Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

اقصیٰ کی پکار الجہاد، الجہاد (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 622 - Naveed Masood Hashmi - Aqsa ki Pukar

اقصیٰ کی پکار الجہاد، الجہاد

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 622)

اے خاصۂ خاصانِ رُسل وقت دعا ہے

اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے

پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے

جس دین نے غیروں کے دل آ کے ملائے

اس دین میں بھائی سے اب بھائی جدا ہے

اسمبلیوں میںقراردادیںہیں۔۔۔احتجاجی مظاہر ے ہیں، جلسے اور جلوس ہیں، نعرے اور تقریریں ہیں۔۔ لیکن بدبخت مودی ہو یا کمبخت امریکی’’ٹرمپ‘‘ وہ مسلمانوں سے ڈرنے میں ہی نہیں آرہے۔۔۔کیا امریکہ اور کیا اسرائیل۔۔۔ کیا برطانیہ اور کیا بھارت، یہ سب ایک تھے اور ایک ہیں۔۔۔ امریکا نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کر کے۔۔ مسلمان ممالک کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو آئینہ دکھا دیا۔۔۔

اور وہ یہ کہ تمہارا کام قرار دادیں منظور کرتے رہنا۔۔۔ اور ہماراکام مسلمانوں پر مظالم کی رفتار بڑھاتے رہنا ہے۔۔ 15دسمبر2017ئ؁ کا طلوع ہونے والا سورج۔۔۔ آج بھی ہمیں یہ سمجھا رہا ہے کہ وہی یہودی اور وہی عیسائی۔۔ نہ یہودیت کا ذہن بدلا اور نہ ہی عیسائیوں کا ذہن اور طریقہ کار بدلہ۔۔۔ بلکہ قرآن نے بالکل سچ فرمایا تھا کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ’’اے ایمان والو! یہ یہود ونصاریٰ تمہارے کبھی بھی دوست نہیں ہو سکتے‘‘۔۔۔ بیوقوف تھے مسلمان ممالک کے وہ حکمران کہ جو جارج ڈبلیو بش یا اوباما کو اپنا دوست سمجھتے رہے۔۔۔ اوراب بھی اگر کوئی مسلمان ملک کا حکمران۔۔۔ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست سمجھتا ہے۔۔۔ تو اس کی بیوقوفی، کم عقلی اور جہالت میں کوئی شک نہیں رہ جاتا۔

مسلمان ممالک کے صہیونیت کے غلام حکمرانوں نے۔۔۔ امریکی، یہودی احکامات کے تابع ہو کر۔۔۔ مسلمان نوجوانوں سے جہاد و قتال کی عبادت کو ختم کرنے کی جو بے پناہ کوششیں کیں یا اب تک کر رہے ہیں۔۔۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ کفریہ طاقتیں مسلم امہ کے خلاف اپنا دباؤ بڑھاتی چلی جارہی ہیں۔۔۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔۔۔ تو ہمارے ہاں ٹرمپ کے خلاف احتجاجی جلسے، جلوسوں میں۔۔۔ حضرت صلاح الدین ایوبیؒ کو پکارا گیا۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا صلاح الدین ایوبیؒ مغربی جمہوریت کی پیداوار تھا؟ کیا صلاح الدین ایوبیؒ سیکولر اور لبرل لادینیت نے پیدا کیا تھا؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں

ہم بھی کیا لوگ ہیں کہ جو ہتھیلی کے پیچھے سورج کو چھپانے کی کوششوں میں۔۔۔نہ ادھر کے رہتے ہیں اور نہ ادھر کے۔۔۔ حضرت صلاح الدین ایوبیؒ جہادی میدانوں کے شہسوار تھے، وہ جہاد و قتال کی عبادت سے عشق کرتے تھے۔۔۔ قاضی ابن شداد جو سلطان الدین ایوبیؒ کے قاضی رہے۔۔۔ رقمطراز ہیں’’جہاد کی محبت اور جہاد کا عشق ان کے رگ وپے میں سمایا ہوا تھا۔۔۔ اور ان کے دل و دماغ پر چھایا رہتا تھا۔۔۔ صلاح الدین ایوبیؒ کا موضوع گفتگو ہی جہاد اور مجاہدین رہتا تھا‘‘

 جو’’جہاد وقتال‘‘ والی عبادت صلاح الدین ایوبیؒ، محمد بن قاسمؒ اور طارق بن زیادؒ جیسے عظیم جرنیل تیار کرتی ہے۔۔۔ اس ’’جہاد و قتال‘‘ والی عبادت کا نام سن کر حکمران ہوں۔۔۔ سیاست دان ہوں یا میڈیا، کافروں کی ہمنوائی کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔۔۔ آج کوئی رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف۔۔۔یا لادینیت کے کسی دوسرے’’بت‘‘ سے پوچھے کہ۔۔۔ اگر یہودیوں اور امریکا کو مسلمانوں پر مظالم سے روکنے کا’’جہاد‘‘ کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ ہے تو وہ بتاتے کیوں نہیں؟ تمہیں اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے۔۔۔ وہ’’جہادی‘‘ اچھے نہیںلگتے تھے۔۔۔ جن سے واشنگٹن اور دہلی کانپ اٹھتے تھے۔۔ اس لئے تم نے ان غریب جہادیوں کو پکڑپکڑ کر۔۔۔ امریکہ کے ہاتھوں ڈالروں کے عوض فروخت کیا تھا۔۔۔ رسواکن ڈکٹیٹر نے واشنگٹن اور نیویارک کی حفاظت کیلئے۔۔۔ اپنے ہی وطن کو آگ و خون کے سمندر میں دھکیل ڈالا۔۔۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسی پاکدامن خاتون کو ۔۔۔ اس کے معصوم بچوں سمیت امریکہ کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا،رسواکن ڈکٹیٹر اور اس کے بعد آنے والے کرپٹ حکمرانوں نے۔۔۔۔ کشمیر کے مجاہدین پر خوفناک پابندیاں عائد کر کے۔۔ جہاد کشمیر کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔۔۔

بھارت کو محفوظ بنانے کے لئے۔۔۔ کشمیری مجاہدین پر پابندیاں لگانے والا رسوا کن ڈکٹیٹر ۔۔۔ آج خود تو بزدل چوہے کی طرح دبئی میں چھپابیٹھا ہے۔۔۔ لیکن اس کی ظالمانہ پالیسیوں کا نتیجہ صرف پاکستانی قوم کو ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔۔۔

القدس میںواقع قبلہ اول کہ جس کی طرف رُخ کر کے نبی کریمﷺ اور آپﷺ کے صحابہؓ نے تقریبااٹھارہ ماہ تک نمازیں ادافرمائی تھیں ۔۔۔ مسجد حرام اورمسجد نبوی کے بعد سب سے بابرکت و فضیلت کا مقام رکھنے والی مسجد اقصیٰ۔۔۔آج خون کے آنسو رو رہی ہے۔۔۔ وہ عزت و شرف والی مسجد اقصیٰ۔۔۔ کہ ایک رات جس کی طرف خاتم الانبیاء ﷺ کو مکہ مکرمہ سے لے جایا گیا۔۔۔ جس مسجد اقصیٰ میں۔۔۔ امام الانبیائﷺ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی امامت فرمائی تھی۔۔۔ وہ مسجد اقصیٰ اور شہر القدس آج جمہوریت کے مارے ہوئے سیاست دانوں۔۔صہیونت کے غلام مسلمان نما حکمرانوں۔۔اوریہودیت کا چربہ بنے ہوئے۔۔۔ میڈیا کے پردھانوں سے شکوہ کناں ہے کہ کیا فائدہ تمہاری جمہوریتوں اور بادشاہتوں کا۔۔۔ کیا فائدہ تمہارے سیکولر اور لبرل ہونے کا ہے۔۔۔ تم سب مل کر جہاد اور مجاہدین کو مٹانے پر تلے کھڑے تھے۔۔۔

اگر تم امریکہ کے دم چھلے بن کر۔۔۔ جہاد اور مجاہدین پر پابندیاں عائد نہ کرتے۔۔۔ تو آج ’’ٹرمپ‘‘ جیسے بدکار کو بھی جرأت نہ ہوتی کہ۔۔۔ وہ القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online