Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

انسانیت کا درد (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 617 - Naveed Masood Hashmi - Insaniat ka Dard

انسانیت کا درد

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 617)

یہ خبریں بھی حکمرانوں کی توجہ چاہتی ہیں... اگر حکمرانوں کے پاس فرصت ہو تو... ان پر کم از کم غورہی کرلیں... خبر کے مطابق ''تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رائے ونڈ کی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت سے محنت کش کی بیوی نے سڑک پر بچے کو جنم دے دیا۔'' دوسری خبر کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ڈاکٹروں' پیرا میڈیکل سٹاف اور ملازمین کی ہڑتال نے 28سالہ نوجوان عمر آفتاب کی جان لے لی... خبروں کے مطابق مریض کو پمز علاج کے لئے لایا گیا تھا... جہاں ڈاکٹر نائلہ نے اسے چیک کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہڑتال کی وجہ سے میں چیک نہیں کر سکتی۔'' تیسری خبر ملاحظہ فرمائیے اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی گزشتہ دو ہفتوں سے بند پڑی ہے اور ہزاروں طلباء و طالبات کو زبردستی تعلیم سے محروم کر دیا گیا ہے... مگر کسی کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگ رہی۔ چوتھی خبر کے مطابق ''صوبہ سندھ میں ساڑھے4ہزار جعلی این جی اوز کا انکشاف ہونے پر ان کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ آج کے کالم میں جن مندرجہ بالا چار خبروں کا ذکر کیاگیا ہے... یہ خبریں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں... پاکستانی قوم کے لئے نہ ڈاکٹروں کی ہڑتال کوئی نئی بات ہے... اور نہ ہڑتالی ڈاکٹرز کی مجرمانہ غفلت کے سبب مریضوں کا مر جانا کوئی نہیں بات ہے... نہ قائداعظم یونیورسٹی میں طلباء کا احتجاج نئی بات ہے ... نہ وہاں نشے کا کاروبار کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی یونیورسٹی کا ہفتوں بند رہنا' اب پاکستانیوں کے لئے نئی خبر ہے۔ رہ گئی بات سندھ میں ساڑھے 4ہزار این جی اوز کی ... صرف سندھ ہی کیا... آپ کو اسلام آباد سمیت پورے ملک میں ایسی مزید ہزاروں این جی اوز مل جائیں گی کہ جن کے ''جعلی'' ہونے میں شک کرنا بھی گناہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے لے کر قائداعظم یونیورسٹی اور جعلی این جی اوز تک ان سب کی نسبت لبرل ازم کی طرف کی جاتی ہے تو کیوں؟ پاکستانی لبرل اور سیکولرز ''اعتدال'' کے راستے سے جس طرح سے ہٹے ہوئے ہیں... اس کا شاخسانہ سب کو نظر آرہا ہے ڈاکٹرز کی ہڑتال کی سزا... عام اور غریب مریضوں کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟ ہے کوئی ذی ہوش ڈاکٹر' کہ جو خدا کو حاضر' ناظر جان کر دل پر ہاتھ رکھ کر بتاسکے کہ ان کی بڑتال کے دوران زبردستی ایمرجنسی میں کام بند کروانا... ہسپتال علاج کے لئے آنے والے مریضوں کو دھکے دینا' ان کے علاج سے انکار کرنا کیا ان کے لبرل اخلاق کے عین مطابق ہے؟ دین اسلام میں تو اس کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ ڈاکٹرز کو تو ''مسیحا'' کہا جاتا ہے... مگر یہ کیسے ڈاکٹرز ہیں کہ جو محض اپنے مطالبات منوانے کے لئے ... مریضوں کی جانوں سے بھی کھیلنے سے گریز نہیں کرتے... کیا فائدہ بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھنے کا ' پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت وقت کو ... ڈاکٹرز کے تمام جائز مطالبات بلاروک ٹوک پورے کرنے چاہئیں تاکہ ہڑتالوں تک نوبت ہی نہ پہنچے... مگر اس سب کے باوجود اگر حکومت ڈاکٹروں کے مطالبات منظور کرنے میں غفلت برتتی ہے تو تب بھی ''ڈاکٹرز'' کو اعتدال کا دامن کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہیے اور کچھ بھی ہو جائے سسکتے ہوئے مریضوں کا علاج ہر قیمت پر یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ''ڈاکٹرز'' کے دل کا درد بھی جاگے' ایک درد وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں آنحضرت نے فرمایا! مومن آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں... جسم کا کوئی حصہ اگر تکلیف میں مبتلا ہو جائے تو پورے بدن میں بے چینی پھیل جاتی ہے ' پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ... یہ ہے انسانیت کا ''درد'' بڑے دکھ کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ صرف ڈاکٹرز ہی نہیں بلکہ ہم بحیثیت مجموعی معاشرہ... انسانیت کے درد سے محروم ہوتے جارہے ہیں... جب انسانیت کا درد ہی ختم ہو جائے ... تو پھر بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی ''ڈگریاں'' بھی محض ردی بن جایا کرتی ہیں۔

ہمارا میڈیا یہ بتاتا ہے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں...لیکن اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ہمارا معاشرہ تیزی کے ساتھ انحطاط کی طرف بڑھ رہا ہے ہمارے سکول ہوں' کالجز ہوں' یونیورسٹیاں ہوں' مدارس ہو یا سرکاری وغیر سرکاری دفاتر' عدالتیں ہوں یا تھانے... ہمارے سیاست دان ہوں' حکمران ہو' یا عوام ... ہر ایک نے ''اعتدال'' کے راستے کو چھوڑ رکھا ہے مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ اعتدال کی راہ سے منہ موڑنے والا ہر شخص اپنے آپ کو اعتدال پسند بھی سمجھتا ہے۔ اگر ''ڈاکٹرز'' اپنے مطالبات منوانے کے لئے ہسپتالوں کو تالے لگانا شروع کر دیں' طالب علم اپنے مطالبات منوانے کے لئے یونیورسٹیوں کے تعلیمی نظام کو درہم برہم کرنا شروع کر دیں' حکمران' شریف خاندان کے ملزمان کو احتساب عدالتوں میں سرکاری پروٹوکول کے ساتھ پیش کریں۔ سبزی منڈی والے اپنے مطالبات منوانے کے لئے سبزی منڈیوں پر ہی تالے ڈال دیں... ٹیچرز اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے طالب علموں کو پڑھانے سے ہی انکار کرکے ہڑتال کر دیں... تو پھر مان لینا چاہیے کہ ہمارے معاشرے نے کہیں بھی ترقی نہیں کی... بلکہ ہم دن بدن پستیوں کی طرف جارہے ہیں ہمیں ایسے سکولوں' کالجوں' یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے کہ جہاں استاد بچوں کو انسانیت کے درد کی تعلیم دیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online