں پاکستان میں شامل ہو جائیں۔۔۔ تو کتنا مزہ آئے،

حیرت در حیرت، در حیرت۔۔۔ مقبوضہ کشمیر کو بھارت اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے مگر کشمیری طلباء و طالبات، کشمیر کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں، پاکستانیوں سے بڑھ کر’’پاکستان‘‘ کے لئے تڑپتی ہیں۔۔۔ جبکہ یہاں کے کچھ’’بے عزت‘‘ لوگ بھارت میں چند شامیں گزارنے کے لئے ضمیر فروشی پر ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے جنوری1949 ء؁ میں لاہور میں انسانوں کے سمندر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’فرنگی اور ہندو کسی صورت میں بھی آپ کو کشمیر نہیں دینا چاہتے، وہ کشمیر جو ذہنوں میں جنت کا نشان ہے۔۔۔ جس کے متعلق میری رائے ہے کہ پروردگار عالم نے آسمانوں پر بھی اپنی موجودگی میں تیار کرا کے اسے زمین پر اتارا وہ جنت کا ایک ٹکڑا ہے۔۔۔ اس جنت ارضی میں اب نہیں بلکہ1930ء؁ سے مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، ہم نے ڈوگرہ شاہی اور ہندوؤں کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی تھی۔۔۔ مسلمانوں کو متوجہ کیا تھا کہ کشمیر تمہارا ہے اسے بچا لو۔۔۔ اور اس کے مستقبل کو محفوظ کر لو! مگر اس وقت کے رئیس مسلمانوں نے جن کا فرنگی ایوانوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا ہماری بات نہیں سنی، لیکن مجلس احرار اسلام کی اپیل پر آزادی کشمیر کیلئے چلائی جانے والی پہلی عوامی تحریک میں50ہزار مسلمان قید ہوئے اور ہمارے 22نوجوان شہید ہوئے۔۔۔ تب ہماری بات مان لی ہوتی تو آج کشمیر کا نقشہ یوں نہ ہوتا۔

رئیسوں کو تو پہلے بھی کچھ نہ ہوا اور اب بھی کچھ نہ ہو گا، مگرجذبہ جہاد سے سرشار مسلمان روز اول سے اب تک قربانی دیتے آئے ہیں۔۔۔ انہیں کی جانیں اس جنت نظیر کی آزادی کی جنگ میں کام آئی ہیں۔

رتبہ شہید ناز کا گر جان جائیے

قربان جانے والے کے قربان جائیے

حضرت امیر شریعتؒ نے1949 ء؁ میں اپنے خطاب میں جو کچھ فرمایا تھا وہ حرف بحرف سچ نکلا۔

آج بھی رئیس زادے، نواب زادے، دولتانے، مخدوم زادے، سیاست دان اور ایوانوں میں موجود کاٹھے انگریز اپنی جائیددایں بڑھا رہے ہیں۔۔۔ ان کے سرے محلوں اور پانامہ کے قصے زبانِ زد عام ہیں، ہاں البتہ جذبہ جہاد سے سرشار مسلمان آج بھی جنت نظیر وادی کی آزادی کے لئے اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔

کشمیر کی شہزادیاں پکار رہی ہیں۔۔۔ کشمیر کی پاکباز بیٹیاں خون کے آنسو بہاتے ہوئے یہ کہہ رہی ہیں کہ

اے محمد ابن قاسمؒ دے صدا تو ہے کہاں؟

تیری بہنیں بے ردا ہیں جل رہی ہیں وادیاں

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online