Bismillah

686

۱۴تا۲۰رجب المرجب۱۴۴۰ھ  بمطابق ۲۲تا۲۸مارچ۲۰۱۹ء

بیداری اور خواب (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 676 - Baidari aur Khwab

بیداری اور خواب

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 676)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلیٰ آلِہِ وَ صَلِّ وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا

’’ اللہ تعالیٰ ‘‘ ہمیں … ’’اللہ والا‘‘ بنائے … ہماری آج کی مجلس کو ہمارے لئے اپنے قرب کا ذریعہ بنائے… خبروں پر نظر ڈالی… کوئی قابلِ تبصرہ نظر نہ آئی…سب ہی پیچھے کی طرف جا رہے ہیں… نیچے کی طرف جا رہے ہیں… سیاستدان ، لیڈر ، حکمران ، صحافی، کھلاڑی اور تاجر … صرف ’’اللہ والے‘‘ ہر قدم آگے جا رہے ہیں…ہر سانس اونچے جا رہے ہیں… شہداء، مجاہدین ، علمائے ربانی ، ذاکرین… اہل امانت، اہل خدمت اور اہل عشق… چلئے ’’ذکر اللہ ‘‘ سے مجلس شروع کرتے ہیں…

 

مزے کے لئے نہیں

ذکر کرنے والے کہتے ہیں کہ … ذکر میں دل نہیں لگتا… درودشریف میں دل نہیں لگتا… خیالات کا ہجوم اور غلبہ رہتا ہے… بلکہ غلط خیالات بھی آ جاتے ہیں… تو ایسے ذکر اور ایسی عبادت کا کیا فائدہ؟

بھائیو اور بہنو ! بہت فائدہ ہے (۱) ابھی دونوں کام چل رہے ہیں ذکر بھی اور وساوس بھی… اگر ذکر چھوڑ دیا تو پھر وساوس رہ جائیں گے… اس لئے ذکر چلنے دیں… اور بڑھا دیں … درودشریف بھی ذکر ہے… ایک وقت آئے گا کہ… ذکر چھا جائے گا… وساوس کا غم نہ کھائیں… وہ سب کو آتے ہیں… اچھے لوگوں کو زیادہ آتے ہیں (۲) خیالات آتے ہیں مگر زبان تو ذکر کر رہی ہے… جب ذکر کی برکت سے زبان کو جہنم سے نجات ملے گی تو ان شاء اللہ باقی اعضاء کو بھی مل جائے گی…اس پر شکر کریں کہ… اللہ تعالیٰ نے ہمارے اعضاء میں سے ایک عضو یعنی زبان کو اپنے ذکر پر لگا دیا ہے… اس پر شکر کریں گے تو ان شاء اللہ توجہ والا ذکر بھی مل جائے گا… یہ کون سی کم نعمت ہے کہ زبان اچھے کام میں لگی رہے… یہی زبان انسان کو اوندھے منہ جہنم میں ڈلواتی ہے… یہی کفر بکتی ہے… غیبت غلاظتی ہے، جھوٹ اور بے شمار گناہ کرتی ہے … (۳) جب اللہ تعالیٰ نے ہماری زبان کو اپنے ذکر میں لگا دیا ہے توکیا بعید ہے کہ آگے چل کر ہمیں ’’ذکر بیداری‘‘ نصیب ہو جائے… پھر ترقی ہو اور ’’ذکر حضوری‘‘ نصیب ہو جائے… اور پھر ایسی ترقی ہو کہ دل میں سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز غائب ہو جائے… ویسے بھی ذکر کی توفیق خود بہت بڑی نعمت ہے… ذکر روحانی مزے کے لئے نہیں کیا جاتا… بلکہ یہ ہر مومن ، مخلص کی بندگی اور ذمہ داری ہے… اہل دل نے لکھا ہے کہ… جو ذکر اور عبادت اس لئے کی جائے کہ مجھے روحانی لذت حاصل ہو… مجھے کشف کا مقام نصیب ہو… تو یہ نیت بھی ’’اخلاص‘‘ کے خلاف ہے… ذکر اور عبادت صرف… اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ہونی چاہیے… اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے… پھر اگر روحانی لذت بھی ملتی ہے تو بہت اچھا نہیں ملتی تو نہ ملے… غلام کا کام آقا کا حکم بجا لانا ہے…

یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا … عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِم

خوابوں کی دنیا

خواب کی تعبیر بہت مشکل ’’علم ‘‘ ہے… سچے خواب بہت کم آتے ہیں… نیند میں دیکھی گئی ہر چیز خواب نہیں ہوتی… یہ تین باتیں ایک بار پھر پڑھ لیں تاکہ دل میں بیٹھ جائیں … اب اور سنیں…

