Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

غیبت سے بچئے ورنہ… (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 625 - Naveed Masood Hashmi - Gheebat se Bachiye Warna

غیبت سے بچئے ورنہ…

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 625)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اللہ کا رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپﷺ نے فرمایا :کسی مسلمان کی پیٹھ پیچھے اس کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے ناپسند ہو، تو غیبت ہے۔ ایک سائل نے عرض کیا : اگر وہ ناپسندیدہ بات اس کے اندر موجود ہو تو۔۔ آپﷺ نے فرمایا: اگر وہ ناپسندیدہ بات اس کے اندر موجود ہے تو یہی تو غیبت ہے اور اگر وہ بات اس کے اندر موجود نہیں۔۔۔ تو وہ بہتان ہے‘‘

غیبت کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کی پیٹھ پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کرے اگر اسے معلوم ہوتو اسے ناگوار گزرے، خاتم الانبیائﷺ نے غیبت کی تعریف یوںبیان فرمائی ہے : غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرے جو اسے ناگوار ہو، عرض کیا گیا : اگر میرے بھائی میں وہ بات پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو اس صورت میں۔۔۔ آپﷺکا کیا خیال ہے؟

آپﷺ نے فرمایا: اگر اس میں وہ بات پائی جاتی ہے تو تو نے اس کی غیبت کی اگر اس میں وہ موجود نہ ہو توتونے اس پر بہتان لگایا۔‘‘

یہ موذی مرض جسے’’غیبت‘‘ کہا جاتا ہے۔۔۔آج ہماری محفلوں کی جان ہے۔۔۔(استغفراللہ) افسوس صد افسوس ہم بحیثیت مجموعی اس موذی مرض کا شکار بنے ہوئے ہیں۔۔۔ کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں یہ موذی مرض موجود نہ ہو، کوئی بستی، کوئی قریہ، کوئی گاؤں، گوٹھ اور کوئی شہر ایسا نہیں ہے کہ جہاں’’غیبت‘‘ نے اپنا رنگ نہ جما رکھا ہو، دوسروں کی غیبت کر کے لوگ فخرمحسوس کرتے ہیں۔۔۔ بلکہ ایسے بدقسمت لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ۔۔۔ جب تک وہ’’غیبت‘‘ نہ کر لیں۔۔ اس وقت تک ان کے پیٹ کااپھارہ ہی کم نہیں ہوتا۔

کیا بے دین اور کیا دیندار۔۔۔الغرض کہ ہر کوئی اس موذی مرض میں مبتلا نظر آرہا ہے۔۔۔ ظلم تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں’’غیبت‘‘ کو گناہ ہی نہیںسمجھا جاتا۔

خاتم النبیین ﷺ فرماتے ہیں کہ ’’جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا، میرا گزر کچھ ایسے لوگوں کی طرف سے ہوا۔۔۔ جو اپنے چہروں کو اپنے ناخنوں سے نوچ رہے تھے۔۔۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل امین نے جواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی’’غیبت‘‘ کیا کرتے تھے، انہیںبے عزت کیا کرتے تھے‘‘ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ’’غیبت سے اجتناب کرو، کیونکہ غیبت زنا سے زیادہ بری چیز ہے۔۔۔ غیبت کی توبہ قبول نہیں کی جاتی، جب تک وہ آدمی جس کی غیبت کی ہو۔۔۔وہ اسے معاف نہ کر دے‘‘

کاش کہ ہم مسلمان غیبت، چغل خوری کوبھی گناہ سمجھنا شروع کر دیں!کاش۔۔۔ اے کاش! کہ ہم مسلمان بحیثیت قوم غیبت اورچغل خوری جیسی موذی بیماریوں سے نجات پالیں،تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم دینی اور دنیاوی ترقی کے راستے پر گامزن نہ ہو سکیں۔۔۔

’’غیبت‘‘ نے ہمارے معاشرے کو بدبودار بنا کررکھ دیا ہے، ’’غیبت‘‘ نماز، روزہ جیسی عبادات کی نورانیت کو بھی ختم کرڈالتی ہے۔۔۔’’غیبت‘‘ دلوں کو زنگ آلود کر دیتی ہے۔۔۔’’غیبت‘‘ انسانوں کے درمیان نفرتوں کے بیج بوتی ہے،’’غیبت‘‘ اللہ کی ناراضگی کاسبب بنتی ہے۔۔۔

ذرا سوچئے ! کہ کون ہوگا وہ بدقسمت کہ جو اللہ کی ناراضگی مول لینے کی سکت رکھتا ہو؟

 جب ہم اللہ کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے غیبت جیسے موذی مرض کاشکار بنے رہیں گے اس وقت تک یہ موذی مرض ہمارے معاشرے پر مسلط رہے گا۔۔۔

قرآن مجیدمیں ارشاد خداوندی ہے کہ(ترجمہ)’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو،بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، تجسس نہ کرو اورتم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیاتمہارے اندر کوئی ایسا ہے جواپنے مرے ہوئے بھائی کاگوشت کھاناپسند کرے گا؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو، اللہ سے ڈرو، اللہ توبڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے‘‘(سورۃ الحجرات ایت12)

اگر غیبت اورچغل خوری کے حوالے سے قرآن وسنت کے احکامات کی روشنی میں ہرایک اپنے اپنے کردار و عمل۔۔۔ کا جائزہ لینے کی کوشش کرے تو یقیناً اسے شرمندگی ۔۔ہی شرمندگی کاسامناکرنا پڑے گا۔۔۔

اللہ ہمیں معاف فرمائے۔۔۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online