Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

آزادی یا شہادت؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 595 - Naveed Masood Hashmi - Azadi ya Shahadat

آزادی یا شہادت؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 595)

اجس وقت القلم کا یہ شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہوگا ممکن ہے کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سایہ فگن ہو چکا ہو، اس لئے سب سے پہلے تو تمام قارئین کو رمضان المبارک کی آمد مبارک ہو۔

حضرت محمد کریم ﷺارشاد فرماتے ہیں کہ ’’رمضان المبارک کے مہینے میں میری امت کو 5 ایسی نعمتیں عطاء کی گئی ہیں۔۔۔ جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ دی گئی تھیں۔۔۔ اول، رمضان کی پہلی رات میں ہی اللہ تعالیٰ ان پر نظر کرم کرتا ہے۔۔۔اور جس پر اللہ نظر کرم کرتا ہے، اسے کبھی عذاب سے دوچار نہیں کرتا، دوسری فرشتے ہر رات اور ہر دن اس کے لئے مغفرت کی دعاء کرتے ہیں، تیسری، اللہ ان کے لئے جنت واجب کر دیتا ہے۔۔۔ اور جنت کو حکم دیتا ہے کہ روزہ دار بندے کی خاطر خوب آراستہ و پیراستہ ہو جاؤ تاکہ دنیا کی مشکلات اور تھکاوٹ کے بعد میرے گھر اور میری مہمان نوازی میں آرام ملے۔

چہارم، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، پنجم رمضان کی آخری رات روزہ دار کے سارے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘

خوش قسمتی سے عظیم مہمان رمضان المبارک کی تشریف آوری ہو چکی ہے۔۔۔ ہمیں اس’’مہمان‘‘ کا ویسے ہی احترام، قدر اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ جیسے رسول اکرمﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرامؓ نے عملاً کر کے دکھائی تھی، ہم تو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کے حوالے سے متفکر رہتے تھے لیکن حکمرانوں، سیاست دانوں اور میڈیا کی خرمستیوں نے آج ہمیں یہ دن بھی دکھا دیئے ہیں کہ بھارت نہ صرف کابل سے لیکر جلال آباد ، ہرات اورقندھار تک آن پہنچا ہے۔۔۔ بلکہ بلوچستان سے لیکر کراچی اور فاٹا تک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا وہ اپنا حق سمجھتا ہے، صرف بھارت ہی نہیں۔۔۔ ایران بھی پاکستان دشمنی میں کسی سے کم نہیں، ایک طرف ایرانی وزیر خارجہ اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد کا دورہ کر کے محبت بھرے معاہدے کرتے ہیں تو دوسری طرف ایران کا آرمی چیف جنرل باقری پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے، لیکن ان تمام خطرات اور خدشات کے بیچ خوشخبری یہ ہے کہ وادی کشمیر کی عفت مآب ماؤں، عصمت مآب بہنوں اور پاکباز بیٹیوں نے ’’آزادی‘‘ یا’’ شہادت‘‘ کا فیصلہ کر کے صرف بھارت ہی نہیں بلکہ تماش بین عالمی اوباشوں کو بھی یہ پیغام دے دیا ہے، کہ ہم خواتین ہونے کے ناطے کمزور سہی۔۔۔ مگر بھارتی غلامی پر قناعت کرنے سے شہادتوں کے جام نوش کر لینا زیادہ بہتر ہے۔۔۔کشمیر کی بہادر اور عظیم مائیں۔۔۔ گزشتہ30برسوں سے اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا رہی ہیں۔۔۔ اپنے راج دلاروں کے خون آلودہ ماتھوں پربوسے دیتی چلی آرہی ہیں۔۔۔ اپنے جگر گوشوں کی کٹی پھٹی لاشوں کے ٹکڑے سمیٹتی چلی آرہی ہیں۔۔۔ مگر مجال ہے کہ وہ ایک لمحے کیلئے بھی تھکی ہوں؟ یہ میں نہیں کہہ رہا۔۔۔ بلکہ اس کی گواہی سری نگر کے ایک صحافی’’راحول بیری‘‘ نے دی ہے، وہ لکھتا ہے کہ ’’غصے نے انہیں بے خوف اور بہادر بنا دیا ہے۔۔۔ بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں یہ نئی نسل کے چہرے ہیں جو 30 سال سے جاری اسلامی جدوجہد میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں،

