Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

فارورڈ کہوٹہ اور کشمیر کا حسن (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 635 - Naveed Masood Hashmi - Forward Kahota

فارورڈ کہوٹہ اور کشمیر کا حسن

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 635)

منہ کالا کروانے کے بعد خواجہ آصف کو سمجھ آجانی چاہئے کہ جہادِ اَفغانستان امریکہ برانڈ نہیں تھا۔۔۔ بلکہ پاکستان کے ’’سیاست دان‘‘امریکہ برانڈ ہیں۔۔۔ میرا دل تھا کہ منہ’’کالوں‘‘ سے لیکر’’جوتا‘‘ کھانے والوںتک کے’’چٹ پٹے‘‘ موضوع پر لکھوں۔۔۔ لیکن ’’باغ کانفرنس اور کشمیر کا حسن‘‘ مجھے اپنی طرف بلا رہا ہے کہ جس کا پہلا حصہ گزشتہ ہفتے آپ القلم میں پڑھ چکے ہیں۔۔۔ ضلع حویلی فارورڈ کہوٹہ کے نوجوان جہادیوں نے مقامی شہریوں کی مدد سے موٹر سائیکل اور گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑی ریلی کا اہتمام کر رکھا تھا۔۔۔ ظہیر اکبر شہید کے والد محترم غازی اکبر دین سے ملاقات کے بعد ہم28فروری کو سماہنی سیکٹر بھمبر میں وطن کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے جوان منیر احمد چوہان کے گھر پہنچے۔

 بھارتی فوج کی دہشتگردی کا نشانہ بننے والے32سالہ منیر احمد چوہان کے بزرگ والد محترم غلام محمد چوہان صبر ورضا کی تصویر بنے زبان حال سے کہہ رہے تھے، کہ پاکستان کی حفاظت کی خاطر بیٹے نے جان نچھاور کر کے میرا سر فخر سے بلند کر دیا۔۔۔ پاک فوج کے شہید سپاہی کی دو معصوم بچیوں اور ایک معصوم بچے کو دیکھ کر۔۔۔ آنکھیں اشکوں سے تر ہو گئیں۔۔۔

پاک فوج کے شہید جوان کے گھر جا کر اندازہ ہوا کہ جیش محمد ﷺ کے شہید ہوں یا پاک فوج کے شہید، سب شہداء کرام کے گھر والوں کے جذبات ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، اسلام کے دفاع اور وطن کی آبرو کے لئے جانیں نچھاور کرنے والوں کے ورثاء اپنے شہید پیاروں کی قربانی پر پھولے نہیں سماتے۔

 اس خاکسار کا شہداء کرام کے گھرانوں سے بڑا پرانا تعلق اور رابطہ چلا آرہا ہے۔۔۔ مجھے ساہیوال کی نابینا ’’ماں‘‘ آج بھی یاد ہے کہ تقریبا27سال قبل جب میں اس کے شہید بیٹے احمد مجید ٹپیو کی میت لے کر ساہیوال پہنچا تو بلدیہ گراؤنڈ میں ہزاروں فرزندانِ توحید نے اس شہید کی نماز جنازہ کو ادا کیا تھا، جنازے کے بعد۔۔۔ شہید کی والدہ کے حکم کے تحت قبرستان لے جانے سے پہلے جب ہم اس کے شہید بیٹے کی میت اس کے گھر لے کر پہنچے تو شہید کی والدہ محترمہ نے اپنے شہید بیٹے کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا تھا کہ’’ٹیپو‘‘ بیٹا دیکھنا قیامت کے دن مجھے بھول مت جانا۔۔۔ اور احمد مجید ٹیپو کی شہادت کا پورا ثواب اس کے والد کیلئے ہے۔

’’مجاہدو‘‘! شہید ٹیپو کو دفن کرنے کے بعد یہ اس کا دوسرا بھائی ساتھ ہی محاذ جنگ پر لیکر جانا جب میرا یہ بیٹا شہید ہو گا تو اس کی شہادت کا پورا ثواب خاص میرے لئے ہو گا‘‘ْ۔ اور پھر اس عظیم ماں کا دوسرا بیٹا بھی کشمیر میں جام شہادت نوش کر گیا۔۔۔ ان گزرے30سالوں میں پاکستان اور آزاد کشمیر میں کتنی مائیں ایسی ہیں کہ جن کے دو، دو لخت جگر کشمیر میں شہید ہوئے۔۔۔ مگر انہوں نے اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر سن کر نہ ’’بین‘‘ ڈالے، نہ نوحے پڑھے اور نہ ہی بال نوچے، بلکہ شکرانے کے نوافل ادا کرنے کے بعد۔۔۔ اپنے بیٹوں کی شہادت کی خوشی میں علاقے بھر کے اندر مٹھائیاں تقسیم کیں۔

عظیم ماؤں کے اسی ’’مائینڈ سیٹ‘‘ کی وجہ سے آج بھی مقبوضہ کشمیر میں جہادی شمعیں اپنی پوری آب و تاب سے فروزاں ہیں۔۔۔ کشمیر کے جہادیوں کے گھرانوں کی مظلومیت کی انتہاء دیکھئے کہ ایک طرف ان کے پیارے مقبوضہ کشمیر کے سنگلاخ پہاڑوں پر کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔۔ اور دوسری طرف شہباز شریف کی سی ٹی ڈی والے محض شک و شبہے اور جھوٹی افواہوں اور الزامات کو بنیاد بنا کر ان کے گھر والوں کو تنگ کررہے ہوتے ہیں۔

میں ایسے کشمیر کے کئی جہادیوں کو جانتا ہوں کہ جن کے بدنام زمانہ فورتھ شیڈول میں نام محض’’جہاد‘‘ دشمنی اور تعصب کی بنیاد پر ڈال دیئے گئے۔۔۔ حالانکہ پاکستان کی سر زمین پر وہ ریڈ سگنل توڑنے کی غیر قانونی حرکت کے بھی مرتکب نہیں ہوتے، ان پر نہ کسی عدالت میں کوئی دعویٰ دائر ہے اور نہ کسی تھانے میں کوئی ایف آئی آر ، مگر اس کے باوجود ان مظلوم جہادیوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال کر انہیں رسوا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

ایسے کئی نوجوانوں نے مجھے فون کر کے بتایا کہ۔۔۔ علاقے کے ایس ایچ او سے لے کر سی ٹی ڈی کے اہلکاروں تک۔۔ ان کے سامنے ان کے بے گناہی اور شرافت کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔۔۔ لیکن چونکہ وہ جہاد کشمیر سے اظہار یکجہتی کیلئے۔۔۔ ملک میں پُرامن کوششیں کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔ بس شریف حکومت کی نگاہوں میں یہی وہ’’جرم‘‘ ہے کہ جس کی بناء پر کشمیر کے شہداء اور غازیوں کے گھر والوں کو بلاجواز تنگ کرنا پولیس کا فرض بنا دیا گیا ہے۔

مگر ان سارے منفی ہتھکنڈوں کے باوجود مولانا محمد مسعودازہر کے جانباز اپنی مثبت، اصلاحی، تبلیغی، تعلیمی، جہادی اور خدمت خلق کی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ میرا دعویٰ ہے کہ سی ٹی ڈی یا پولیس کے جو اہلکار محض جہاد دشمنی کی بنیاد پر قانون کی آڑ میں معصوم نوجوانوں پر بے پناہ تشدد کرنے میں’’ شیر‘‘ مشہور ہیں۔۔۔ یا کشمیر کے جہاد میں شرکت کی وجہ سے۔۔۔ کشمیری مجاہدوں کے گھروں پر چھاپے مارتے ہیں۔۔۔ ان میں سے کسی ایک میں بھی اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جا کر بے گناہ مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والی بھارتی فوج کے درندوں کا مقابلہ کر سکے۔

یقینا اگر کوئی بھی شخص ملزم، مجرم یا کسی بھی غیر قانونی حرکت میں ملوث ہے، تو اسے قانونی طور پر سختی سے نٹبنا چاہئے۔۔۔ مگر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرنا، ان کیلئے فنڈز جمع کرنا۔۔۔ آئین کی کس شق کے تحت جرم ہے؟مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی ۔۔۔ صوبہ پنجاب میں حمایت کرنا کیا اتنا بڑا جرم ہے کہ اپنی زندگیاں دین کے لئے وقف کرنے والے۔۔۔ نیک دل، نیک سیرت اور پرامن معزز شہریوں کو تھانوں اور نجی ٹارچر سیلوں میں غیر قانونی طور پر بند کر کے۔۔۔ انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جائے، ان کی آنکھوں پر کئی، کئی دنوں تک پٹیاں باندھ کر۔۔۔ نہ انہیں سونے دیا جائے، نہ لیٹنے دیا جائے، اور نہ بیٹھنے دیا جائے۔۔۔ ان معصوم نوجوانوں کو غلیظ گالیاں دی جائیں۔۔۔ میری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے گزارش ہے کہ۔۔۔ بے گناہ انسانوں پر تشدد ڈھانے والوں کو اگر نوکریوں سے فارغ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ تو ایسے پتھر دل اہلکاروں کو صرف ایک ، ایک مہینے کیلئے کشمیر کے بارڈروں پر رکھا جائے، تاکہ ان ظالموں کو بھی وطن کے دفاع کی خاطر جانیں نچھاور کرنے والوں کی عزت و عظمت کی سمجھ آسکے۔

اس خاکسار نے فارورڈ کہوٹہ کے منتظم خواجہ محمد آصف سے پوچھا (یاد ہے کہ اس نوجوان کا نام ’’منہ کالا کلب‘‘ کے رکن خواجہ سیالکوٹی سے محض اتفاقی طور پر ملتا ہے) کہ مولانا محمد مسعود ازہر سے وابستہ ضلع حویلی فارورڈ کہوٹہ کے کتنے شہید ہیں؟ محمد آصف بھائی نے شہداء کرام کے جونام بتائے وہ کالم میں صرف اس لئے لکھ رہا ہوں تاکہ پاکستانی قوم اپنے محسنوں کو پہچان سکے۔(1)محمد ناصر فدائی شہیدؒ(2)شہید محمد یاسرؒ(3)شہید محمد فیصلؒ(4) شہید ظہیر اکبرؒ(5)شہید محمد ظہیرؒ(6)محمد نازک شہیدؒ(7)محمد منیر شہید(8)محمدمشتاق شہیدؒ(9)محمد لیاقت شہیدؒ(10)محمد یوسف شہیدؒ(11)محمد الہ دین شہیدؒ(12)محمدیسین شہیدؒ (13)محمد بشیر شہیدؒ(14)محمدنقردین شہیدؒ۔۔۔۔ فارورڈ کہوٹہ کے یہ وہ عظیم شہزادے تھے کہ جو مقبوضہ کشمیر کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عصمتوں کے دفاع اور کشمیر کی آزادی کیلئے۔۔۔ بھارتی فوج کے درندوں سے لڑتے ہوئے شہادتوں کے جام نوش کر گئے۔

فارورڈ کہوٹہ کے پائلٹ سکول کے ہال میں منعقدہ شہداء کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔۔ اس خاکسار نے ان سب شہداء کرام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرحد کے اس پار کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے حق تو یہ ہے کہ ہم خونی لکیر کو روندتے ہوئے ۔۔۔۔ کشمیر میںداخل ہوکر بھارتی درندوں سے ٹکرا جائیں۔۔۔ اگر یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔ تو کم از کم ہم آزاد کشمیر اورپاکستان کے اندر مجاہدین کشمیر کی جدوجہد کی بھرپور حمایت توکرسکتے ہیں۔

کانفرنس سے آزادی کشمیر کے ممتاز رہنما مولانا عبدالعزیز ایثار، عباسپور کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا اشفاق ربانی ، سابق ایڈمنسٹریٹر شیخ محمد عارف،دو شہیدوں کے والدگرامی، عبدالرشید، اور مفتی نصیر احمد نصیر نے بھی بڑی روح پرور تقریریں کر کے۔۔۔ حاضرین کے ایمان تازہ کئے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online