Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

مکہ پر حملے کی دھمکی اور برما کے مسلمان (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 610 - Naveed Masood Hashmi - Makkah per Hamla ki Dhamki aur Barma

مکہ پر حملے کی دھمکی اور برما کے مسلمان

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 610)

یمن کے حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے ایک دفعہ پھر مکہ مکرمہ پر میزائل برسانے کی دھمکی دی ہے۔۔۔۔ اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا ہو۔۔۔ لیکن خدانخواستہ اگر ایسا کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے۔۔۔۔ تو پھر کیا ہو گا؟ ہر صاحب ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دفعہ اس سوال کے حوالے سے اپنے اپنے ضمیر کو ضرور جھنجھوڑنے کی کوشش کرے، مکہ مکرمہ پر میزائل حملوں کا تصور ہی۔۔۔ ہر صاحب ایمان کے رونگٹے کھڑے کر دینے کیلئے کافی ہے۔۔۔۔ چہ جائے کہ کوئی باقاعدہ حملہ آور ہو؟

اللہ تعالیٰ نے مکہ کا نام امن والا شہر رکھا اور فرمایا:

’’وھذاالبلد الامین‘‘ ا

ور اس پُر امن شہر کی قسم(القرآن)۔۔۔۔

سوال یہ ہے کہ یمن کے حوثی باغی مکہ مکرمہ جیسے پُرامن شہر پر میزائل برسا کر وہاں خون کی ندیاں کیوں بہاناچاہتے ہیں؟

سچی بات ہے کہ اس وقت عالم اسلام کے اتحاد کی ضرورت جتنی محسوس ہو رہی ہے۔۔۔ اس سے پہلے شائد کبھی نہ تھی۔۔۔ کشمیری مسلمانوں پر انڈین آرمی کا ظلم تھمنے میں ہی نہیں آرہا تھا کہ روہنگیا کے مسلمانوں پر برما کی آرمی اور بدھ مت بدمعاشوں کی دہشتگردی نے پوری دُنیا کو ہلا ڈالا۔۔۔ گوتم بدھ کے پیروکار،غلیظ دہشتگردوں نے جس طرح کے خوفناک مظالم روہنگیا کے مسلمانوں پر ڈھائے۔۔۔ اس نے ہر درد مند دل کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیا، میں یہاں پر برما میں ہونے والی ظلم کی لمبی داستانیں بیان نہیں کرونگا۔۔۔۔ ہاں البتہ ایک 63سالہ نامور عالم دین مولانا عادل محمد جو میانمار کی ریاست اراکان سے نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش کے کتو پالنگ کیمپ میں پہنچے۔۔۔ نے مسلم اکثریتی علاقے’’جیانگ بانگ‘‘ کی منظر کشی کرتے ہوئے بعض۔۔۔۔ دلوں کو ہلا ڈالنے والے واقعات میڈیا سے شیئر کئے ہیں،اس کا کچھ حصہ پیش کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جیانگ بانگ نامی علاقے کے رہائشی ہیں،مذکورہ علاقے میں جامعہ اسلامیہ خدام الاسلام کے نام سے ایک بڑی دینی درسگاہ قائم تھی۔۔۔ جہاں وہ گزشتہ کئی سالوں سے درس و تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔۔۔ مولانا عادل محمد کا کہنا تھا کہ ہمارا علاقہ مکمل طور پر مسلم آبادی پر مشتمل تھا،جہاں 10ہزار کے قریب گھروں میں50ہزار کے لگ بھگ مسلمان آباد تھے۔۔۔ 25اگست کو میانمار کے سرکاری اہلکاروں اور بدھ دہشت گردوں نے فوجی سرپرستی میں آبادی پر حملہ کیا۔۔۔ اور وہاں قائم تمام گھروں کو آگ لگا دی گئی۔۔۔۔ جبکہ دو سو سے زائد مدارس و مساجد کو بھی جلا ڈالا گیا،اور500سے زائد مسلمانوں کو فوج نے گولیاں مار کر شہید کر دیا، مولانا عادل کے مطابق جب بدھ مت دہشتگردوں نے مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگانے کی اور قتل عام کی کوششیں کی تو مقامی مسلمانوں نے اپنا دفاع لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے کرنے کی کوشش بھی کی۔۔۔ لیکن اس دوران برمی فوج نے شدید ترین فائرنگ کر کے مسلمانوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیئے، جبکہ وہاں سے بھاگنے والی مسلمان خواتین اور بچوں کو بودھ مت دہشت گردوں نے زبردستی پکڑ کر گھروں میں بند کرنا شروع کر دیا، اور پھر گھروں کے دروازے باہر سے لاک کر کے گھروں کو آگ لگانا شرو ع کر دی۔۔۔ اور اس طرح سینکڑوں خواتین اور بچوں کو ہماری آنکھوںکے سامنے زندہ جلا ڈالا گیا۔۔۔ اراکان سے بھاگ کر بنگلہ دیش آنے کی کوششیں کرنے والوں پربھی خوفناک حملے کئے گئے، ماؤں کے سامنے ان کے معصوم بچوں اور بچوں کے سامنے ان کی ماؤں کو ذبح کیا جاتا رہا۔۔۔ مولانا عادل نے بتایا کہ ان کے علاقے کے ہزاروں مردوں، عورتوں اوربچوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ پورے علاقے کا ایک ایک گھر نذرآتش کر دیا گیا۔۔۔۔

مولانا عادل کے علاقے کی اس داستان کے تناظر میں اراکان کے باقی مسلمانوں پر گزرنے والی قیامت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے

کشمیر میں جاری انڈین مظالم۔۔۔برما کے مسلمانوں پر مسلط موت، امریکی صدر کی پاکستان کو دھمکیاں۔۔۔۔ اور حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ پرمیزائل حملوں کی دھمکیاں۔۔۔۔ یہ سب ایسے واقعات ہیں کہ جن سے امت مسلمہ کے عام عوام کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا

حرمین الشریفین کے دفاع کو یقینا سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز ہر ممکن طور پر یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ اور امید رکھنی چاہئے کہ حوثی باغی سعودی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں عبرتناک انجام سے دو چار ہوں گے۔۔۔ تاہم ایک مسلمان کی حیثیت سے کوئی بھی مسلمان۔۔۔ تحفظ حرمین الشریفین کے حوالے سے۔۔۔ کسی قسم کی غفلت برتنے کی سوچ رکھنا بھی جائز نہیں سمجھتا، حیرت کا مقام ہے کہ حوثی باغی۔۔۔ مکہ پر میزائل حملے کی دھمکیاں دیتے ہوئے ذرا برابر نہیں شرماتے

 کچھ لوگ ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ حوثی باغی بھی مسلمان ہیں۔۔۔ یہ کیسے مسلمان ہیں کہ جو مکہ مکرمہ پر میزائل حملوں کی نہ صرف دھمکیاں دیتے ہیں۔۔۔ بلکہ اس سے قبل ایک مرتبہ مکہ پر میزائل حملہ کر بھی چکے ہیں

حرمین الشریفین کا کوئی بھی دشمن مسلمان کیسے ہو سکتا ہے؟

سوال یہ بھی ہے کہ کھلے عام مکہ پر حملوں کی دھمکیاں دینے والے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اگر حوثیوں کی سعودی عرب کے حکمرانوں سے دشمنی ہے۔۔۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ۔۔۔۔وہ مکہ ومدینہ پر حملے کئے جائیں؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online