سری نگر میں دیگر لڑکیوں کے ہمراہ اسکول یونی فارم میں ملبوس مالدار گھرانے کی لڑکی نے ایک ہاتھ میں باسٹک بال تھامی ہے اور دوسرے ہاتھ سے وہ ایک پتھر پولیس والوں پر پھینک رہی ہے۔۔۔ انتہائی غیر معمولی منظر تھا۔۔۔ اسکول کی لڑکیوں کا ایک گروپ۔۔۔ کاندھے پر بیگ لٹک رہے ہیں، اور انہوں نے بھارتی فوج کی بکتر بند کو گھیرا ہوا ہے۔۔۔ جس کے دروازے پر وہ لاتیں مار رہی ہیں۔۔۔ اور اندر دبکے ہوئے بھارتی فوجیوں کو للکار رہی ہیں کہ’’ہمت ہے تو چلاؤ گولی‘‘؟

اس احتجاج میں شامل ایک چودہ سالہ بچی سے جب خبر رساں ادارے ٹیلی گراف نے گفتگو کی تو اس بچی نے کہا کہ’’حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک بار ہی جان دے دینے سے بہتر ہے کہ روز مقابلہ کیا جائے۔۔۔ روز جیا جائے اور آہستہ ، آہستہ مرا جائے‘‘

راحول بیدی کی رپورٹ کے مطابق ہندو انتہاء پسند نریندر مودی کواقتدار میں آئے تین سال ہو چکے ہیں۔۔۔ کشمیر میں آج ایسی بڑھتی ہوئی بے چینی اور غصہ ہے کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرمیوں کے مہینے کشمیر میں انتہائی نازک ہو سکتے ہیں۔۔۔ سری نگر کی تنگ و پرہجوم گلیوں اور گردونواح کے قصبات میں چھائی پر اسرار خاموشی کسی طوفان کا پتہ دے رہی ہیں،

گولیاں اور آنسو گیس کے شیل فائر کرتی بھارتی فوج اور پتھراؤ کرتے کشمیری طلباء کے درمیان تصادم سے کسی بھی لمحے بھونچال آسکتا ہے، کشمیرمیں اس وقت شدید محاصرے کا عالم ہے۔۔۔ اور مقامی آبادی میں تنہائی کا احساس اپنی حدوں کو چھو رہا ہے۔۔۔ رپورٹ کے مطابق۔۔۔ کشمری میں سول انتظامیہ غیر فعال ہوچکی ہے۔۔۔ عوام عسکریت پسندوں یعنی (جہادیوں) کو اپنا مسیحا قرار دے رہے ہیں۔۔۔ کشمیر کے ایک تاریخ دان صدیق واجد کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کی اپنی زندگی میں امن کی تمام امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔۔۔ اور اب وہ تمام تر عمر تشدد (جہاد) کی زندگی گزرانے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔

تشدد کی خوفناک لہر کی ذمہ داری انتہاء پسند مودی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ جس نے اسلام مخالف بیانیے کو پروان چڑھایا۔۔۔ اور ہندو’’گاؤ رکشا‘‘ جھتوں نے پورے بھارت میں مسلم تاجروں پر حملے کرنے شروع کردیئے۔

جموں و کشمیر برائے شہری آزادی سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے معروف کارکن خرم پرویز کا کہنا ہے کہ ’’بھارت میں ہندو جنونیت کی لہرکشمیر میں رائے عامہ کو مزید خلاف کرر ہی ہے۔۔۔ اب کشمیر میں کوئی اعتدال پسند نہیں بچا جو امن کا پرچار کرے ذہنی طور پر ہم سب عسکریت پسند بن چکے ہیں‘‘

بیروہ ضلع بڈگام میں 9اپریل کو بھارتی درندگی کا ایک ایسا واقعہ دیکھنے میں آیا کہ جس نے ساری انسانیت کو ہی شرمندہ کر دیا، بھارتی فوج کے شیطان صفت درندوں نے فاروق احمد ڈار نامی نوجوان کو اپنی جیپ  کے ساتھ باندھ کر کشمیریوں کی سنگ باری سے بچنے کیلئے اسے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر کے یہ بات ثابت کر دی کہ وحشت و گنوار پن میں بھارتی فوج کا کوئی ثانی نہیں، جب دہلی کے تخت پر ایک ایسا بھیڑیا قابض ہو کہ جس کے منہ سے ہروقت مسلمانوں کا لہو ٹپک رہا ہو۔۔۔ تو ایسے موقع پر کشمیر میں نہتے شہریوں پر بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا کیاعالم ہوگا؟

