Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

تحفظ حرمین شریفین ودِفاع پاکستان کانفرنس (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 640 - Naveed Masood Hashmi - Tahaffuz Harmain Sharifain

تحفظ حرمین شریفین ودِفاع پاکستان کانفرنس

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 640)

3مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم بننے والے جس صاحب کو سپریم کورٹ نے تاحیات نا اہل قرار دیا ہے۔۔۔ یہ صاحب چلے تھے پاکستان کو لبرل اور سیکولر ریاست بنانے۔۔۔ انہیں نعوذ باللہ، اللہ، بھگوان اوررام میں فرق نظر آنا ہی بند ہو گیا تھا۔۔۔ان’’صاحب‘‘کو چاہئے کہ کوئی اچھا سا سیکولر ’’چمٹا‘‘ ہاتھوں میں لیکر چھانگا مانگا کے جنگلوں میں یہ گنگناتے پھریں کہ

آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں

تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل

اس موضوع کو یہیں پر چھوڑتے  ہوئے بڑھتے ہیں’’تحفظ حرمین شریفین و دفاع پاکستان‘‘ کے موضوع کی طرف۔۔۔ حطار روڈ ٹیکسلا پر واقع جامع مسجد نبی الملاحمﷺ میں مرکزی مجلس سیرت کمیٹی کے اَحباب کہ جنہیں میں ’’شمع جہاد‘‘ کے پروانے قرار دیتا ہوں نے، اِس عظیم الشان اجتماع کا اہتمام کیا تھا۔۔۔ اس خاکسار نے اپنے خطاب میں عرض کیا کہ تحفظ حرمین شریفین دراصل دفاع پاکستان ہی کا دوسرا نام ہے۔۔۔۔ کیوں؟ اس لئے کہ اگر ’’پاکستان‘‘ جسم ہے تو’’حرمین شریفین‘‘ اس کی روح ہے، 22کروڑ کے لگ بھگ مسلمان رہتے پاکستان میں ہیں۔۔۔۔ مگر ان کے ’’دل‘‘ حرمین شریفین میں اَٹکے رہتے ہیں۔

اس لئے مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی شرمندگی نہیں کہ اگر پاکستان ’’دل‘‘ ہے تو ’’حرمین شریفین‘‘ اس دل کا سکون اور سرور ہیں، اگر’’پاکستان‘‘ آنکھ ہے تو اس آنکھ کا ’’نور‘‘ مکہ اور مدینہ ہیں۔

ہمیں مکہ و مدینہ سے اس لئے بھی پیار ہے کیونکہ خدائے بزرگ و برتر کو بھی مکہ و مدینہ سے پیار ہے، حرمین شریفین کا تحفظ، دِفاع پاکستان کے مترادف اس لئے بھی ہے کیونکہ مکہ و مدینہ میں آقاومولیٰ ﷺ نے جس کلمۂ توحید کی دعوت فاران کی چوٹیوں پر دی تھی۔۔۔ وہی کلمہ توحید قیام پاکستان کی بنیاد بنا، یوں اگر دیکھا جائے تو حرمین شریفین کی برکت سے پاکستان کا دِفاع یقینی ہے۔۔ اور اگر خدانخواستہ کسی ’’موذی‘‘ نے حرمین شریفین کی طرف ناپاک قدم بڑھانے کی کوشش کی تو پاکستان کا بچہ، بچہ حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے کٹ مرے گا لیکن’’حرمین شریفین‘‘ پہ آنچ نہیں آنے دے گا۔

مولانا محمد مسعود ازہر کے جانباز کشمیر میں جاری بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے مرکزی کردار اد کر رہے ہیں اور کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کی دعائیں حرمین شریفین میں ہوتی ہیں۔

