Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

اک جنازہ نمامخلوط اور متنازع اجتماع (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 632 - Naveed Masood Hashmi - Aik Janaza numa Makhlooq

اک جنازہ نمامخلوط اور متنازع اجتماع

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 632)

عاصمہ جہانگیر کیا مری گویا کہ لادین فاشسٹ دنیا میںبھونچال آگیا۔۔۔ اگربات ان کی موت تک ہی محدود رہتی تو ممکن ہے کہ کہانی ختم ہو جاتی۔۔۔ مگر سیکولر فاشسٹوں نے انڈیا، یورپ و امریکہ کی اس’’لاڈلی‘‘ کے حوالے سے دجالی میڈیا کے ذریعے پاکستان کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔ یہ سب دیکھتے ہوئے بعض حقائق سے پردہ ہٹانا ہم نے بھی ضروری سمجھا۔

قادیانیوں کی بہو، ایک غیر ملکی عیسائی کی ساس۔۔۔ توہین رسالت کے مجرموں اور ختم نبوتؐ کے غداروں کی سدا بہار’’وکیل‘‘،علماء کرام،دینی مدارس، جہاد ومجاہدین ، نظریہ پاکستان، مسلح افواج کی’’دشمن‘‘، انڈیا،اسرائیل، یورپ و امریکہ کے حکمرانوں کی پسندیدہ، کہ گھر سے بھاگ کر، ماں، باپ کو رسوا کر کے شادیاں رچانے والوں کی سرپرستی سے لیکر ہزاروں مسلمانوں کے قاتل بال ٹھاکرے سے نیازمندی تک۔۔۔ واہگہ بارڈر پر انڈین بی ایس ایف کے افسروں کے بانہوں میں بانہیں ڈال کرڈانس کرنے سے لیکر۔۔۔ عورتوں کے مغربی حقوق کے نعروںتک۔۔۔ ان کی چھوڑی گئی کہانیاں اور قصے سن کر انسان کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جائے۔۔۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھیں کہ جن سے چرچ، اور مندر خوش تھے۔۔۔ مگر مسجدیں اورمدرسے ناخوش،جن سے ہندو، عیسائی اور قادیانی راضی تھے۔۔۔ مگر مسلمان ناراض۔

اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے خلاف برسر پیکار رہنا جن کی زندگی کا نصب العین تھا، وہ ’’انسانی حقوق‘‘ کے خوشنما نعرے کی آڑ میں مسلمانوں کے حقوق کو پامال کرنے کا ہنرخوب جانتی تھیں، عورت کی آدھی گواہی ۔۔۔ کاخدائی فیصلہ عاصمہ نے اپنی چڑ سمجھ رکھا تھا۔۔۔(نعوذ باللہ) خاتم الانبیاء ﷺ کے گستاخوں کی حمایت میںلڑتے، لڑتے وہ مٹی کے نیچے چلی گئی۔

میں عاصمہ جہانگیرکے مرنے کے بعد ان کا معاملہ اللہ کی عدالت میں چھوڑ چکا تھا۔۔۔ مگر بونے قسم کے دانش چوروں کا فسادی گروہ چونکہ’’عاصمہ جہانگیر‘‘ کو پاکستانی مسلمانوں کی سب سے عظیم، بہادرلیڈر اور نجانے کیا کیا ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔۔۔اس لئے مجھے یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ یہ ایک ایسی بدقسمت عورت تھی کہ جس کو اپنی ساری زندگی میں ایک بھی لمحہ آقا و مولیﷺ کی وکالت یا حمایت کیلئے میسر نہ آیا۔۔۔ جس نے ہمیشہ روشن خیالی کے نام پر تاریکی خیالی کو، عورتوں کے حقوق کے نام پر بے حیائی کو،انسانی حقوق کے نام پر آوارگی کو، سچائی کے نام پر کذب بیانی کو۔۔۔ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر۔۔۔ مادر پدر آزاد خیالی کو،میراتھن ریس کے نام پر فحاشی و عریانی کو تمام عمرپروان چڑھانے میں گزاری،ن لیگی سینٹرپرویز رشید اور سیکولر فاشسٹوں کے مخصوص گروہ نے بڑا واویلا مچایا کہ عاصمہ کے جنازے کو سرکاری اعزاز بخشا جائے۔۔۔ مگرشکر ہے کہ’’ریاست‘‘ نے نظریہ پاکستان کی لاج رکھی۔۔۔ میرا پرویز رشید اینڈ کمپنی سے سوال ہے کہ تمہارا موت کا ’’منظر‘‘ اور قیامت کے واقعات پر سرے سے یقین ہی نہیں ہے، پھر۔۔۔ یہ جنازہ، کفن دفن، دعائیں اور سرکاری اعزاز کے جنازے کے مطالبے، یہ سب کیا تھا؟ لگتا ہے کہ ’’سیکولر ازم‘‘ نے دلوں پر منافقت کی مہر کو مزید پختگی کے ساتھ ثبت کر دیا ہے،اللہ کے محبوب بندوں کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ۔۔۔ ان کے جنازے بھی۔۔۔ حب رسولﷺ کی خوشبو سے مزین ہوتے ہیں اور بعض افراد کی ’’مردودیت‘‘ اور نحوست سے ان کے جنازے بھی تنازعات کی لہر چھوڑ جاتے ہیں۔

یہ میں کسی تعصب یا بغض و عناد کی وجہ سے نہیں لکھ رہا۔۔۔ بلکہ عاصمہ جہانگیر کے مخلوط جنازے کے حوالے سے ۔۔۔۔ پاکستان کے جید علماء کرام نے اپنا مشترکہ مؤقف جو میڈیا کو جاری کیا ہے…

 اس کے مطابق’’ ایک معروف خاتون کی نماز جنازہ اس طرح پڑھی گئی ہے کہ صفیں مردوں اور عورتوں سے مخلوط تھیں۔۔۔ اور ایک ہی صف میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ کھڑے تھے۔۔۔ شرعی اعتبار سے یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ نماز جنازہ جیسی عبادت کی ادائیگی میں شرعی احکام کا لحاظ نہیں رکھا گیا‘‘

 شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن، مفتی اعظم مفتی محمد رفیع عثمانی، شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر، مفتی محمد جان نعیمی، مولانا فضل الرحیم اشرفی کا اپنے مشترکہ مؤقف میں کہ کہنا تھا کہ اول تو کسی کھلے میدان میں خواتین کانماز جنازہ کیلئے بذات خود جانا درست نہیں۔۔۔ اور صحیح بخاری کی صحیح حدیث میں خواتین کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا گیا ہے۔۔۔ لیکن اگر خواتین کسی وجہ سے شریک ہوں تو مردوں کی صف میں ان کا کھڑا ہونا بالکل ناجائز ہے۔۔۔نبی کریمﷺ کے دور میں نماز جنازہ میں خواتین کی شرکت نہیں ہوتی تھی۔۔۔ اور فرض نمازوں میں اگر فجر یاعشاء کے وقت خواتین جماعت میں شریک ہوتیں تو اس بات کا اہتمام کیا جاتا کہ ان کی صفیں مردوں کے پیچھے بالکل الگ ہوں۔۔۔ اور کسی قسم کا اختلاط نہ ہو،لہٰذا مخلوط صفیں بنا کر نماز جنازہ پڑھنا کسی طرح جائز نہیں‘‘۔

اکابر علماء کرام کے اس واضح اور دو ٹوک مؤقف کے بعد بھی۔۔۔ اگر سیکولر فاشسٹ گروہ سے تعلق رکھنے والے دانش چور یہ لکھیں کہ ’’خانہ کعبہ میں مخلوط عبادت ہوسکتی ہے تو جنازے میں عورتوں کی شرکت میں کیا قباحت ہے؟ جانے کیوں عبادت گاہوں میں عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے؟ (نعوذباللہ)’’اگر مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں عورتیں جنازوں میں شریک ہو سکتی ہیں تو یہاں بھی کوئی حرج نہیں‘‘؟

جب سیکولر فاشسٹ گروہ سے تعلق رکھنے والے دانش چور اس قسم کے فاسد خیالات کا اظہار کر کے اسلام کے احکامات کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے تو یہ فساد فی الارض کے مترادف ہو گا، کہاں عاصمہ کا متنازعہ اوررسم نما جنازہ۔۔۔ اور کہاںبیت اللہ اور مسجد نبوی کی عبادات؟ بھلا ان کے درمیان کیا نسبت؟

وزیراعظم،آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں گذارش ہے کہ وہ سیکولر فاشسٹوں کی ان ناپاک حرکتوں کا سختی سے نوٹس لیں۔۔۔ کیونکہ اس کی وجہ سے ملک میں فتنہ اور انتشار پھیلنے کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں، عاصمہ کے مخلوط اور متنازعہ جنازہ نما’’رسم‘‘ کو بیت اللہ اور مسجد نبویؐ کی عبادات سے تشبیہ دینے سے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

 ایک اسلامی نظریاتی مملکت میں سیکولر پٹاری کے دانش چوروں کی کھلے عام اسلام مخالف سرگرمیاں آئین پاکستان کو منہ چڑانے کے مترادف ہیں، جس کاسد باب کیاجانا بہر حال ضروری ہے۔

 وما توفیقی الا باللہ

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online