Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

امن کا پیغام… پاکستان (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 638 - Naveed Masood Hashmi - Aman ka Paigham Pakistan

امن کا پیغام… پاکستان

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 638)

23مارچ کو یوم پاکستان نہایت دھوم دھڑکے سے منایا گیا۔۔۔ واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے سے لیکر اسلام آباد میں روائتی فوجی پریڈ تک خوب گہما گہمی رہی۔۔۔23مارچ ہماری قومی تاریخ کا سب سے اہم دن اس لئے بھی ہے کہ اس دن1940ئ؁ میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے اپنے عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر ہندوؤں اوردیگر مذاہب سے الگ وطن حاصل کرنے کا عزم بالجزم کیا تھا۔۔۔

’’پاکستان‘‘ کسی نے’’حلوے‘‘ کی پلیٹ میں رکھ کر مسلمانوں کے سامنے پیش نہیں کیا تھا۔۔۔ بلکہ کلمہ توحید اور نظریہ اسلام کی بنیاد پر بننے والے’’پاکستان‘‘ کی خاطر مسلمانان برصغیر نے لاکھوں سروں کی فصل کٹوائی تھی۔۔۔ یہ کلمہ طیبہ ہی تھا کہ جس کی بنیاد پر مختلف رنگ و نسل اور زبانیں بولنے والے مسلمان یک جان دوقالب میں ڈھل گئے۔۔۔ اور23مارچ1940ئ؁ کے صرف7 برس بعد یعنی14اگست1947ئ؁ کو ’’پاکستان‘‘ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔۔۔

لاکھوں جانوں کی قربانی دینے کے بعد’’پاکستان‘‘ تو معرض وجود میں آگیا۔۔ مگر انگریز سرکار کے بوٹ پالش کرنے والے اور فرنگیوں کے گھوڑوں کے نرخروں کی مالش کرنے والے ’’کاٹھے‘‘ انگریز یکے بعد دیگرے پاکستانی قوم کے سروں پر مسلط ہوتے چلے گئے۔۔۔اور فرنگی سامراج کے اس مالشی گروہ نے پاکستان کو مذہب اسلام اور نظریہ پاکستان سے جداکرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا،’’پاکستان‘‘ مسلمانانِ برصغیر کے لئے نعمت خداوندی سے کم نہ تھا۔۔۔ ’’پاکستان‘‘ میں ہر قسم کے پھل بھی تھے اور پھول بھی۔۔۔ پاکستان کے موسم بھی حسین تھے اور علاقے بھی حسن و جمال سے مالامال۔۔۔ یہاں اونچے اونچے پہاڑ بھی ہیں۔۔۔وسیع و عریض میدان بھی۔۔۔ صحرا بھی ہیں، دریا اور سمندر بھی،’’پاکستان‘‘ کی بنیاد لاکھوں شہیدوں کے خون سے سرخ ہوئی تھی۔۔۔ اس لئے یہاں دین داری کی بہاریں پھیلنا چاہتی تھیں۔۔۔ یہاں کے عوام میں دین سے محبت بھی تھی۔۔۔ غیرت مندی بھی تھی۔۔۔ جذبہ اخوت بھی تھا، ایثار و قربانی،ہمدردری و غم خواری۔۔۔ غرضیکہ اخلاق و کردار کی ہر سوغات یہاں وافر مقدار میں دستیاب تھی۔۔۔ مگر برا ہو سیکولر’’ الوؤں‘‘ کا کہ جنہوں نے فرنگی سامراج اور عالمی صہیونی طاقتوں کی راتب خوری کرتے ہوئے پاکستانی قوم سے روحِ محمدﷺ نکالنے کی بے انتہا کوششیں کیں۔

ذرا سوچئے! کہ کلمہ توحید اور نظریۂ اسلام کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آنے والے پاکستان میں۔۔۔ اگر دینِ اسلام عملاً نافذ ہو جاتا۔۔۔ تو آج’’پاکستان‘‘ ترقی کے آسمانوں پر سورج کی طرح کرنیں بکھیر رہا ہوتا۔۔۔ پاکستان کو سیکولر لادینیت کے کسی’’الو‘‘ کی ایسی نظر لگی کہ۔۔۔ جو’’پاکستان‘‘ آج تک سنبھلنے میں ہی نہیں آرہا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ترقی میں سیکولرلادینیت اور اس کا پیروکار گروہ رکاوٹ بنا رہا۔۔۔ یہاں یہ امر نہایت حیرت ناک ہے کہ جس کلمہ توحید اور دین اسلام کی خاطر’’پاکستان‘‘ کا وجود تشکیل پایا تھا۔۔۔ فرنگی سامراج کے ٹوڈیوں نے اسی کلمہ توحید اور دین اسلام کو پاکستان سے نکال باہر کرنے کی سازشیں کیں، برصغیر کے ان عظیم مسلمانوں کو سلام کہ جنہوں نے کلمہ توحید اور اسلام کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔۔۔ مگر فرنگی سامراج اور بدطینت ہندوؤں کے سامنے سر جھکاناگوارا نہ کیا۔۔ لیکن پاکستان میں رہنے والے بعض سیکولر اور لبرلز نے ہندوؤں کو راضی کرنے کے لئے دہلی کی نمک خواری کرتے ہوئے۔۔۔ پاکستانی قوم پر بھارتی کلچر کو مسلط کرنے کی کوششیں کیں۔

یہ کیسے بے شرم لوگ ہمارے ملک میں در آئے ہیں کہ جو پاکستان کو دین اسلام سے جدا کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔۔۔ حالانکہ یہ بات ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ پاکستان کا وجود بنا ہی دین اسلام کے نفاذ کیلئے تھا، لیکن فرنگیوں کے ذہنی غلاموں اور ہندو سامراج کے ایجنٹوں نے یہاں کبھی قومیت، کبھی لسانیت اور کبھی فرقہ واریت کے نام پر نفرتوں کو بڑھاوا دیا۔۔۔ یہاں چند خاندان نوے فیصد دولت پر قابض ہو گئے۔۔۔ دہلی اور یورپ ان کی’’جنت‘‘ قرار پائے۔۔۔ تمام تر ہتھکنڈے استعمال کر کے اقتدار میں آکر لوٹ مار اور عیاشیاں کرنا۔۔۔ حکمرانوں کا مشن بن گیا۔۔۔ جب اقتدار پر قابض ٹولے نے قومی خزانے کی لوٹ مار اور کرپشن کو اپنا مشن بنایا، تو یہی کرپشن نیچے تک سرایت کر گئی۔

اسلام آباد کااقتدار اور امریکہ کی غلامی کا آپس میں ایسا گہرا تعلق جڑا کہ پھر یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا کہ ۔۔۔ پاکستان کے اقتدار میں رہنے کیلئے امریکہ کی چاکری صرف ضروری ہی نہیں بکہ لازمی ہے۔۔۔ مسلمان مجاہدین کی مخبریاں کر کے انگریز سرکار سے جاگیریں حاصل کرنے والے کی اولادیں۔۔۔ اس ملک کی نظریاتی بنیادوں کو دیمک کی طرح چمٹ گئیں۔

وہ سب باریاں بدل بدل کر اقتدار میں آتے رہے۔۔۔ بجلی، گیس اور سڑکوں کا سسٹم تو کچھ بہتر ہو گیا۔۔ مگر نہایت دُکھ کی بات یہ ہے کہ70سالوں میں نہ وہ پاکستانی قوم کو یکساں نصاب تعلیم دے سکے، اور نہ ہی آئین میں درج شقوں کے مطابق پاکستانی قوم کے جوانوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کر سکے۔۔۔ بلکہ میں یہ بات پوری دیانت داری سے لکھ رہا ہوں کہ یہاں کے حکمرانوں، سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے دجالی میڈیا کے پنڈتوں کے ساتھ ملکر پاکستانی قوم کے اخلاق و کردار کو بگاڑنے کیلئے کفریہ طاقتوں سے درآمد کردہ تمام حربے استعمال کئے۔۔۔ مگر اس سب کے باوجود آج بھی ’’پاکستان‘‘ ہمارے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، پاکستان کے امن کو تہہ و بالا کرنے کیلئے ایوان اقتدار میں گھسے ہوئے امریکہ اور دہلی کے سہولت کاروں نے خوب سازشیں کیں، مگر مسلح فورسز نے بھارتی سازشوں کو ناکام بنا کر کلبھوش سنگھ جیسے بھارتی ایجنٹ گرفتار کئے۔۔۔ پرانی باتوں کو چھوڑیئے۔۔۔ ابھی حال ہی میں ن لیگی حکومتی کل پرزوں نے ’’ڈان لیکس‘‘ جو کھڑاک کیا وہ سب کے سامنے ہے، جب اقتدار میں بیٹھے ہوئے سیکولر حکمران اپنی ہی فوج کے خلاف یہود وہنود اور نصاریٰ کو مخبریاں کریں گے۔۔ تو پھر یہ ملک خطرات سے دو چار رہے گا، ’’پاکستان‘‘ نظریۂ اسلام کی بنیاد پر بنا تھا، ’’اسلام‘‘ کا مطلب ہی سلامتی ہے، اسلام سلامتی والا مذہب ہے۔۔۔ اور پاکستان امن و سلامتی کو عام کرنے والا ملک۔۔۔ اس لئے یہ خاکسار اس حق بات کو لکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔کہ ’’امن‘‘ دین اسلام اور ناموس رسالت سے وابستہ ہے۔۔۔ اور’’پاکستان‘‘ امن و سلامتی کے اس پیغام کوعام کرتا رہے گا۔ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online