Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بابری مسجد کی پکار (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 670 - Babri Masjid ki Pukar

بابری مسجد کی پکار

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 670)

اللہ تعالیٰ ’’امت مسلمہ ‘‘ کو’’ بابری مسجد شریف‘‘ واپس عطاء فرمائے… وہ عظیم ’’بابری مسجد‘‘ جو ہمارے ’’بزدلی‘‘ کے کبیرہ گناہ کی وجہ سے… ہم سے چھین لی گئی… اس پر ایک عارضی مندر قائم کر دیا گیا… اور آج کل وہاں مشرکوں کامشتعل مجمع اکٹھا ہے… وہ ’’رام مندر ‘‘ کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں…اُن کے ہاتھوں میں تلواریں اور ترشول ہیں… جبکہ مسلمان سہمے سہمے خوفزدہ ہیں… بابری مسجد پھر پکار رہی ہے… اُمت مسلمہ کے لئے امتحان کی گھڑی ہے… یا اللہ جان حاضر ہے… یا اللہ سب کچھ حاضر ہے …بابری مسجد واپس عطاء فرما دیجئے…اُمت مسلمہ کی آبرو لوٹا دیجئے… اُمت کے اجتماعی گناہ بھی معاف فرما دیجئے… انفرادی گناہ بھی معاف فرما دیجئے… رام مندر کی تعمیر روک دیجئے… اپنے شیروں کو راستہ دے دیجئے… وہ آپ کو اپنی محبت اور وفاداری دکھانے کے لئے بے تاب ہیں …

بابری مسجد کے مقام پر تکبیر کے نعرے… اللہ اکبر، اللہ اکبر… اڑتا خون… جھاگ مارتے زخم …عشق کی خوشبو میں رچے بسے جسم او رجان کے ٹکڑے…شرک اور مشرکین کی شکست… ایمان اور توحید کی جیت… یا رب ایک دو نہیں …ہزاروں حاضر ہیں… تیار ہیں… جذبات سے کانپ رہے ہیں… غصے سے بپھرے ہوئے ہیں کہ… بابری مسجد کو واپس لانا ہے… ماں کے سر کا آنچل بچانا ہے… سجدہ گاہ کو شرک کی جگہ نہیں بننے دینا… اے بدر میں نصرت اُتارنے والے رب! اب ذرا اپنے آج کے دیوانوں کو بھی …راستہ دے… پھر ان شاء اللہ زرد رنگ کی دہشت سرخ رنگ کے طوفان میں غرق ہو جائے گی… تب ’’ٹھاکرے‘‘ ٹھوکروں پر ہو گا… ’’مودی ‘‘ مکڑے کے جالے کی طرح ’’بودی ‘‘ ہو جائے گا… ان شاء اللہ، ان شاء اللہ… بھارتی دہشت گردو! بس اتنا یاد رکھنا… ہم بابری مسجد پر پوری نظر رکھے بیٹھے ہیں… ہم ناجائز’’ رام مندر‘‘ کو روکنے کی مکمل فکر رکھتے ہیں… تم تو سرکاری اختیارات اور پیسہ خرچ کرنا جانتے ہو… ہم اس معاملے پر خود خرچ ہونے کو تیار ہیں… ان شاء اللہ…

کچھ ہوش کرو

اُدھر ہندوؤں کا مجمع… ایودھیا میں جمع ہو کر …بابری مسجد کا قصہ ہی ختم کرنا چاہ رہا ہے… جبکہ اِدھر ہمارے ملک میں… انڈیا کی چاپلوسی کا مکروہ عمل… نواز شریف کے بعد بھی جاری ہے … اے حکمرانو! کچھ تو شرم کرو…کچھ تو ہوش میں آؤ… کرتارپور کی راہداری کھولی جا رہی ہے… اس کی افتتاحی تقریب کے لئے سشما سوراج… اور امریندر سنگھ کی منتیں اور ترلے کئے جا رہے ہیں کہ…وہ اپنے منحوس اور ناپاک قدم ہماری سرزمین پر رکھیں… جبکہ وہ تکبر کے گھوڑے پر سوار ہیں… اور تقریب میں اپنے دو چھوٹے وزیر بھیج رہے ہیں…

اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر بھی… ہمارے حکمرانوں نے… بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات کی درخواست کی… جو اس نے مسترد کر دی… مگر ان کو پھر بھی غیرت نہ آئی… اب دوبارہ اس کے قدموں میں درخواست ڈال بیٹھے …جو اس نے حقارت سے ٹھکرا دی… ہائے کاش یہ کچھ غیرت کھاتے… اور اپنی قوم کو اس قدر ذلیل نہ کراتے… ایودھیا میں ہندوؤں کے مشتعل ہجوم کو دیکھ کر… یہ راہداری والی تقریب …ملتوی کر دیتے… ساری دنیا دیکھ رہی تھی کہ …بال ٹھاکرے کا پوت… اَدھو ٹھاکرے ایودھیا میں کس طرح تلواریں لہرا رہا ہے… مگر وہاں کی حکومت نے نہ اس کو گرفتار کیا… اور نہ حفاظتی تحویل میں گم کیا… جبکہ ہمارے حکمران … ہر وقت پاکستان کے دینی طبقے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں…انہوں نے ایک معذور اور بزرگ عالم دین کو… اُٹھا کر جیل میں ڈال دیا … آخر کیوں؟… علامہ خادم رضوی نے نہ کوئی تلوار لہرائی تھی… اور نہ بھارت کے ہندوؤں کی طرح… اقلیتوں کو قتل عام کی دھمکی دی تھی…

پاکستان کے حکمران اچھی طرح سن لیں… بابری مسجد کا مسئلہ ساری امت مسلمہ کا اجتماعی مسئلہ ہے… وہ جن کو… مسلمانوں کا لیڈر بننے کا شوق ہے وہ اس وقت اپنی ذمہ داری ادا کریں… اور بھارت کو صاف بتائیں کہ بابری مسجد کی جگہ… رام مندر کی تعمیر برداشت نہیں کی جائے گی… پاکستان کے حکمران … یہ بھی یاد رکھیں کہ… اگر بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہوئی تو… پورا برصغیر… دہلی سے کابل تک… بد امنی کی ایک ایسی کالی آندھی میں… گھرجائے گا… جو بہت دور دور تک تباہی پھیلا دے گی…

ہمیں کوئی شکوہ نہیں

ایودھیا میں… قاتل ہندو کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں… ان بندروں کے منہ کو انسانی خون لگ چکا ہے… یہ بمبئی سے ہاشم پورہ تک… اور میوات سے گجرات تک… ہزاروں مسلمانوں کو شہید کر چکے ہیں… ہندوستان میں اب تک ہزاروں مسلم کش فسادات ہو چکے ہیں … اور جب سے قاتل مودی آیا ہے… تب سے مسلمانوں پر… مظالم کا سلسلہ مزید بڑھ گیا ہے … ہمیں امریکہ اور یورپ سے کوئی شکوہ نہیں ہے کہ… وہ ان حالات کا نوٹس کیوں نہیں لیتے… ہم یہ شکایت بھی نہیں کرتے کہ… وہ جنہیں چار مسلمان علماء اکٹھے برداشت نہیں ہوتے… آج وہ لاکھوں ہندوؤں کو مسلح دیکھ کر بھی کیوں خاموش ہیں… ہم انٹرنیشنل میڈیا سے بھی کوئی شکوہ نہیں کرتے کہ… وہ صرف مسلمانوں کو ہی دہشت گرد کیوں کہتا ہے… کیا اسے ایودھیا اور ہاشم پورہ کے مناظر نظر نہیں آتے؟ …ہم یورپی یونین سے بھی یہ سوال نہیں کرتے کہ… ایک عاصیہ ملعونہ کی خاطر… زمین آسمان ایک کرنے والے … آج لاکھوں مسلمانوں کے تحفظ کے لئے… آواز کیوں نہیں اٹھا رہے… جبکہ اس وقت لکھنؤ، فیض آباد… اور پورے اُترپردیش کے مسلمان …خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں …ہمیں امریکہ سے کوئی شکوہ نہیں…یورپی یونین سے بھی نہیں… عالمی نشریاتی اداروں سے بھی نہیں… کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب دین محمد ﷺ کے پکے دشمن ہیں…یہ حضرت آقا مدنیﷺ کے دشمن ہیں… ہم دشمنوں سے ہمدردی اور تعاون کی بھیک اور خیرات نہیں مانگتے … بس افسوس صرف اتنا ہے کہ… خود کو مسلمان کہلوانے والے… حکمران، فوجیں اور اہل اختیار… آخر کب تک… ذلت اور غلامی کو… مسلمانوں پر مسلط کرتے رہیں گے…مسلمان الحمد للہ… ایک ناقابل شکست امت ہیں…وہ اپنے سارے مسئلے خود حل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں… ان میں الحمد للہ کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے … مگر ہمارے ارباب اختیار… مکمل طور پر ذہنی غلامی کا شکار ہیں…وہ نہ تو خود مسلمانوں کے مسائل حل کرتے ہیں… اور نہ مسلمانوں کو آگے بڑھ کر… اپنے مسائل حل کرنے دیتے ہیں…

عاصیہ ملعونہ کی قانونی وکالت کرنے والے …بابری مسجد کی قانونی وکالت کیوں نہیں کرتے؟…عاصیہ کے لئے دو عدالتوں سے سزائے موت اور ایک سے بری ہونے کا فیصلہ ہے … جبکہ بابری مسجد چھ سو سال تک… مسلمانوں کو اذان سناتی رہی …چھ سو سال تک کسی کو یاد نہ آیا کہ… وہ رام کی جائے پیدائش پر بنی ہوئی ہے … مگر جب ہندوؤں کو اقتدار ملا تو وہ… تاریخ بھی اپنی مرضی کی بنانے لگے… ہائے کاش … مسلمانوں کو بھی… ایک ایسا مسلمان حکمران مل جائے جو اسلام کے لئے مرتا جیتا ہو… ہندوؤں کو مودی … عیسائیوں کو ٹرمپ اور یہودیوں کو… بن یامین نیتن یاہو مل گئے…

ہائے کاش…ہائے کاش…مسلمانوں کو بھی… کوئی مخلص مسلمان حکمران مل جائے… خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی… اصل یہ عرض کرنا ہے کہ … ہم نے اپنے مسائل کے لئے… غیروں سے بھیک نہیں مانگنی … امت مسلمہ خود …بابری مسجد کے مسئلے کے حل کے لئے… کھڑی ہو… تیار ہو… اور آگے بڑھے…

دور دور تک اثر پڑے گا

’’بابری مسجد شریف‘‘ کی جگہ اگر باقاعدہ رام مندر تعمیر کیا گیا تو… مسلمان اسے برداشت نہیں کریں گے…سب سے زیادہ خوفناک رد عمل برصغیر میں ہو گا… ان شاء اللہ… افغانستان کے غیور اور بہادر مسلمان… کابل اور جلال آباد وغیرہ میں موجود بھارتی مراکز کو تہس نہس کر دیں گے … خود ہندوستان کے مسلمان بھی اپنے مصلحت پسند لیڈروں سے آزاد ہو کر… ان شاء اللہ باہر نکلیں گے… اور پاکستان میں بھی… حکومت اس ردعمل کو نہیں روک سکے گی…’’ مودی‘‘ پر اس وقت… 2019؁ کے الیکشن کا خوف سوار ہے …ہندوستان میں علاقائی پارٹیاں کافی زور پکڑ چکی ہیں… ’’مودی‘‘ اپنے مجرمانہ ایجنڈے کو مکمل کرنے کے لئے یہ الیکشن ہر حال میں جیتنا چاہتا ہے… انڈیا کے کالے چور یعنی ارب پتی اس کی پیٹھ پرہیں… ساری دنیا میں وشوہندو پریشد اور آر ایس ایس کے حامی… مودی کے لئے فنڈنگ کر رہے ہیں… امریکہ اور اسرائیل کی حکومتیں بھی مودی کا ساتھ دے رہی ہیں… مگر مودی کو … ووٹ کے لئے خون کی ضرورت ہے… اور خون بھی مسلمانوں کا… اور بابری مسجد کا… مسلمانوں کو چاہیے کہ… وہ ان حالات کو سمجھ کر … عزیمت اور قربانی کا راستہ اختیار کریں… ابوجہل کو اپنی اسلام دشمنی پر ناز تھا… اہل اسلام نے قربانی کا راستہ چنا تو ابوجہل اوندھے منہ ایک اندھے کنویں کی غذا بن گیا… ابوجہل کے بعد سے مودی تک… بے شمار مشرک سردار… مسلمانوں سے ذلت ناک شکست کھا چکے ہیں … اس وقت ہندوستان میں ہندوؤں کے جتنے بھی… بڑے اور نامور ہیرو… مشہور کئے جا رہے ہیں… وہ سب مسلمانوں سے بری طرح مار کھا کر… اور ذلیل ہو کر مرے ہیں… پرتھوی راج ہو یا شیوا جی… مراٹھے ہوں یا جاٹ… ان سب نے مسلمانوں سے شکست کھائی ہے… ابھی رام جنم بھومی کی تحریک میں… ہندوؤں کے کتنے بڑے بڑے نام اب تک ذلیل ہو چکے ہیں …اور اب نمبر ہے… مودی شیطان کا… مسلمانو! بابری مسجد پکار رہی ہے… جنت مہک رہی ہے … شہداء مسکرا رہے ہیں…شجاعت انتظار کر رہی ہے … اپنے زمانے میں اپنے حصے کا کام… کامیابی سے کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor