Bismillah

659

۳تا۹محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۴تا۲۰ستمبر۲۰۱۸ء

4ہزار پاکستانیوں کا سودا؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 641 - Naveed Masood Hashmi - 4 Hazar Pakistanion ka Soda

4ہزار پاکستانیوں کا سودا؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 641)

کرنل جوزف نام کے امریکی قاتل نے دن دیہاڑے عتیق بیگ نام کے ایک پاکستانی نوجوان کو کچل ڈالا۔۔۔ اسے موقع واردات سے پکڑ کر تھانے لایا گیا۔۔۔ مگر پھر ہماری’’بہادر‘‘ پولیس نے پورے احترام کے ساتھ اسے رخصت کر دیا۔۔۔ اور اب شریف حکومت کی باقیات امریکی قاتل کرنل جوزف کو قانون سے بچانے کیلئے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔۔۔ حکمران اور سیاست دان مافیا کے نزدیک یہ ہے کسی بھی پاکستانی کے خون کی قدر و قیمت۔۔۔ بے گناہ کشمیری جہادیوں، دینی مدارس اور مذہبی نوجوانوں۔۔۔ پر اندھی بلاؤں کی طرح ٹوٹ پڑنے والے۔۔۔ امریکی قاتلوں کے سامنے بکریوں کی طرح ممنانا شروع کر دیتے ہیں۔

پاکستانیوں کا قاتل۔۔۔ امریکی ہو یا راؤ انوار۔۔۔ ہمارا’’پروٹوکول‘‘ ایسے قاتلوں کیلئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔۔۔ یہ حکمران مافیا جب بے گناہ پاکستانی نوجوانوں کے خون کوحیثیت نہیں دے گا۔۔۔ تو پھر ان کے ’’ووٹ‘‘ کو بھی جوتے کی ٹھوکر سے اُڑا دیا جائے گا۔

کتنے حکومتی وزیر، اور میڈیائی دانشور ہیں کہ جنہوں نے امریکی قاتل کو گرفتار کر کے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہو؟ چراغ لے کر ڈھونڈو۔۔۔ شائد کوئی ایک،آدھ مل ہی جائے گا۔۔۔ اسی لئے تو یہ خاکسار گزشتہ15سالوں سے انہیں کالموں میں’’بندگانِ‘‘ امریکہ کیلئے امریکی پٹاری کے دانش فروشوں کی اصطلاح استعمال کرتا چلا آرہا ہے۔۔۔ اب بڑھتے ہیں ایک ایسے دوسر ے موضوع کی طرف کہ جس کے حوالے سے اس خاکسار نے رسوائے زمانہ پرویز مشرف کے فرعونی دور میں بھی انہیں صفحات پر ڈٹ کر آواز اٹھائی تھی۔

لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں جو ہوشربا انکشاف کئے انہیں پڑھ کر ہر غیرت مند پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیا۔۔۔ کئی دوستوں نے مجھے فون کر سوال اٹھایا کہ۔۔۔ مفتیان کرام سے پوچھ کر بتائیں کے ایسے ظالم، وحشی اور انسانوں کا بیوپار کرنے والے حکمرانوںکی حکمرانی کو سالہا سال تک تسلیم کرنے والی قوم اپنے اس گناہ کا کفارہ کیسے ادا کرے؟ جسٹس(ر) جاوید اقبال کہتے ہیں کہ’’ پرویز مشرف دور میں بطور وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے چار ہزار پاکستانی۔۔۔ ڈالروں کے عوض غیر ملکیوں کے حوالے کئے، لیکن اس حوالے سے پارلیمنٹ میں آواز نہیں اٹھائی گئی۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی این جی اوز پاکستان کی بجائے غیر ملکیوں کے مفاد میں کام کر رہی ہیں۔۔۔ اور انہیں فنڈنگ بھی انہیں ممالک سے ہوتی ہے۔۔۔ ایسی غیر ملکی این جی اوز پر پابندی لگنی چاہئے۔۔۔ شکیل آفریدی کے کردار سے بین الاقوامی این جی اوز کے کردار کو پرکھا جا سکتا ہے۔۔۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے پاکستانیوں کوغیر ملکیوں کے حوالے کرنے کا خفیہ طریقے سے اعتراف بھی کیا۔۔۔ حوالگی کا کوئی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کو غیر ملکیوں کے حوالے کیا گیا۔۔۔ جس کے عوض ڈالر حاصل کئے گئے‘‘

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کا مندرجہ بالا بیان۔۔۔ رسوائے زمانہ پرویز مشرف اور اس کے وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ کی وحشت و سربریت۔۔۔ درندگی و شقاوت قلبی کی انتہاء ہے، ہے کوئی پاکستان میں انصاف پسند ادارہ کہ جو ان’’درندوں‘‘ کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے سوال کرے کہ آخر چار ہزار پاکستانیوں کا غیر ملکیوںکے ساتھ سودا کیوں کیا تھا؟

