Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

ہماری جان … پاکستان (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 606 - Naveed Masood Hashmi - Hamari jaan pakistan

ہماری جان … پاکستان

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 606)

یہ بات درست ہے کہ14اگست1947ء پاکستان نے آزادی حاصل کی تھی۔۔۔ قائداعظم ایک جمہوری اسلامی ریاست کے حق میں تھے۔۔۔ بلکہ انہوں نے پاکستان کو ایک اعلیٰ درجے کی اسلامی ریاست قرار دیا تھا۔۔۔ مگر افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد۔۔۔ وڈیرے ، جاگیردار، رسہ گیر، ٹوانے، ممدوٹ، شریف، مزاری، زرداری، خان اور انگریزی زدہ کاٹھے انگریز۔۔۔ ہم پر مسلط ہو گئے۔۔۔

ان جاگیر دار، کاٹھے انگریزوں نے۔۔۔ فرنگی سامراج اور یہود و ہنود سے بھی بڑھ کر۔۔۔ ملک و قوم کو نقصان پہنچایا۔۔۔ ابھی آزادی ادھوری ہے۔۔۔ میرے نزدیک ’’آزادی‘‘ کی تکمیل کے لئے لازم ہے کہ پہلے شریفوں، زرداریوں، ممدوٹوں، ٹوانوں، سرمایہ داروں، جاگیر داروں اور یورپ کے غلام دانش چوروں کے۔۔۔ ساتھ ساتھ۔۔۔ دجالی چینلز کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹا جائے۔۔۔

کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بنائے جانے والی مملکت خدادِ پاکستان کی خاطر بیس لاکھ کے لگ بھگ۔۔۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی جانیں نچھاور کی تھیں۔۔۔۔ شدت پسند ہندوؤں اور سکھ بلوائیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کا بے تحاشا قتل عام کیا تھا۔۔۔ ان شہداء میں زیادہ تعداد مسلمان عورتوں اور معصوم بچوں کی تھی۔۔۔

تقریباً ایک لاکھ مسلمان دوشیزاؤں کو اغواء کر کے ان پر۔۔۔ مجرمانہ حملے کئے گئے۔۔۔ مسلمانوں کی اربوں، کھربوں روپے مالیت کی جائیدادیں لوٹ لی گئیں۔۔۔۔ اس قدر بے شمار قربانیوں کے بعد۔۔۔ بھی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا ملک۔۔۔ اگر آج بھی۔۔۔ نفاذ اسلام کی برکات سے محروم ہے تو پھر یہ لکھے بغیر چارہ نہیں کہ وطن عزیز کو نظام اسلام کے نفاذ کی برکات سے محروم رکھنے والے بھی ۔۔۔۔ اس ملک اور قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ۔۔۔ 15 اگست1947کو کراچی میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور مشرقی پاکستان میں مولانا ظفر احمد عثمانیؒ نے قائداعظم کے حکم پر پاکستان کی پہلی پرچم کشائی کا اعزاز حاصل کر کے یہ ثابت کیا کہ۔۔۔ قیام پاکستان میں دوسروں کے ساتھ ساتھ علماء کرام کا بھی نمائیاں اور بھرپور کردار ہے ۔۔۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد۔۔۔ مسلط ہو جانے والے وڈیرے، جاگیرداروں اور کالے انگریزوں نے۔۔۔ فرنگی سامراج کے ساتھ سازش کر کے۔۔۔ علماء کرام کے اس سنہرے کردار کو گہنانے، چھپانے اور دبانے کی۔۔۔ کوششیں کیں۔۔۔ جس کا نتیجہ۔۔ نفرتوں کی صورت میں برآمد ہوا، 70سالوں سے علماء کرام اور مذہبی جماعتوں کو جس طرح سے زبردستی دیوار کے ساتھ لگانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔۔۔ وہ کسی بھی ذی شعور انسان سے مخفی نہیں ہیں۔۔۔

1973کا آئین بنا۔۔۔ تب سے لے کر آج تک تمام مذہبی جماعتوں اور مذہب پسندوں نے اس آئین کو مقدس دستاویز سمجھ کر اس کی پاسداری کی، مگر اس مقدس آئین کو جب بھی پامال کیا۔۔۔ تو ڈکٹیٹروں نے ۔۔۔ یا پھر لبرل فاشسٹوں نے۔۔۔

’’پاکستان‘‘ کسی نے’’طشتری‘‘ میں رکھ کر مسلمانوں کو پیش نہیں کیا تھا۔۔۔ بلکہ اس ملک کے حصول کیلئے برصغیر کے مسلمانوں کو آگ اور خون کا سمندر عبور کرنا پڑا تھا۔۔۔ ’’پاکستان‘‘کوئی راتوں۔۔۔ رات بننے والا ملک نہیں ہے، بلکہ’’پاکستان‘‘ کی بنیاد تو اس وقت رکھی گئی تھی۔۔۔ کہ جب1857 کی جنگ آزادی کا سب سے اہم معرکہ’’شاملی‘‘ کے میدان میں لڑا گیا تھا۔۔۔

