Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

’’بدر‘‘ سے پوچھو! (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 598 - Naveed Masood Hashmi - Badar se poocho

’’بدر‘‘ سے پوچھو!

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 598)

غزوۂ بدر۔۔۔ حق و باطل کاتاریخ ساز معرکہ۔۔۔جہاد و قتال کے اس عظیم شاہکار کو قرآن مقدس نے ’’یوم  الفرقان‘‘ کے نام سے یاد کیا ہے۔۔۔ بھلا جہاد و قتال سمیت دیگر عباداتِ خداوندی کو فاسق وفاجر اور کرپٹ حکمرانوں کے اَحکامات سے بھی مشروط کیا جا سکتا ہے؟’’شکم‘‘ سے سوچنے والوں کے مجہول فتوے اگر چودہ سو سالوں سے ’’جہاد‘‘ والی عبادت کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو بھلا اَب کیا بگاڑ پائیں گئے؟

نہ بے گناہ پاکستانیوں کو دھماکوں اور خود کش حملوں میں شہید کرنے والے دہشتگرد’’جہاد‘‘ کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔۔۔ اور نہ ہی ان کی آڑ میںاور امریکہ کے آرڈرپر ’’جہاد کے خلاف قادیانی ملعون کی سوچ اور فکر کو پروان چڑھانے والے جہاد مقدس کا کچھ بگاڑ سکیں گئے!’’طاغوت‘‘ کے یہ’’بندے‘‘۔۔۔ عقل کے ایسے اندھے ہیں کہ جو یہ تک نہیں جانتے کہ جس عبادت پر نبی مکرمﷺ کا پسینہ مبارک لگا ہو اسے کوئی’’خناس‘‘ قیامت تک ختم نہیں کر سکتا۔۔۔’’جہاد‘‘ تو پھر وہ عبادت ہے کہ جس پر عمل کرتے ہوئے آقاو مولیٰ ﷺ کے مبارک رخساروں کا لہو گرا تھا۔۔۔’’جہاد‘‘ تو وہ عبادت ہے کہ جس پر آپﷺ کے جانثار صحابہؓ نے جانیں نچھاور کی تھیں۔۔۔ صرف یہی نہیں۔۔۔بلکہ ’’جہاد‘‘ تو وہ عبادت ہے۔۔۔ کہ جس کی گواہی قرآن مقدس کی 582 سے زائد آیات میں موجود ہے،’’جہاد‘‘ تو وہ ’’عبادت‘‘ کہ رسول کریمﷺ کی سینکڑوں احادیث جس کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔۔۔بھلا جہاد مقدس کی عبادت کو کسی ظالم کا ظلم، کسی جابر کا جبر، کسی شیطان کی شیطنت، کیسے ختم کر سکتی ہے ؟

’’جہاد‘‘ اللہ کا حکم ہے۔۔۔’’جہاد‘‘ محمد کریمﷺ کی سنت مطہرہ ہے، ’’جہاد‘‘ صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کے عمل کا نچوڑ ہے، ’’جہاد‘‘ تابعین، تبع تابعین اور اولیاء کرامؒ کی زندگیوں کا ماحاصل اور دعاؤں کا مرکز و محور ہے۔۔۔ مقام ’’دفران‘‘ پر خاتم الانبیاءﷺ نے قیام فرمایا تو وہاں خبر ملی کہ مشرکین کا ایک لشکر بڑی شان و شوکت کے ساتھ بڑھتا چلا آرہا ہے۔۔۔ خاتم الانبیاءﷺ نے اسی مقام پر مہاجرینؓ، انصارؓ اوس و خزرج کے قبائل سب کو مجلس مشاورت میں جمع کیا۔۔۔۔ اور سب کو نئی صورت حال سے آگاہ کرنے کے بعد رائے طلب فرمائی

