Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسلام مبارک ایمان مبارک (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 455 - Saadi kay Qalam Say - Islam mubarak Eman mubarak

اسلام مبارک ایمان مبارک

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 455)

اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو عیدیں عطاء فرمائی ہیں:

عید الفطر… عید الاضحیٰ

یہ سچی بات حضرت آقا مدنیﷺ نے مدینہ منورہ میں ارشاد فرمائی کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے دو عیدیں عطاء فرمائی ہیں(ابوداؤد)… اب تیسری کوئی عید نہیں… چوتھی کوئی عید نہیں… قیامت تک مسلمانوں کی عیدیں دو ہی رہیں گی…

عیدالفطر… عیدالاضحیٰ

دوسری بات یہ کہ’’عیدالفطر‘‘ بس ایک دن کی ہوتی ہے… یکم شوال…یہ عید دو دن یا تین دن کی نہیں ہوتی… رمضان المبارک مکمل ہوا… اس سعادت کی خوشی میں عید آگئی… اور ایک دن رہ کر چلی گئی… اللہ کرے خیر سے آئے اورخیر سے جائے…

تیسری بات یہ ہے کہ… عید خود آتی ہے… اور خود جاتی ہے…

لوگ عید کریں یا نہ کریں… عید منائیں یا نہ منائیں… رمضان المبارک ختم ہوتے ہی عید آجاتی ہے… اپنے ساتھ خیر، خوشی، خوشخبری اور برکتیں لاتی ہے… بعض لوگ کہتے ہیں… اس سال ہمارے گھر میں وفات ہوئی ہے،ہم عید نہیں کر رہے… عید کرنے یا نہ کرنے کا کیا مطلب؟… عید نہ نئے کپڑوں کا نام ہے اور نہ ھلّا گُلّا کرنے کا… عید نہ کسی شور شرابے کا نام ہے اور نہ کسی خاص پکوان کا… عیدکادن، رمضان المبارک اچھی طرح گذارنے والے مسلمانوں کیلئے… ’’یوم الجائزہ‘‘ یعنی انعام کا دن ہے… عید کی صبح ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سب کی مغفرت کر دی جاتی ہے… اور انہیں اجر وثواب عطاء فرمایا جاتا ہے… اوریوں اُن کے لئے عید ہو جاتی ہے عید… کئی لوگ عید کے دن لاکھوں کا لباس پہنتے ہیں… لاکھوں کے پکوان کھاتے ہیں… مگر وہ عید کی رحمت اور برکت سے محروم رہ جاتے ہیں… جبکہ کئی لوگ عید کے دن اپنا پیوند زدہ دُھلا ہوا لباس پہنتے ہیں… گھر میں دال روٹی کھاتے ہیں… مگر ان کی ایسی عیدہوتی ہے کہ زمین تاآسمان… اور آسمان تا عرش اُن کی عید چمک رہی ہوتی ہے، دمک رہی ہوتی ہے… اور فرشتوں میں اُن کے تذکرے چل رہے ہوتے ہیں…

چوتھی بات یہ ہے کہ… عید کا دن’’یوم الجائزہ‘‘ انعام کا دن ہے… غلط رسومات کی وجہ سے اسے حسرت کا دن نہ بنایا جائے… آپ خود سوچیں اگر ایک بندہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے… عید کے دن بھی اللہ تعالیٰ سے(نعوذباللہ) ناخوش اور ناراض ہوگا… تو وہ کس منہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت مانگے گا…

ہائے میرے پاس نئے کپڑے نہیں… ہائے میرے پاس نیا جوتا نہیں… ہائے میرے بچوں کی اس سال کیا عید؟… فلاں سامان نہیں، فلاںشخص نہیں…

