Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

افغانستان! ملا عمر کی تلا ش میں (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 597 - Naveed Masood Hashmi - Afghanistan Mulla Umar ki Talash mein

افغانستان! ملا عمر کی تلا ش میں

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 597)

سترہ، اٹھارہ سالوں سے امریکہ کی فوج اپنی پوری حشرسامانیوں کے ساتھ افغانستان میں ڈیرے ڈالے بیٹھی ہے۔۔۔سابق صدر حامد کرزئی ہو یا موجودہ کابل کے صدارتی محل کا صدر اشرف غنی ہو۔۔۔ ان کے ’’کٹھ پتلی‘‘ ہونے پر شبہ کرنا بھی گناہ ہے۔۔۔ امریکہ اور دیگر طاغوتی طاقتوں کے یہ’’کٹھ پتلی‘‘ پاکستان کو عدم اِستحکام سے دو چار کرنے کیلئے۔۔۔۔ غیور، جانباز اور مجاہد افغانوں کے ملک افغانستان کو بھارت کے لئے جنت بنا چکے تھے۔۔۔ وہ افغانستان کہ جسے طالبان کے امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہدؒ نے اپنے دورحکومت میں اسلامی نظام کے نفاذ کی دولت سے مالا مال کیا تھا۔۔۔ اسلامی نظام کے نفاذ کی برکت سے جہاں امن و امان کا قیام ممکن بنا کر اندرونی اور بیرونی دہشت گردوں کو لوہے کی لگام چڑھائی تھی۔۔۔ افغان طالبان کے امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہدؒ نے جس افغانستان کو پوست کی کاشت سے مکمل نجات دِلائی تھی، افغان طالبان نے جس افغانستان میں عورتوں اوربچیوں کے حقوق اور عزت و احترام اورحقوق کی پاسداری کو اس حد تک یقینی بنایا کہ پھرعین حالت جنگ میں ایوان ریڈلی نامی غیر ملکی صحافی ملا محمد عمر کے جانبازوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئی، طالبان کی قید میں اسے اس قدر احترام اور عزت نصیب ہوئی کہ رہائی کے بعد اس کی کایا ہی پلٹ گئی۔۔۔ اس کی ساری عمر گوروں کے دیس میں گزری۔۔۔ مگرعورت کی اصل عزت اور احترام کا مزہ اس نے پہلی مرتبہ افغان طالبان کی قید میں رہ کر چکھا۔۔۔۔ اور پھر وہ دنیا کی دیکھتی نگاہوں کے سامنے کلمہ پڑھ کر محمد کریمﷺ کی امت میں شامل ہو گئی

اس واقعہ کے راوی روزنامہ اوصاف کے چیف ایڈیٹر اور میرے دوست محترم مہتاب خان ہیں۔۔۔ وہ بتاتے ہیںکہ جن دنوں افغانستان پر ملا محمد عمر مجاہدؒ کی حکومت کا دور دورہ تھا۔۔۔ میرے پاس دفتر میں میرے علاقے کے کچھ لوگ آئے اور کہا کہ چند دن قبل بعض افغانوں نے راولپنڈی سے جلال آباد تک سپیشل بس بک کروائی۔۔۔وہ بارات لے کر جلال آباد جانا چاہتے تھے، ہم نے ان کے ساتھ کرایہ طے کیا۔۔۔ اور بس باراتیوں سمیت لیکر ننگرہار جا پہنچے۔۔۔ وہاں کے ایک قریبی دیہات پہنچتے ہی انہوں نے ہم پر تشدد شروع کر دیا۔۔۔ ہم سے ہماری پونجی بھی چھین لی، اور بس کی چابیاں بھی، اور کہا کہ بھاگ جاؤ ورنہ مارے جاؤ گے