اس موقع پر سب سے پہلے سیدنا صدیق اکبرؓ اٹھے اور بڑی خوبصورت گفتگو کی، پھر سیدنا عمر فاروقؓ کھڑے ہوئے انہوں نے بھی اپنی جانثاری و جانبازی کا خوب مظاہرہ کیا، پھر سیدنا مقدادؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا! یا رسولﷺتشریف لے چلئے۔۔۔ جدھر اللہ نے آپﷺ کو حکم دیا ہے۔۔۔ ہم آپﷺ کے ساتھ ہیں۔۔۔ بخدا ہم آپﷺ کو وہ جواب نہ دیں گے۔۔۔ جو جواب بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو دیا تھا کہ ’’تم اور تمہارا خداجا کر لڑو۔۔۔ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں‘‘۔۔۔ بلکہ ہم تو یہ کہیں گے کہ ’’آپﷺ اور آپﷺ کا پروردگارجنگ کیجئے ہم آپﷺ کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔۔۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگرآپﷺ ہمیں ’’برک الغماد‘‘ تک بھی لے جائیں، تو ہم آپﷺ کے ساتھ چلیں گے۔۔۔ اور آپﷺ کی قیادت میں دشمنان اسلام کے خلاف جنگ کرتے چلیں گے۔۔۔ یہاں تک کہ آپﷺ وہاں پہنچ جائیں‘‘۔۔۔ خاتم الانبیاءﷺ حضرت مقدادؓ کے ان زریں خیالات کو سن کر نہ صرف خوش ہوئے بلکہ انہیں دعاء بھی دی۔۔۔ اس کے بعدآپﷺ نے مزید مشورہ طلب فرمایا تو حضرت سعد بن معاذؓ اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ  یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپﷺ ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا بے شک! حضرت سعدؓ یوں گویا ہوئے’’بے شک ہم آپﷺ پر ایمان لائے ہیں، ہم نے آپﷺ کی تصدیق کی ہے، ہم نے گواہی دی ہے جو دین آپﷺ لائے وہ’’حق‘‘ ہے

اے اللہ کے رسول(ﷺ)! آپ تشریف لے چلئے، جدھر آپﷺ کا اراد ہے، ہم آپﷺ کے ساتھ ہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اگر آپﷺ ہمیں سمندر کے سامنے لے جائیں تو ہم آپﷺ کے حکم پر سمندر میں چھلانگ لگا دیں گے، ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، ہم جنگ کے گھمسان میں صبر کرنے والے ہیں، اوردشمن کے مقابلے کے وقت ہم سچے ہیں‘‘۔۔۔ حضرت سعدؓ کے ایمان افروز اور پاکیزہ جذبات سن کر خاتم الانبیاءﷺ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔۔۔ پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا روانہ ہوجاؤ۔۔۔۔تمہیں خوشخبری ہو، اللہ تعالیٰ نے مجھے دو گروہوں میں سے ایک گروہ پر غلبہ دینے کا وعدہ فرمایا ہے، بخدا میں کفار مکہ کے مقتولوں کی قتل گاہوں کو دیکھ رہا ہوں‘‘

پاکیزہ مجلس مشاورت ختم ہوئی۔۔۔ اور وہاں سے کوچ کر کے صحابہ کرامؓ حضور اکرمﷺ کی زیر قیادت بدر کے میدان میں آن پہنچے۔۔۔ اور پھر بدر کے میدان میں صحابہ کرامؓ نے جانثاری و سر فروشی کے ایسے ایسے باب رقم کئے کہ چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج بھی بدر کی دھرتی  سے شہدائِ بدر کے مطہر خون کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔۔۔ ’’بدر‘‘ اسلام کے غلبے اور کفر کی مغلوبیت کا چشم دید گواہ ہے، ’’بدر‘‘ نے دو بچوں معوذؓ اور معاذؓ کے ہاتھوں سرکش اور باغی ابوجہل کوزخموں سے چور چور ہو کر تڑپتے ہوئے دیکھا،’’بدر‘‘نے سیدالشہداء حضرت امیر حمزہؓ اور شیر خدا سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شجاعت و بسالت کو اپنی آنکھوں میں سمو رکھا ہے

بقیہ صفحہ ۵ پر

’’بدر‘‘ کو کمسن حضرت معاذؓ کا وہ بازو آج بھی یاد ہے کہ عکرمہؓ کی تلوار سے جو کٹا تو ضرور مگر تسمہ لٹکا رہا۔۔۔ پھر حضرت معاذؓ نے کٹا ہوا ہاتھ پاؤں تلے دبا کر تسمہ بھی الگ کر دیا۔۔۔ کیونکہ وہ جہاد میں رکاوٹ بن رہا تھا، ’’بدر‘‘ آج بھی بتا سکتا ہے کہ۔۔۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ اور حضرت حمزہؓ کے ہاتھوں مارے جانے والے دشمنان رسولﷺ، عتبہ، شیبہ، اور ولید کہاں کہاں مارے گئے تھے؟

