Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

کشمیر، قندوز سے غوطہ تک ،لہو ،لہو (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 639 - Naveed Masood Hashmi - Kashmir Qandoz se Ghota tak Lahu

کشمیر، قندوز سے غوطہ تک ،لہو ،لہو

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 639)

کشمیر لہولہان تھا۔۔۔ جبکہ شہر کراچی میں چار دنوں تک بھارت سے آئے ہوئے بھانڈ، میراثی، گوئیے اور ناچے۔۔۔۔مقامی بھانڈمیراثیوں کے ساتھ مل کر۔۔۔موج مستیوں میں گم رہے۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں مائیں، بہنیں، بیٹیاں۔۔۔پاکستانی پرچم ہاتھوں میں تھامے چلتی گولیوں میں بھی دل، دل، جان، جان۔۔۔ پاکستان، پاکستان کے نعرے بلند کر رہی تھیں۔۔۔ اور کراچی میں بھارت سے آیا ہوا ’’ایس ایس راجا مولی‘‘ نام کا ہندو بنیااَخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ’’کراچی آکر ایسے لگا جیسے (انڈین) حیدر آباد سے ممبئی آگیا ہوں،کراچی اور ممبئی میں کوئی فرق نہیں ہے‘‘۔

مقبوضہ کشمیر کی مائیں’’پاکستان‘‘ سے محبت کے جرم میں اپنے جوان بیٹوں کے خون آلودہ لاشے اٹھا رہی تھیں۔۔۔ جب کہ ن لیگی اطلاعات کی وزیرنی مریم اورنگزیب فلم فیسیٹول میں شریک اداکاروں، فنکاروں میں نہ صرف یہ کہ ایوارڈ تقسیم کر رہی تھیں۔۔۔ بکہ بڑے فخریہ انداز میںیہ بھی کہہ رہی تھیں کہ۔۔۔ ’’ہم نے پاکستان میں پہلی مرتبہ فلم پالیسی بنائی‘‘

 واہ بھئی واہ۔۔۔ ہر حکومت کی اپنی اپنی ترجیحات ہوا کرتی ہیں۔۔ ن لیگ کی ’’شریف‘‘ حکومت پانچ سال میں نہ خارجہ پالیسی بنا سکی، نہ داخلہ پالیسی کو بہترکر سکی، اور نہ ہی کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لئے کوئی واضح اور جامع پالیسی بنا سکی۔۔۔ ہاں البتہ’’فلم پالیسی‘‘ بنانے میں ن لیگی ’’شریف‘‘ حکومت نے بڑی پُھرتی دکھائی۔۔۔ اطلاعات کی وزیرنی مریم اورنگزیب قوم کو جواب دیں۔۔۔ کہ ان کی فلم فیسیٹول میں موجودگی کے دوران۔۔۔ ایک ہندو بنیا یہ بکواس کیسے کر گیا کہ کراچی اور ممبئی میں کوئی فرق نہیں؟

کیا وزیرنی موصوفہ بھی یہی سمجھتی ہیں کہ کراچی اور ممبئی میں کوئی فرق نہیں؟

حالانکہ کراچی اور ممبئی میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ کراچی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شہر ہے جبکہ ممبئی بھارتی شہر ہے۔۔۔ شہر کراچی مدرسوں اور مسجدوں کا شہر ہے۔۔ جبکہ ممبئی۔۔ مندروں اور ہندوؤں کی اکثریت والا شہر ہے۔۔۔ اگر انڈیا سے آنے والے ڈوم، کنجر، حکومتی سرپرستی میں اس طرح کے متنازع اور اکھنڈ بھارت کے زہر میں بجھے ہوئے جملے پھینکتے رہیں گئے۔۔ تو اس سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی ہو گی۔

کشمیر کے مسلمانوں کے بہتے لہو، گرتے جسم دیکھ کر بھی حکومت کو نہ شرم آئی اور نہ حیاء کی سوچ نصیب ہوئی۔۔۔ بلکہ وہ ڈوم،میراثیوں کے ساتھ ملکر 4دن تک کراچی میں گلچھرے اڑاتی رہی۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی کی انتہاء اور انسانی حقوق کی شدید پامالی کے بارے میں گزشتہ انتیس29برسوں کی رپورٹ شائع کی ہے۔۔۔ جس کے مطابق1989ئ؁ سے 28فروری2018ئ؁ تک تقریبا95ہزار کشمیریوں کو مختلف جعلی مقابلوں میں شہید کیا جا چکا ہے۔۔۔