بہرحال وہ کسی نہ کسی طرح جانیں بچا کر گرتے پڑتے اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔۔۔ اب ان کی خواہش تھی کہ طالبان حکومت تک رسائی حاصل کر کے کسی طرح بس واپس لی جائے۔۔۔ جناب مہتاب خان بتاتے ہیں کہ میں نے انہیں تسلی دی اور اپنے ایڈیٹر کو بلا کر کہا کہ ان مظلوموں کو ساتھ لے کر افغان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف سے ملے اور ان کیلئے مدد طلب کرے۔۔۔ اس وقت کے افغان سفیر ملا محمدضعیف نے پورا واقعہ بغور سننے کے بعد اپنے ایک معتمد کو بلا کر گاڑی اور ڈرائیور اس کے حوالے کر دیا اور لٹنے والے مظلوموں کو داد رسی کے لئے اسی وقت ہی جلال آباد کی طرف روانہ کر دیا۔۔۔ جناب مہتاب خان کہتے ہیں کہ چند دن بعد وہ ’’مظلوم‘‘ مٹھائی کا ٹوکرا ہاتھوں میں تھامے ایک دفعہ پھر میرے دفتر میں آن پہنچے۔۔۔ خوشی کے آنسو ان کی آنکھوں میں تھے اور لبوں پرحسرت بھرے یہ جملے’’کاش کہ پاکستان کو بھی کوئی ملا عمر جیسا مخلص حکمران مل جاتا‘‘ تو پاکستان دنیا کا سب سے طاقتور ملک بن جاتا، میں نے پوچھا کہ تمہارے کام کا ہوا کیا؟کہنے لگے کہ طور خم بارڈر عبور کرنے کے بعد۔۔۔ افغان سفیر کے بھیجے ہوئے ’’معتمد‘‘ نے مقامی طالبان اہلکاروں کو اپنے ساتھ لیا۔۔۔ اورسیدھا اس جگہ پہنچے کہ جہاں ہمیں مار پیٹ کر چھوڑا گیا تھا۔۔۔پھر انہوں نے اپنی ترتیب کے مطابق انکوائری کی اور ٹھیک ایک گھنٹے بعد مجرموں تک جا پہنچے۔۔۔ افغان طالبان نے ہماری نشاندہی پرلٹیروں کوگرفتار کیا۔۔۔ بس کی چابی ہمارے حوالے کی۔۔۔ اس کی ٹینکی پٹرول سے فل کروائی،ہمیں اچھا سا کھانا کھلایا اور جب سے بس کروائی گئی تھی تب سے برآمدگی تک کا کرایہ لٹیروں سے وصول کر کے ہمارے حوالے کیا۔۔۔  انتہائی پروٹوکول کے ساتھ ہمیں پاکستان کی طرف روانہ کرتے ہوئے اس معتمدنے کہا کہ آپ توجائیے۔۔۔ اب ان لٹیروں کا فیصلہ طالبان حکومت کی شرعی عدالت کرے گی

یہ تو چند جھلکیاں ہیں ورنہ ملا محمد عمر مجاہد کے دور حکومت میں اسلامی نظام کے نفاذ کی ایسی شاندار برکات ہیں اگر میں لکھنا چاہوں تو کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔۔۔لیکن آج چونکہ موضوع دوسرا ہے۔۔۔ اس لئے موضوع کی جانب بڑھتے ہیں۔۔۔ ملا محمد عمرمجاہد نے اپنے دور حکومت میں جس افغانستان کو امن و آتشی کا گہوارہ بنا دیاتھا۔۔۔ آج وہ افغانستان ایک دفعہ پھر بدامنی کاگھر بنا ہوا ہے

’’کابل‘‘ دھماکوںسے گونج رہا ہے۔۔ بدھ کے دن کابل کے انتہائی حساس ایئریا زنبیق چوک میں افغان تاریخ کا ایسا بدترین دھماکہ ہواکہ ۔۔۔ جس میں کئی سو لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے،افغان طالبان نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔ جمعہ کے دن ہزاروں افغانوں نے دھماکے کی جگہ پر اکٹھے ہو کر اشرف غنی کی حکومت کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا

مظاہرین نے اس خوفناک دھماکے کا ذمہ دار افغان کٹھ پتلی صدر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو قرار دیتے ہوئے

