Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

متعفّن سوچ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 616 - Naveed Masood Hashmi - Mutaffin Soch

متعفّن سوچ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 616)

27اکتوبر1947ء سے لے کر 27اکتوبر2017ء تک ان 70سالوں میں وہ کون سے مظالم ہیں کہ جو بھارت کے ہندو درندوں نے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں پرنہ ڈھائے ہوں۔۔۔ لیکن کشمیر کے بہادر مسلمانوں کی جرأت کو سلام کہ وہ تمام تر بھارتی مظالم سہنے کے باوجود۔۔۔۔’’لے کے رہیں گے آزادی‘‘۔۔۔ کے نعروں سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کے لئے بھی تیار نہ ہوئے۔۔۔

27اکتوبر1947ء کو بھارتی کی درندہ صفت فوج زبردستی کشمیر میں داخل توہو گئی۔۔۔ مگر کشمیری مسلمانوں نے بھارتی طاقت کوجوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے۔۔ سروں کی فصل کٹوا کر بھی پرچم جہاد کو سربلند رکھا۔

 میں تاریخ کی بھول بھلیوںمیں جانے کی بجائے صاف اور براہ راست باتیں لکھنے کا عادی ہوں۔۔۔ اس لئے حکمرانوں سے سوال کرنا میرا حق ہے کہ 70سالوں سے پاکستان آزاد ہے اور مقبوضہ کشمیر بھارت کے زیرقبضہ۔۔۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔۔ کوئی ہے کہ جو بتا سکے ان70سالوں میں آزاد پاکستان کے حکمرانوںنے۔۔۔ ’’شہ رگ‘‘ پاکستان کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانے کے لئے۔۔۔ کتنی محنت کی؟

افسوس کہ ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی غفلت اورکمزوریوں کے سبب۔۔۔ آج 70سالوں بعد بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام نہ صرف یہ کہ بھارت کے غلام ہیں۔۔۔ بلکہ بھارت ان پر ظلم کے پہاڑ بھی توڑ رہا ہے۔

پچھلے اَدوار کو چھوڑتے ہوئے صرف رسوائے زمانہ پرویز مشرف کے ظالمانہ دور سے لے کر۔۔۔ نوازشریف کے موجودہ تاریک دور تک ان17,16 سالوںمیں۔۔۔ پرویز مشرف ہو، آصف علی زرادری ہو یا نواز شریف یکے بعد دیگرے یہ تینوںپاکستان کے حکمران رہے۔۔ مگر ان کے سیاہ ادوار میں جتنا نقصان جہاد کشمیر کو پہنچا اتناشائداس سے قبل کوئی بھی نہ پہنچاسکا ہو۔

رسوائے زمانہ پرویزمشرف کے تاریک دور میںتو تحریک آزادی کشمیر کو زبردستی کئی سال پیچھے دھکیل دیاگیا۔۔۔ آصف علی زرادری کا5سالہ دورمقبوضہ کشمیر کی آزادی کے حوالوں سے غفلت کی تاریکیوں میں ڈوبا رہا۔۔ نوازشریف ملک کے وزیراعظم بنے تو کہا گیا کہ موصوف خودبھی کشمیری النسل ہیں۔۔۔ اس لئے کشمیری مسلمانوں کے لئے ضرور کچھ کریں گے۔۔۔مگرچار۔۔۔سالوں بعد موصوف عدالتی طورپر نااہل قرارپائے تو پوری حکومت اورمسلم لیگ ن۔۔۔ دفاع’’شریف ‘‘خاندان کے مشن پر گامزن ہوگئی۔۔۔ افسوس کہ نواز شریف حکومت نے سوا چارسالوں میں کشمیریوں کے لئے تو کیا کرنا تھا الٹا نا اہل ہونے کے بعد۔۔۔ان کی حکمران لیگ نے پاکستان کو نئے بحران میں دوچار کردیا،اب27اکتوبرکو صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سمیت دنیابھر میں کشمیری عوام بھارت کے خلاف یوم سیاہ منا رہے تھے۔۔۔ جبکہ حکمران لیگ کے وزیر، مشیر شریف خاندان کے دفاع میں حکومتی اداروںکو ہی دھمکیاں دے رہے تھے،جبکہ پاکستانی میڈیا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو فوکس کرنے کی بجائے۔۔۔

بقیہ صفحہ ۵ پر

 دونوںطرف کے سیاسی ’’مرغوں‘‘ کو لڑوا کر لڈیاں ڈالنے میںمصروف تھا، حکمران لیگ ہو یا اس کی مخالف، سیاسی جماعتوں کے قائدین اور لیڈران دونوںطرف سے ایک دوسر کے خلاف ایسی گالم گلوچ اوربدتمیزی پر مبنی زبان درازیاں کی جارہی ہیں کہ الا مان الحفیظ!

سوشل میڈیا نہ کسی کی ماںکوبخشتا جا رہاہے نہ بہن کو، نہ کسی کی بزرگی کا پاس کیا جا رہا ہے۔۔۔ اور نہ کسی کی بیماری کا لحاظ، حتیٰ کہ حکمران لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے۔۔ ’’جیالے ‘‘ ’’متوالے‘‘ اور ’’ٹائیگرز‘‘ ایک دوسرے کے قبروں میں پڑے ہوئے مردہ بزرگوں کو بھی۔۔۔ معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

کیا اس تعفن زدہ بدبودار کلچر کا نام’’جمہوریت‘‘ ہے، کیا عوامی جلسوںمیں دوسرے انسانوں کو گالیاں دینے کا نام جمہوریت ہے؟ کیا عوامی جلسوںمیں انسانوں کے خوبصورت ناموں کو۔۔۔ بگاڑ،بگاڑ کر لوگوں کو ہنسانے کا نام جمہوریت ہے؟ یہ وہ سیاست دان ہیںکہ۔۔۔ جو دینی مدارس ومساجد اور مذہبی جماعتوںکومنہ بھر بھر کے شدت پسندی کے طعنے دیتے ہوئے نہیںتھکتے۔

یہ وہ سیاست دان ہیں جو جہادیوں پر۔۔۔ انتہاء پسندی کی پھبتی کس کر۔۔۔ انہیں پابند سلاسل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ کشمیر 70 سالوں سے سلگ رہا ہے۔۔۔70برسوں سے کشمیری عوام بھارتی استبداد سے نہتے ٹکرارہے ہیں،70سالوںسے کشمیر کے مسلمان قربانیوں پر قربانیاں دیئے چلے جارہے ہیں۔۔۔ شہادتیں ہیں کہ رکنے میں نہیں آرہیں۔

کشمیریوں کے زخم ہیں کہ بڑھتے چلے جارہے ہیں، مگر پاکستان کے حکمران ہو یا سیاست دان،انہیںآپس کی لڑائیوں سے ہی فرصت نہیں ہے،یہ نہ خودآپس میںمتحد ہوتے ہیں۔۔۔ اور نہ ہی قوم کومتحد ہونے دیتے ہیں۔

اپنے ذاتی مفادات کے لئے پورے ملک کو بھینٹ چڑھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔۔۔ایسے لگتا ہے کہ جیسے یہ ملک شریفوں، زرداریوں، قریشیوں، مزاریوں، خانوں اوردولتانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے ہی بنایاگیاتھا؟

یعنی اگر کرپشن، چور بازاری اور جھوٹ بولنے کے الزام میں نوازشریف کوعدالت نے نااہل قراردیا۔۔۔ توانہیںبنگلہ دیشی کھٹے ڈکار آناشروع ہوگئے۔۔۔ اور موصوف نے پھر اپنی تقریروں اور انٹرویوزمیں۔۔۔ قوم کو ڈرانا شروع کردیا۔۔۔ کہ1971ء کے حالات سے سبق نہیں سیکھاگیا۔

کوئی ان سے پوچھے کہ کیا1971ء میں شیخ مجیب الرحمن کو عدالت نے۔۔۔ نا اہل قراردیاتھا کہ جس کی وجہ سے۔۔۔ بنگلہ دیش بنا؟ لگتا ہے کہ’’مجھے کیوںنکالا‘‘ کوبھی بنگالی شیخ مجیب بننے کاشوق چرایا ہے۔۔۔خدا نہ کرے کہ ایساہو۔۔۔ لیکن اگرایسا کبھی ہوا بھی۔۔۔ توپنجاب کے غیرت مندپاکستانی۔۔۔۔ ایسی بدبودارسوچ رکھنے والوں کو الٹا کرکے دریائے راوی میں پھینک دیں گئے۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online