Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مہکتی یادیں (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 454 - Saadi kay Qalam Say - Mehkati Yaadein

مہکتی یادیں

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 454)

اللہ تعالیٰ بھائی حبیب کی مغفرت فرمائے

اللھم اغفرلہ و ارحمہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ

آج اُن کے ایصال ثواب کے لئے یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں… یادوں اور باتوںکا ہجوم راستہ ہی نہیں چھوڑ رہا… جیسے وہ خود بہت متحرک … بلکہ خیر کا ایک ہنگامہ تھے، اُن کی یادیں اُن سے بھی زیادہ تیز ہیں، سانحہ بیتے آج پانچواں دن ہے… دماغ و دل کو بہت سمجھایا مگر وہ بھائی حبیب کی یادوں سے نہیں نکلتے…

آئی جب اُن کی یاد تو آتی چلی گئی

ہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئی

ہر منزلِ جمال دکھاتی چلی گئی

جیسے اُنہی کو سامنے لاتی چلی گئی

ہر واقعہ قریب تر آتا چلا گیا

ہر شے حسین تر نظر آتی چلی گئی

وہ ایک سیدھے سادے سے انسان تھے… بشری کمزوریاں بھی ان میں عام انسانوں سے کم نہیں تھیں… نہ عالم تھے نہ علامہ… نہ شیخ تھے نہ بڑے بزرگ … لیکن کیا کریں وہ ہمارے یار تھے یار… اور جو یار ہوجائے وہ آسانی سے جان نہیں چھوڑتا… اور اگر وہ جان چھوڑ دے تو پھر جان اُسے نہیں چھوڑتی… اسی لئے تو رب تعالیٰ نے ’’یاروں‘‘ کے لئے قیامت کے دن اپنے عرش مبارک کا سایہ مقدر فرما دیا ہے …کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یاری پسند ہے… وہ یاری جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو… وہ زمین پر خیر کے باغات لگا دیتی ہے… بھائی حبیب پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا… اللہ تعالیٰ نے انہیں کئی نعمتیں وافر مقدار میں عطاء فرمائیں… مثلا!

۱۔ شکر گزاری…

۲۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن…

۳۔ خدمت جہاد کا ولولہ…

۴۔ انتھک محنت کی عادت…

۵۔ رقت قلب…

۶۔ خیر کے کاموں کی مثالی توفیق…

۷۔ حرمین شریفین کا عشق اور بار بار حاضری کی سہولت…

۸۔ خدمت فقرائ…

۹۔ تلاوت اور عبادت خاص طور پر رمضان اور نفلی روزوں کا ذوق…

۱۰۔ سخاوت…

۱۱۔ دوسروں کے لیے دردمندی…

۱۲۔ سیاحت فی الارض…

۱۳۔ اچھی صحبت… وغیرہ

چلیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر … یادوں کی آندھی میں سے کچھ خوشگوار جھونکے منتخب کرتے ہیں …تاکہ پڑھنے والوں کو فائدہ ہو … اور بھائی حبیب صاحب کو ثواب پہنچے…

شکر گزاری

اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے کہ کسی کو ’’شکر گزاری‘‘ کی عادت نصیب فرما دے… اہل دل کا قول ہے …جسے شکر نصیب ہوگیا اُس پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بارش کی طرح برستی رہتی ہیں… بھائی حبیب کو ہم نے جب سے دیکھا وہ تکلیف دہ بیماریوں میں مبتلا تھے… شوگر ایسی کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ! انسولین کے ٹیکے سفر و حضر میں اُن کے ساتھ رہتے تھے… ایک آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہوچکی تھی جبکہ دوسری آنکھ ہمیشہ تکلیف میں رہتی تھی… بعض اوقات آنکھ سے خون بھی جاری ہو جاتا تھا… مگر اللہ تعالیٰ کا وہ شکر گزار بندہ… بیماریوں سے یوں کھیلتا تھا جس طرح کوئی بچہ گیند سے کھیلتا ہے… وہ علاج بھی کراتے مگر نہ بیمار بنتے نہ بیماری سناتے … بلکہ اگر کوئی انہیں صحت مند کہہ دیتا تو بہت خوش ہوتے …بھاگ دوڑ، محنت اور کام میں اُن کی جان تھی … وہ بیماریوں کو ساتھ اٹھائے اورکبھی اپنے پیچھے لگائے بھاگتے دوڑتے کام کرتے رہے… ہر بیماری نے اُن سے شکست کھائی … مگر کسی انسان نے اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا… جب اُن کی ٹانگ پر وار ہوا … وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوئے تو واقعی پریشان ہوگئے…

