Bismillah

659

۳تا۹محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۴تا۲۰ستمبر۲۰۱۸ء

لو!سید عطاء المومن بخاری بھی رخصت ہوئے (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 642 - Naveed Masood Hashmi - syed ataullah momin bhi rukhsat

لو!سید عطاء المومن بخاری بھی رخصت ہوئے

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 642)

وہ اپنے سربلند بابا امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے صرف علمی وارث ہی نہ تھے بلکہ انہوں نے اپنے بابا سے ملنے والی درویش مزاجی، جرأت و بہادری اور تقویٰ و طہارت کی دولت کو بھی سنبھال سنبھال رکھا تھا۔ میرا ان کے ساتھ پہلا سفر کشمیر سے واپسی پر ہوا کہ جہاں عباس پور کی مرکزی جامع مسجد میں مولانا اشفاق ربانی نے سالانہ کانفرنس میں ہمیں مدعو کیا تھا۔ بڑی شفقت سے فرمانے لگے کہ میری گاڑی جو کہ ٹیکسی تھی حاضر ہے، پنڈی تک ساتھ چلتے ہیں، ہاں البتہ راستے میں حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا یوسف کے گھر پر ضرور رکنا ہے کیونکہ انہوں نے خاص طور پر تاکید فرمائی کہ  مجھے یعنی (نوید ہاشمی) کو ضرور لے کر آنا۔ ابن امیر شریعت سید عطاء المومن شاہ بخاری کی رفاقت بھرے اس سفر کی یادیں آج بھی دل و دماغ میں تر و تازہ ہیں۔ 

میں بذریعہ ٹرین ساہیوال سے کراچی جارہا تھا ملتان سٹیشن پر ٹرین رکی مگر میں اوپر والی برتھ پر ہی لیٹا رہا ، کچھ مسافر اترے اور کچھ ٹرین پر سوار ہوئے  مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میری برتھ کے نیچے ہلچل سی مچی ہو۔ آنکھیں کھولیں اور نیچے جھک کر دیکھا تو  ان کا شیروں کی شباہت والا نورانی سراپا آنکھوں کے سامنے تھا، ہڑبڑا کر برتھ پر اُٹھ بیٹھا، آنکھیں ملیں اور ڈرتے ڈرتے ایک دفعہ پھر نیچے جھانک کر دیکھا  میری آنکھوں نے دھوکا نہیں کھایا تھا وہ واقعی امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے فرزند اور میرے دوست نما بزرگ سید عطاء المومن شاہ بخاری تھے،  احقر اوپر والی برتھ پر اور حضرت بخاری نیچے والی برتھ پر  یہ کیسے ہوسکتا تھا؟

میں نے چھلانگ لگائی اور نیچے اتر کر ان کے سامنے کھڑا ہوگیا  انہوں نے اپنا چہرہ اٹھایا' میری طرف دیکھا اور کھڑے ہوکر مسکراتے ہوئے گلے لگا لیا، میں نے حیرت سے پوچھا کہ تن تنہا اتنا لمبا سفر' نہ باڈی گارڈز' نہ کروفر ٹرین کی بھی عام سی برتھ 'حضرت! دشمن ہمیشہ علماء کی تاک میں رہتا ہے کہیں نقصان نہ پہنچا ڈالے؟ ہنسے اور کہنے لگے کہ خالص حسینی ہوں' میدان چھوڑ کر بھاگوں گا نہیں بلکہ انگریز کے خود کا شتہ پودے مرزا قادیانی کے فسادی گروہ کا آخری سانسوں تک تعاقب جاری رکھوں گا۔  اس سفر میں بھی ابن امیر شریعت سید عطاء المومن شاہ بخاری نے بندہ ناچیز کے ساتھ جو شفقت بھرا معاملہ کیا وہ مرتے دم تک یاد رہے گا۔ یہ چند سال پہلے کی بات ہے کہ یہ خاکسار ملتان پہنچا اور اپنے ایک دوست کے ہمراہ ہم داربنی ہاشم پہنچے  محترم سید کفیل بخاری سے ملاقات کے بعد ابن امیر شریعت سید عطاء المومن شاہ بخاری کی عیادت کے لئے ان کے گھر حاضر ہوئے تو شاہ جی ویل چیئر پر بڑے ہی محبت آمیز انداز میں ملے۔  فرمانے لگے مجھے پتہ ہے کہ تمہارا قلم خوب چلتا ہے،  اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں اور بیورو کریسی کو قادیانی جکڑنے کی کوششیں کررہے ہیں  بے حیائی اور فحاشی نے ہر طرف ڈیرے ڈال رکھے ہیں ان حالات میں اپنے ''قلم'' کو ختم نبوت کے دفاع اور فحاشی و عریانی کے خلاف وقف رکھنا اللہ ہی کی توفیق سے ممکن ہوتا ہے' ابن امیر شریعت سید عطاء المومن شاہ بخاری کی محبتیں اور شفقیں میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔

وہ ساری زندگی دین کے سچے داعی  اور منکرین ختم نبوت کے خلاف شمشیر برہنہ بن کر رہے ۔  وہ ''پاکستان'' سے صرف7 برس بڑے تھے  مگر انہوں نے پاکستان کو بے حیائی ' فحاشی اور قادیانی گستاخوں سے پاک کرنے کے لئے اپنی ساری زندگی کھپا ڈالی۔سید عطاء المومن شاہ بخاری ایک ایسے مرد قلندر تھے کہ لگ بھگ 60 برس تک خطابت کے جوہر دکھاتے رہے  طالبان حق کو عشق رسول کے جام بھر بھر کے پلاتے رہے  ملک کے طول و عرض میں ختم نبوت کا پرچم لہراتے رہے 'مگر نہ اپنے لئے کوٹھی بنائی' نہ بنگلہ خریدا اور نہ ہی کار کے حصول کی دوڑ میں شامل ہوئے۔ بدھ کی صبح مجھے ملتان سے ایک دوست صحافی کا فون آیا  اس کے لہجے کی دل شکستگی محسوس کی تو میں نے وجہ پوچھی  کہنے لگا بس ہاشمی صاحب! میڈیا سے دل ٹوٹ چکا ہے اب میں میڈیا کی لائن چھوڑ دوں گا کیوں؟ خیریت تو ہے؟ کتنا بڑا انسان77 سال کی عمر میں ملتان سے رخصت ہوا' جو علم کا سمندر' تقوے کا پہاڑ' حب الوطنی کا شہسوار اور ختم نبوت کے محاذ کا ایک سپہ سالار تھا  جس نے 60 سال تک صرف ملتان ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دور دراز گائوں گوٹھوں تک ختم نبوت کے پیغام کوپہنچایا  ان کی نماز جنازہ میں علمائ' صلحاء اور عوام نے جوق در جوق ہزاروں کی تعداد میں تعداد میں شرکت کی۔ مگر ہمارا میڈیا رخصت ہو جانے والے اس مرد قلندر کی وفات پر اندھا اور گونگا بنا رہا۔  یہ سن کر میں نے کہا دوست! عاصمہ جہانگیر یا کسی سیکولر گستاخ کا جنازہ ہوتا تو الیکٹرانک میڈیا اسے لائیو دکھاتا اس کی موت کے سوگ کو پاکستان کے گھر گھر تک پہنچانے کی کوشش کرتا' منگل کی شام ملتان کے سپورٹس گرائونڈ میں ہونے والے جنازے میں شامل ہونے والے انسانوں کے سمندر نے نمناک آنکھوں کے ساتھ علم و تقویٰ کے اس حسین امتزاج کو رخصت کیا تھا  وہ ایک متقی عالم دین اور سچے عاشق رسول  کا جنازہ تھا۔  عاصمہ جہانگیر کے جناز ے میں مختصر لباس اور ننگے سر والی عورتیں بھی شامل تھیں' میڈیا پر اس کا دکھایا جانا اس لئے بھی ضروری تھا' جبکہ سید عطاء المومن شاہ بخاری کے جنازے میں نہ عورتیں شریک تھیں  اور نہ ہی اقوام متحدہ کے کسی سیکرٹری نے ان کے لئے تعزیتی بیان جاری کیا تھا  نہ کسی بھارتی ہندو نے انہیں انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیا تھا  جس شخص کے پیچھے نہ دہلی کا مائنڈ سیٹ ہو' نہ امریکہ اور اسرائیل کا سیٹ اپ ہو' پاکستانی میڈیا بھلا اس کا جنازہ کیسے دکھاسکتاہے؟ اس کی دینی اور قومی خدمات پر اسے خراج تحسین کیسے پیش کرسکتا ہے؟ ویسے بھی سید عطاء المومن شاہ بخاری ساری عمر کسی میڈیا کے محتاج نہیں رہے عشق رسالت جن کی پہچان ہو نہ ان کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کے نام کو مٹایا جاسکتا ہے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں' ویسے ہی ابن امیر شریعت سید عطاء المومن بخاری بھی ہمارے دلوں میں دھڑکن کی طرح زندہ رہیں گے۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online