Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

ایک قدم ’’بہادری ‘‘ کا (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 661 - Aik Qadam Bahaduri Ka

ایک قدم ’’بہادری ‘‘ کا

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 661)

اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ ’’قیامت‘‘ کب آئے گی…قرب قیامت کی جو نشانیاں بتائی گئی ہیں وہ نہایت تیزی سے پوری ہو رہی ہیں … حضرت شیخ الاسلام عثمان ہارونی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

جب آخری زمانہ آئے گا تو ’’علماء‘‘ کو چوروں کی طرح ماریں گے اور علماء کو منافق کہیں گے اور منافقوں کو عالم…( انیس الارواح)

دوسری جگہ ارشاد فرمایا :

امیر لوگ زور آور ( یعنی طاقتور) ہو جائیں گے اور عالم لوگ عاجز ( یعنی کمزور ہو جائیں گے) اس وقت اللہ تعالیٰ مخلوق پر سے اپنی برکت اٹھا لے گا اور شہر ویران ہو جائیں گے ( انیس الارواح)

 

باقی باتیں پھر کبھی

حضرت خواجہ عثمان ہارونی نور اللہ مرقدہ کے ’’ملفوظات‘‘ ان کے مرید، خلیفہ اور جانشین حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’انیس الارواح ‘‘ کے نام سے جمع فرمائے ہیں…یہ پینتالیس صفحے کی مختصر سی کتاب ہے … دو دن پہلے نصیب ہوئی تو ایک ہی مجلس میں پڑھ ڈالی… الحمد للہ بہت فائدہ ہوا… اہل دل صوفیاء کرام کے ملفوظات پڑھنے سے… ایمان کو قوت ملتی ہے اور دل زندگی محسوس کرتا ہے…دل میں زندگی کی لہر دوڑتی ہے تو ’’جذبہ جہاد ‘‘ اور ’’شوق شہادت‘‘ بھی تازہ ہو جاتا ہے… حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کے نزدیک تو… اصل فقیر، اصل بزرگ اور اصل ولی وہی ہو سکتا ہے جو موت سے محبت رکھتا ہو…موت سے محبت ہو جائے تو دل میں اطمینان اور سکون آ جاتا ہے… پھر نہ ٹرمپ کی غراہٹ سے خوف محسوس ہوتا ہے اور نہ مودی اور اس کے آرمی چیف کے بھونکنے سے… کوئی گھبراہٹ ہوتی ہے…

یہ بے چارے مجبور، مسکین، نام کے حکمران …ہر کسی کے محتاج، ذلت کے پتلے اور میعادی بادشاہ بس اوپر اوپر سے دھمکیاں دیتے ہیں… جبکہ خود ان کا دل خوف سے لرز رہا ہوتا ہے…یہ نہ رات کو چین سے سوتے ہیں… اور نہ کبھی اطمینان کا ایک سانس ان کو نصیب ہوتا ہے… چند دن بعد ان کے موجودہ اختیارات بھی ختم ہو جائیں گے اور پھر یہ سب ابامے،ٹونی، بش اور مشرف بن جائیں گے… تب یہ کتے پال کر اپنی باقی زندگی کاٹیں گے … حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمہ اللہ تعالیٰ موت سے پیار کرنا سکھاتے ہیں… یہ دنیا کا واحد پیار ہے جو انسان کو ’’طاقتور ‘‘ بنا دیتا ہے…آج ارادہ تھا کہ… حضرت بابا فرید رحمہ اللہ تعالیٰ کے وظائف … اور حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمہ اللہ تعالیٰ کے کچھ مواعظ عرض کروں مگر… آس پاس کے حالات کافی گرم ہیں… اس لئے یہ دونوں تحفے پھر کبھی ان شاء اللہ

