Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

خوش نصیب (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 618 - Naveed Masood Hashmi - Khush Naseeeb

خوش نصیب

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 618)

یہ عشق حقیقی نہیں تو اور کیا ہے؟ کہ ایک’’دیوانہ‘‘ اپنی جوانی کے عروج پر اپنی جان اپنے اللہ کے راستے میں۔۔۔ قربان کر دے؟

سلطان العارفین حضرت سلطان باہوؒ فرماتے ہیں کہ عاشق کا کام ہمیشہ عشق کی آگ میں سلگتے رہنا ہے۔۔۔ اورعاشق ہر وقت محبوب حقیقی کے فراق میں۔۔۔ اپنے جگر کا خون پیتے رہتے ہیں۔۔۔ اورطلب دیدار الہٰی میں مارے مارے پھرتے ہیں۔۔۔ لاکھوں لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عاشق  ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔۔ مگر خوش نصیب چند ہی ہوتے ہیں، جنہیں صحیح معنوں میں عشق حقیقی نصیب ہوتا ہے، سلطان العارفین حضرت باہوؒ فرماتے ہیں کہ۔۔۔ سچا عاشق وہ ہوتا ہے جب وہ عشق کی آگ میں بھڑکتا ہے تو پھر اس سے۔۔ منہ نہیںموڑتا، خواہ سینکڑوں تلواروں سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہی کیوں نہ ہو جائیں۔

آپؒ فرماتے ہیں کہ عاشق کو اپنا دل پہاڑ کی مانند مضبوط رکھ کرعشق کی راہ میں چلنا پڑتا ہے۔۔۔

عشق دی بھاہ ہڈاں دا بالن عاشق بہہ سیکندے ھو

گھت کے جان جگر وچ آرہ دیکھ کباب تلیندّے ھو

سر گردان پھرن ہر ویلے خون جگر دا پیندے ھو

ہوئے ہزاروں عاشق باہوؒ پر عشق نصیب کہیندے ھو

طلحہ ابن رشید بھی عاشق صادق نکلا۔۔۔ ایسا سچا عاشق کہ جس کے خون میں ڈوبے ہوئے۔۔۔ زخموں سے چورچور وجود کو دیکھ کر۔۔۔’’حوریں‘‘ بھی مچل اٹھی ہوں گی۔

ہاں، وہ گلشن جیش محمدﷺ کا حسین پھول تھا۔۔۔ مجھے اپنے دوست رشید کامران کی قسمت پررشک آرہا ہے۔۔ جو طبیعت کا نہایت سادہ اور عاجز۔۔۔ مگر مرتبے میں سب سے سربلند نکلا

ایسے لگتا ہے کہ جیسے’’طلحہ‘‘ کو اس کی والدہ اور والد نے پال پوس کر جوان۔۔۔ کیا ہی اس لئے تھا تاکہ بوقت ضرورت عشق حقیقی کے اس شہسوار کو اللہ کے راستے میں قربان کر دیا جائے، طلحہؒ مجھ سے جب بھی ملا۔۔۔ عاجزی و انکساری کا خوگر بن کرملا۔۔۔ وہ عاجزی و انکساری میں اپنے بابا رشید کامران اور دادا جان پر گیا تھا۔۔۔ مگر اس نے دل اپنے سر بلند ماموں والا پایا تھا۔۔ واہ طلحہؒ واہ! تو نے عشق حقیقی میں ایسی اونچی اڑان بھری۔۔۔ کہ سب دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔۔۔ آنسو پلکوں پر آنا چاہتے ہیں مگر میں زبردستی روکنے کی کوشش کر رہا ہوں، میں شہادت کی دنیا کے اس عظیم شہسوار کو سلام عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ مگر آنسو بہا کر نہیں۔۔ بلکہ اپنے عظیم’’ الشیخ‘‘ کے عزم کو دوہرا کر کہ’’عنقریب دوست اور دشمن سب تسلیم کریں گے کہ واقعی بڑا کام کر گیا‘‘۔۔۔

پلوامہ میں مولانا طلحہ بن رشید کے ساتھ کمانڈر محمد اورمجاہد وسیم احمد بھی۔۔۔ شہادت کا جام نوش کر گئے۔۔۔مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھارتی فوج کے بدترین ظلم و ستم کا شکار بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔ سوا کروڑ سے زائد مظلوم مسلمانوں کو دہشتگرد ہندو فوج کے مظالم سے۔۔۔۔ نجات دلانے کیلئے جہادی میدانوںمیں نکلنے والے۔۔۔ نوجوان دراصل اللہ کے وہ خاص بندے اور عاشق صادق ہیں کہ۔۔۔۔ جن پر انسان ہی نہیں بلکہ سمندروں کی مچھلیاں، آسمانوں کے فرشتے اور جنت کی حوریں بھی فخر کرتے ہیں۔

مسجد میں بیٹھ کر تسبیح کے دانوں پر اللہ، اللہ کی ضربیں لگانا، اور برف پوش گھاٹیوں میں اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر۔۔۔ اسلام دشمن ہندو دہشتگرد فوج کے مقابلے میں ڈٹ جانا دونوں میں بڑا فرق ہے۔

میںعافیت کدوں میں بیٹھ کر اللہ، اللہ کی ضربیں لگانے والے کو بھی’’عاشق‘‘ مان لیتا ہوں۔۔۔ لیکن اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے اسلام دشمنوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر۔۔۔۔ اپنے خون میں غسل کرنے والوں کے’’عشق‘‘ کو کوئی کیسے پہنچ سکتا ہے؟ طلحہؒ بن رشید، بھائی محمدؒ اوروسیمؒ کا عشق تو ایسا سچا تھا کہ خود خدا کو بھی ان کے’’عشق‘‘ پہ’’پیار‘‘ آگیا ہو گا، کچھ بونے قسم کے کم ظرف۔۔۔ بکتے ہیں کہ ’’جہاد‘‘ کا دور ختم ہو گیا۔۔۔ ان کم ظرفوں کو کوئی بتائے کہ’’جہاد‘‘ کسی کار، کوٹھی، بس، ٹرک، یا جہاز کانام نہیں کہ جو ختم ہو جائے گا۔۔۔ ’’جہاد‘‘ اللہ کی عبادت کا نام ہے۔۔۔

جب تک عاشق دیوانے زندہ ہیں۔۔۔ تب تلک ’’جہاد‘‘ کی عبادت کافریضہ ادا ہوتا رہے گا، تم کیا جانو جہاد کا مزہ اور شہادت کی لذت کو؟

یہ شہادت گہہ اُلفت میں قدم رکھنا

لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

آخر میں پھر سلطان العارفین حضرت باہوؒ یاد آئے۔۔۔ جو فرماتے ہیں کہ

اللہ عزوجل وحدہ،لا شریک ہے۔۔۔ اور ہر جانب موجود ہے، اس کی موجودگی کو۔۔۔ ظاہری آنکھ محسوس نہیں کر سکتی۔۔۔۔ بلکہ اس کیلئے باطنی آنکھ کاہونا ضروری ہے۔۔ جس سالک کے اندر۔۔۔ عشق حقیقی کی شمع روشن ہو جائے۔۔۔ تو وہ سالک عشق حقیقی کی کیفیات میں۔۔۔ سرشار ہو کر دنیا سے بے خبر ہو جاتا ہے۔

پھر اس کا وجود فنا فی اللہ ہو جاتا ہے۔۔۔ سالک مشاہدہ حق میں اس قدر محو ہوتا ہے کہ۔۔۔ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے

سبحان اللہ۔۔۔ حضرت باہوؒ نے عشق حقیقی کی جو تشریح بیان فرمائی ہے۔۔۔ اس پر۔۔۔ لیلائے شہادت سے ہم آغوش ہونے والا۔۔۔ ہرعاشق صادق۔۔۔ پورا اترتادکھائی دیتا ہے،’’فنا فی اللہ‘‘ کی انتہا تو یہ ہے کہ۔۔۔۔’’مجاہد‘‘ پہلے اپنی خواہشات کوذبح کرے۔۔۔ اور پھر راہ خدامیں۔۔۔ اپنے جسم کے ٹکڑے کروا کر۔۔۔ بھی جہاد کے پرچم کوسربلند رکھے۔

مجاہدین کو گاڑیوںاور کوٹھیوں کے طعنے۔۔۔ دینے والے ظالمو! سچا اور مخلص جہادی تو۔۔۔ اللہ کا سچا عاشق ہوتا ہے، حضرت رابعہ بصریہ رحمہا اللہ تعالیٰ عشق الہٰی میں ڈوب کر فرمایا کرتی تھیں’’ اے مولا میں تجھ سے دوہری محبت کرتی ہوں۔۔۔ ایک تو یہ کہ تومیرا محبوب ہے۔۔۔ دوسری یہ کہ تو اس قابل ہے کہ تجھ سے محبت کی جائے۔۔۔ پہلی محبت نے تومجھے تیرے سوا سب سے بے خبر کر دیا ہے، اور دوسری محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حجاب سرک جائیںاور چشم شوق لذت’’دید‘‘ حاصل کر لے‘‘

ذرا گلشنِ ’’جیش‘‘ کے حسین ترین شہید پھولوں کی زندگیوںپر تو ایک۔۔ نظر ڈالو۔۔۔ تمہیں وہاں عشق الہٰی۔۔۔ اور شوق شہادت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے کہ جنہیںدیکھ کر اللہ کی وحدانیت پر یقین اوراعتماد مزید بڑھ جائے گا۔

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online