Bismillah

632

۶ تا۱۲جمادی الثانی ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۳تا۲۹فروری۲۰۱۸ء

کراچی آزادی کشمیر کانفرنس اور حیدرآباد میں ریلی (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 630 - Naveed Masood Hashmi - Karachi Azadi kashmir conf

کراچی آزادی کشمیر کانفرنس اور حیدرآباد میں ریلی

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 630)

4فروری کی شام سخی حسن چورنگی پر واقع بطحیٰ مسجد کے سامنے وسیع و عریض گراؤنڈ میں منعقدہ آزادی کشمیر کانفرنس اور 5فروری کی دوپہر صدیق اکبرؓ مسجد ہالاناکے روڈ سے پریس کلب حیدرآباد تک یکجہتی کشمیر ریلی کے ہزاروں پُرجوش اور پُرامن شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بندہ ناچیز نے عرض کیا کہ۔۔۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے اِظہار یکجہتی کرنا کوئی سیاست نہیں، بلکہ عبادت ہے۔۔۔ جو نوجوان بھارتی فوج کے درندوں کے سامنے مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں ڈٹے ہوئے ہیں۔۔۔۔ وہ پوری ملت اسلامیہ کا فخر ہیں۔۔۔ پاکستان کے21کروڑ عوام کا کشمیریوں سے رشتہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہے۔۔۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ’’میری اُمت کی دو جماعتوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے جہنم سے نجات لکھ دی ہے۔۔۔ ایک وہ جماعت جو ہندوستان پر جہاد کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کے بعد ان کے ساتھ ہوگی‘‘

 اس لئے کشمیر کے جہاد مں شرکت کرنے والے جہاد والی عبادت پر عمل کر کے اپنے اللہ کو راضی کرتے ہیں۔۔۔ کراچی میں منعقدہ آزادی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بندہ نے عرض کیا کہ۔۔۔ جہادِکشمیر کو دہشت گردی سے تعبیر کرنے والے بدنام زمانہ قاتل نریندر مودی کے ایجنٹ ہیں۔۔۔ 70سالوں سے پاکستان کے اقتدار پر قابض رہنے والوں نے۔۔۔شہہ رگ پاکستان کشمیر کو ہندو کی غلامی سے چھڑانے کیلئے کوئی مضبوط لائحہ عمل اختیار نہیںکیا۔۔۔ پرویز مشرف کا دور تحریک کشمیر کیلئے انتہائی سیاہ دور تھا۔۔۔ آصف علی زرداری کا دورہو یا نواز شریف کا حالیہ ساڑھے 4سالہ دور، انہوں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک کشمیر کو ضائع کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

نواز شریف اور ان کا بھائی شہباز شریف بھارت کو خوش کرنے کیلئے۔۔۔ کشمیر کے جہاد سے محبت کرنے والے نوجوانوں کو گرفتار کر کے ٹارچر سیلوں کارزق بناتے رہے۔۔۔ نوجوانوں اور بوڑھوں کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات اس لئے درج کئے جاتے رہے کہ یہ جہاد کشمیر کے لئے فلاںمسجد کے باہر فنڈز اکٹھا کر رہے تھے۔

انڈیا کے علاقے پٹھانکوٹ کی چھاؤنی پر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر گوجرنوالہ میں درج کر کے پنجاب کے مختلف شہروں سے جہاد کشمیر سے پیار کرنے والے درجنوں بے گناہ افراد کو گھروں سے اٹھا کرجیلوں میں ڈال دیا گیا۔۔۔ جب کہ خود شریف برادران نریندر مودی جیسے موذی شیطان کے ساتھ محبت کی جپھیاں ڈالتے رہے۔۔۔دہلی میں ساڑھیاں اور پاکستانی آموں کی پیٹیاں بجھواتے رہے۔۔۔ اس خاکسار نے اپنے خطاب میں جہادِکشمیر کی مخالف انڈین لابی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود بھارتی ٹکڑوں پر پلنے والی انڈین لابی، ان کی سرپرستی کرنے والادجالی میڈیا اور حکمران ہی دراصل آزادی کشمیر میںاصل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔۔۔ لیکن پاکستانی قوم کاایک ایک بچہ کشمیر کی آزادی کیلئے جانیں نچھاور کرنا۔۔۔ اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارت کی مسلسل ریاستی دہشتگردی کے باعث مقبوضہ کشمیر میں1989ء سے لیکر اب تک معصوم بچوں اور عورتوں سمیت نوّے ہزار سے زائد کشمیری شہادتوں کا جام نوش کر چکے ہیں۔۔۔ اس عرصے میں نو ہزار سے زائد کشمیریوں کو حراست کے دوران لاپتہ کر دیا گیا ۔۔۔ اور ان لاپتہ افراد کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں برس ہا برس سے اپنے لاپتہ پیاروں کی راہیں تک رہی ہیں۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاںہو رہی ہیں۔۔۔ مگر عالمی’’ضمیر‘‘ بھارت کے سامنے بھیگے ہوئے چوہے کی طرح کانپ رہا ہے۔۔۔ کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں۔۔۔ امریکہ اور اسرائیل بھارت کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ اس قدر، کمزور، لاغر، نااہل، تماش بین اور امریکی لونڈی ثابت ہوا ہے کہ جو اپنی ہی منظور کردہ قرار دادوں پر بھارت سے عمل درآمد نہ کروا سکا۔۔۔ بھارتی درندے پیلٹ گنوں سے کشمیری عورتوں، مردوں کو نابینا بنا رہے ہیں، کشمیر کے معصوم بچوں کو پاکستانی پرچم لہرانے اورآزادی کا ترانے گانے کے جرم میں گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا ہے۔۔۔ یہ ساری خطرناک صورت حال پاکستانی حکمرانوں سے سوال کر رہی ہے کہ تم صرف سال کا ایک دن5فروری کو یکجہتی کشمیر منا کر پھر پورا سال غفلت کی چادر تان کر ۔۔۔ سوئے رہتے ہوں۔۔ تو کیوں؟

پاکستان کے حکمرانوں کو بھارتی مظالم اوردرندہ صفت مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔۔۔بات کرنا ہوگی۔۔۔اگر صدرممنون حسین کہتے ہیں کہ ریاست کی اجازت کے بغیر جہاد جائز نہیں ہے۔۔۔ تو پھر پاکستانی قوم یہ سوال کر رہی ہے کہ۔۔۔ جناب صدر! آخر ریاست پاکستان کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو بھارتی درندگی سے بچانے کیلئے جہاد کا اعلان کب کرے گی؟ کیا5فروری کے صرف ایک دن کو یکجہتی کشمیر کے طور پر منا لینے سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی مظالم رُک جائیں گے؟

آزادیٔ کشمیر کانفرنس سے تحریک کشمیر کے ممتاز جہادی رہنما مولانا مفتی عبدالرؤف اصغر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ کشمیر نہ پہلے کبھی بھارت کا تھا، نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہو گا۔۔۔ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہوئے دنیا بہت جلد دیکھے گی۔۔۔ انہوں نے کہا مولانا طلحہ رشید اور بھائی عثمان سمیت ہمارے سینکڑوں جگر گوشے کشمیر کی دھرتی پر مدفون ہیں۔۔۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر صرف نعروں یا تقریروں سے نہیں بلکہ بھارت کی درندہ صفت فوج کی ’’مرمت‘‘ سے ہی آزاد ہو گا،انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوان تو ہاتھوں پر سبز ہلالی پرچم تھامے سینوں پر گولیاں کھاتے ہیں۔۔۔ پھر ان شہیدوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر قبرستان شہیداں میں سپرد خاک کر دیا جاتا ہے۔۔۔ جبکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے حکمرانوں کو سیاسی انتشار پھیلانے سے ہی فرصت نہیں۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہداء کشمیر کے وارث ہیں۔۔۔ جو شہداء کشمیر کا لہو سیاسی انتشار اور دجالی میڈیا کے ذریعے بھلانا چاہتے ہیں۔۔۔ وہ احمقوںن کی جنت میں رہتے ہیں۔۔۔ ہم شہداء کشمیر کا خون نہ بھولیںگے اور اس مقدس خون سے کسی کو غداری کی اجازت بھی نہیں دیں گے،کانفرنس اور ریلی سے مولانا حسان ابوجندل اور استاد زبیر فاروقی نے بھی خطاب کیا۔

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online