پھر بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری … باربار آپریشن اور علاج کراکے دوبارہ بھاگ دوڑ کا میدان پانے کی جدوجہد میںلگے رہے …وہ خیر والی زندگی گزار رہے تھے اور کام کرنا چاہتے تھے… جب معذور ہوئے تو پھر زیادہ وقت بستر اور اس دنیا میں نہ رہے اور جلد ہی کھلی فضاؤں کی طرف پرواز کرگئے…

خوشی کا استعارہ، غم کا تیشہ

بھائی حبیب … جنہیں ہم محبت سے ’’دادا‘‘ کہتے تھے… ہماری زندگی میں اُس وقت آئے جب ہر طرف راستے بند تھے… ایسے دردناک حالات میں وہ خوشی کا استعارہ بن کر ایک دم زندگی میں شامل ہوگئے… اور پھر مسلسل اُنیس سال تک خوشی کا پیغام، راحت کا ذریعہ اور محبت کا عنوان بن کر ساتھ رہے… اندازہ لگائیں کہ تہاڑ جیل کے سخت اور تاریک ماحول میں … جہاں ہم پر کڑی نظر تھی …دادا ہمارے لئے بیرونی دنیا سے رابطے کی کھڑکی بن گئے… اب انہیں اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت کہا جائے تو کون سامبالغہ ہے… پہلے خط تک نہیں جاسکتا تھا اب وہاں سے کتابیں روانہ ہورہی تھیں… وہیں زاد مجاہد وجود میں آئی… اور فتح الجواد کی بنیاد پڑی… اور خطوط کا ایک مفید سلسلہ شروع ہوا… ہمیں بس اتنا معلوم تھا کہ کوئی تاجر ہیں بھائی فرقان… وہ یہ سارا کام کرتے ہیں … پھر اللہ تعالیٰ نے چالیس دن کے لئے موبائل کی سہولت بھی نصیب فرما دی… والدین، عزیز و اقارب اور مجاہدین سے خوب رابطے رہے… رابطے کے دوران ایک جگہ بات ختم ہونے کے بعد …دوسری جگہ ملانے کے وقفے میں داد اجلدی سے اپنا نام … فرقان بتا کر ’’دعاؤں کی درخواست ہے‘‘ کا جملہ بول دیتے… پھر کچھ سختی ہوگئی تو موبائل ضائع کردیا گیا… باہر والوں کو طلب ہوئی کہ جیل سے کوئی تازہ بیان آجائے … دادا نے ایک بہت چھوٹا ڈیجیٹل ٹیپ ریکارڈر بھیج دیا… میں نے اس سے پہلے اس حجم کا ٹیپ نہیں دیکھا تھا… اس ٹیپ پر بیان تیار کرکے کراچی بھجوادیا گیا… جیل میں ہمارے آس پڑوس بمبئی مافیا کے کئی ’ڈان‘ قید تھے… اُن کا جیل میں رہن سہن اور کھانا، پہننا اونچے معیار کا تھا… مگر جب دادا نے سامان کی بوچھاڑ کی تو یہ ’’ڈان‘‘ بھی حسرت سے ہماری چیزوں کو دیکھتے اور پوچھتے… پھر ہم نے دادا کو مزید سامان اور چیزیں بھیجنے سے روک دیا… اللہ تعالیٰ نے کوٹ بھلوال میں ’’فضائل جہاد‘‘ کی توفیق بخشی… ہم نے یہ کتاب باہر بھجوانے کے لئے جیل کے جس ہندو اہلکار کو خریدا… اُس کا دادا سے براہ راست رابطہ ہوگیا… بس پھر کیا تھا…

دادا نے اُسے ایسا خوش کیا کہ وہ مکمل وفاداری سے آخر تک کام کرتا رہا…پھر اللہ تعالیٰ نے رہائی عطافرمائی… کراچی پہنچنے تک دادا سے کئی بار فون پر بات ہوئی…مگر زیارت کا مرحلہ نہیں آرہا تھا… اور آنکھوں کو …اللہ تعالیٰ کی نصرت مجسم شکل میں دیکھنے کا اشتیاق تھا… خیال تھا کہ جب دادا ملیں گے تو دیگر پرانے دوستوں کی طرح بہت دیر تک گلے لگے رہیں گے… آنسو بہائیں گے… ہاتھوں اور پیشانی پر بوسوں کا تبادلہ ہوگا… دس پندرہ منٹ تک خاموشی ، سنجیدگی اور خوشی و غم کی درمیانی کیفیت میں مجلس پر سکتہ رہے گا…مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا وہ جلدی سے کمرے میں آئے، غیر جذباتی انداز میں تیزی سے گلے ملے اور سامنے بیٹھ کر … میرے لئے نیا موبائل سیٹ تیار کرنے لگے… میں نے میزبانوں سے پوچھا یہ کون؟… جواب ملا بھائی فرقان…

وہ دن … اور آج کا دن دادا ساتھ رہے… دوست رہے، بے تکلف یار رہے… جماعت کے کاموں میں معاون رہے… دین کے راستے میں ہمسفر رہے … مگر خوشیوں کے ساتھ… پھر ایک اور دن بھی آگیا…

پیغام آیا … دادا، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون… شاید لکھنے والے میں بھی اسے زیادہ لکھنے کی ہمت نہیں تھی …اور پڑھنے والے کے دل پر غم کا تیشہ چل گیا … اب بس دادا کے لئے دعائیں ہیں اور ایصال ثواب … اور ان گنت یادوں کا طوفان… اچھا ہوا وہ معذوری کی تکلیف سے نکل کر اپنے محبوب رب کے پاس چلے گئے … اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ اکرام والا معاملہ فرمائیں … دادا! آپ کو بھولنا بہت مشکل ہے، بہت مشکل… ہاں آپ ان شاء اللہ نہیں بھولیں گے … اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم جب تک زندہ رہیں… آپ کا حق ادا کرتے رہیں…

رمضان کے شیدائی

رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہی ’’دادا‘‘ … ہر طرح کی تیاری شروع کردیتے… بندہ نے ایک بار ’’رنگ و نور‘‘ میں اُن کے شوق رمضان کا تذکرہ بھی …اُن کا نام لکھے بغیر کیا تھا… وہ شعبان سے دنوں کی گنتی سناتے رہتے کہ اب اتنے دن باقی ہیں… رمضان المبارک سے پہلے اُن کی فرمائش آجاتی:

’’بابا رمضان المبارک کے معمولات بھیج دیجئے…‘‘

وہ مجھ سے عمر میں بڑے تھے مگر پھر بھی محبت سے ’’بابا‘‘ کہہ کر پکارتے تھے… میں جواب دیتا:

’’دادا پچھلے سال جو معمولات بھیجے تھے بس وہی اس سال بھی‘‘

اُن کا جواب آتا کہ … وہ پرچہ تو میں نے کسی کو دے دیا تھا بابا! واپس لکھ دیں… بہت معذرت وغیرہ… پھر رمضان المبارک میں وہ عمرہ پر چلے جاتے تو کبھی پیغام آتا:

بابا کعبہ شریف کے سامنے بیٹھا ہوں فون ملاؤں دعا کریں گے؟

کبھی بتاتے کہ حطیم میں بیٹھا ہوں … کبھی اطلاع بھیجتے کہ مدینہ پاک جارہا ہوں وہاں کے معمولات بھیج دیں …  پھر پیغام آتا کہ روضہ اطہر پر کھڑا ہوں آپ کا سلام عرض کردیا ہے… دوسرے عشرہ وہ دبئی چلے جاتے… وہاں ایک مسجد تھی وہ اس سال ضرور آنسو بہائے گی… حجم کے اعتبار سے مختصر مسجد… یہاں دادا کا ٹھاٹھ والا اعتکاف ہر سال چلتا تھا… خوب تلاوت بھرپور رابطے… عبادت اور خدمت … اچانک تاکیدی پیغام آجاتا:

بابا  لیلۃ القدر کے معمولات بھیج دیں…

وہ اسی لاڈ اور پیار میں مجھ سے وہ دعائیں اور وظائف بھی لے لیتے جو میں عموماً کسی کو نہیں بتاتا… اور نہ بتانے کی وجہ بخل نہیں کچھ اور ہے… بعد میں پتا چلتا کہ وہ بھی دادا نے آگے چلا دیئے ہیں… رمضان المبارک کا اختتام بھی بڑا عجیب کرتے… ایک عید دبئی میں … اور پھر بھاگتے دوڑتے دوسری عید کراچی میں کرلیتے…

یا اللہ! دادا کی مغفرت فرمادیجئے … اور اب ان کے لئے ہر دن عید کا دن بنا دیجئے… آمین…

ایک عجیب واقعہ

ایک بار آنکھ کے علاج کے لئے برطانیہ گئے… وہاں ڈاکٹروں نے کچھ اندیشہ ظاہر کیا کہ شائد آنکھ کی روشنی بالکل ختم ہو جائے… دادا واپس آگئے … نہ غم نہ پریشانی… جب رابطہ ہوتا قرآن پڑھ رہے ہوتے… کہنے لگے…

بابا ! حفظ کررہا ہوں ، تاکہ آنکھ نہ رہے تو زبانی پڑھتا رہوں…

سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم

امانت داری

کسی دن یا رات اچانک پیغام آتا کہ …

بابا کوئی نصیحت کریں…

میرے دل میں جو آتا لکھ دیتا… میں اُن کو دنیاداری میں زیادہ پھنسنے سے ہمیشہ روکتا رہتا تھا… بندہ کے کہنے پر انہوں نے بعض کام چھوڑ بھی دیئے … وہ وضاحت کرتے کہ مجھے دنیا سے محبت نہیں ہے … اور آخرت میرا مقصود ہے…

نصیحت والے پیغام پر اُن کا جواب اور تبصرہ بڑا دلچسپ ہوتا تھا… دنیاداری کے بارے میں باہمی باتوں کے دوران انہوں نے … ایک بار بتایا:

بابا! دنیا سے محبت ہوتی تو بڑی دنیا مفت ہاتھ آگئی تھی، چھوڑ دی…

 دراصل دادا نے ایک شخص کو تجارت میں اپنا ’استاد‘ بنایا تھا… تجارت کے یہ ’’استاد‘‘ ہزاروں سال سے اپنا فنی سلسلہ دنیا میں چلا رہے ہیں… یہ بہت عجیب و غریب لوگ ہوتے ہیں… یہ نہ مال سے زیادہ کھاتے ہیں ، نہ پہنتے ہیں … اور نہ محلات بناتے ہیں… ان میں سے اکثر عیاش بھی نہیں ہوتے … آپ ان کو مال کا ’’شکاری‘‘ سمجھ لیں… مال کمانا اور بہت زیادہ کمانا یہ ان کا شوق، مشغلہ اور فن ہوتا ہے… وہ خالی ہاتھ نکلتے ہیں اور گھنٹوں میں مہینوں کا مال کما کر اُسے جال کی طرح بکھیر دیتے ہیں… اور پھر اُن کے اس جال میں مزید مال پھنستا چلا جاتا ہے… جیسے مچھلی کے شکاری بمشکل ایک دو بوٹی مچھلی کھاتے ہیں… مگر ان کی خوشی اور فتح اس میں ہوتی ہے کہ اتنی بڑی مچھلی پکڑی… اتنی زیادہ مچھلی پکڑی … دادا کو بھی اسی مخلوق سے تعلق رکھنے والا ایک استاد مل گیا … دادا ابھی دنیاداری کی لائن میں مکمل نہیں جڑے تھے … استاد نے شاگرد کی تعلیم کے لئے پیسے کے جال پھیلانے شروع کئے… ان جالوں کا علم بس استاد اور شاگرد کو تھا … اچانک ایک دن استاد صاحب وفات پا گئے … یہ لوگ نہ کہیں مال کا حساب لکھتے ہیں اور نہ کہیں اس کا ریکارڈ رکھتے ہیں… وہ سارا مال دادا کے ہاتھ آگیا، اور روئے زمین پر دادا کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ مال ’’استاد‘‘ کا ہے … مگر جن کی مٹی اچھی ، خمیر ایمان والا ہو … اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرماتے ہیں… دادا نے وہ سارا مال جمع کرکے اپنے استاد کے ورثاء تک پہنچا دیا…

