Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

قادیانی فراڈ ئیے اور گائے تو کٹے گی (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 633 - Naveed Masood Hashmi - Qadiyani Fraudiye

قادیانی فراڈ ئیے اور گائے تو کٹے گی

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 633)

20فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’قادیانیوں کو پاکستان میں رہنا ہے تو شہری بن کر رہیں، اسلام پر نقب نہ لگائیں۔۔۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی فتویٰ نہیں دے رہا۔۔۔ پاکستان کا آئین قادیانیوں کو مسلمان نہیں مانتا۔۔۔ جب کہ ختم نبوت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے‘‘۔

23فروری کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الیکشن ایکٹ2017ئ؁ میں ختم نبوت قانون کی شقوں میں تبدیلی سے متعلق درخواست کی سماعت کی، تو عدالتی حکم کے مطابق نادراکی طرف سے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نادرا نے پیش ہو کر رجسٹرڈ قادیانیوں کا ریکارڈ پیش کیا۔۔۔ جس کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ قادیانیوں کی تعداد ایک لاکھ67ہزار چار سو تہتر ہے۔۔۔ جبکہ پاکستان میں دس ہزار دو سو پانچ افراد نے بطور مسلمان شناختی کارڈ تبدیل کرنے کے بعد احمدی مذہب کا سٹیٹس اختیار کیا، احمدی سٹیٹس حاصل کرنے والے افراد کا ڈیٹا سر بمہر لفافے میں پیش کیا گیا۔۔۔ فاضل جسٹس نے ڈپٹی ڈی جی نادرا سے استفسار کیا کہ نادرا کی جانب سے قومی شناختی کارڈ رکھنے والے کسی مسلمان پاکستانی کا مذہب تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ جس پر ڈپٹی ڈی جی نادرا نے جواب دیا کہ نادرا کے سٹم میں کوئی آپشن موجود نہیں۔۔۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ مذہب کی تبدیلی پر شہری شناختی کارڈ میں تصحیح کا حلف نامہ جمع کراتے ہیں؟ اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے۔۔۔ کہ’’ یہ ریاست و مسلم امہ کے ساتھ بہت بڑا فراڈ ہے۔۔۔ ریاست سے فراڈ غداری کے مترادف ہے‘‘قادیانی سرکاری ملازمت حاصل کرنے کیلئے جھوٹ بول کر اپنا مذہب تبدیل کرتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے اصل مذہب میں منتقل ہو جاتے ہیں‘‘۔

قادیانیوں کی طرف سے ملک و ملت کے ساتھ کئے جانے والے اتنے بڑا فراڈ اوردھوکے کے بعد سیاست دانوں۔۔۔ دانشوروں ، کالم نگاروں، اینکرز اور اینکرنیوں پر یہ بات واضح ہو جانی چاہئے کہ۔۔۔ پاکستان کے مسلمانوں نے ہمیشہ قادیانیوں کوشہری ہونے کی حیثیت سے تو قبول کیا۔۔۔ لیکن قادیانیوں نے اسلام پر نقب زنی کر کے مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر حملے کئے۔۔۔ قادیانیوں کو پاکستان ہو یا آزاد کشمیر مکمل شہری حقوق حاصل ہیں۔۔۔ لیکن انہوں نے ختم نبوت پر ڈاکہ ڈال کر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو کچلنے کی کوشش کی۔۔۔ پاکستان میں عیسائی بھی رہتے ہیں۔۔ ہندو بھی رہائش پذیر ہیں، پارسی اور دیگر اقلیتیں بھی آباد ہیں پاکستان کا ہر مسلمان خواہ وہ سیکولر ہو یا مذہبی۔۔۔ تمام اقلیتوں کی جان و مال، اور عزت و آبرو کی حفاظت اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے ۔۔۔ کیوں؟

اس لئے کہ اسلام نے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔۔۔ پاکستان کا آئین اقلیتوں کے حقوق کا ضامن ہے۔۔۔ قادیانی گروہ بھی اگر’’اقلیت‘‘ بن کر رہے تو پھر نہ کوئی مسئلہ پیدا ہو اور نہ ہی پھڈا، لیکن بدقسمتی سے قادیانیوں نے ہمیشہ ایک سازش کے ذریعے۔۔۔ پاکستانی سیکولر سیاست دانوں، حکمرانوں اور میڈیا ہاؤسسز پربرطانیہ، جرمنی اورامریکا کا دباؤ ڈلوا کر اپنے راستے سیدھے کرنے کی کوشش کی۔۔۔ مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ قادیانیوں نے بعض سیاست دانوں، حکمرانوں، میڈیا مینوں اور نام نہاد سول سوسائٹی کو سہولت کار بنا کر پاکستان کے مسلمانوں کے عقیدہ ختم نبوت پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔

یہ بات کسی عام مسلمان نے نہیں کہی عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ’’یہ ریاست اور مسلم امہ کے ساتھ بہت بڑا فراڈ ہے

 اور ریاست سے فراڈ غداری کے مترادف ہے‘‘

میری قادیانی گروہ سے گزارش ہے کہ یا تووہ ختم نبوت پر ایمان لا کر اسلام کے دامن سے جڑ جائیں۔۔۔ اور یا پھر اپنے کفر اور ارتداد کو تسلیم کرتے ہوئے ایک اقلیتی شہری ہونے کی آئینی حیثیت کو قبول کر لیں۔

 اب آتے ہیں ایک دوسرے دلچسپ موضوع کی طرف

غالباً18فروری2018ئ؁ کے دن دہلی کے رام لیلا میدان میںمنعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے’’راجستھان گؤر کشا‘‘ کمانڈوز فورس کے صدر ایس ایس ٹائیگر نے کہا کہ’’ہم اس ہندوستان کے آئین کو نہیں مانتے جہاں ہماری ماں کاٹی جارہی ہے۔۔۔ ہندوستان سو کروڑ ہندوؤںکا ملک ہے۔۔۔ ملک میں ہماری ماں(گائے) کی حفاظت کیلئے قانون نہیں ہوگا اس ملک کے کسی قانون کو نہیں مانتے۔۔۔ ہم جہاں بھی گائے ماتا کوقتل ہوتے ہوئے دیکھیںگئے قاتل کو سرعام گولی مار دیں گے۔۔۔ جہاں گائے کٹے گی وہاں قصائی کٹے گا‘‘

یہ ہے بدترین موذی نریندر مودی کا ہندوستان کہ جہاں دھڑلے کے ساتھ بھرے مجموعوں میں کھڑے ہو کر مسلمانوںکو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔۔۔

’’گؤ رکشا کمانڈوز فورس‘‘ کے صدر ایس ایس’’ٹائیگر‘‘ کو چاہئے کہ وہ وزیراعظم مودی کی سرپرستی میں ہندوستان کے مظلوم مسلمانوں کو دھمکیاں دینے کی بجائے۔۔۔ ایک دفعہ مقبوضہ کشمیر میں جیش محمدﷺ کے جانبازوں سے پنجہ آزمائی کر کے دیکھ لے تاکہ ہندو’’ناریاں‘‘ بھی جان سکیں کہ وہ حقیقی’’ٹائیگر‘‘ ہے یا پھر گندگی اور کیچڑ سے لتھڑا ہوا’’گیدڑ‘‘

’’گائے‘‘ تو کٹے گی ہی کیونکہ تقریبا دو سال قبل ہمارے معروف کالم نگار بھائی طلحہ السیف نے بہاولپور میں گائے کے گوشت کے جوتکے ہمیں کھلائے تھے۔۔ تب ہمیں معلوم پڑا کہ گائے کا گوشت بڑا ہی لذیذ ہوتا ہے، اب اگر’’گائے‘‘ مودی اینڈ ’’ٹائیگر‘‘ کی ماں ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنی اس ’’ماں‘‘ کو کلے سے باندھ کر رکھیں نا۔۔۔ چلیںگائے اگر ہندوؤں کی ’’ماتا‘‘ ہے ’’ماتا‘‘ ہی سہی، مگر ہم مسلمان تو اسے جانور سمجھتے ہیں۔۔۔اور اسکا گوشت اللہ نے ہم پر حلال کر دیا ہے۔۔۔ جیسے مسلمان ہندوؤں کو اسے ’’ماتا‘‘ کہنے سے نہیں روک سکتے۔۔۔ ویسے ہی ہندو بھی مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے سے نہیں روک سکتے۔۔۔ اس لئے ہم کہے دیتے ہیں۔۔۔ اوخارش زدہ’’گیدڑ‘‘!’’قصائی‘‘ کٹے یا نہ کٹے۔۔۔ گائے توکٹے گی۔۔۔ ایک بار نہیں ۔۔۔ سو بار نہیں بلکہ ہزاروں اور لاکھوں بار کٹے گی۔۔۔ تم اچھلو، کودو، ناچو، رؤ، ہنسو یا بال نوچو! گائے کٹے گی ضرور کٹے گی اور بار بار کٹے گی، ان شاء اللہ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online