Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

ہنگو میں پیغام شہداء کانفرنس (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 619 - Naveed Masood Hashmi - Piagham e Shuhada Conf

ہنگو میں پیغام شہداء کانفرنس

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 619)

ہنگو میں ہونے والی’’پیغام شہداء کانفرنس‘‘ اس حوالے سے منفرد تھی ۔۔۔کہ اس کے شرکاء میں اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔۔۔ تقریباً12سال بعد ہنگو میں آمد ہوئی۔۔۔ تو’’ہنگو‘‘ کچھ سہما، سہما، خوفزدہ اور دُکھی دُکھی سا نظرآیا، ایسے لگا کہ جیسے’’ہنگو‘‘ انصاف کا منتظر ہو؟اورجب تک ہنگو کوانصاف نہیںملے گا۔۔۔ اس وقت تک ہنگو یونہی دکھی ہو کر آنسو بہاتا رہے گا، مجھے لگا کہ جیسے اہلیان ہنگو کا یہ شکوہ بجا بھی ہے۔۔۔کہ ہنگو کے دامن کو۔۔۔ امن کے پھولوں اور اسلام کی خوشبو سے بھرنے والے۔۔۔63سالہ نامور عالم دین صوفی باصفا مفسر قرآن، شیخ الحدیث مولانا محمد امین اورکزیؒ کو انتہائی ظالمانہ انداز میں۔۔۔ شہید کر دیا گیا تھا۔

یہ11جون2009ء کی بات ہے کہ جب ہنگو کے علاقے شاہو وام کے عوام نے۔۔۔ اچانک ایک جیٹ طیارے کو آسمان پر نمودار ہوتے دیکھا۔۔۔ اس جیٹ طیارے نے غوطہ لگایا اور شیخ الحدیث مولانا محمد امینؒ کے مدرسے جامعہ یوسفیہ کی۔۔۔ مسجد پر بمباری کر دی۔۔۔ خوفناک دھماکوں سے مسجد اور مکتبہ کی عمارت آن ہی آن میں زمین بوس ہو گئی۔۔۔ جیٹ طیارہ تو بمباری کر کے۔۔۔ آگے بڑھ گیا مگر جب۔۔ عوام تباہ حال مسجد اورمدرسے تک پہنچے۔۔۔ تو انہوں نے دیکھا کہ63سالہ عظیم محدث اورمفسر قرآن مولانا محمد امین اورکزی ؒ، 11سالہ بچے عبدالرحمن اور4سالہ معصوم بچی حدیقہ بنت مفتی عظمت اللہ سمیت شہادت کا جام نوش کر چکے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ۔۔۔ جیٹ طیارے کی بمباری سے شہید ہونے والے اس عظیم عالم دین کا جنازہ ہنگو کاتاریخی جنازہ بن گیا۔۔۔ شہید شیخ الحدیث مولانا محمد امینؒ کے بیٹے مولانا محمد یوسف ہنگو کی مرکزی شاہراہ پر اس خاکسار کے۔۔۔ استقبال کے لئے تشریف لائے۔۔۔ اور پھر اپنے ہمراہ حضرت اقدس شہید کی یادگار مدرسہ جامعہ یوسفیہ لے گئے۔۔۔ میری زندگی میں کبھی مولانامحمد امین اورکزیؒ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔۔۔ میں مولانا محمد یوسف کیساتھ ان کے مزار اقدس پر حاضر ہوا جو شاہو وام کی سڑک سے متصل ہے، 11سالہ شہید عبدالرحمن اور4سالہ ننھی حدیقہ کی قبریں ان کے دائیں بائیں ہیں۔

سچی بات ہے شہید مظلومین کی قبور پر جا کر دل رنج و کرب سے اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔۔۔ بے گناہ، عظیم عالم دین مولانامحمد امین اورکزیؒ اور دو معصوم بچوں کی مظلومانہ شہادت کے پیچھے۔۔۔ کونسی سازش کار فرما تھی، کس کا مکروہ ہاتھ تھا؟

بے گناہوں کے خون سے ہاتھ کیوںرنگے گئے؟ ان سب سوالات کے جواب ابھی باقی ہیں؟ ہنگو کے مسلمان شائد اسی لئے ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں۔

یہ موضوع چونکہ بڑا طویل بھی ہے، دلخراش بھی ہے اورکربناک بھی۔۔۔ اس لئے اس کو کسی اور وقت پر اٹھارکھتے ہیں اور بڑھتے ہیں پیغام شہداء کانفرنس کی طرف۔۔۔ کہ جو بڑھ عباس، خیل ہنگو کی مرکزی عید گاہ میں اپنی پوری آب و تاب سے جاری تھی۔۔۔عبدالمتین شہید، حسین احمدشہید، سراج احمدشہید،محمد عمر شہید، احمداللہ شہید، محمدامجد شہید، محمدحیات شہید، محمدشبیر شہید، محمدعامرشہید،شکیل الرحمن شہید، عبداللہ شہید،امیر محمدشہید،جہاںگل شہید، عبداللہ انقلابی شہید،عمران گل شہید

یہ سارے وہ جہادی ستارے ہیں کہ جن کا تعلق۔۔۔ ضلع ہنگو کے مردم خیز علاقے سے تھا۔۔۔ اور یہ اسلام کی سربلندی کے لئے۔۔۔ کفریہ طاقتوں سے جہاد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے تھے۔۔۔ اس خاکسار کی کئی شہداء کرام کے ورثاء سے ملاقات ہوئی۔۔۔ تو انہیں حیرت انگیز طور پرمطمئن اورشاداں فرحاں پایا۔۔۔ اپنے بیٹوں کے بہادرانہ کارناموں اورشہداء کرام کے فضائل و مناقب سن کر والہانہ انداز میں سبیلنا، سبیلنا، الجہاد،الجہاد کے نعرے بلند کرتے ہوئے وہ نہایت بھلے لگ رہے تھے۔

واقعی جہاد،اگرحقیقی اوراصلی ہو تو۔۔۔ پھر شہید کی شہادت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔۔۔ شہید کامقدس خون اپنے ماں،باپ، بہن، بھائیوںاور عزیزو اقارب کے دلوںمیں ایسا سوز وگداز پیدا کرتا ہے۔۔۔ کہ جو قائل نہ تھے وہ خود بخود۔۔۔ قائل ہوجاتے ہیں۔۔۔ جو جہاد کی طرف مائل نہ ہوتے تھے، پھر وہ خود ہی۔۔۔ جہاد کی طرف مائل بھی ہوجاتے ہیں۔۔۔ اللہ کی ذات ہی دلوںکے اندر جہاد کی محبت اتارتی ہے۔۔۔ مقبوضہ کشمیر بھارتی درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، بھارتی فوج جس طرح سے نہتے شہریوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔۔۔ وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔

عورتوں کی بے حرمتی، سے لے کر معصوم بچوں کے قتل عام تک۔۔۔ بھارت نے کشمیری مسلمانوں کے خلاف نت نئے مظالم ڈھانے کے ریکارد قائم کر رکھے ہیں، ان حالات میں۔۔۔ امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر کے جانباز منہج نبوی کے عین مطابق بھارتی فوج کے خلاف برسر پیکار ہیں۔۔۔ خوش قسمت ہیں وہ مسلمان کہ جو کشمیری مجاہدین سے پیار کرتے ہیں، اور باسعادت ہیں وہ کشمیری مجاہدین کہ جو اپنی جانوں کو ہتھیلیوں پر رکھے بھارتی ظلم وستم کا مقابلہ کر رہے ہیں۔۔۔ یہ جان تو آنی جانی ہے۔۔۔ اگر یہ جان اللہ کے راستے میں قربان ہو جائے تو ایک سچے مجاہد کے لئے اس سے بڑی سعادت کی بات کوئی دوسری ہو نہیں سکتی۔امیر المجاہدین مولانامحمدمسعود ازہر کے جانبازوں کو سلام، کہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں جانیں لٹا کر عملی طور پر یہ بات ثابت کر دی کہ

فنا فی اللہ کی تہہ میں بقاء کا راز مضمر ہے

جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online