 ان کے خلاف شدید ترین نعرہ بازی کی۔۔۔اور مرنے والے اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھا کر دونوں سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔۔۔ یاد رہے کہ موجودہ زمانے کا بدترین اور غلیظ ترین شیطان صفت قاتل افغان نائب صدر اور وزیر دفاع رشید دوستم پہلے ہی ملک سے فرار ہو چکا ہے، افغان مظاہرین کاکہنا ہے کہ خوست، گردیز،لوگر، قندہار دیگر افغان علاقے تو امن کو ترس ہی رہے تھے،یہ اشرف غنی اینڈ کمپنی توکابل میں بھی امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے،لہٰذا اس حکومت سے افغان عوام کی جان چھڑائی جائے، افغان مظاہرین کابل میں اشرف غنی،عبداللہ عبداللہ اورامریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے۔۔۔انہیںبے گناہ افغان عوام کا قاتل قرار دے رہے تھے، افغان پولیس نے امریکی اسلحے سے مظاہرہ کرنے والے افغانوں پر ہی گولیوں کی بوچھاڑکر کے سات مظاہرین کو مار ڈالا جبکہ درجنوں زخمی کر دیئے

ہفتے کے دن پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے’’صالم یزدار‘‘ کی نماز جنازہ کے دوران پھر تین خوفناک دھماکے ہوئے جس میں25سے زائد افرادمارے گئے، افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ان دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنازہ گاہوں پرحملے نہیں کرتے

اور یہ ہے بھی حقیقت، جنازہ گاہوں، مسجدوں ، مدرسوں، ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، آبادیوں پر حملے کرنے کی ریت ہمیشہ سے امریکہ کی رہی ہے۔۔۔۔ جس کی میرے پاس سینکڑوں مثالیں بھی موجود ہیں۔۔۔افسوس کہ ملا محمد عمر مجاہدؒ کا پُرامن افغانستان آج امریکہ اوربھارت کے دہشت گردوں کی جنت بنا ہوا ہے، افغان عوام ملا محمد عمر جیسے مخلص اور جرأت و غیرت کے پیکر کو یاد کررہے ہیں۔۔۔کابل وقندھار خون اگل رہے ہیں

کسی گلبدین حکمت یار کی کابل آمد کے بھی چرچے ہیں، اس موضوع پر پھر کبھی سہی کیونکہ

ہمیں یادہے وہ ذرا ذرا

انہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

نائن الیون کے بعد جب سے امریکہ دیگر شیطانی طاقتوں کے ساتھ افغانستان میں گھساہے۔۔۔۔ تب سے افغانستان میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے،وقت اورحالات نے ثابت کر دیا کہ امریکی پٹاری کے دانش فروش ہوں یا سیکولر بقراط اورافلاطون۔۔۔۔انکے سب تجزیئے، تبصرے اور کالم جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے

فقیر17سالوں سے یہ بات لکھتے چلے آرہے تھے کہ امریکہ طالبان مجاہدین کو کبھی شکست نہیں دے سکے گا۔۔۔۔ بلکہ امریکہ تو خود دہشت گردی کی آگ جلانے اور بھڑکانے کا عادی ہے۔۔۔جون 2017ء؁ کے چڑھتے ہوئے سورج نے کابل کے یہ مناظربڑی حیرانی سے دیکھے کہ جب سگینوں کے سائے اور چلتی گولیوں میں بھی افغان۔۔۔ امریکہ مردہ باد کے نعرے بلند کر رہے تھے، کٹھ پتلی افغان حکومت ناکام ہو گئی۔۔۔ امریکہ کااسلحہ، سازشیں اورڈالرہارگئے۔۔۔ملا محمد عمرمجاہدؒ دور کہیں قبر کی آسودگیوںمیںاللہ کے پاس پہنچے ہوئے ہیں۔۔۔مگر کابل سے لیکر قندھار تک کے میدان اور پہاڑ اسے یاد کر رہے ہیں۔۔۔ افغانستان کے درو دیوار اپنے امیرالمؤمنین کو بلا رہے ہیں۔۔۔ افغانستان کے عوام ملا محمد عمرمجاہدؒ کے پُرامن اسلامی دورکویاد کرتے ہوئے۔۔۔ پھر کسی ملا محمدعمر مجاہدکی تلاش میں سرگرداں ہیں۔۔۔کیوں؟ اس لئے کہ ملا محمدعمر افغانستان کے امن کی ضمانت تھے،ملا محمد عمر افغان عوام کے سچے اور وفادار وارث تھے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online