Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

مقام والدین (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 614 - Naveed Masood Hashmi - Maqam Walidain

مقام والدین

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 614)

ایک دفعہ حضرت علی المرتضیٰؓ سے پوچھا گیا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیں جو رسول اللہﷺ نے چپکے سے آپؓ سے فرمائی ہو۔۔۔انہوں نے فرمایا۔۔۔ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے مخفی پوشیدہ رکھ کر مجھے چپکے سے بتلائی ہو، البتہ میں نے آپﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ ’’ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس شخص پر جو والدین کو برا بھلا کہے۔۔۔اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس شخص پر جو نشانات راہ بدل دے۔۔۔اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس شخص پر۔۔۔ جو بدعتی کو ٹھکانہ دے۔۔۔‘‘ سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالمﷺ نے ہمارے سامنے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی۔۔۔ سیدنا ابو امامہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا۔۔۔ تین آدمی ایسے ہیںجن کے نہ فرض اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گئے اور نہ نفل کو، والدین کا نافرمان۔۔۔ احسان جتلانے والا۔۔۔ اور تقدیر کامنکر۔۔۔

مقام والدین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ محسن انسانیت حضرت  محمدﷺ کی تعلیمات کو مدنظر رکھا جائے،قران مجیدمیں بھی کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد والدین سے اچھا سلوک اختیار کرنے کو کہا گیاہے ۔حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ’’میں نے نبی پاکﷺ پوچھا کہ کون ساعمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ‘‘ تو آپؐ نے فرمایا ’’ وہ نماز جو وقت پر پڑھی جائے ‘‘ پھر میں نے پوچھا اس کے بعد اللہ پاک کو کون ساعمل پسند ہے ، تو آپؐ نے فرمایا ’’ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اختیار کیا جائے ‘‘، پھر میں نے پوچھا اس کے بعد ،توآپؐ نے فرمایا ’’ خدا کی راہ میں جہاد کرنا ‘‘(بخاری ومسلم )

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو اپنی شکر گزاری کے ساتھ ساتھ والدین کی شکرگزاری کی بھی تاکید فرمائی ہے ۔سورۃ لقمان(14:31) ترجمہ :۔ ’’کہ میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کے شکر گزار رہو‘‘ ۔’’ایک اور جگہ پر حضرت ابو امامہؓ  فرماتے ہیںکہ... ایک شخص نے نبی پاک ﷺسے پوچھا یارسول اللہﷺ! ماں باپ کا اولاد پر کیاحق ہے ‘‘ ؟ ارشاد فرمایا ’’ ماں باپ ہی تمھاری جنت ہیں اورماں باپ ہی دوزخ ۔‘‘(ابن ماجہ) یعنی ان کے ساتھ اچھا برتائو جنت کی ضمانت دیتاہے اور ان کے حقوق پامال کر کے انسان جہنم کا ایندھن بن جاتاہے ...  خاتم الانبیاءﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ’’ وہ آدمی ذلیل ہو،پھر ذلیل ہو،پھر ذلیل ہو،لوگوں نے پوچھا یارسولﷺ اللہ کون آدمی؟ آپ ؐ نے فرمایا ’’ وہ آدمی جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے کی حالت میں پایا...یادونوں کو پایا ، یاکسی ایک کو، اورپھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا۔ ایک معصوم طالب علم والدہ کی ہدایات اور نصیحتوںکو ذہن نشین کرکے حصول علم کے خاطرجب ایک قافلے کے ساتھ روانہ ہوا تو راستے میں قافلے والوں کو ڈاکوئوں نے لوٹنا شروع کیا... اس بچے کی بھی تلاشی لی گئی ،سامان برآمد نہ ہونیکی صورت میں اس بچے سے پوچھا گیا کہ اے بچے تمہارے پاس کیا کچھ مال و دولت ہے ؟ اس پر اس بچے نے کہا جی ہاں میرے پاس کچھ پیسے ہیں جو میری والدہ نے کپڑوں میں سی کر دئیے ہیں ۔ڈاکواس بچے کو لے کر اپنے سردار کے پاس گئے اور سردارکو سارا واقعہ سنایا...ڈاکوئوں کے سردار کے استفسار پرا س بچے نے جواب دیا کہ میری والدہ نے ہمیشہ مجھے سچ بولنے کی نصیحت کی ہے... ڈاکوئوں کا سردار اس واقعہ سے متاثر ہوا اورخوف خدا سے اسلام قبول کر لیا ۔ یہی عظیم بچہ جب بڑا ہواتو محبوب سبحانی ،شیخ عبدالقادر جیلانی ؒکے نام سے مشہور ہوئے اور تمام اولیاء کرام کے سرتاج قرار پائے ... اس عظیم شخصیت کے پیچھے ایک عظیم والدہ کی خوبصورت محنت کار فرما تھی ۔

حضرت خواجہ بختیار کاکی ؒجن کو قرآنی علم سیکھنے کے لیے جب پہلی مرتبہ مدرسہ بھیجا گیا تو استاد کے سامنے بسم اللہ کے بعد کچھ نہ پڑھا جس پر عالم وقت کو غصہ آگیا ۔تو آپ نے پندرویں سپارے کی سورۃ بنی اسرائیل کی آیات تلاوت کیں ...استاد محترم قراء ت سن کر فرط حیرت میں مبتلا ہوگئے اور زور دے کر پوچھا کہ اے بچے اتنا قرآن پاک تم نے کہاں یاد کیا؟ توآپؒ نے جواب دیا استاد جی !میری والدہ پندرہ سپاروں کی حافظہ تھی ...جب مادرشکم میں تھا تو وہ روزانہ تلاوت کیا کرتی تھی ،اور اس طرح یہ سپارے مجھے مادرشکم میں ہی زبانی یاد ہوگئے آپ مجھے اس سے آگے پڑھایئے ۔یہ ہے عظیم ماں ،اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ نے والدہ کے قدموں تلے جنت رکھی ہوئی ہے ۔والدین جب ایسے خوبصورت انداز میں بچوںکی تربیت کرتے ہیں تو یقینا یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں ...تو کوئی بچہ رومیؒ ، کوئی جامیؒ،کوئی قطب الدین بختیار کاکیؒ ، سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ،محمد بن قاسم ؒ،مجدد دین سید پیر مہر علی شاہؒ ،بنتا ہے ‘جو اپنے کارنامے اور اوصاف وکمالات رہتی دنیا تک چھوڑ کر جاتے ہیں ۔

یہ والدہ ہی ہے جونو ماہ تک بچے کو مادرشکم میں اٹھائے مشکلات اور تکالیف برداشت کرتی ہے ... جو سخت سردی کی راتو ں میںخود تو... گیلے اورٹھنڈے بستر پر سوتی ہے... جبکہ بچے کو گرم اور خشک جگہ پر سلاتی ہے...￿ورسردیوں کی ٹھٹھرتی راتوں میں بچے کی ایک چیخ پر بے قرار ہوجاتی ہے اور اس وقت تک نہیں سوتی جب تک بچہ نیند کی آغوش میں نہ چلا جائے ...دوسری جانب اس والد کا مقام بھی کتنا عظیم مقام ہے جو موسم کی شدت کے باوجود کبھی عرب کے نخلستانوں میں ،کبھی سرحدوں پر دشمن کے سامنے مضبوط دیوار بن کر ، کبھی پولیس اوررینجر اہلکار کی صورت میں دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے ...کبھی استاد کی صورت میں پیشہ پیغمبر ی سے وفا نبھاتے ہوئے ، کبھی ڈاکٹر ، کبھی انجینئر ، کبھی پروفیسر ،کبھی پائلٹ ، کبھی وکیل ، کبھی کلرک حتی کہ ادنی ٰ سے ادنیٰ پیشہ سے منسلک ہوکر اپنی انتھک کوششوں اورکاوشوں سے اولاد کی خاطر رزق حلال کمانے کے لیے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتا، توایسی صورت میں ایسے عظیم والدین لازماً واجب الاحترام ہوتے ہیں ... جب یہی والدین بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو ان کی ضروریات ،آسائشات اوردیکھ بھال اولاد کی اولین ذمہ داری بن جاتی ہے... افسوس ! ہمارا معاشرہ مغرب کی تقلیدمیں اندھا ہو کر اپنے والدین کا باغی اور نافرمان ہوتا جارہا ہے .. بوڑھے والدین کو بوجھ سمجھ کر اولڈ ہاوسز میں جمع کروانے کی ریت بڑھتی جارہی ہے ... کاش کہ آج کی اولاد اپنے والدین کے اسلامی حقو ق کو پہچان کر...ادا کرنے والی بن جائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online