امام مسجد نبوی شریف ہوں یا امام کعبہ انہوں نے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھا۔۔۔ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ ہوں یا سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف۔۔۔ موجودہ وزیراعظم ہوں یا سابق وزیراعظم ایک بار نہیں بلکہ بار بار یہ بات دوہرا چکے ہیں کہ سعودی عرب پہ حملہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہو گیا۔۔۔۔ ہم حرمین شریفین اور سعودی عرب کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔

پاکستان کے اعلیٰ ترین حکام کے یہ اور اس سے ملتے جلتے بیانات اس بات کا کھلا اظہار ہیں کہ حرمین شریفین کا تحفظ دراصل پاکستان کے تحفظ کا دوسرا نام ہے۔

اس خاکسار نے اپنے خطاب میں مزید عرض کیا کہ یقینا آج عالم اسلام مختلف نوعیت کے فتنوں میں گھر چکا ہے۔۔ نام نہاد روشن خیالی کا وہ’’فتنہ‘‘ کہ جس نے رسوائے زمانہ پرویز مشرف کی عقل پرپردہ ڈال رکھا تھا، اب مسلم ممالک کے کئی دیگر حکمرانوںکو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، لیکن اس جدید’’فتنے‘‘ سے ہم آغوش ہونے والے یاد رکھیں کہ جس طرح رسوائیاں پرویز مشرف کا مقدر بنی تھیں، وہی رسوائیاں ہر اس شخص کا مقدر بنیں گی کہ۔۔۔ جو اسلام کے احکامات کو پس پشت ڈال کر دور جدید کے سب سے بڑے فتنے مغربی روشن خیالی کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔

مسلمانوں کی کامیابی کا راز دامن مصطفیﷺ سے وابستگی میں ہے، مصطفی کریمﷺ کی تعلیمات پر جتنی مضبوطی سے عمل ہو گا، مسلمان اتنے ہی زیادہ با وقار اور مضبوط ہوتے چلے جائیں گے۔ یورپ کی نام نہاد روشن خیالی میں نہ وقار ہے، نہ متانت، نا حیاء ہے اور نہ غیرت۔۔۔ تو پھرکوئی سچا مسلمان اسے کیسے قبول کر سکتا ہے؟

کرۂ ارض پر الٰہی تعلیمات کا سب سے بڑا روشن مینار کعبہ اللہ ہے۔۔۔ حرمین شریفین سے پھوٹنے والی روشنی کی کرنوں نے۔۔۔ چودہ سو سال قبل دنیا میں تاریک خیالی کوکافور کیاتھا۔۔۔ بیت اللہ شریف اور مسجد نبویؐ شریف دنیا کے اندر روشن تعلیمات کا سب سے بڑا استعارہ ہیں۔

جہاد کیلئے کسی درباری یا سرکاری فتوے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بدر، احد، خندق، حنین، تبوک غرضیکہ رسول رحمتﷺ کے27غزوات قیامت تک’’جہاد‘‘ کی صداقت کا اعلان کرتے رہیں گے۔۔۔ یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ مولانامحمد مسعود ازہر نے مسلمانوںکے سامنے’’جہاد‘‘ اور’’فساد‘‘ کے فرق کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔۔۔ کشمیر کے جہاد کی کونپلیں بدر اوراحد سے پھوٹتی ہیں۔

جبکہ’’فورسز‘‘ اور پاکستان کے بے گناہ مسلمانوں پرحملے کرنے والے فسادیوں کی جڑیں دہلی اور واشنگٹن سے جا ملتی ہیں۔۔۔ ’’بدر‘‘ اور’’احد‘‘ کو آئیڈیل سمجھنے والے ہی حرمین شریفین اور پاکستان کے تحفظ کے لئے جانیں لٹائیں گے۔۔۔ دہلی اور واشنگٹن کے راتب خور فسادی۔۔۔ فساد تو برپا کر سکتے ہیں۔۔۔ مگر نہ جہاد کر سکتے ہیں۔۔۔ اور نہ ہی سچے اور مخلص جہادی ہو سکتے ہیں۔۔۔

وما علینا الا البلاغ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online