Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

قادیانیوں کے سہولت کار؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 613 - Naveed Masood Hashmi - Qadiyanion k Sahoolat  Kar

قادیانیوں کے سہولت کار؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 613)

جب قادیانی امریکہ میں اپنے نائب صدر کے ساتھ وزیر خارجہ خواجہ آصف کے ساتھ ملاقات کی مختلف تصویریں خودہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلانا شروع کر دیں۔۔۔تو پھر پاکستانی قوم لازمی یہ سوچنے پر مجبور ہو گی کہ دال ساری کی ساری کالی ہی نہیں بلکہ زہریلی ہو چکی ہے

قادیانیوں نے ربوہ ٹائمز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جو تصویریں جاری کی ہیں۔۔۔ اس میں سے ایک تصویر میںخواجہ آصف اور امریکہ میں قادیانیوں کے نائب ڈاکٹر ظہیر احمد باجوہ قریب قریب بیٹھے ہوئے ہیں۔۔ جبکہ دوسری تصویر میں انہیں قادیانی نائب صدر سے خوش گپیاں کرتے دیکھا جا سکتا ہے

خواجہ آصف کی امریکہ میں قادیانیوں کے نائب صدر سے یہ ملاقات رسمی تھی یا غیر رسمی۔۔۔ اس ملاقات میں کیا گفتگو ہوتی رہی۔۔۔۔ اور کیا کچھ طے پایا؟ یہ تو ہم نہیں جانتے۔۔۔ مگر اس ملاقات کی ٹائمنگ بہرحال قابل غور ہے۔

کیونکہ اس ملاقات اور ختم نبوت کے حلف نامہ میں ڈاکہ زنی کی واردات کے درمیان کوئی زیادہ فرق نہیں۔۔ اور یہ بھی کہ پاکستان کے عوام حلف نامہ میں مبینہ ردو بدل(کہ جس سے اب رجوع کر لیا گیا ہے) کو پہلے ہی قادیانیوں کے لئے کی جانے والے سہولت کاری کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

ایک طرف خواجہ آصف کا اپنے ہی پُرامن پاکستانیوں کے خلاف محض ’’کالعدم‘‘ ہونے پر متشددانہ بیانیہ اور دوسری طرف ختم نبوت کے باغی ٹولے کے نائب صدر سے خوش گپیاں اور ملاقاتیں، ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے وزیر خارجہ کے لئے یہ قطعاً مناسب نہیں ہے، ویسے تو ایک موقع پر خواجہ آصف کے ’’باس‘‘ نواز شریف، ملعون قادیانیوں کو اپنا بھائی بھی قرار دے چکے ہیں۔۔۔ہم نے یہ سوال تب بھی اُٹھایا تھا ۔۔۔ اور اب پھر اٹھا رہے ہیں کہ ختم نبوت کے باغی۔۔۔ گستاخ رسول، کسی عاشق رسولﷺ مسلمان کے بھائی کیسے بن سکتے ہیں؟مگر جواب نہ تب آیاتھا۔۔۔ اور نہ ہی اب ملنے کی توقع ہے، لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن کشمیری مجاہدین اورپاک فوج کے خلاف امریکی اور بھارتی بیانیے کو گود لینے کے بعد ۔۔۔ سیکولر شدت پسندوں کے ایجنڈے کو بھی آگے بڑھانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور خواجہ آصف اپنے آپ کو قائد اعظم کی مسلم لیگ کا وارث قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے کہ جس قائداعظم محمد علی جناح کا جنازہ وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان نے پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔

انکوائری عدالت میں جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو چوہدری ظفر اللہ نے جواب دیا ’’نماز جنازہ کے امام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ قادیانیوں کو کافر اور مرتد قرار دے چکے تھے۔۔۔ اس لئے میں اس نماز میں شریک ہونے کا فیصلہ نہ کر سکا۔۔۔ جس کی امامت’’مولانا‘‘ کر رہے تھے‘‘(رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ص 212 )

لیکن جب عدالت سے باہر یہی سوال دوبارہ اس سے پوچھا گیا کہ آپ نے قائداعظم کا جنازہ کیوںنہیں پڑھا؟ تو موصوف نے جواب دیا کہ ’’ آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر وزیر‘‘(زمیندار لاہور8فروری1950)

چورہدری ظفراللہ خان کے اس متشددانہ روئیے اور ہٹ دھرمی کا چرچا جب اخبارات میں ہوا توجماعت احمدیہ ربوہ کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا گیا:

’’چوہدری ظفر اللہ خان پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائداعظمؒ کاجنازہ نہیں پڑھا۔۔۔ تمام د نیا جانتی ہے کہ قائداعظمؒ’’احمدی‘‘ نہ تھے، لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں‘‘

جناب نواز شریف سمیت ملعون قادیانی گروہ کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھانے والے ہر سیاست دان،

 بیورو کریٹ، اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کو یاد رکھنا چاہئے کہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ نے جواہر لال نہرو کو جویہ کہا تھا کہ ’’قادیانی ملک اور اسلام دونوں کے غدار ہیں۔۔۔ وہ غلط نہ تھا۔۔۔ جو ہمارے نبی مکرمﷺ کی ختم نبوت سے وفا نہیں کر سکتا وہ ملک اورمسلمان قوم کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟

اسی لئے آپ کو عالم اسلام کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل میں بھی قادیانی دجال پورے پروٹوکول کے ساتھ دندناتے ہوئے ملیں گے۔

قومی اسمبلی میںختم نبوتکے حلف نامے کے الفاظ میں ردو بدل تحفظ ختم نبوت کے قوانین کے خلاف ایک خطرناک سازش تھی۔۔۔ پاکستانی مسلمانوںکے شدید ردعمل کے خوف سے مجبور ہر کر۔۔۔ن لیگی حکومت کواپنے کئے ہوئے پرپانی پھیر کر دوبارہ پرانا حلف نامہ بحال کرنا پڑا۔

اب وزیر داخلہ احسن اقبال فرماتے ہیں کہ ’’جہاد کا فتویٰ ریاست کا حق ہے۔۔۔ حکومت سوشل میڈیا پر فتوے دینے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔۔۔ گلی محلوں میں فتوؤں سے انارکی پھیلے گی‘‘

کوئی ’’نئے نویلے‘‘ وزیر داخلہ کو بتائے کہ جب حکومت وقت خودمسلمانوں کے عقیدے اور نظریات پر ڈاکہ مارنے کی کوشش کرے گی۔۔۔توپھر ملک میں انارکی بھی پھیلے گی اور فسادات بھی بڑھیں گے۔۔۔۔ مسلم لیگ ن کو عوام نے ووٹ دے کر حکومت اس لئے نہیںسونپی کہ وہ مسلمانوں کے دین اور’’ایمانیات‘‘ کے فیصلے کرتی پھرے؟

مسئلہ ختم نبوت اورعشق رسول پوری امت مسلمہ کا وہ قیمتی اثاثہ ہے کہ ساری دنیا کے کافر اور منافق مل کر بھی۔۔۔ جس کی قدر وقیمت میں رَتی برابر بھی کمی نہیں لا سکتے۔

جب حکمران امریکہ کے غلام بن کر اس کے مسائل کو ٹھیکے پر لے لیں گے تو پھر قصور عوام کا نہیں حکمرانوں کا ہی کہلائے گا۔۔۔ فتوے دینے کا حق حکمرانوں یا سیاست دانوں کو بھی حاصل نہیں ہے۔۔۔ ’’فتویٰ‘‘ صرف مستند مفتیان کرام ہی دے سکتے ہیں۔۔۔ اور مستند مفتیان کرام اورعلماء کو وہی دینی مدارس تیار کرتے ہیںکہ ۔۔۔ جن دینی مدارس پر حکمران امریکہ کی خوشنودی کے لئے چھاپے مارتے ہیں۔۔۔ جب ریاستیں امریکہ کی تابعداری میں۔۔۔ اس کی بھڑکائی ہوئی صلیبی جنگ میںشامل ہو کر۔۔۔ مسلمانوں کے خلاف ہی۔۔۔ امریکی ہمنوا بن جائیں تو پھر۔۔۔ ہر سچامسلمان بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے، حکمران غصہ مت کریں۔۔۔ سب سے پہلے ختم نبوت کے حلف نامہ میںردو بدل کرنے والے ڈاکوؤں کو پکڑ کر سزا دیں، قوم پھر ان کی کسی بات پر توجہ دے گی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online