مقبوضہ کشمیر میں کوئی ایک ایسی بستی نہیں کہ جس میں شہیدان آزادی کے قبرستان موجود نہ ہوں۔۔۔ ایک لاکھ کے لگ بھگ کشمیریوں کا شہید ہونا آج ’’آزادی‘‘ کے حسن کو مزید نکھار رہا ہے۔۔۔ یہاں پہ کوئی عالمی برادری ہے۔۔۔ اور نہ کوئی عالمی عدالت انصاف۔۔۔ یہاں نہ کوئی تہذیب ہے اور نہ کوئی مہذب قوم۔۔۔یہاں سب مفادات کے اسیر ہیں،

ورنہ اگر کہیں عالمی برادری، عالمی عدالت انصاف، یا مہذب قوم بس رہی ہوتی تو انہیں سری نگر کی وہ چودہ، چودہ سال کی پاکباز بیٹیاں نظر نہ آتیں کہ جو ہاتھوں میں پتھر تھامے بھارتی فوج کی گولیوں اور بکتر بند گاڑیوں سے ٹکرا رہی ہیں،

یہ عالمی عدالت’’ انصاف‘‘ ہے یا پھر بھاڑے کے ٹٹوؤں کا’’چنڈوخانہ‘‘ کہ جسے بدنام جاسوس دہشت گرد کلبھوشن نیٹ ورک کے ہاتھوں مرنے والے سینکڑوں پاکستانیوں کی سوختہ جاں لاشیں تونظر نہ آئیں مگر مودی کے اس خونخوار قاتل کے حقوق نظر آگئے۔۔۔ اور اس کی پھانسی رکواڈالی، اس’’چنڈوخانے‘‘ کے مصنف ہوں، یا اقوام متحدہ کے امریکی غلام۔۔۔ انہیں جانوروں کے حقوق کی تو فکر ہے۔۔۔ مگر کشمیر میں بنسنے والا انسانی لہو نظر نہیںآرہا۔۔۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کا یہ کہنا کہ بھارتی مظالم اورپاکستان کے ساتھ بے معنی و لاحاصل مذاکرات نے کشمیریوں کو مسلح جدوجہد پر مجبور کر دیا ہے۔۔۔ بالکل درست ہے۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے ہمیں حق خود ارادیت نہیں مل سکا، مقبوضہ کشمیر سے آخری فوجی کے انخلاء تک بھارت سے آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی‘‘۔۔۔

یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد اب ایسے جوبن پر پہنچ چکی ہے کہ جسے اپنے اور پرائے سب تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔۔۔ اگر پاکستانی حکمرانوں کے ہاتھوں میں’’جندال‘‘ کی ’’سجنی‘‘ کی زنجیریں ہیں۔۔ الیکڑانک چینلز امن کی آشا کے ڈالروں کے ساتھ بندے ہوئے ہیں، سیاست دانوں اور نام نہاد دانشوروں کی بھارت میں گزرنے والی چند شامیں۔۔۔ انہیں جدوجہد آزادی کشمیر کی حمایت سے روکتی ہیں۔۔ تو ان کی مرضی۔۔۔ مگر پاکستانی قوم کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔۔۔ ہم بحیثیت قوم آزادی کشمیر کی جدوجہد میں مصروف مجاہدین کشمیر کی دامے، درمے، سخنے مدد کرتے رہیں گے،

چودہ سو سال پہلے رمضان المبارک میں بدر کا معرکہ لڑا گیا تھا۔۔۔ چودہ سو سال بعد بھی چناروں کے محاذ گرم ہیں،

ہم بیٹیوں والے ہیں۔۔۔ بہنوں والے ہیں، ہم کشمیرکی پاکباز بہنوں اور بیٹیوں کو انتہاء پسند ہندو فوج کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔۔۔ یہی وقت ہے ، اب نہیں توکبھی نہیں۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online