بڑی سعادت

بات مختصر کرتے ہیں … دادا کی بڑی سعادت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس زمانہ میں ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے ساتھ جوڑ دیا… جہاد کے ساتھ جڑ جانا اور جہاد میں خدمت کرنا یہ ایک مسلمان کے مقبول ہونے کی بہت بڑی علامت ہے … تفسیر روح المعانی میں تمام دلائل جمع کرکے اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ … اگر کوئی مسلمان دین کے تمام فرائض ادا کرے اور تمام ضروری عبادات بجا لائے مگر جہاد میں اس کا حصہ نہ ہو تو کیا اس کی مغفرت ہوگی؟ …علامہ آلوسیؒ نے تمام دلائل کو مدنظر رکھ کر فتویٰ لکھا ہے کہ … اگر جہاد فرض عین نہ ہو … اور تمام عبادات بجا لانے والا شخص جہاد سے بغض نہ رکھتا ہو … بلکہ محبت رکھتا ہو مگر وہ عملی طور پر نہ نکل سکا ہو تو اس کی مغفرت کی امید ہے…

لیکن کوئی مسلمان … دین کے تمام احکام پورے کرے… تمام فرائض ادا کرے، تمام حرام کاموں سے بچے … مگر وہ جہاد فی سبیل اللہ سے بغض اور کھچاؤ رکھتا ہو تو … نعوذ باللہ … اس کی مغفرت نہیں ہے… کیونکہ وہ دین کے ایک محکم اور قطعی فریضے سے بغض، عناد اور کھچاؤ رکھتا ہے تو اس کے اصل ایمان ہی میں فرق ہے …ایک عام مسلمان بھی اگر غور کرے تو یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ خود کئی بار جنگ و قتال میں نکلے ہیں … تو جو انسان اس عمل کو نہیں کرتا وہ کیسے کامل و مکمل ہوسکتا ہے…

ہاں! کسی زمانے میں جہاد کی سہولت اور گنجائش ہی بعض علاقوں میں نہ رہی ہو تو اور بات ہے … وہاں بھی اہل دل کو ’’احیاء جہاد‘‘ کی دعا اور فکر میں رہنا چاہئے… ہمارے زمانے میں الحمدللہ جہاد فی سبیل اللہ کا میدان چار سو سجا ہوا ہے… جہاد میں شرکت کی ہر سہولت موجود ہے …ایسے حالات میں جہاد سے دور رہنا اور کٹا رہنا …کافی بڑا نقصان ہے…

اللہ تعالیٰ اپنے محبوب اور مقبول بندوں کو… جہاد کی توفیق عطا فرماتے ہیں… دادا کی قبولیت اور مقبولیت کے لئے یہ بات بھی ان شاء اللہ کافی ہے کہ … انہوں نے جہاد میں شرکت کی، جہاد کی بھرپور خدمت کی… جہاد کے ساتھ محبت رکھی… اسیران اسلام کی بھرپور اعانت کی …امارت اسلامیہ  افغانستان کے کاموں کے سلسلے میں قیدکاٹی… اور عصر حاضر کے شرعی جہاد میں بڑے بڑے کارنامے سرانجام دئیے… اللہ تعالیٰ ان ساری محنتوں کو قبول فرمائے… اور دادا کو مقبول شہداء کرام کے ساتھ وسیع، اونچا اور بہترین مقام عطاء فرمائے…

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…

 لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

٭…٭…٭

وضاحت

ہمارے محترم بزرگ جہادی رہنما حضرت اقدس مولانا عبدالعزیز کشمیری صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا نسبی تعلق قبیلہ ’’سلیمان خیل‘‘ سے تھا…

 رنگ ونور کے قارئین تصحیح فرما لیں… جیل کے بعض دلچسپ واقعات کی وجہ سے یہ غلط فہمی ہوئی جس پر معذرت ہے…

٭٭٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor