Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

بھارتی راتب خور؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 620 - Naveed Masood Hashmi - Bharti Ratab Khor

بھارتی راتب خور؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 620)

بھارتی پٹاری کا ایک قلم فروش اپنے کالم میں لکھتا ہے کہ ’’پورے ملک کے مستقبل کو چندافراد کی خاطر خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ چند ماہ قبل ہمسایہ ملک چین کے سفیر نے بتایا کہ مولانا محمد مسعود ازہر کے معاملے میںمزید دفاع کرناہمارے لئے ممکن نہیں۔۔۔ ہمسایہ ملک بھارت سے پاکستان کے تنازع کی بنیادی وجہ یہی چند افراد ہیں۔۔۔ بھارت پر ہونے والے حملوں کاالزام انہی افراد پرلگتا رہا ہے۔۔۔ مگر کچھ لوگ انہیں اپنااَثاثہ قرار دیتے ہیں‘‘

ویسے تو امن کی آشا اینڈ کمپنی کے اخبار میں’’پاکستان کی خارجہ پالیسی اورکالعدم تنظیمیں‘‘ کے عنوان سے چھپنے والے کالم کو ’’بھارت نامہ‘‘ قرار دے دیا جائے تو یقینا غلط نہ ہوگا۔۔۔ ایک دوست کی نشاندہی پر جب میں نے اس کالم کو پڑھا تو سخت افسوس ہوا۔

کیا کسی پاکستانی کالم نگار اپنے تئیں دانشور کہلانے والے کو۔۔۔۔ اس قدر بھارت سے مرعوب ہونا چاہئے کہ وہ بھارت کے جھوٹے اور دورغ گوئی پر مبنی مؤقف کو تو درست سمجھے اورپاکستان کے مؤقف کو غلط؟ اگر اس قسم کا کوئی کالم نگار دہلی یا بمبئی میںہوتا۔۔۔ اوروہ بھارت کی سرزمین پر رہتے ہوئے۔۔۔ ’’پاکستان‘‘ کی حمایت کرتا تو اب تک بی جے پی یاشیوسینا والے جوتے مار،مار کر اس کا حلیہ بگاڑ چکے ہوتے، بھارت کی محبت میں اندھے ہو کر اپنے ہی پاکستانیوں کومجرم سمجھنے والے ان مرعوب زدہ دانش فروشوں کی معلومات بھی انتہائی ناقص ہیں۔۔۔ یہ لکھنا کہ بھارت سے پاکستان کے تنازع کی بنیادی وجہ مولانا محمد مسعود ازہر یادیگر چند لوگ ہیں۔۔۔ کس قدر بیوقوفی،کم علمی اور جہالت کی بات ہے۔۔۔ بھارت کے حکمرانوں نے۔۔۔14اگست1947ء؁ کے دن سے ہی پاکستان کو قبول نہیں کیا۔۔۔ بھارت نے1965ء؁ میںپاکستان پر جنگ مسلط کی۔۔۔ بھارت نے1971ء؁ میں پاکستان کا ایک بازو کاٹ کر اسے بنگلہ دیش بنا دیا۔۔۔کیا یہ سارا ظلم بھارت نے مولانامحمدمسعودازہر کی وجہ سے کیا تھا؟ بھارت سے تنازع کی بنیادی وجہ اگر مولانا محمد مسعودازہر یاد یگر چند جہادی ہیں۔۔۔ تو پھر مولانا محمد مسعود ازہر اور دیگر چند جہادی تو14اگست1947ء؁ کو پیدا بھی نہ ہوئے تھے کہ جب ہندو اور سکھ دہشت گردوں نے ۔۔۔ہجرت کر کے پاکستان آنے والے لاکھوں مسلمانوںکا قتل عام کیاتھا۔۔۔ بھارت تو روز اول سے ہی پاکستان کے وجود کاہی دشمن ہے، بھارت کے درندوںنے1989ء سے لے کر2017ء تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کاقتل عام کیا، کشمیر میں بھارتی فوج نے بے گناہ مسلمانوں پر جو ظلم و بربریت کابازار گرم کررکھا ہے۔۔۔ کیا اس کی وجہ بھی مولانا محمد مسعود ازہر یادیگر چند جہادی ہیں؟ کیا بھارت کی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ بلوچستان میں جو دہشتگردی کی کارروائیاں کروارہی ہے۔۔۔ اس کی وجہ بھی مولانا مسعودازہر ہیں؟

بھارتی پٹاری کے قلم فروش کو خدا کاخوف نہیں ہے۔۔۔ یہ پاکستان میںرہ کر، پاکستان میں عزت حاصل کر کے یہاں سے رزق کما کر۔۔۔ کاسہ لیسی بھارت کی کرتے ہیں۔۔۔ بھارت پر ہونے والے حملوں کاالزام صرف مولانا محمد مسعودازہر پر ہی نہیں لگتا۔۔۔ بلکہ بھارت کو تویہ موذی مرض بھی لاحق ہے۔۔۔ کہ وہاںاگر کسی کی شادی میںپٹاخہ بھی پھوٹ جائے تو اس کا الزام بھیمجاہدین پر لگایا جاتا ہے۔۔۔ بھارت اگر مولانا محمد مسعود ازہر یامجاہدین کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتا ہے۔۔۔ تواس کا مطلب کیا یہ ہے کہ۔۔۔ بھارتی پٹاری کا کوئی ’’دانش چور‘‘ بھارت کے جھوٹے الزامات کو۔۔۔ بنیادبنا کر پاکستانی شخصیات اور اداروں کو ہی ہدف تنقید بنانا شروع کر دے؟اور پھر یہ کہنا کہ ’’پاکستان سمیت کسی بھی ملک پر حملہ کرنا بھارت کی ترجیحات ہی نہیں۔۔۔ اورنہ ہی ہو سکتی ہیں۔۔۔بھارت کی معیشت دن بدن اوپر جارہی ہے‘‘۔۔۔ پاکستان میں رہ کر بھارت کی وکالت کرنے والے اس کالم نگار سے کوئی پوچھے کہ جس بھارت نے70سالوں میں۔۔۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کبھی کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔۔۔ جس بھارت کے فوجی درندے۔۔۔۔ اب بھی پاکستانی علاقوںپر گولہ باری اورفائرنگ کرکے معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگتے ہیں۔۔۔ اس بھارت کے حوالے سے یہ لکھنا کہ پاکستان پر حملہ کرنا بھارت کی ترجیح ہی نہیں ہے۔۔۔ اسے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری ہی قرار دیا جاسکتاہے۔۔۔ اور رہ گئی یہ بات کہ بھارت کی معیشت دن بدن اوپر جارہی ہے۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔ اوپر ..جس کے عوام کی اکثریت کس قدر۔۔۔ غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔۔۔مگر اس کی معیشت کہیںاوپر جارہی ہے،ہاہاہا’’زر‘‘ کے یہ بندے پاکستانی عوام کوبیوقوف سمجھتے ہیں، آخرمیں موصوف اسلامی نظریاتی ایٹمی مملکت کونصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’پاکستان کو حکمت سے کام لینا چاہئے۔۔۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم’’مکی‘‘ زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔ ’’مدنی‘‘ زندگی تک پہنچنے میں ابھی وقت لگے گا‘‘۔۔۔

70سال ہوگئے پاکستان کوقائم ہوئے۔۔۔ مگر ابھی تک ہم’’مکی‘‘ زندگی گزاررہے ہیں۔۔۔

 کوئی ان سے پوچھے کہ ۔۔۔ یہ’’مکی‘‘ زندگی گزارنے کیلئے اور کتنی صدیاں درکار ہیں؟ جب آپ نے قیامت تک’’مکی‘‘ زندگی گزارنے کاہی عزم کررکھا ہے توپھر’’مدنی‘‘ زندگی۔۔۔گزارنے کا توشاید کبھی کسی کو بھی موقع ہی نہ ملے۔۔۔ خدارا! ’’مکی‘‘ اور ’’مدنی‘‘ زندگی کوبدنام مت کیجئے۔۔۔ اپنی بزدلی،کم ہمتی، تن آسانی، کاسہ لیسی اورراتب خوری پر’’مکی‘‘ زندگی کی مقدس اصطلاح مت استعمال کیجئے، شرم آنی چاہئے بھارتی پٹاری کے ایسے دانش چوروں کو کہ جنہیں بھارتی فوج کے درندوں کے ہاتھوں۔۔۔ کشمیری مسلمانوںکابہتا ہوا لہو تو نظر نہیں آتا۔۔۔جنہیںبلوچستان میںبھارتی دہشتگردوں کے ہاتھوں بے گناہ مارے جانے والے پاکستانیوں کے خون آلود لاشے تونظر نہیںآتے، جنہیں فاٹا میں بھارتی دہشتگردی کے واقعات بھی نظر نہیںآتے۔۔۔ ہاں۔۔۔ البتہ انہیں ولی صفت مولانامحمدمسعود ازہر اور دیگر جہادی ضرورنظر آتے ہیں۔۔۔چنانچہ وہ بھارت اورامریکہ کی ہاںمیں ہاں ملاتے ہوئے ان کے خلاف۔۔۔ اپنے کالموں اورتجزیوں میںخوب دل کے پھپھولے پھوڑتے ہیں۔۔۔بھارتی ایجنڈے کو وطن عزیز میںآگے بڑھانے والے۔۔۔ نہ اس ملک کے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی اس قوم کے۔۔۔

وما توفیقی الاباللّٰہ

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online