Bismillah

640

۱۰تا۱۶شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۷اپریل تا۳مئی۲۰۱۸ء

مفرور موذی درندہ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 629 - Naveed Masood Hashmi - Maghroor Moozi Darinda

مفرور موذی درندہ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 629)

جس معاشرے میںعدل نہ ہو تو وہ معاشرہ برباد ہو جایا کرتا ہے۔۔ انبیاء ورسل علیہم السلام کی بعثت کا ایک بڑا مقصد معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا کرنا بھی ہے۔۔۔ کیونکہ عدل و اِنصاف کے ذریعہ ہی معاشرہ۔۔۔ ایک پُرامن اور بہترین معاشرہ بن سکتا ہے۔۔۔ قرآن کریم کی سورۃ الحدید میں ارشاد خداوندی ہے کہ’’بے شک ہم نے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے‘‘ تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں‘‘

معاشرے میں اِنصاف جتنا عام ہو گا۔۔۔ جرائم اور بُرائیاں اسی قدر کم ہوتی چلی جائیں گی۔۔ جس معاشرے میں انصاف اور عدل ناپید ہو گا۔۔۔ وہ معاشرہ جرائم کا گڑھ اور برائیوں کا مرکز بن جائے گا۔۔۔ وہاں چور، ڈکیت، قاتل ، رسہ گیر اور راہزن،لیڈر اور راہنما بن جائیں گے۔۔۔ بے گناہ انسانوں کا لہو پانی کی طرح بہانے والے دہشتگرد، وردی پہن کر قانون کے محافظ کہلائیں گے، میں گزشتہ دو دنوں سے کراچی میں ہوں۔۔۔ اور اہلیان کراچی کی۔۔۔ سابق ایس ایس پی ملیر ’’راؤ انوار‘‘ سے نفرت دیکھ کر اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آخر’’راؤ انوار‘‘ جیسے وردی پوش قاتل، درندے اور دہشتگرد سالہا سال تک قانون کی نگاہوں سے بچے کیسے رہتے ہیں؟

امریکہ کے مخالفین کو تو جنگل، بیابانوں، صحراؤں اور پہاڑی چٹانوں کی برف پوش چوٹیوں سے بھی ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔۔۔ مگر’’راؤ انوار‘‘ جیسے دہشتگرد شہروں بلکہ اہل اقتدار کے آس پاس رہتے ہوئے بھی اگر قانون کے شکنجے سے بچ جاتے ہیں توپھر یہ لکھے بغیر چارہ نہیں ہے کہ۔۔۔ موجود’’نظام‘‘ ہی دراصل راؤ انوار جیسے وردی پوش دہشتگردوں کی سرپرستی اور ظلم میں معاونت کرتا ہے۔۔۔ سندھ پولیس نے نقیب اللہ قتل کیس کی جو تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ کراچی میں جمع کروائی ہے۔۔ اس نے پاکستان کے ہر شہری کو پریشان اور مضطرب کر دیا ہے ۔۔۔ اس رپورٹ نے نہ صرف نقیب اللہ کی بے گناہی کی تصدیق کی ہے۔۔۔ بلکہ راؤ انوار کے192جعلی مقابلوںمیں (444)افراد کے قتل کا تذکرہ کیا گیا ہے، ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ جو’’موذی درندہ‘‘ سالہا سال تک جعلی پولیس م قابلوں میں سینکڑوں انسانوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے سندھ گورنمنٹ کا’’ہیرو‘‘ بنا رہا۔۔۔ اس کا تعلق کیا کسی کالعدم جہادی، مذہبی تنظیم یا دینی مدارس سے تھا؟

کوئی بتا سکتا ہے کہ راؤ انوار جیسے موذی درندے نے۔۔۔ اسلحہ اور بندے مارنے کی ٹریننگ کہاں سے حاصل کی تھی؟ اسے گاڑیاں، فنڈز اور سہولت کاری کون فراہم کرتارہا؟ میں ان ماؤں کو جانتا ہوں کہ۔۔۔ جن کے جگر گوشے اس درندے کی درندگی کا نشانہ بن کر لاشوں میں تبدیل ہوئے۔۔۔ تو وہ مائیں اپنے بے گناہ بیٹوں کے خون آلودہ لاشے دیکھ کر ذہنی توازن کھو بیٹھیں۔۔۔ میں نے اس خونی درندے۔۔۔ کے جعلی مقابلے میں مرنے والے کئی نوجوانوں کی بہنوں کو خون کے آنسو روتے ہوئے دیکھا۔۔۔ کراچی کے عوام تو گزشتہ دو دہائیوں سے چیخ رہے تھے کہ راؤ انوار قانون کی وردی میں چھپا ہوا وہ بھیڑیا ہے کہ جس کے منہ کو انسانی لہو کا چسکا پڑ چکا ہے۔۔۔ مجھے ایک دوست کرائم رپورٹر نے بتایا کہ’’راؤ انوار‘‘ نجی محفلوںمیں بڑے فخر سے کہا کرتا تھا کہ جب تک چار، پانچ بندے پھڑکا نہ لوں۔۔۔ تب تک میں ناشتہ نہیں کرتا۔۔۔ اتنی بے دردی سے کوئی انسان کسی موذی جانور کو نہیں مارتا۔۔۔ کہ جتنی بے دردی سے یہ موذی’’درندہ‘‘ جیتے جاگتے انسانوں کو تڑپا تڑپا کر مارا کرتا تھا۔۔۔ کوئی ہے کہ جو ان یونیورسٹیوں پر تالے ڈال دے کہ جہاں سے پڑھ کر’’راؤ انوار‘‘ بنتے ہیں؟ کوئی ہے کہ جو ان سیاسی جماعتوں کو’’کالعدم‘‘ قرار دے جو سیاسی جماعتیں’’راؤ انوار‘‘ جیسے ’’موذیوں‘‘ کو سیاسی چھتری فراہم کرتی ہیں؟

کوئی ہے کہ جو مسٹر زداری او رملک ریاض کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے پوچھے کہ آخر ’’راؤ انوار‘‘ جیسے دہشتگردوں سے تمہارا تعلق ہی کیوں نکلتا ہے؟ کوئی ہے کہ جو اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کرے کہ آخر ایک وردی پوش دہشتگرد اتنے عرصہ تک’’قانون‘‘ کی نگاہوں سے بچ کر سینکڑوں انسانوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں کیسے مارتارہا؟

کراچی، سندھ سمیت پورے پاکستان کی سرزمین۔۔۔۔ اسلام کے عادلانہ نظام کو ترس رہی ہے۔۔۔ اسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ ہی۔۔۔۔ مظلوموں کے دلوں کو راحت پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔۔۔ معصوم بچی زینب کے قاتل عمران سے لیکر دہشتگرد راؤ انوار تک۔۔۔ جیلوں میں بند سزایافتہ گستاخانِ رسول سے لیکر۔۔۔ مفرور گستاخ بلاگرز تک ان سب کو جب تک اسلامی سزاؤں کے شکنجے میں کسا نہیں جاتا۔۔۔ اس وقت تک ۔۔۔’’پاکستان‘‘’’جرائمستان‘‘ ہی بنا رہے گا۔۔۔ یاد رکھئے! کہ عدل و انصاف۔۔۔ حکومت و سلطنت کی عمارت کا بنیادی اور سب سے اہم ستون ہوا کرتا ہے۔۔۔ آقا و مولیٰﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ’’تم سے پہلے قومیں اس لئے تباہ و برباد ہو گئیں کہ جب کوئی معزز آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا۔۔۔ اور جب کوئی عام آدمی جرم کرتا تو اسے پکڑ لیا جاتا‘‘

اس ملک کو’’راؤ انوار‘‘ جیسے دہشتگردوں سے پاک کرنے کیلئے عدل و انصاف کا قیام لازمی ہے۔

٭………٭………٭………٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online