شاملی کے معرکے کے سپہ سالار حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ، ان کے جہادی لشکر کے کمانڈر مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ جیسے جلیل القدر علماء نے شاملی کے میدان سے اپنے بے شمار علماء و طلباء کی لاشیں تواٹھا لیں مگر فرنگی سامراج پر واضح کر دیا۔۔۔ کہ’’آزادی‘‘ کے حصول کے بغیر مسلمان چین سے نہیں بیٹھیں گے۔۔۔

تاریخ کے صفحات آج بھی مولانا فضل حق خیر آبادیؒ کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں کہ۔۔۔ جنہیں ان کے ساتھی علماء سمیت انگریز کے خلاف فتویٰ جہاد کے جرم میں کالے پانی کی سزائیں دی گئی تھیں۔۔۔

تاریخ مفتی کفایت اللہ بدایونیؒ کی جرأت کو بھی سلام۔۔۔ پیش کرتی ہے کہ’’آزادی‘‘ مانگنے کی پاداش میں ۔۔۔ جنہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا، دارالعلوم دیوبند کے شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے مسلمانانِ ہند کی آزادی کے حصول کے لئے جو ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ شروع کی تھی ۔۔۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے مؤرخ جھوم جاتا ہے۔۔۔ اگر1917میں شیخ الہندؒ کو حجاز مقدس سے گرفتار کر کے۔۔۔ ان کے جانثار علماء مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا عزیر گلؒ، مولانا وحید احمدؒ اور مولانا حکیم نصرت حسینؒ کے ہمراہ بحیرہ روم میں واقع جزیرہ مالٹا کے قید خانوں میں ڈال دیا گیا تھا۔۔۔ تواس کی وجہ بھی۔۔۔ برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کے حصول کا مطالبہ اور جدوجہد ہی تھی۔۔۔

مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادیؒ ، شیخ الحدیث مفتی محمد شفیعؒ، سید ابو محمد دیدار علی شاہ الوریؒ ،مولانا عبد العلیم صدیقی قادریؒ، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ یہ وہ چیدہ چیدہ جید علماء کرام ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ جنہوں نے تحریک پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا تھا۔۔۔ پاکستان کے قیام کو ستر برس بیت گئے ۔۔۔ ان ستر سالوں میں تقریباً35برس ڈکٹیٹروں نے اور بقیہ مدت لبرل اور سیکولر سیاست دانوںنے حکومت کی

اپنے قیام کے ستر سال بعد بھی۔۔ آج اگر۔۔۔ پاکستان سیاسی انتشار اور بدامنی کا گہوارہ بنا ہوا ہے تو۔۔۔ اس کی ذمہ داری سیاست دانوںیا ڈکٹیٹروں پر عائد ہوتی ہے۔۔۔ جنرل ایوب خان ہو، جنرل یحییٰ خان ہو یا سقوط ڈھاکہ کے معاہدے پر دستخط کر کے ہتھیار پھینکنے والا جنرل نیازی۔۔۔ یہ نہ تو جہادی تھے اور نہ ہی دینی مدارس کے فارغ، وقت کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے والے جنرل ضیاء الحق کا بھی دینی مدارس سے کبھی کوئی تعلق نہ رہا تھا۔۔۔ پاکستان کی ہواؤں، فضاؤں اورایئر پورٹوں کو امریکہ کے حوالے کرنے والے رسوا کن ڈکٹیٹر کا بھی کبھی مذہبی جماعتوں یا دینی مدارس سے کبھی کوئی تعلق نہ رہا تھا۔۔۔

پاکستان اگر آج ستر سال بعد بھی اندرونی انتشارکاشکارہے تو اس کی اصل وجہ۔۔۔اس کے حکمرانوں اور بالادست طبقوں کاقرآن وسنت کے نظام کے نفاذ سے فرار ہے۔۔۔ پاکستان ایک نظریئے کی بنیاد پربنا، اس کے لئے لاکھوںجانوں کی قربانیوں۔۔۔ نظریاتی لوگوں نے کلمہ طیبہ کے نعرے پر دی تھیں۔۔۔ مگر یہاں رائج نظام، غیر نظریاتی قسم کا۔۔۔صاحبان اقتدار، آئین کی اسلامی شقوںکو پس پشت ڈال کر، کبھی لبرل، کبھی سیکولر اور کبھی روشن خیال ہونے کے دعوے کرتے نہیںتھکتے، پاکستان کو اس کی اصلی منزل یعنی نفاذ اسلام کی خوشبو سے جب تک محروم رکھیں گے، اس وقت تک معاملات افراتفری کا شکارہی رہیںگے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online