Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

کبھی تو ہم بھی جائیں گے( ان شاء اللہ) (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 607 - Naveed Masood Hashmi - Kabhi to Hum bhi Jaein Ge

کبھی تو ہم بھی جائیں گے( ان شاء اللہ)

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 607)

ذکر آئے مکہ و مدینہ کا۔۔۔ تو ہر صاحب ایمان کے دل کی دھڑکنیں خود بخود ہی تیز ہو جاتی ہیں۔۔۔ اس لئے کہ مکہ و مدینہ میں بات ہی ایسی ہے۔۔۔ جہاں مرنے اور مر کر دفن ہونے کی آرزو ہر مسلمان کے دل میں موجزن رہتی ہے۔۔۔ دنیا کے کونے، کونے سے عشاق رسولﷺ کے قافلے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سر زمین حجاز مقدس میں پہنچنا شروع ہو چکے ہیں۔۔۔ پاکستان سے بھی اس سال ایک لاکھ78ہزار سے زائدخوش قسمت عازمین سرکاری اسکیم کے تحت فریضۂ حج ادا کریں گے( ان شاء اللہ)

بیت اللہ کا حج ایک عظیم مذہبی فریضہ ہے۔۔۔ اللہ رب العزت کے گھر کا حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ نہیں، محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ کا حج اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ حج کی فرضیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ(ترجمہ) ’’ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پا سکتے ہیں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے‘‘ (آل عمران)

اگر کوئی شخص حج کی فرضیت کا انکار کرے گا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔

’’حج‘‘ کا اجتماع دنیا کا سب سے بڑا اجتماع تصور ہوتا ہے۔۔ ایک ایسا اجتماع عظیم کہ جس میں دنیا بھر سے چالیس لاکھ سے زائد افراد موجو ہوتے ہیں،جن کے لئے رہن، سہن، خورو نوش۔۔ صفائی، سیکورٹی اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا سعودی عرب کی حکومت کا ایک ایسا بے مثال کارنامہ ہے۔۔۔ کہ جس کی نظیر پیش کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔

حجاج کرام کی سہولیا ت کا خیال رکھنا اور حج کی عبادت کرتے ہوئے۔۔۔ ان کے آرام کا زیادہ سے زیادہ دھیان رکھنا۔۔۔ یہ کوئی کاروبار نہیں۔۔۔ بلکہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔۔۔ حالانکہ سعودی عرب کوبھی عرصہ دراز سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔

 سیاہ چہروں اور کالے دلوں والا ابلیسی ٹولہ حرمین شریفین کو نشانہ بنا کر امت مسلمہ کے دلوں کو مجروح کر چکا ہے۔۔۔ مگر سعودی عرب کی حکومت کا یہ کمال حسن انتظام ہے کہ اس دہشت گرد ابلیسی ٹولے کی دہشتگردانہ کارروائیوں سے عازمین حج کو بچانے کے لئے اس کے سیکورٹی اداروں کے جانباز، ہمہ وقت سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانندڈٹے رہتے ہیں۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حکم خداوندی کے عین مطابق۔۔۔ بیت اللہ کو تعمیر کرنے کے بعد اعلان حج فرمایا تھا۔۔۔ تب سے لیکر اب تک کتنے کروڑوں اربوں انسانوں نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی، اس ’’راز‘‘ کو اللہ ہی جانتا ہے۔۔۔ ایک ہاتھیوں والے ابرہہ نامی ظالم نے بھی بیت اللہ پرچڑھائی کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر اللہ نے اسے اس کے ہاتھیوں اور فوج سمیت کھائے ہوئے بھوسے کی مانند کر کے مسلمانوں کو یہ سبق سکھایا کہ جب، جب۔۔۔ جس جس دور میں بھی۔۔۔ جو جو شیطان بھی بیت اللہ پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرے۔۔۔ اس کا حشر ہاتھیوں والے ظالموں کی طرح کا کر کے۔۔ ’’بیت اللہ‘‘ کے دشمنوں کو یہ پیغام دینا کہ بیت اللہ کی حفاظت کے لئے نہ ہاتھوں کی کمی ہے۔۔۔ اور نہ ہی گردنوں کی۔

عرصہ دراز سے پاکستان میں حاجیوں کو صرف پرائیویٹ سطح پر ہی نہیں بلکہ سرکاری سطح پر بھی لوٹا جارہا تھا۔۔۔ حاجیوں کو لوٹنے کے چکر میں عدالت عظمیٰ نے پیپلز پارٹی دور کے ایک مذہبی امور کے وفاقی وزیر اور اس کے دیگر افسران کو جیل بھی بھجوایا۔۔۔ مگر خوش قسمتی کی بات ہے کہ گزشتہ دو، تین سالوں سے۔۔۔ سرکاری اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے حاجیوں کو بھی اس مبارک سفر کے دوران راحت اور سکون میسر رہا۔۔ذرائع کے مطابق پاکستانی عازمین کو حرم شریف اور مسجد نبویؐ کے قریب ترین رہائش گاہیں دی جارہی ہیں۔۔۔۔ صحت کے حوالے سے خدام الحجاج ڈاکٹروں کی ڈیوٹیاں مقرر کر دی ہیں،میدان عرفات۔۔۔ شیطان کو کنکریاں مارنے کے مقام پر بھی سعودی حکومت کے ساتھ مل کر’’حجاج‘‘ کی حفاظت کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں،سعودی حکومت نے شدید گرمی کے پیش نظر حجاج کرام کو گرمی سے بچانے کیلئے چھتریوں سمیت دیگر انتظامات کر لئے ہیں،۔

ذرائع کے مطابق، حکومت کی طرف سے اس سال حاجیوں کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔۔۔ جن میں50فیصد عازمین مدینہ منورہ اور50فیصد مکہ مکرمہ جائیں گے۔

یقینا پاکستانی وزارت حج اگر اللہ کے مہمانوں کے آرام اور سکون کے لئے اقدامات اٹھائے گی۔۔۔ تو اس کی نیکی نامی میں اضافہ ہوگا۔۔۔ وگرنہ اس سے قبل جس جس نے بھی حجاج کرام کے ساتھ زیادتی کی۔۔۔ وہ دنیا و آخرت میں رسواہوا۔

حجاز مقدس ۔۔۔ میں فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے جانے والے خوش قسمت پاکستانیوں سے میری گزارش ہے کہ وہ ان مقامات مقدسہ پر پہنچ کر اپنے وقت کو عبادت خداوندی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ قیمتی بنانے کی کوشش کریں۔۔۔ ’’حج‘‘ کو اپنے سیاسی مقاصد کا ذریعہ بنا کر غُل غپاڑہ کرنے کی کوشش کرنے والے گروہوں سے کوسوں دور رہنے کی کوشش کریں۔۔۔ سعودی عرب کے قوانین کی مکمل پاسداری کریں، جو حجاز مقدس پہنچ رہے ہیں۔۔۔ وہ ہم جیسے پیچھے رہ جانے والوں پر نظر رکھیں، کہ شدید خواہش۔۔۔ اشکوں سے تر آنکھوں اور رات دن کی دعاؤں کے باوجود۔۔۔ اس مرتبہ پھر حرمین کے مسافروں میں شامل نہ ہو سکے۔

تڑپتے ہیں مچلتے ہیں بہت ارمان سینے میں

رواں جب قافلے ہوتے ہیں حج کے مہینے میں

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online