ایک  بات سمجھ نہیں آتی

ہمارے ملک پاکستان کا حکمران کبھی ’’وزیر اعظم ‘‘ ہوتا ہے اور کبھی ’’صدر‘‘… ملک کے آئین کو ہر ’’پارٹی‘‘ اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیتی ہے… مشرف کے زمانے ملک کا حکمران ’’صدر‘‘ تھا… نواز شریف کے دور میں ’’وزیراعظم ‘‘ حکمران تھا اور صدر ان کا ’’ممنون‘‘ اور ’’ملازم‘‘…پیپلز پارٹی کے دور میں صدر زرداری ’’حکمران ‘‘ تھا جبکہ …وزیر اعظم اس کا تابع… بہرحال یہ ایک مستقل بحث ہے جو کہ آج کا موضوع نہیں ہے… بات یہ عرض کرنی ہے کہ… پاکستان میں جو ’’حکمران‘‘ بھی آتا ہے… اسے فوراً ’’ہندوستان‘‘ کے ساتھ ’’دوستی‘‘ کی بے حد جلدی لگ جاتی ہے… معلوم نہیں اس کرسی کے نیچے کچھ دفن ہے یا کرسی کے اندر کچھ مدفون ہے… مشرف جب حکمران نہیں تھا تو ہندوستان سے کارگل میں پنجہ آزمائی کر رہا تھا… مگر جیسے ہی وہ حکمران کی کرسی پر بیٹھا…فوراً ہندوستان سے دوستی کی فکر میں ہلکان ہونے لگا… شریفوں کا تو ’’ہندوستان‘‘ اور ’’ہندوؤں ‘‘ سے کوئی جراثیمی رشتہ ہے… اور اب جو ہمارے ’’وزیراعظم ‘‘ آئے ہیں انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں ہی ہندوستان کو پیشکش کر دی کہ… تم ایک قدم بڑھاؤ گے تو ہم دو قدم آگے بڑھیں گے… آخر یہ دو قدم کیوں؟… یہ جلدی کیوں؟… پھر فوراً وزرائے خارجہ کی ملاقات کا خط بھی بھیج دیا گیا… آخر یہ سب کیا ہے؟…حالانکہ ملک کے حکمران کو چاہیے کہ پہلے اپنی عوام کے مسائل حل کرے… اچھی طرح سے ہندوستان کو سمجھے…ماضی کی تاریخ دیکھے پھر اس کے مطابق ہندوستان سے اپنے معاملات چلائے …دراصل ہندوستان نے پاکستان کو مفلوج اور محتاج کرنے کے لئے… اپنی ایک طاقتور لابی اسلام آباد میں بٹھائی ہوئی ہے…اور یہ لابی روپ بدل بدل کر… اپنا مشن پورا کرتی ہے… جیسے ہی کوئی نیا حکمران کرسی پر بیٹھتا ہے تو یہ لابی سرگرم ہو جاتی ہے… اور اس حکمران کے دماغ میں یہ بات بھر دیتی ہے کہ… ہندوستان سے دوستی سب سے اہم مسئلہ ہے… اور اس میں صرف آپ ہی کامیاب ہو سکتے ہیں… اور آپ اگر اس میں کامیاب ہو گئے تو پھر آپ کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں رہے گا…اور ساری دنیا میں آپ کی واہ واہ ہو گی… چنانچہ ہر نیا حکمران اس جال میں پھنس جاتا ہے… ہماری نئی حکومت کو ابھی… ملک کی وزارتوں کے نام تک پوری طرح یاد نہیں ہوئے مگر ہندوستان سے دوستی کے نعرے شروع ہو گئے…اس بار اچھا ہوا کہ’’ مجرم مودی‘‘ کرپشن کے الزامات میں بری طرح پھنسا ہوا تھا… اور کشمیر میں مجاہدین کی مسلسل یلغار نے بھی اس کے ہوش اُڑا رکھے تھے… چنانچہ اس نے اگلے الیکشن میں کامیابی کے لئے… پاکستان سے دشمنی کا تازہ مرحلہ شروع کر دیا اور ہمارے وزیراعظم نے بھی بھرے بازار میں مودی کی وہ ’’حجامت‘‘ کر دی ہے کہ… وہ مرتے دم تک اس کی آگ میں جلتا رہے گا… اب اس نے اپنے آرمی چیف کو آگے کر دیا ہے… انڈین آرمی چیف جو کہ ایک چلتا پھرتا کارٹون ہے… پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے … حکومت پاکستان کو چاہیے کہ صرف چھ ماہ کے لئے کشمیری مجاہدین کے راستے کی رکاوٹیں ہٹا لے … انڈیا کو اس کی ہر دھمکی کا پورا پورا جواب مل جائے گا ان شاء اللہ

جنگ نہیں ہو گی

ہم انڈیا اور پاکستان کی جنگ کبھی بھی نہیں چاہتے… مجاہدین پر یہ الزام غلط ہے کہ وہ انڈیا اور پاکستان کو لڑانا چاہتے ہیں… مجاہدین تو صرف انڈیا کے مظالم کا جواب دیتے ہیں اور انڈیا کو اس کی اوقات یاد دلاتے ہیں… ماضی کی بعض غلطیوں کی وجہ سے انڈیا کا حوصلہ بہت بڑھ چکا تھا… مشرقی پاکستان ہم نے اپنی شرمناک غلطیوں کی وجہ سے کھویا انڈیا کی بہادری کی وجہ سے نہیں… مگر اس واقعہ نے انڈیا اور اس کی عوام کو اپنی طاقت کے دھوکے میں ڈال دیا تھا… باقی رہی سہی کسر انڈین فلم انڈسٹری نے پوری کر دی… انہوں نے تسلسل کے ساتھ ایسی فلمیں بنائی کہ… جن سے وہاں کی بھوکی، ننگی، نشئی عوام تک کو یقین ہو گیا کہ… انڈیا ناقابل تسخیر ملک ہے اور وہ جب چاہے پاکستان کو مٹا سکتا ہے… الحمد للہ جہاد کشمیر نے انڈیا کو بار بار ذلت آمیز شکست سے دور چار کر کے…اس کی طاقت کا سارا خمار اتار دیا ہے… اب انڈیا کبھی بھی جنگ کی غلطی نہیں کر سکتا…

وہ فضاء سے لے کر زمین تک ہر جگہ… مجاہدین سے شکست کھا چکا ہے…اس کی فوج کا حوصلہ بری طرح سے گرا ہوا ہے… دنیا میں سب سے زیادہ جو وردی والے خود کشی کر رہے ہیں وہ انڈیا کے فوجی ہیں… اُن کا آرمی چیف جو کہ ’’آپریشن آل آؤٹ‘‘ کے نعرے کے ساتھ میدان میں اُترا تھا اپنی شکست تسلیم کر چکا ہے… ایک ایسا ملک جو اپنی عوام کا حوصلہ سنبھالنے کے لئے ایک ’’نقلی سرجیکل سٹرائیک‘‘ کا سہارا لینے پر مجبور ہو… وہ اصلی جنگ کی ہمت کیسے کر سکتا ہے؟… مگر پاکستان میں موجود انڈین لابی ہر وقت ہمارے حکمرانوں کو… انڈین حملے سے ڈراتی رہتی ہے… حالانکہ انڈیا اپنی آٹھ لاکھ فوج لگا کر…اکیس سال سے جاری جہاد کشمیر کو اب تک نہیں روک سکا… وہ پانچ مجاہدین کے ہاتھوں سے …اپنا ایک طیارہ نہیں چھڑا سکا… وہ بمبئی کے دھماکوں کے مبینہ ذمہ دار ایک چھوٹے سے سمگلر کو اب تک نہیں پکڑ سکا… وہ اپنی چھ نامور فورسز لگا کر کشمیر کے بارڈر کو اب تک محفوظ نہیں بنا سکا… وہ اپنی پارلیمنٹ کو حملے سے نہیںبچا سکا… وہ تیس سال کے مظالم کے باوجود خالصتان کی تحریک کو ختم نہیں کر سکا… وہ اپنے ہزاروں فوجی اور سپاہی گنوا کر بھی نکسل وادی جدوجہد کا خاتمہ نہیں کر سکا… وہ اپنی ساری طاقت لگا کر چین کو ایک سڑک بنانے سے نہیں روک سکا… وہ اربوں ڈالر خرچ کر کے ابھی تک افغانستان میں اپنے قدم نہیں جما سکا… انڈیا اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے… وہ اب دھمکیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے… پاکستان میں سرگرم اس کی لابی یہاں خوف پھیلا رہی ہے… وہ فلم اور کرکٹ کے ذریعہ ہمیں نیچا دکھانا چاہتا ہے…ہمارے حکمران اس کی طرف محبت کے دو قدم بڑھانے کی بجائے… صرف بہادری کا ایک قدم آگے بڑھا دیں… تب وہ حیرت انگیز نتائج دیکھیں گے… برہمن اور ہریجن کی خوفناک تقسیم انڈیا کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی… وہاں کے بے چین مسلمان اگر کھڑے ہو گئے تو انڈیا میں مزید تین پاکستان اور بن جائیں گے… یا اللہ ہمارے حکمرانوں کو ہمت اور جذبہ عطاء فرما…آمین یا ارحم الراحمین

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online