Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

جہادی خزانہ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 609 - Naveed Masood Hashmi - Jihadi Khazana

جہادی خزانہ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 609)

اور پھر واقعی اللہ کا کرم ہو گیا۔۔۔ فلائیٹ کی روانگی سے صرف چند گھنٹے قبل اس خاکسار کو بتایا گیا کہ۔۔۔ آپ نے رات دس بجے والی فلائیٹ میں فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے جدہ روانہ ہونا ہے۔۔ اس لئے جو تیاری کرنی ہے کر لیجئے۔۔۔ اس رَس گھولتی بریکنگ نیوز نے دل و دماغ پر وارفتگی کی سی کیفیت طاری کر دی۔۔۔ اور ذہن میں میرے’’الشیخ‘‘ حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر کا کسی موقع پر فرمایا ہوا یہ جملہ گونجنے لگا کہ’’وہاں‘‘ دولت کے بل بوتے پر نہیں۔۔۔ بلکہ’’بلاوے‘‘ پر ہی انسان جا سکتا ہے۔

مکہ و مدینہ کی مشکبو فضاؤں میں14دن کیسے گزرے؟ بیت اللہ کی پہلی زیارت پر رب سے کیا کیا مانگا؟ طواف اور سعی کے نظارے کیسے تھے؟ عرفات، مزدلفہ، منیٰ، اور جمرات میں عبادت کی حلاوت کیسی محسوس ہوئی؟ اور پھر مدینہ منورہ، مسجد نبوی شریف، روضہ رسولﷺ ، روضہ اطہر کی جنوبی سمت میں ریاض الجنۃ۔۔۔ اسی کے متعلق آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میرے گھر اور منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے‘‘، اسی ریاض الجنۃ میں آپﷺ امامت کروایا کرتے تھے۔۔۔ اسی جگہ بنی ہوئی وہ محراب۔۔۔ جسے محراب النبیﷺ کہا جاتا ہے۔

مسجدنبویؐ میں ہی حضرت سیدہ فاطمہ الزہراؓ کا حجرہ، اَصحاب صفہؓ کا چبوترہ۔۔۔۔ ریاض الجنۃ میں ستون تہجد، ستون مقام جبرائیل، ستون سریر، ستون حرس یا ستون علیؓ، ستون وفود، ستون توبہ یا ستون ابو لبابہؓ، ستون منانہ اور ستون عائشہؓ ۔۔۔ مسجد قبا۔۔۔ جامع مسجد خندق، مسجد قبلتین، جامع مسجد اُحد۔۔۔ جنت البقیع، مقامات شہدائِ اُحد۔۔۔ میں یہاں پر کس کس مقام کا ذکر کروں۔۔۔ وہاں تو اللہ کی رحمت کی تجلیات ہی تجلیات تھیں۔

میں اپنے اس کالم کو سفر نامہ اس لئے نہیں بنانا چاہتا کیونکہ حج کی سعادت اور عبادت میرے اور میرے پروردگار کے درمیان کا معاملہ ہے۔۔۔ ہاں البتہ ایمانی کیفیات کو بڑھانے والے چیدہ چیدہ واقعات کی طرف اشارہ ضرور کروںگا۔۔۔

مکہ و مدینہ کی حسین فضاؤں میں تمہیں’’جہادی خزانہ‘‘ جا بجا بکھرا ہوا نظر آئے گا۔۔۔ تم بدر میں جاؤ گے تو تمہیں’’بدر‘‘ کے درو دیوار جہاد کی صدائیں لگاتے ہوئے نظر آئیں گے۔۔۔ تم مسجد شہداء احد کے مزارات پر حاضری دو گے۔۔۔ تو تمہیں مزارات کے گرد لگے ہوئے جنگلے۔۔۔ میدانوں کی طرف پکارتے ہوئے نظر آئیں گے۔۔۔ تمہیں ایسے لگے گا کہ جیسے چپکے، چپکے سے کوئی تمہارے کانوں میں کہہ رہا ہوکہ۔۔۔ تمہیں سید الشہداء امیر حمزہؓ کے جھنڈے تلے آنا ہے۔۔ تو جاؤ۔۔۔ جہادی میدانوں کے شہسوار بن جاؤ۔

تم مسجد خندق میں دو رکعت نفل ادا کرنے کیلئے داخٰل ہو گے۔۔۔ تو مسجد خندق کے درو دیوار تمہیں وہ واقعہ سنانے کے لئے بے تاب ہوںکہ۔۔۔ جب صحابہؓ نے بھوک کی شدت کو کم کرنے کیلئے پیٹ پر ایک پتھر اور خاتم الانبیاءﷺ نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھ کر بھی خندق کو کھودایا تھا۔۔۔ جن میدانوں میں معصوم بچوں معوذؓ اور معاذؓ کے ہاتھوں ابوجہل جہنم رسید ہوا تھا۔۔۔ جن میدانوں میں مصعب بن عمیرؓ کا لاشہ تڑپا تھا،جن میدانوں میں حضرت سیدنا امیر حمزہؓ کا جگر تک چبا ڈالا گیا تھا، جن میدانوں میں خاتم الانبیاءﷺ نے اپنے پیاروں کے جنازے پڑھائے ، جن میدانوں۔۔۔ سے آقا و مولیٰ ﷺ نے اپنے زخمی جانثاروں کو اٹھایاتھا۔۔۔ جن میدانوں میں اُتر کر313جانثاروں کے ہمراہ آپﷺ نے ہزاروں کافروں کے لشکر کو للکارا تھا۔۔۔ وہ میدان نہ تجارتی تھے، نہ سیاسی تھے اور نہ ثقافتی، بلکہ وہ سارے کے سارے میدان جہادی تھے، جہادی، مسجد خندق میں دو نفل ادا کرنے کے بعد شہداء احد کے مزارات پرحاضری کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں،کہ جس طرح سو سال پہلے دجّال مرزا غلام احمد قادیانی ہاراتھا۔۔۔ اسی طرح مشرق و مغرب، شمال و جنوب میں پھیلے ہوئے جہاد دشمن سیاہ رو بھی ہار جائیں گے۔۔۔

’’جہاد‘‘ کا سورج تاقیامت اپنی کرنیں بکھیرتا رہے گا۔۔۔’’جہاد‘‘ کا پرچم تھامنے والے آگے بڑھتے رہیں گئے۔۔۔ سینے چھلنی کرواتے رہیں گے،ہاتھ قلم کرواتے رہیں گے۔۔۔مگر جہادی پرچم کو گرنے نہیں دیں گے۔۔۔

روضہ رسولﷺ پر حاضری کے دوران مجھے اپنے ’’الشیخ‘‘ اور برما کے مظلوم مسلمان بہت یاد آئے۔۔۔ میں نے ان کا نام لے کر جب سلام عرض کیا تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔۔۔ اللہ میرے ’’الشیخ‘‘ کیلئے ایک دفعہ پھر مکہ و مدینہ کے راستے کھول دے۔۔۔

اللہ! برما کے مظلوم مسلمان کس کے در پر جائیں؟ کوئی ان کا پرسان حال ہی نہیں۔۔۔ دنیا کے 55اسلامی ممالک۔۔۔ میں حکومتیں قائم ہیں۔۔۔ مگر اس کے باوجود برما میں روہنگیائی مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے، معصوم بچوں کے سر قلم کئے جارہے ہیں۔۔۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کی ماؤں کی آنکھوں کے سامنے زندہ جلایا جا رہا ہے۔۔۔ میانمار انسانیت کا قبرستان بن چکا ہے۔۔۔ انسانیت کے خون آلود لاشے کو دیکھنے کے بعد بھی اقوام متحدہ کا رسمی احتجاج سامنے آتا ہے۔۔۔مسلمان جلسے، جلوسوں پر ہی اکتفا کر کے گھروں میں دبک جاتے ہیں۔

لیکن روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم کی سیاہ رات ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔۔۔ اللہ’’جہاد‘‘ کی چند کرنیں برما تک بھی پہنچا دے۔۔۔ اللہ۔۔۔ برما کے مظلوم و مقہور مسلمانوں کو جہادی پرچم اٹھانے کی توفیق عطا فرما۔۔۔

اے خدا! اب تو رو، رو کر آنکھوں کے آنسو بھی خشک ہو چکے ہیں۔۔۔ مولیٰ کریم! روہنگیا کے معصوم بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں دیکھی نہیں جاتیں۔۔۔ مسلمان ماؤں بہنوں کی بے بسی اور بے کسی دیکھی نہیں جاتی۔۔۔ اے اللہ! رحم فرما، رحم فرما، رحم فرما۔۔۔ آمین

٭…٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online