یہ سب محرومی والی سوچیں اور شیطان کے حربے ہیں… رمضان المبارک میں آپ نے محنت کی… روزے رکھے، رات کا قیام کیا… اب اُس ساری محنت کے انعام پانے کا دن ہے تو اپنے محبوب رب سے شکوے لیکر بیٹھ گئے… ذرا دماغ سے تو سوچو کہ آخر نئے کپڑوں سے کیا ہوتا ہے؟… کیا نئے کپڑوں سے کوئی غریب مالدار ہوجاتا ہے؟… کوئی بیمار تندرست ہو جاتا ہے؟… کوئی ذلیل عزت مند ہو جاتا ہے؟… کوئی قیدی رہا ہو جاتا ہے؟… کوئی مصیبت اور بلا ٹل جاتی ہے؟… کوئی قرضہ یا آفت اُتر جاتی ہے؟… کچھ بھی نہیں… کچھ بھی نہیں… بادشاہ پرانے کپڑے پہن کر بادشاہ ہی رہتا ہے… اور چپڑاسی نئے کپڑے پہن کر افسر نہیں بن جاتا … کائنات کے سب سے افضل اور سب سے شان والے انسان نے اکثر پیوند زدہ کپڑے پہنے… اس سے اُن کے مقام میں کوئی کمی نہیں آئی… دراصل مسلمانوں میں عید اور خوشی کا مطلب ہی تبدیل ہوتا جارہا ہے… وہ نعوذباللہ عید کے مقدس دن کو… کرسمس، ہولی، بسنت، دیوالی جیسا کوئی تہوار سمجھ بیٹھے ہیں… ایک مسلمان اور کافر کے درمیان جو فرق ہے وہ… بڑے دن منانے میںبھی ظاہر ہوتا ہے… کافروں کے ہاں تہوار کا مطلب شہوت، لذت، آزادی، غفلت، چھٹی، فخر، نمائش… اور درندگی ہے… اسی دن وہ دل بھر کے گناہ کی پیپ پیتے ہیں… اور اسی دن مالدار لوگ اپنے مال کی نمائش کر کے… غریبوں کا دل دکھاتے… اور اپنی نقلی شان بڑھاتے ہیں…

تہوار کے دن… آزادی ہوتی ہے، عقل، اخلاق اور ہرضابطے سے آزادی… اور انسان ایک ایسے جانور جیسا ہوتا ہے جسے پنجرے سے باہر نکال دیا گیا ہو… مگر عید تو عید ہے… سبحان اللہ! عبادت اور راحت کا شاندار امتزاج… خوشی اور خدمت کا بہترین جوڑ… اور برکت اور مسرّت کا حسین سنگم…اس میں نہ غفلت ہے نہ حرام کاری… نہ نمائش ہے اور نہ ایذاء رسانی… مگر کیا کریں، کافروں کی دوستی اور صحبت نے کئی مسلمانوں کو ڈس لیا ہے… اور انہوں نے ’’عید‘‘ جیسے پاکیزہ دن کو کافروں کے تہواروں جیسا سمجھ لیا ہے… اور اب عید کے دن ناشکری کے جملے اُٹھتے ہیں… کپڑے نہیں، جوتے نہیں… فلاںعزیز گھر نہیں… فلاں کیوں انتقال کرگیا… بس میری قسمت میں خوشیاں کہاں؟…

اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ، وَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونْ

آئیے عزم کریں کہ… عید کے انعام والے دن… ہر حال میں اپنے عظیم رب تعالیٰ سے خوش اور راضی رہیں گے…

پانچویں بات یہ ہے کہ… عید کے دن اس بات کی فکر رہے کہ… ہمارا رمضان المبارک قبول ہوجائے… حضرت جبیرؒ بن نفیر فرماتے ہیں:

حضرات صحابہ کرامؓجب عید کے دن آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو یہ دعاء دیتے:

تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکَ

اللہ تعالیٰ ہمارے اور آپ کے اعمال قبول فرمائے…

عید کے دن کوئی ایسی حرکت، غفلت اور گناہ نہ ہو جو رمضان المبارک کے اعمال کو بھی ضائع کر دے… خوشی کریں مگر حلال اور مباح اورایک مسلمان کے لئے حرام میں خوشی ہے بھی کہاں؟…

حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں:

ہر وہ دن جس میں کوئی بندہ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرے وہ اس کے لئے عید کا دن ہے… اور ہر وہ دن جو ایک مومن اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور شکر میں گزارے وہ اُس کے لئے عید کا دن ہے…

بس آج یہی پانچ باتیں… آپ سب کو ’’رمضان‘‘ مبارک… عیدمبارک… اہل اعتکاف کو اعتکاف مبارک… اہل عزیمت کو جہاد فی سبیل اللہ مبارک… اہل سعات جیسے بھائی حامد اور اُن کے رفقائ… کو شہادت مبارک… اہل غزہ کو سرخ ر مضان اور صبر و استقامت مبارک… ساری اُمت مسلمہ کو… اِسلام مبارک، اِیمان مبارک

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…

 لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor