Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

باغ کانفرنس اور کشمیر کا حسن (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 634 - Naveed Masood Hashmi - Bagh Conf

بیٹیوں کے حقوق

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 634)

جس دن سینٹ الیکشن کا میلہ مویشیاں سجا...اس دن اس خاکسار نے راولپنڈی سے آزادکشمیر کے خوبصورت شہر ضلع باغ کی طرف علی الصبح ہی سفر شروع کر دیا... کہ جہاں مجلس ورثائِ شہدائِ جموں وکشمیر کی طرف سے کشمیر کے شہیدوں کی یاد میں ایک بڑی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا... ہم بھائی خوشحال خان کی گاڑی میں مری‘ کوہالہ سے ہوتے ہوئے دھیر کوٹ کے راستے ارجہ پہنچے تو بارش نے آن لیا... لیکن شہداء کشمیر کے ورثائ، امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر کے جانبازوں کے تعاون سے موٹر سائیکلوں اور کاروں پر مشتمل ایک بڑی ریلی کی صورت میں وہ ہمیں لے کر... ضلع باغ کے قدیم اور معروف علمی ادارے دارالعلوم تعلیم القرآن میں منعقدہ کانفرنس میں پہنچے... ایک طرف بارش اپنی شدت دِکھا رہی تھی تو... دوسری طرف کشمیر کے شہیدوں کی یاد میں منعقدہ کانفرنس شیخ الحدیث مولانا امین الحق فاروقی کی زیرسرپرستی اور صدر انجمن تاجران حافظ محمد طارق کی زیرصدارت پوری آب و تاب سے جاری تھی... مولانا ابوجندل حسان اور مولانا عبدالعزیز ایثار اور مولانا اتفاق حسین نے اپنے خطابات میں شہداء کشمیر کے ورثاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے شہید جگر گوشوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا... بلکہ شہیدوں کا خون جلد یا بدیر رنگ لا کر رہے گا... اور آزادی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا مقدر بنے گی۔انہوں نے کہا کہ شہداء کی عظمتوں کا گواہ خود قرآن مقدس ہے... یہ فرمان قرآن ہے کہ جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جائے اسے مردہ مت کہو بلکہ وہ ’’زندہ‘‘ ہے... انہوں نے کہا کہ آزادی کشمیر کی جنگ تکمیل پاکستان کی جنگ ہے... جب تک پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ بھارتی تسلط سے آزاد نہیں کروالی جاتی... اس وقت تک کشمیر کا جہاد جاری رہے گا۔

شیخ الحدیث مولانا امین الحق فاروقی اور حافظ محمد طارق نے جہاد کشمیر کے حوالے سے مولانا محمد مسعود ازہر اور ان کے جانبازوں کے کردار اور اس خاکسار کے کالموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ باغ کے تاجر ہوں‘ علماء ہوں یا عوام ‘کشمیر کی آزادی کے لئے دامے درمے سخنے اپنا کردار جاری رکھیں گے‘ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے مسلمانوں کے دل مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ... کشمیر کے مظلوم مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کو بھلانا ناممکن ہے... انہوں نے حکومت آزادکشمیر سے مطالبہ کیا کہ آزادکشمیر کو مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک جہاد کا حقیقی بیس کیمپ بنایا جائے۔

کانفرنس سے آخری خطاب اس خاکسار کا تھا... میں نے اپنے خطاب میں عرض کیا کہ بارش کی شدت اور موسم کے حسن کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اب کشمیر نے پاکیزگی کی طرف سفر شروع کر دیا ہے ... 6فروری کے دن آزادکشمیر کی حکومت اور اپوزیشن نے مل کر متفقہ طور پر ختم نبوتؐ کے باغی ٹولے کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر... جہاد کشمیر کی کامیابی کی طرف عملی قدم اٹھایا ہے... کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان بھارتی درندوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادتوں کے جام نوش کر چکے ہیں... پاکستان کے بعض سیاست دانوں ‘ اراکین پارلیمنٹ‘ حکمرانوں اور سیکولر میڈیا کا جہاد کشمیر کے حوالے سے کردار نہایت مشکوک رہا ہے ... حکمرانوں اور میڈیا کا یہی مشکوک کردار ہی آزادی کشمیر کی راہ میں رکاوٹ ہے ‘ بھارت میں ’’گائے‘‘ کو کاٹنے کا الزام لگا کر مسلمانوں کے گلے کاٹنا ہندوئوں کی عبادت بن چکی ہے‘ بابری مسجد کی شہادت کا المناک واقعہ ہو‘ گجرات کے مسلم کش فسادات ہوں یا ٹرین میں مسلمانوں کو زندہ جلانے کے واقعات... یہ سب بھارت کا مکروہ خونی چہرہ واضح کر رہے ہیں۔

بھارتی فوج کے درندوں نے ڈیڑھ کروڑ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو گن کے زور پر یرغمال بنا رکھا ہے... لیکن مجاہدین کشمیر کی جدوجہد سے بھارتی فوج بھی لرزہ براندام ہے... صرف بھارتی ہندو ہی انتہا پسند نہیں ہیں بلکہ بھارت کی فوج بھی... ہندو انتہا پسندی کی آگ میں جل کر مسلمانوں سے انتقام لے رہی ہے‘ لیکن ہم شہداء کشمیر کے ورثاء کو یقین دِلاتے ہیں کہ پاکستان کے عوام... کشمیری مسلمانوں کے شانہ بشانہ جدوجہد آزادی کشمیر میں آخری فتح تک شریک رہیں گے‘ صبح دس بجے سے شروع  ہونے والی کانفرنس کا اختتام اذان عصر پر ہوا۔

عصر کی نماز کی ادائیگی کے بعد ہم باغ سے براستہ ڈھلی‘ لسڈنہ ضلع حویلی کہوٹہ کی طرف روانہ  ہوئے... جہاں 4مارچ کو صبح 11بجے فاروڈ کہوٹہ کے شیر دل باسیوں نے شہداء کشمیر کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر رکھا تھا۔ 3 مارچ کی شام جب ہم باغ شہر سے نکلے تو بارش کا سلسلہ شروع تھا ہمارے ڈرائیور بھائی عامر خطرناک پہاڑی سلسلے کو بڑے ماہرانہ انداز میں کراس کرتے چلے جارہے تھے... میرے دائیں جانب بلند و بالا پہاڑ اور بائیں جانب سینکڑوں فٹ ہولناک کھائیاں تھیں... رات تقریباً8 بجے کا وقت ہوگا کہ کشمیر کے حسین موسم نے ایک دفعہ پھر توبہ شکن انگڑائی لی۔

اب آسمان سے پانی برسنے کی بجائے... روئی کے گالوں کی طرح   نرم و نازک برف کی برسات شروع ہوچکی تھی... دیکھتے ہی دیکھتے... ہماری گاڑی یا سڑک ہی نہیں ... بلکہ فلک بوس پہاڑوں نے بھی برف کی سفید چادر کو اوڑھنا شروع کر دیا... موسم کا حسن اور دلفریباں اپنی جگہ پر... مگر ٹوتے پھوٹے خطرناک پہاڑی راستے کی پھسلن نے گاڑی کے سفر کو جاری رکھنا مزید خطرناک بنا دیا۔

لسڈنہ کے قریب فاروڈ کہوٹہ سے باغ کی طرف آنے والی کئی گاڑیاں پھنس چکی تھیں... عامر بھائی کی تمام تر مہارت برف کی پھسلن کے سامنے عاجز آچکی تھی... چیونٹی کی چال چلتے ہوئے بھی جب گاڑی... خود بخود ہی پھلسنا شروع ہوتی تو بھائی سیف اللہ‘ مولانا عبدالعزیز اور بشارت معاویہ اور بھائی نذیر احمد نے بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا وِرد شروع کر دیتے... فاروڈ کہوٹہ اب تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر تھا... مگر پھنسی ہوئی درجنوں گاڑیوں کے ڈرائیور بھائیوں نے ہمیں مخلصانہ مشورہ یہی دیا کہ اگر مزید آگے بڑھے تو ممکن ہے کہ آپ قیامت تک کی نیند میں چلے جائیں... چنانچہ ہم نے واپس باغ کی راہ لی۔ اس موقع پر مقامی کشمیری مسافر بھائیوں نے چاروں طرف پھیلی ہوئی برف میں جان توڑ دھکا لگا کر ہماری گاڑی کو واپسی کی راہ پر ڈالنے میں جو سنہرا کردار ادا کیا وہ یادگار کردار ہمیشہ ہمارے دلوں میں ثبت رہے گا۔

رات ساڑھے 12بجے باغ اور پھر وہاں سے براستہ راولاکوٹ‘ ہجیرہ یا عباس پور‘ چڑی کوٹ ساڑھے7 گھنٹے کا پہاڑی سفر کرکے صبح تقریباً 7 بجے ضلع حویلی فاروڈ کہوٹہ پہنچے جہاں ہمارا استقبال کہوٹہ کی مشہور علمی شخصیت اور گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول کے بزرگ استاد قاری حمید الرحمن نے بڑی محبت سے کیا۔

 میرے ساتھی تو رات بھر کی تھکاوٹ اتارنے کے لئے صرف دو گھنٹوں کے لئے خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگے... مگر اس خاکسار نے قاری حمید الرحمن کے ہمراہ قریب ہی واقع شہداء کشمیر کے گھروں میں جانے کی ٹھان لی‘70سالہ بزرگ چوہدری اکبر دین 1964ء میں جنہوں نے پونچھ میں ایک کارروائی کے دوران اپنے ہاتھوں سے کئی انڈین فوجی مردار کئے تھے ان کا بیٹا ظہیر اکبر کہ جس کی عمر ابھی صرف 20سال تھی سال 2016ء میں نوگام بارہ مولا میں بھارتی فوج کے درندوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا تھا‘ میں نے شہید کے باپ اور کشمیر کے غازی بوڑھے اکبر دین سے سوال کیا کہ 1963-64ء میں آپ خود انڈین آرمی کے مدمقابل رہے‘ کبھی اوڑی سیکٹر کبھی پونچھ میں داد شجاعت دیتے رہے... اور پھر 2016ء میں آپ کا0 2سالہ  لخت جگر جیش محمدﷺ‘ کا مجاہد بن کر کشمیر میں جام شہادت نوش کر گیا ‘آزادی کشمیر میں 53سالوں تک شریک رہ کر آپ نے جو کارنامے سرانجام دئیے... ان میں سے کچھ ہم سے بھی شیئر کیجئے... اس غازی کشمیر نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا کہ میں نے جو کچھ بھی کیا اللہ کے لئے کیا تھا... بس دعا کریں کہ اللہ قبول فرمائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online