Bismillah

677

۱۱ تا۱۷جمادی الاولیٰ۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۸تا۲۴جنوری۲۰۱۹ء

کامیابی (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 668 - Kamyabi

کامیابی

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 668)

اللہ تعالیٰ نے ’’کامیابی ‘‘ کو ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کے ساتھ ’’باندھ‘‘ دیا ہے… ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ ہی میں کامیابی ہے…ہر طرح کی کامیابی… ہمیشہ کی کامیابی… ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کے بغیر کوئی کامیابی نہیں… یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے… غور سے پڑھیں… اس بات کو سرسری نہ سمجھیں… جب شیطان دل میں یہ وسوسہ ڈالے کہ تم ناکام  ہو تو پڑھیں… لا الہ الا اللہ…دل کے یقین کے ساتھ …ذہن کی توجہ کے ساتھ… صاف زبان سے ’’لا الہ الا اللہ‘‘…شیطان بھاگ جائے گا… کیونکہ آپ نے اعلان کر دیا کہ … آپ کامیاب ہیں… لا الہ الا اللہ … آپ نے ثابت کر دیا کہ … آپ کامیاب ہیں… لا الہ الا اللہ…محمد رسول اللہ

 

اب اگلی بات بہت غور سے پڑھیں… اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس کا نفع عطاء فرمائے اور آپ کو بھی… وہ یہ کہ… ہم اگر ’’لا الہ الا للہ ‘‘ کو ساتھ لے کر مرے تو پھر ہماری کامیابی پکی ہو گئی… اور اگر خدانخواستہ … ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کسی کے ساتھ نہ گیا تو… اس کی ناکامی پکی ہو گئی… اب شیطان کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ… وہ ہم سے ’’لا الہ الا اللہ‘‘ چھین لے… تو ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ سے رشتہ ہر دن اور مضبوط ہوتا جائے… ہم بوڑھے ہوتے جائیں مگر ہمارا’’ کلمہ‘‘ جوان ہوتا جائے… ہم پرانے ہوتے جائیں مگر ہمارا کلمہ نیا ہوتا جائے…’’لا الہ الا اللہ‘‘ کو ہم اپنے دل میں اتاریں… ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کو ہم اپنی روح میں اتاریں… اور ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کے ورد کے بغیر ہمیں چین نہ آئے…

اب اگلی بات اور زیادہ غور سے پڑھیں… ’’لا الہ الا اللہ‘‘ ہمارے دل میں اس وقت تک پکا نہیں اترے گا… جب تک ہم… ان لوگوں کو کامیاب سمجھتے رہیں گے… جو ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ سے محروم ہیں… یقین رکھیں کہ… ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ سے جو بھی محروم ہے وہ ناکام ہے… ’’محمد رسول اللہ ‘‘ سے جو بھی محروم ہے وہ ناکام ہے…یہ بات بطور فخر کے نہیں… بلکہ بطور’’ عقیدہ ‘‘ کے ہمارے دلوں میں مضبوط ہونی چاہیے… آج ہم نے کامیابی کا مدار ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے… ہمارے نزدیک کوئی چاند پر پہنچنے کا دعویٰ کر دے وہ کامیاب … جو اچھا کاروبار بنا لے وہ کامیاب… جو بڑا عہدہ پا لے وہ کامیاب… جو دنیاوی معلومات زیادہ جمع کر لے وہ کامیاب… جو بہت سا پیسہ جمع کر لے وہ کامیاب… اس کے پاس کلمہ ہو یا نہ ہو … آج کامیابی کا مدار ’’مال ‘‘ کو سمجھ لیا گیا ہے کہ … ہر مالدار کامیاب ہے اور ہر غریب ناکام …

استغفر اللہ ، استغفراللہ، استغفراللہ … انا للہ وانا الیہ راجعون…

بس یہ وہ سوچ ہے … جو کلمے کو ہمارے دل میں نہیں اترنے دے رہی… اسی لئے ہم ’’ ایمان‘‘ کی حلاوت سے محروم ہیں… ہم ایمان کی مٹھاس سے محروم ہیں… ہم ایمان کی عزت سے محروم ہیں… ہم ایمان کے اطمینان سے محروم ہیں… کلمہ طیبہ دل میں آ جائے تو دل ایک خاص قسم کی مٹھاس پاتا ہے… ایک حلاوت پاتا ہے… دل میں اطمینان اور عزت کا احساس آ جاتا ہے… اور دل خوش ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خوش نصیب ہے… مگر چونکہ ہم نے کامیابی ’’مال‘‘، ’’عہدے‘‘ اور’’ منصب ‘‘ میں سمجھ رکھی ہے… اور کلمے کی قدر ہمارے دلوں میں نہیں ہے… تو اس لئے ہم کلمے کے فوائد سے بھی محروم ہیں… اور کلمے کی تاثیر سے بھی محروم ہیں…

یہ جو ہمارے ہاں… ’’لبرل ‘‘ نام کا نیا فتنہ تیزی سے پھیل رہا ہے… یہ دراصل ’’نفاق‘‘ کا فتنہ ہے…اس فتنے کا اصل مقصد ہی کلمے کی قدر کو گرانا… اور مال کی قدر کو بڑھانا ہے… اور مال چونکہ کافروں کے پاس زیادہ ہے… تو اس طرح وہ کفر کی قدروقیمت اور عزت کو بڑھا رہے ہیں… اور یہی ’’منافقین‘‘ کا اصل مشن ہے…

اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ’’لبرل ازم ‘‘ کا یہ فتنہ… کئی نام نہاد علماء میں بھی داخل ہوتا چلا جا رہا ہے… چنانچہ وہ کلمہ پڑھنے والوں کو… یہ سبق پڑھا رہے ہیں کہ… مال بناؤ تاکہ کلمے والوں کی عزت ہو … استغفر اللہ… کیسا ظالمانہ اورفاجرانہ نظریہ ہے کہ… عزت کلمے میں نہیں… مال میں ہے… اور کلمے والوں کو بھی اگر عزت چاہیے تو وہ مال حاصل کریں… حالانکہ… اسلام نے دنیا میں آ کر یہ اعلان فرمایا کہ… عزت صرف ایمان میں ہے کلمے میں ہے… دنیا کے مالدار لوگ بھی اگر عزت چاہتے ہیں تو کلمہ پڑھ لیں… اگر وہ کلمہ نہیں پڑھیں گے تو… وہ ذلیل و خوار ہیں… اور ان کے جان و مال کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے… اور ان سے قتال کیا جائے گا… وہ اگر اپنے جان و مال کو قیمتی بنانا چاہتے ہیں تو وہ… یا تو کلمہ پڑھ لیں… یا کلمہ پڑھنے والوں کی پناہ اور غلامی میں آ جائیں… ان دو صورتوں کے علاوہ ان کے لئے کوئی عزت نہیں ، کوئی حرمت نہیں… کوئی قدر نہیں … یہ ہے اسلام کی اصل دعوت… اور یہی سچی دعوت ہے… اور یہی حقیقت ہے… آج اگر دنیاکے کفر نے… چار دن کے لئے کچھ طاقت بنا لی ہے…اور کچھ چمک دمک حاصل کر لی ہے تو…اس کا یہ مطلب نہیں کہ… وہ کامیاب ہو گئے ہیں… یا وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے… ایسا ہرگز نہیں… بلکہ حقیقت یہ ہے کہ… اگر ساری دنیا پر کافروں کا قبضہ ہو جائے… اور ساری دنیا کا مال اُن کے ہاتھ لگ جائے… اور اُن میں سے ہر شخص ہوا میں اُڑتا پھرے اور پانی پر چلے… اور فضاؤں میں گھومے… اُن کے مکانات سونے کے…ا ور اُن کی سڑکیں چاندی کی بن جائیں… اور اُن میں سے ہر شخص اربوں پتی ہو جائے… تب بھی وہ ناکام ہیں… اور اس وقت اگر دنیا میں صرف ایک دو مسلمان باقی ہوں… اور اُن کے پاؤں میں جوتے تک نہ ہوں تو وہ … بلاشبہ ، بلاشبہ کامیاب ہیں… وجہ یہ ہے کہ… کامیابی… ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ میں ہے…

یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے… پس جس کے پاس ’’لا الہ الا اللہ‘‘ ہو گا وہی کامیاب ہے… وہ جس کے پاس ’’لا الہ الا اللہ‘‘ نہیں ہو گا وہ ہر حال میں ناکام ہے… یہ بات دنیا میں کوئی مانے یا نہ مانے… مگر اللہ تعالیٰ نے موت کا پکا نظام قائم فرما دیا ہے…چنانچہ ہر حکمران، ہر جابر، ہر ظالم ، ہر پھنے خان… ہر فقیر ، ہر غریب نے ضرور مرنا ہے… اور پھر اللہ تعالیٰ نے ’’یوم الدین‘‘ قائم فرما دیا ہے… انصاف کا دن… اس دن حقیقی انصاف ملے گا…ا ور اس انصاف کے مطابق … کلمے والے کامیاب … اور بغیر کلمے والے ناکام ہوں گے… اگر کوئی اس کا انکار کرتا ہے تو وہ موت کے نظام سے بچ کر دکھا دے… اور جو ان باتوں پر… بغیر دیکھے یقین رکھتے ہیں… نبی ﷺ کو مانتے ہوئے… قرآن کو مانتے ہوئے…وہی ایمان والے ہیں…

خلاصہ اس پوری بات کا یہ ہوا کہ… ہم نے دو محنتیں کرنی ہیں… پہلی یہ کہ کلمہ ہمارے دل میںاتر جائے… کلمے کی عزت اور قدر ہمارے دل میں راسخ ہو جائے… اور دوسری یہ کہ… ہمارا یہ مضبوط عقیدہ بن جائے کہ… کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کے بغیر … کوئی کامیاب نہیں… خواہ وہ دنیا میں جو کچھ بھی پا لے… اور ہمیں ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی خاطر قتال کرنا ہے… تاکہ… لوگ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا اقرار کریں… یا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کے سائے اور پناہ میں آ جائیں… اور اس زمانے کا خطرناک فتنہ خود کو ’’لبرل ‘‘ کہنا… لبرل بنانا… اور لبرلز کی صفوں میں شامل کرنا ہے… مسلمان کبھی ’’لبرل‘‘ نہیں ہوتا… وہ فرمانبردار ہوتا ہے… وہ پابند ہوتا ہے وہ ’’حدود اللہ ‘‘ کے درمیان رہتا ہے …وہ دنیا میں ایک پابند قیدی کی زندگی گزارتا ہے … اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حدود سے آزادی … کسی جانور کو بھی زیب نہیں دیتی چہ جائیکہ … انسان خود کو ’’لبرل ‘‘ کہہ کرخوش ہوتا رہے …یہ خود کو’’لبرل‘‘کہنے والے…دراصل اپنے نفس… اپنی شہوات اور اپنی خواہشات کے بری طرح غلام … اور پابند ہوتے ہیں… جبکہ … مؤمن… کلمہ طیبہ کی عرش تک پھیلی ہوئی سلطنت میں سیر کرتا ہے… اس کی پابندی ان بدبختوں کی آزادی سے زیادہ مزیدار ہے… آج کل پاکستان کے ’’لبرلز‘ کو چاہیے کہ… فوراً امریکہ جائیں… وہاں’’ کیلیفورنیا‘‘ میں آگ بھڑک رہی ہے… امریکہ …جس کی ٹیکنالوجی کے حوالے دے کر … یہ مسلمانوں کو گالیاں بکتے رہتے ہیں… وہ کئی دن کی سرتوڑ کوشش کے باوجود… ایک معمولی سی آگ کو… ابھی تک نہیں بجھا سکا…

ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ… وَمَا قَدَرُوْاللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online