Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

’’منہ پھٹے سیکولر عناصر‘‘ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 612 - Naveed Masood Hashmi - Secular Anasar

’’منہ پھٹے سیکولر عناصر‘‘

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 612)

آپ ’’ڈان لیکس‘‘ کو روتے تھے … خواجہ آصف سیالکوٹی نے نہلے پہ دہلا مارتے ہوئے … جو ہرزہ سرائیاں کی ہیں … اس نے تو ڈان لیکس کی بھی ایسی تیسی پھیر کر رکھ دی ہے … ویسے ایک بات تو واضح ہے کہ پاکستانی حکمران امریکہ کی سرزمین کو ’’مقدس‘‘ جان کر ایسا منہ کھولتے ہیں کہ پھر ان کی بولتی بند کرنا مشکل ہو جاتا ہے … چنانچہ نیو یارک میں ایشیا سوسائٹی کے منعقدہ سیمینار میں متنازعہ گفتگو کرکے اپنے ہی وزیراعظم اور آرمی چیف کے موقف کی ڈنکے کی چوٹ پر نفی کر ڈالی

یاد رہے کہ چند روز قبل ہی سپہ سالار اعلیٰ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ’’پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی خفیہ پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں ‘ پاکستان پر سرحد پار سے حملے ہو رہے ہیں اور اب ڈومور کہنا ہمارا حق ہے۔‘‘

امریکی سرزمین پر خواجہ آصف کا بہکی بہکی باتیں کرنا … اپنے ہی پاکستانیوں پر چڑھائی کرنا … قابل فہم ہے … شاید وہ اپنے ’’باس‘‘ میاں  محمد نواز شریف کی ’’نااہلی‘‘ کا بدلہ یوں چکانا چاہتے ہیں … انہوں نے ایشیاء سوسائٹی کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے بہت سے جرائم کے اعترافات کئے ہیں … لیکن شاید وہ یہ اعتراف کرنا بھول گئے کہ ان کے ’’باس‘‘ میاں نواز شریف نے معروف زمانہ عرب مجاہد اسامہ بن لادن سے پیسے کس خوشی میں لیے تھے؟ لیکن ذرا ٹھہریئے اس میں بے چارے ’’خواجہ‘‘ جی کا بھی کوئی قصور نہیں ہے … انہوں نے اپنے مخصوص مائنڈ سیٹ کے مطابق وہی کچھ کرنا تھا جو کر دکھایا … قصور تو ان طاقتور لوگوںکا ہے کہ جنہوں نے خواجہ آصف کو پاکستان کا وزیر خارجہ بننے دیا؟ قصور تو ان لوگوں کا ہے کہ جنہوں نے انہیں وزیر خارجہ کے طور پر برداشت کیا؟

کیا وہ بالادست طاقتیں نہیں جانتی تھیں کہ خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے فلور پر تقریر کرتے ہوئے … پاک فوج کے حوالے سے کس طرح کی متشدانہ تقریر کی تھی؟ کیا وہ بالادست قوتیں نہیں جانتیں کہ موصوف مخالف جماعتوں کی خواتین اراکین اسمبلی پر کس طرح کی گھٹیا جملے بازی میں مشہور ہیں؟ سب سے بڑی غلط بات تو موصوف کا وزیر خارجہ کاعہدہ سنبھالنا ہے … جب ایک اسلامی ایٹمی ریاست پاکستان کا وزیر خارجہ موصوف کی طرح کا ہوگا تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔

ایک طرف بھارت ہے کہ جس کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا سرغنہ کل بھوشن یادیو پاکستان میں پکڑا گیا … جس نے پاکستان میں قتل و غارت گری اور بم دھماکوں سے لے کر دہشت گردی کے دیگر ذرائع اختیار کرنے تک کے اعترافات کیے … مگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر وزیر خارجہ سشما سوراج تک نے کل بھوشن جیسے خطرناک دہشت گرد کو بھارت ’’دیش‘‘ کا بیٹا قرار دیتے ہوئے اس کی رہائی کے لئے خزانوں کے منہ کھول دیئے … اور دوسری طرف (ن) لیگی حکمران ہیں کہ جو امریکہ اور بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پاکستانی قوم کے بیٹوں کو ہی یا تو گرفتار کرنے کے درپہ ہیں اور یا پھر انہیں امریکیوں کے ہاتھوں مروانے پر تلے بیٹھے ہیں … کچھ ’’منہ پھٹے‘‘ قسم کے عناصر کالعدم تنظیموں کو ’’گند‘‘ قراردے رہے ہیں … ان ’’منہ پھٹے‘‘ عناصر سے کوئی پوچھے کہ اگر ’’ کالعدم‘‘ کسی گندگی کا ہی نام ہے تو پھر اے این پی کی دعوتیں وہ کس منہ سے اڑاتے ہیں؟کیا کسی دور میں اے این پی یعنی عوامی نیشنل پارٹی کو پاکستان میں ’’کالعدم‘‘ قرار نہیں دیا گیا ؟

کیا ان منہ ’’پھٹے‘‘ عناصر میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ کسی دور میں کالعدم رہنے والی اے این پی کو بھی ان گندے الفاظ سے موسوم کریں؟ یاللعجب! عزیر بلوچ جیسے سینکڑوں بے گناہ انسانوں کے قاتل کی سرپرستی کرنے والی پیپلز پارٹی بھی کالعدم قرار دیئے جانے والے سابق جہادیوں  کے خلاف (ن) لیگی حکومت کے ساتھ ملکر پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف برسر پیکار نظر آرہی ہے … اور اس کے سینٹر فرحت اللہ بابر نے سینٹ سیکرٹریٹ میں ایک توجہ دلائو نوٹس جمع کروایا ہے … جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’دہشت گردوں کو ایک ’’انٹیلی جنس‘‘ ایجنسی کی جانب سے خفیہ طو رپر تحفظ فراہم کیا جارہا ہے … سیکولر شدت پسند فرحت اللہ بابر کے مطابق اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود مولانا محمد مسعود ازہر کو بغیر کسی وضاحت کے تحفظ فراہم کیا جاتا رہا ہے‘ انہوں نے نام لیے بغیر سوال اُٹھایا کہ کالعدم تنظیم کی سپورٹ والے امیدوار کو این اے 120 میں الیکشن لڑنے کی اجازت کس نے دی‘‘؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ مولانا  محمد مسعود ازہر سمیت دیگر جہادی قائدین نے پاکستان میں کب قتل و قتال یا دہشت گردی کرنے کا حکم دیا یا کبھی ایسے کاموں میں ملوث رہے؟مولانا محمد مسعود ازہر یا دیگر جہادی قائدین … گزشتہ چالیس سالوں سے پاکستان کے کسی تھانے میں بھی ان کے خلاف کوئی ایک ایف آئی آر بھی درج نہیں ہے ‘ جبکہ سینیٹر فرحت اللہ بابر کو کوئی بتائے کہ الذوالفقار کے دہشت گردوں سے لے کر لیاری امن کمیٹی کے دہشت گردوں تک کے جہاز اغوا کرنے سے لے کر قتل و قتال‘ مارا ماری اور بھتہ خوری کی داستانیں تو آج بھی پاکستانی قوم کو یاد ہیں۔

اگر آصف علی زرداری کی قیادت والی پیپلز پارٹی کے کارناموں کی تفصیلات کوئی جاننا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ سندھ کے سابق وزیرداخلہ اور آصف زراری کے سب سے قریبی سابق دوست ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی ان پریس کانفرنسوں کو ضرور پڑھ لے کہ جس میں انہوں نے جناب زرداری  کا  ’’بینڈ‘‘ بجایا تھا … اگر کوئی سابق جہادی الیکشن میں آجائے تو نام نہاد جمہوری سیکولر شدت پسند سوال اٹھاتے ہیں اسے الیکشن لڑنے کی اجازت کس نے دی؟

سوال یہ ہے کہ اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ڈاکٹر عاصم کو وفاقی وزیر کس نے بنایا تھا؟ وہ کس پارٹی کے وفاقی ‘ صوبائی وزیر ایم این ایز‘ ایم پی ایز اور وزیر اعلیٰ تھے کہ جو سینکڑوں بے گناہ انسانوں کے قاتل عزیر بلوچ کو اپنا ’’ بچہ‘‘ کہتے تھے ‘ اس کے ساتھ کھڑے ہوکر تصویریں کھنچوانے پر فخر محسوس کرتے تھے … ایک دہشت گرد کی سرپرستی کرنے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت کس نے دی؟

پاک فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دینے والا کس پارٹی کا سربراہ تھا؟

سابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام کس ’’پارٹی‘‘ کے سربراہ پر لگایا ہے؟ ہے کوئی اللہ والا ’’سینیٹر‘‘ کہ جو سینٹ میں ان باتوں پر مشتمل توجہ دلائو نوٹس بھی جمع کروائے؟

مجھے سیالکوٹ سے بعض احباب نے فون کرکے بتایا کہ ’’سیالکوٹ‘‘ حضرت علامہ اقبال ؒ جیسا عظیم شاعر اور مصور پاکستان کا شہر ہے … فکر کی کوئی بات نہیں آئندہ خواجہ آصف کو اقبالؒ کے سیالکوٹی شاہین انتخابات میں ووٹ نہیں دیں گے۔

جو شخص امریکہ کی سرزمین پر کھڑا ہوکر اپنے ہی ملک کو ’’ڈومور‘ کہے‘ سیالکوٹ ایسے شخص سے اپنی شناخت چھین لے گا … مجھے مغربی جمہوریت کی ڈائن بال کھولے … سر پر راکھ ڈالتے ہوئے نظر آرہی ہے … مغربی’’جمہوریت‘‘ کی کم ظرفی‘ طوطا چشمی اور تہی دامنی کی انتہا تو یہ ہے کہ صاف ستھرے‘ کھرے اور محب وطن لوگوں کو قبول کرتے ہوئے اسے اور اس کے متوالوں کو غشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online