مقبوضہ وادی کے کئی علاقوں میں سات ہزار سے زائد گمنام قبروں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔۔۔ رپورٹ کے مطابق دوران حراست عقوبت خانوں میں تقریباً اکہتر سو کشمیریوں کو اذیتیں دے کر دے کر شہید کیا گیا۔

تقریباً ایک لاکھ43ہزار بے گناہ کشمیری مسلمانوں کو جیلوں اور نجی ٹارچر سیلوں کی زینت بنا دیا گیا، رپورٹ کے مطابق تینتس33ہزار کے قریب خواتین بیوہ۔۔۔ اور ایک لاکھ7ہزار سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں،رپورٹ کے مطابق۔۔۔ گیارہ ہزار43عزت مآب خواتین کو بھارتی فوج نے اجتماعی درندگی کا نشانہ بنایا۔۔۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو پہنچائے جانے والے نقصانات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک لاکھ چھیاسی ہزار چونسٹھ مقامات کو بھارتی فوج نے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مندرجہ بالا رپورٹ پڑھ کر ہر دردمند دل رکھنے والا انسان ہل کر رہ جاتا ہے، یہاں عالمی ضمیر کی کیا بات کی جائے، ستاون مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کا کیا رونا رویا جائے۔۔۔ جب اطلاعات کی ’’وزیرنی‘‘ سے لیکر میڈیا تک بھارتی اداکاروں کے سامنے بچھے چلے جائیں گئے۔

جب گورنر سندھ محمد زبیر بھارتی اداکارہ’’نندیتا داس‘‘ اور ہدایت کار راجا مولی کے اعزاز میں گورنر ہاؤس میں ظہرانہ دیں گے۔۔۔ تو پھر میرا اپنے اس دعوے پر یقین مزید پختہ ہوجائے گا کہ۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو اتنا نقصان بھارتی حکومت نے نہیں پہنچایا۔۔۔ کہ جتنا نقصان پاکستانی حکمرانوں اور سیاست دانوں نے پہنچایا۔

پاکستان کے حکمران، بعض سیاست دان او رمیڈیا کا ایک حصہ۔۔۔ بھارتی حکمرانوں بلکہ ان سے بھی بڑھ کر۔۔۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کا مجرم ہے۔

اب آتے ہیں دوسرے موضوع کی طرف۔۔۔ افغانستان کے صوبے قندوز کے ضلع دشت ارچی کے مدرسہ ہاشمیہ کے ڈیڑھ سو سے زائد معصوم حفاظ کرام کو امریکا نے بمبار طیاروں کے ذریعے نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا۔۔۔ یقینا دل زخمی ہیں۔۔۔اور آنکھوں سے آنسو خشک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔۔۔ امریکا اور اس کے حواری یہ بات خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ جن’’سروں‘‘ پر ’’دستار فضیلت‘‘ سجائی جاتی ہے وہ سرکٹ تو سکتے ہیں مگر باطل کے سامنے جھک نہیں سکتے۔

لہٰذا امریکہ اور اس کے کٹھ پتلیوں نے سروں پر دستار فضیلت سجانے والے پھولوں سے بھی زیادہ خوبصورت معصوم بچوں کو۔۔۔ نشانہ بنا کر اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کر ڈالا۔

امت مسلمہ اس وقت نہایت زبوں حالی کا شکار ہے۔۔۔ شام کا بشار الاسد، روس اور ایران کے ساتھ ملکر۔۔۔ غوطہ کے مسلمانوں کوخون میں نہلا رہا ہے، مسلمانوں کے بچوں کے خلاف پیلٹ گنوں سے لیکر کیمیائی بموں تک کو استعمال کیا جا رہے ہیں،مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے۔۔۔ لبرل اور سیکولر چوہے مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔۔۔ کہیں بے حیائی کا فتنہ ہے، کہیں سیکولر لادینیت کا فتنہ ہے، کہیں غیروں کی غلامی کا فتنہ ہے، کہیں فرقہ وارانہ فتنے ہیں اور کہیں سیاست کے نام پر فتنے ہی فتنے ہیں۔

جن حکمرانوں ، سیاست دانوں اور پارلیمنٹ سے قوم کو ان’’فتنوں‘‘ کے حل کی توقع ہے۔۔۔انہیں اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔۔۔ ایسے میں بحیثیت قوم ہمیں قرآن و سنت سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے، قرآن و حدیث نے ’’فتنوں‘‘ کا جو علاج بتایا ہے، اگر ہم نے متحد ہو کر’’فتنوں‘‘ کے علاج کا وہ راستہ اختیار کر لیا تو پھر صرف سانحہ قندوز ہی نہیں بلکہ’’امریکہ‘‘ کے سارے قرض اُتارے جا سکتے ہیں۔ (ان شاء اللہ)

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online