’’بدر‘‘ آج بھی سوال کرنے والے کو زبان حال سے بتاتا ہے کہ کافروں کو کاٹتے کاٹتے حضرت عکاشہ بن محصنؓ کی تلوار ٹوٹ گئی، خاتم الانبیاءﷺ نے ایک درخت کی شاخ ان کو عنایت فرمائی کہ اس سے لڑو۔۔۔ انہوں نے اسے حرکت دی تو عکاشہؓ کے ہاتھ میں وہ نہایت عمدہ تلوار بن گئی۔۔۔ پھر اسی تلوار سے وہ غزوہ بدر میں ہی نہیں بلکہ کئی دیگر غزوات میں بھی برابر لڑتے رہے۔۔۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکرصدیقؓ کے دور خلافت میں شہید ہو کر ہمیشہ کیلئے امر ہوئے

’’بدر‘‘ بتاتاہے کہ اس نے بڑے بڑے سرمایہ دار سرداروں کو بے سرو سامان جانثارانِ مصفطیٰ کریمﷺ کے ہاتھوں مرتے ہوئے دیکھا۔۔۔ ’’بدر‘‘بتاتا ہے کہ ابھی70 موذی کافر ہی واصل جہنم ہوئے تھے کہ کافروں کے پاؤں اکھڑنا شروع ہو گئے، اور ایسا کیسے نہ ہوتا؟ اس لئے کہ مجاہدین بدر کے پاکیزہ سپہ سالار خاتم الانبیاءﷺ نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے۔۔۔ ان پر محویت اور بے خودی کا ایسا عالم طاری تھا کہ چادر کندھے سے گر ۔۔۔ پڑتی مگر آپﷺ کو خبر تک نہ ہوتی، آنکھوں سے اشک جاری تھے، لسان نبوتؐ پریہ الفاظ تھے۔۔۔ ’’خدایا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے آج پوراکر۔۔۔ اگر یہ چند نفوس آج مٹ گئے تو قیامت تک تیرا کوئی نام لیوا باقی نہیں رہے گا‘‘۔۔۔

’’بدر‘‘ نے ثابت کیا کہ فتح جدید اسلحے اور بڑی فوج کی محتاج نہیں ہوا کرتی بلکہ ’’فتح‘‘ تو اللہ کی نصرت سے حاصل ہوا کرتی ہے، ’’بدر‘‘ نے ثابت کیا۔۔۔ دنیا میں سب سے طاقتور خاتم الانبیاءﷺ کے اطاعت اور ایمان کی دولت ہوا کرتی ہے۔۔’’بدر‘‘ نے ثابت کیا کہ’’جہاد‘‘ ہی وہ راستہ ہے۔۔۔۔ جس کے ذریعے حق کو غالب اور باطل کو مغلوب کیا جا سکتا ہے،’’بدر‘‘ نے درس دیا کہ درحقیقت دین اسلام کی ترویج و اشاعت جہاد ہی کے ذریعے ممکن ہے،’’بدر‘‘ نے پیغام دے دیا کہ بزدلی اور بے غیرتی کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔’’جہاد‘‘ کے منکروں۔۔۔۔ جہاد کو منسوخ قرار دینے والوں۔۔۔ جہاد کو کرپٹ اور دو نمبر حکمرانوں کے حکم کے ساتھ مشروط کرنے والوں۔۔۔’’جہاد‘‘ کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے والوں کا جواب صرف’’بدر‘‘ ہے، بونے قسم کے دانش فروشوں، کم ظرف سیاست دانوں، اورپاکستان کی سر زمین مخلص جہادیوں پر تنگ کرنے کی کوشش کرنے والوں کا جواب۔۔۔ صرف اور صرف’’بدر‘‘ کے پاس ہے

ہم سے مت الجھو۔۔۔جاؤ’’بدر‘‘ سے پوچھو۔۔۔’’بدر‘‘ تمہیں جھوم جھوم کر اللہ کی نصرت کے واقعات سنا ئے گا

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اُتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online