(۱) شیطان انسان کے خوابوں میں طرح طرح کے تصرفات کرتا ہے… اکثر لوگ بے وضو سوتے ہیں…پیٹ بھر کر سوتے ہیں … بستر کی پاکی کا خیال نہیں رکھتے… شیطان ان کو ڈراتاہے، مایوس کرتا ہے… بدگمانیوں میں ڈالتا ہے… اس لئے ’’اللہ والوں’’ نے سختی سے سمجھایا ہے کہ خوابوں کی باتیں چھوڑو…اپنی بیداری اور حقیقت کو اچھا بناؤ … حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے تو باقاعدہ اس بات کی محنت فرمائی کہ خوابوں کا کوئی اعتبار نہ کیا جائے… کیونکہ اس آخری زمانے میں… خوابوں کو فتنے کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے…وہ سمجھاتے تھے کہ… اگر تم خود کو خواب میں بادشاہ دیکھو توکیا تم بادشاہ بن گئے؟ … نہیں بنے تو پھر اور باتوں میں اپنے خوابوں کا اتنا اعتبار کیوں کرتے ہو؟ … حضرت مجدد نے اپنے خلفاء کرام کو بھی تاکید فرمائی کہ اپنے مریدین کے خوابوں اور کشفوں کی تعبیر اور توجیہ میں نہ پڑیں … آپ مکتوبات میں لکھتے ہیں:

یہی وجہ ہے کہ اکابر نقشبندیہ واقعات ( اور خوابوں) کا کوئی اعتبار نہیں کرتے اور طالبوں ( یعنی مریدین ) کے واقعات ( یعنی خواب و کشف وغیرہ) کی تعبیر میں توجہ نہیں دیتے کیونکہ ان چیزوں میں نفع بہت کم ہے … معتبر وہی ہے جو ہوش اور بیداری میں میسر آ جائے… ( دفتر دوم مکتوب ۵۸)

(۲) اہل تعبیر کے نزدیک مسلّم ہے کہ … اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس کا بیٹا مر گیا ہے تو یہ کسی بڑی نعمت کے ملنے کی دلیل ہے…اب اندازہ لگائیں کہ خواب کی تعبیر… خواب سے کس قدر مختلف ہے… یہی حال دیگر خوابوں کا بھی ہوتا ہے… خواب میں کسی کو نیک اور بزرگ دیکھنا اس کے نیک اور بزرگ ہونے کا ثبوت نہیں ہے… اور خواب میں کسی کو برا اور گناہ گار دیکھنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ واقعی برا یا گناہگار ہے… بلکہ بعض حالات میں ایسے خواب کی تعبیر بالکل الٹ اور برعکس بھی ہوتی ہے… اور اگر کوئی آدمی کسی ’’ اللہ والے‘‘ کو خواب میں بری حالت یا بری شکل میں دیکھے تو اس کا ایک مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ … خواب دیکھنے والا خود کسی بڑے گناہ یا برائی میں ملوث ہے… اس لئے اچھے لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ…اگر کوئی خوف والا یا برا خواب دیکھیں تو…اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں،اُلٹی طرف تین بار تھتھکار دیں … اور صدقہ دیں… اور اگر کوئی اچھا خواب دیکھیں تو صرف اہل علم و اہل قلب کو بتائیں … ہر کسی کو نہیں… اور جو خواب بہت بکھرا ہوا… کچھ یاد کچھ بھولا ہوا ہو… وہ خواب نہیں ہوتا…وہ کسی کو نہ سنائیں اور امت پر احسان کریں…

(۳) اپنے کسی خواب کی وجہ سے… کسی مسلمان سے بدگمانی نہ رکھیں… کسی کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہ کریں…

(۴) اپنے خواب کو بتاتے ہوئے اس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ کریں… جھوٹے خواب نہ گھڑیں… یہ بہت خطرے والا گناہ ہے… اس کی پکڑ آخرت میں… میدان حشر سے شروع ہو جائے گی… خلاصہ یہ کہ… اپنی بیداری کو اچھا بنائیں … خوابوں کو…زیادہ اہمیت نہ دیں…

اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الطَّاھِرِ الذَّکِیِّ صَلٰوۃً تُحَلُّ بِھَا الْعُقَدُ وَ تُفَکُّ بِھَا الْکُرَبُ…

دل کی جانچ

ہر مسلمان کو چاہیے کہ… اپنے دل کو دیکھا کرے… اس کی جانچ کیا کرے… یعنی دل کا ٹیسٹ ضروری ہے… ڈاکٹر سے نہیں… بلکہ خود یہ ٹیسٹ کرتا رہے تاکہ… دل کا مریض نہ بن جائے… اللہ تعالیٰ معاف فرمائے… منافقین کے بارے میں فرمایا گیا کہ… فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ… وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہیں… یہاں بطور مثال چار ٹیسٹ عرض کئے جا رہے ہیں :