میں تصور کی آنکھ سے اُن ماؤں، بہنوں، اور معصوم بچوں کے احتجاجی مظاہرے دیکھ رہا ہوں۔۔۔ کہ جو گرمی و سردی کی پرواہ کئے بغیر۔۔۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر روتے، بِلکتے ہوئے نعرے بلند کیا کرتے تھے کہ ہمارے’’پیارے‘‘ واپس کر و۔۔۔ میں اس ماں کے آنسوؤں کو کیسے بھول جاؤں کہ جس نے روتے ہوئے بتایا تھا کہ۔۔۔ اس نے بیوگی کے عالَم میں اپنے بیٹے کو محنت مزدوری کر کے انجینئر بنایا تھا۔۔ اور جب بوڑھی ماں کی محنت ثمر آور ہوئی تو اس کے بیٹے کو مسجد سے اٹھا کر لاپتہ کر دیا گیا۔

 اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر احتجاجی مظاہرے کے دوران۔۔۔ اس اماںنے میرے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہ تھا کہ’’بیٹا‘‘ میری ذات پر ایک احسان کرو۔۔۔ ’’پرویز مشرف‘‘ کو کہو کہ وہ مجھے بھی مار ڈالے۔۔۔ کیوں کہ اب میں اپنے بیٹے کے بغیر زندہ نہیں رہنا چاہتی۔

یہ ایک ماں کا قصہ نہیں ہے۔۔۔۔ ایسی سینکڑوں مائیں اور ہزاروں بہنیں اسلام آباد کی سڑکوں پر اپنے پیاروں کو پکارتے پکارتے تھک گئیں۔۔۔ تب لیاقت باغ میں آج کے ’’اِنقلابی‘‘ شیخ رشید نے بدنام زمانہ پرویز مشرف کا جلسہ رکھا۔۔۔ اور اس جلسے سے رسوائے زمانہ’’ڈکٹیٹر‘‘ نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ہم نے کسی کو لاپتہ نہیں کیا یہ جو عورتیں لاپتہ افراد کے لئے مظاہرے کر رہی ہیں۔۔۔ ان کے پیارے اپنی مرضی سے’’جہاد‘‘ پر گئے ہیں۔۔۔ ہم نے تب ہی رسوائے زمانہ ڈکٹیٹر کے اس سفید جھوٹ کے بخیئے ادھیڑے تھے۔

مگر اب تو لاپتہ کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے بڑے صاف، شفاف اور کھرے انداز میں رپورٹ پیش کردی ہے کہ آفتاب شیر پاؤ اور پرویز مشرف نے چار ہزار پاکستانیوں کو غیر ملکیوں کے ہاتھوں ڈالروں کے عروض فروخت کیا تھا۔

کاش کہ پالیسی ساز ادارے جسٹس(ر) جاوید اقبال کے اس انکشاف سے بھرپور بیان کی طرف بھی توجہ دیں۔۔۔ کاش کہ عوام کی ہمدردی میں کڑھنے والے چیف جسٹس ثاقب نثار اس خالص عوامی معاملے پر بھی سوموٹو ایکشن لیں۔۔۔ کیونکہ چار ہزار انسانوں کے لاپتہ ہونے کا معاملہ ان کے ساتھ جڑے ہوئے لاکھوں پاکستانیوں کے انصاف کا معاملہ ہے۔۔۔ آج بھی ہزاروں مائیں اپنے لاپتہ بیٹوں کی راہیں تک رہی ہیں۔۔۔ آج بھی ہزاروں بہنیں اپنے بھائیوں کے انتظار میں تڑپ رہی ہیں، آج بھی ہزاروں معصوم بیٹے اور بیٹیاں اپنے لاپتہ کئے جانے والے باپوں کی یاد میں آنسو بہا رہی ہیں۔۔۔

پاکستان کے لوگو! جسٹس(ر) جاوید اقبال نے14اگست1947ئ؁ میں لاپتہ ہونے والوں کی بات نہیں کی۔۔۔ بلکہ سیکولر پرویز مشرف کے دور میں اس کی اجازت سے چار ہزار جیتے جاگتے انسانوں اور پاکستانیوں کے ڈالروں کے عوض فروخت کرنے کی بات کی ہے۔۔۔ نفرت کرو ایسے سیکولر درندوں سے۔۔۔ بددعائیں کرو انسانوں کی تجارت کرنے والے ایسے بدمعاشوں کے خلاف۔۔۔ ہزار بار لعنت ایسے ڈالروں پر۔۔۔ بے شمار لعنت ایسے درندوں پر۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online