(۱) اگر اپنے گناہ اور اپنے حالات دیکھ کر …دل یہ سوچتا ہے کہ میری معافی اور میری اصلاح نہیں ہو سکتی… یہ مایوسی کفر ہے… یہ دل کو لگ جائے تو نعوذ باللہ اسے کافر بنا دیتی ہے… گناہ جتنے بھی زیادہ ہوں…توبہ نہیںچھوڑنی چاہیے… ندامت نہیں چھوڑنی چاہیے… اللہ تعالیٰ کی امید سے ناامید نہیں ہونا چاہیے…

حضرت مجدد الف ثانیؒ نے بہت عجیب بات لکھی ہے…فرماتے ہیں:

’’اگر تمام گناہوں سے توبہ میسر ہو جائے اور تمام محرمات اور مشتبہات سے ورع و تقویٰ ( یعنی تمام حرام اور مشتبہ چیزوں سے بچنا ) حاصل ہو جائے تو بڑی اعلیٰ دولت اور نعمت ہے ورنہ بعض گناہوں سے توبہ کرنا اور بعض محرمات سے بچنا بھی غنیمت ہے…شاید ان بعض کی برکات و انوار بعض دوسروں میں بھی اثر کر جائیں اور تمام گناہوں سے توبہ اور ورع کی توفیق نصیب ہو جائے ( دفتر دوم مکتوب ۶۶)

(۲) اگر اللہ تعالیٰ کی اپنے اوپر رحمتیں اور انعامات دیکھ کر… دل یہ سوچتا ہے کہ اب مجھے زیادہ نیکی کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ضرورت نہیں… میں اللہ تعالیٰ کا مقرب بن چکا ہوں …تو یہ ’’محرومی ‘‘ ہے… یہ دل کو لگ جائے تو اسے بہت دور پھینک دیتی ہے… اللہ تعالیٰ کے انعامات دیکھ کر… اور زیادہ نیکی کرنی چاہیے اور زیادہ گناہوں سے بچنا چاہیے… توبہ کی ضرورت … گناہگاروں سے زیادہ نیک لوگوں کو ہوتی ہے …تاکہ… ان کے دل کی سپلائی ٹھیک رہے…

(۳) اگر عبادت اور نیکی چھوٹنے پر دل کو کوئی غم نہیں ہوتا… اور گناہ کرنے پر دل پشیمان نہیں ہوتا تو سمجھ لیں کہ… ہارٹ اٹیک شروع ہے… یہ دل کو مار دینے والے بیماری ہے… فوراً خود کو اچھے ماحول میں لے جا کر… دل کا علاج کرانا چاہیے … اللہ والوں خصوصاً مجاہدین کی صحبت اختیار کرنی چاہیے… اور اپنی زندگی کو یکسر بدلنا چاہیے…

(۴) اگر عبادت اور نیکی سے دل خوش ہوتا ہے اور گناہ پر غمزدہ ہوتا ہے تو مبارک ہو… یہ دل کے نور کی علامت ہے… اس نور کو بچانے اور بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ… یہ نور آپ کے ساتھ ساتھ چلے اور دوسروں کو بھی روشنی فراہم کرے…

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلٰوۃً تُنَوِّرُ بِھَا قُلُوْبَنَا بِنُوْرِمَعْرِفَتِکَ وَ سَلِّمْ عَلَیْہِ تَسْلِیْمًا

آیۃ الکرسی

الحمد للہ آیۃ الکرسی کے معانی، معارف اور خواص پر… بندہ کا مختصر’’ کتابچہ‘‘ شائع ہو چکا ہے … یہ کتابچہ تیار کر کے… جب خود پڑھا تو الحمد للہ… بہت فائدہ ہوا…ا ور ’’آیۃ الکرسی‘‘ سے ایک عجیب تعلق قائم ہو گیا… اس کیفیت کو… کسی عمل کا ’’شرح صدر‘‘ کہتے ہیں کہ… سینہ کھل جائے اور وہ عمل دل میں اُتر جائے… پھر جب یہ کتابچہ چھپ گیا تو اپنے کئی قریبی احباب سے التماس کی کہ… وہ اسے حرفاً حرفاً پڑھ کر اپنی رائے دیں… الحمد للہ بہت ایمان افروز آراء سامنے آئیں… چنانچہ آپ سب حضرات و خواتین کو بھی… اسی ’’شرح صدر‘‘ حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہوں… یہ ’’کتابچہ‘‘ اچھی حالت میں توجہ سے… مکمل پڑھ لیں… اللہ تعالیٰ ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا نور ہم سب کو نصیب فرمائے…

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَدَدَ خَلْقِکَ وَ رِضَا نَفْسِکَ وَ زِنَۃَ عَرْشِکَ وَ مِدَادَ کَلِمَاتِکَ وَ بَارِکْ وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online