Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ماہ شوال برکت یا نحوست؟ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 456 - Saadi kay Qalam Say - mah e shawal barkat ya nahoosat

ماہ شوال برکت یا نحوست؟

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 456)

اللہ تعالیٰ ’’شوال‘‘ کے مہینہ کو اُمتِ مسلمہ کے لیے برکت والا بنائے…

برکت اور نحوست

سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں… ان میں سے کوئی ایک بھی ’’منحوس‘‘ یا نحوست والا مہینہ نہیں… اس پر اپنا عقیدہ مضبوط کرلیں… مہینے میں اُنتیس یا تیس دین ہوتے ہیں… نہ اٹھائیس نہ اکتیس… ان اُنتیس یا تیس دنوں میں ایک بھی دن منحوس نہیں ہے… ہفتے میں کل سات دن ہوتے ہیں… جمعہ کا دن ان سات دنوں کا سیّد یعنی بادشاہ ہے… ان سات دنوں میں کوئی دن بھی منحوس نہیں… اس پر اپنا یقین پکّا کرلیں… آج طرح طرح کے نقصان دہ علوم لوگوں میں عام کئے جا رہے ہیں… ان میں سب سے خطرناک نجوم کا علم یا فن ہے… یہ فن خود بہت بڑی نحوست ہے… اسمیں پھنسنے والا انسان ہمیشہ بے چین رہتا ہے، بے قرار رہتا ہے… اور پریشان رہتا ہے… کسی نے نعوذباللہ منگل کے دن کو منحوس قرار دے دیا… ہندو اس دن شادی نہیں رچاتے، بال نہیں کٹواتے… اور منگل کے دن پیدا ہونے والے لڑکے یا لڑکی کو … منگلی یعنی منحوس کہتے ہیں… اگر اس کی شادی کرنی ہو تو… پہلی شادی بندر سے کراتے ہیں یا کیلے کے درخت سے… تاکہ نحوست کا اثر اس پر منتقل ہو جائے…

افسوس کے ہم مسلمانوں میں بھی… طرح طرح کے نجومی، عامل، حساب دان آبیٹھے ہیں… وہ منہ بھر کر جھوٹ بولتے ہیں، توہمات پھیلاتے ہیں… لوگوں کو وساوس کا غلام بناتے ہیں… اور پریشانیاں بانٹتے ہیں… ارے بھائیو اور بہنو!… مسلمانوں کو جو کلمہ طیبہ ملا ہے:

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

یہ ستاروں سے اونچا ہے… یہ آسمانوں سے اونچا ہے… یہ قسمت اور خوش نصیبی کی چابی ہے… یہ خوش بختی اور برکت کا راز اور خزانہ ہے… جو اس پر یقین کرلے ستاروں کی چالیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں… اور برجوں، حسابوں اور منتروں سے وہ بہت اونچا ہو جاتا ہے، بہت اونچا…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ…

شوال کی برکت

شوال کے مہینہ کوعرب لوگ… اپنے بعض نقصان دہ علوم کی وجہ سے ’’منحوس‘‘ سمجھتے تھے… ایک علم کا تعلق لغت سے تھا اور دوسرے علم کا تعلق تاریخ سے… شوال میں کبھی ’’طاعون‘‘ کا مرض آیا تھا جو عربوں کی بستیاں اُجاڑ گیا… کچھ پنڈتوں نے ان تاریخوں کو پکا د با لیا اور شوال کی نحوست کا پرچار کر دیا… جبکہ لغت میں بھی شوال کے بعض معنیٰ… زائل ہونے، کم ہونے کے آتے ہیں… تو اس سے یہ سمجھ لیا کہ اگر اس مہینے میں شادی ہوگی… یا رخصتی ہو گی تو زیادہ نہ چلے گی… میاں، بیوی میں جو ملاپ ہوگا وہ پائیدار اور محبت خیز نہ ہوگا… جب اسلام کی روشنی آئی تو ’’شوال‘‘ کی بدنامی بھی دور کر دی گئی… شوال کے چھ روزے رکھو اور پورے سال کے فرض روزوں کا ثواب پالو… کسی اور مہینے کے نفل روزوں کا یہ مقام نہیں ہے… فرما دیا کہ… جس نے رمضان کے پورے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے بھی ساتھ جوڑ دئیے تو وہ ایسا ہے جیسے ہمیشہ پوری زندگی روزہ دار رہا… یہ تو ہوئی ایک بہت بڑی اور زوردار برکت شوال کے مہینہ کی… اب دوسری برکت دیکھئے کے مسلمانوں کی کُل دو عیدیں ہیں… ان میں سے پہلی عید… یعنی عید الفطر شوال میں رکھ دی گئی… سبحان اللہ!… لوگ جس ماہ کو نحوست والا قرار دیتے تھے… اسلام نے اس مہینہ کو عید مبارک کا مہینہ بنادیا… اب اس سے بڑھ کر برکت کی دلیل اور کیا ہوگی؟؟… اب آتے ہیں تیسری فضیلت کی طرف… اس فضیلت نے تو شوال کو باقاعدہ ’’شوال شریف‘‘ بنا دیا ہے… اس مہینے میں ایک ایسا نکاح اور ایک ایسی رخصتی ہوئی کہ… اس نکاح کے موقع پر آسمان و زمین میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں… جی ہاں! خوشیاں ہی خوشیاں… ایسا نکاح نہ پہلے کبھی ہوا نہ قیامت تک آئندہ کبھی ہوگا… ایسا نکاح جس کی برکتیں چودہ سو سال سے جاری ہیں، ساری ہیں… اور قیامت تک جاری رہیں گی… ایسا نکاح جس نے میاں ، بیوی کی محبت کا وہ منظر سکھایا کہ لفظ محبت بھی… خوشی سے سرشار ہوگیا…

ایسا نکاح کہ جس نے… علم کے دریاوں کو… اور روحانیت کے چشموں کو پورے عالم میں جاری کر دیا… ایسا نکاح کہ جس نے امت مسلمہ کو ایک ایسی عظیم ’’امی جان‘‘ دے دی کہ… جنہیں ’’امی امی‘‘ کہتے وقت مغفرت کی امید ہونے لگتی ہے… جی ہاں! حضرت رسول اقدس آقا محمد مدنیﷺ کا… حضرت اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح… اسی شوال کے مہینہ میں ہوا اور رخصتی بھی اسی مہینہ میں ہوئی … جب لوگ کہتے کہ شوال کے مہینہ میں نکاح کرنے والی دلہنوں کا نصیب کم ہوتا ہے تو … حضرت امی جی فرماتیں… میرا نکاح شوال میں ہوا… رخصتی بھی شوال میں ہوئی… تمام ازواج مطہرات میں… مجھ سے زیادہ کس کو حضرت آقا مدنیﷺ کا قرب ملا؟…

سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم

اسی شوال کے مہینے میں… غزوۂ احد برپاہوا… سبحان اللہ! ایک ایسی ظاہری شکست جس نے مسلمانوں کے لیے فتوحات کے سمندر اگل دئیے اور انہیں فتح کار از سمجھا دیا… اورسنیں!… شہداء کرام کی صدارت اور سیادت کا شرف جس اولی المقام شہید کو ملا ہے… ان کی شہادت بھی شوال کے مہینے میں ہوئی… سید الشہداء حضرت سیدنا حمزہؓ… اور اسلام کا قابلِ فخر اور قابلِ اعزاز غزوہ… غزوہ حمراء الاسد بھی شوال کے مہینے میں ہوا… اور مدینہ منورہ کو پاک کرنے والاغزوہ… غزوہ بنی قینقاع بھی شوال کے مہینے میں برپا ہوا… یہ غزوہ یہودیوں کے خلاف تھا اور یہودیوں کی بڑھکیںاور دعوئے، ہر سمت گونج رہے تھے… وہ کہتے تھے کہ… غزوہ بدر کی فتح نے مسلمانوں کو خوامخواہ دھوکے میں ڈال دیا ہے… یہ جب ہم سے لڑیں گے تو انہیں پتا چل جائے کہ جنگ کیا ہوتی ہے… مگر جب مسلمانوں کا لشکر حضرت آقا مدنیﷺ کی کمان میں سامنے آیا تو بزدل یہودی… قلعہ بند ہوگئے… اور بالآخر ذلت، شرمندگی، عار، شکست اور رسوائی کا داغ قیامت تک اپنے منہ پر لگائے… جلاوطن کر دئیے گئے…

آج بھی شوال ہے… اور مسلمانوں کے مدّمقابل بزدل، قلعہ بند یہودی ہیں… ۱۹۴۸ئ؁ میں اسرائیل کی ناجائز مملکت بننے کے بعد اسرائیل نے جتنا نقصان موجودہ جنگ میں اُٹھایا ہے… اُتنا پہلے کبھی نہیں بھگتا… اہلِ غزہ کی جرأت، عزیمت، شہادت اور جانبازی کو سلام… اللہ تعالیٰ اُن پر اپنی مزید نصرت نازل فرمائے… اور ہم سب کو توفیق عطاء فرمائے کہ… ہم اس مبارک جہاد میں ’’کلمۂ طیبہ‘‘ کے جھنڈے تلے یہودیوں کو تہس نہس کر سکیں…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ…

چھٹی کی نحوست

بات دل میں بیٹھ گئی ہوگی کہ… کوئی دن منحوس نہیں، کوئی تاریخ منحوس نہیں، کوئی ہفتہ منحوس نہیں، کوئی مہینہ منحوس نہیں… نحوست جب بھی آتی ہے خود ہمارے اندر سے آتی ہے… مسلمان ہو کر فجر کی نماز قضاء کردی اب نحوست آگئی… خواہ دن جمعہ کا ہی کیوں نہ ہو… اور نحوست بھی ایسی زوردار کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ … فجر کی نماز مومن کے ایمان کا ہر دن پہلا امتحان اور ٹیسٹ ہے… اس لیے فجر کو وقت پر اہتمام سے ادا کرنے والوں کو… احباب الرحمن… اللہ تعالیٰ کے دوست کا لقب دیا جاتا ہے… یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دن کے پہلے آغاز میں ہی… اپنے مومن ہونے کا بہترین ثبوت پیش کر دیا تو اب… اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان پر رحمت اور امان کی بوچھاڑ ہوتی ہے… ایسے لوگوں کے لیے خاص فرشتے اُتارے جاتے ہیں جو اُن کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں… اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن اور امان کی ضمانت دے دی جاتی ہے… خیر یہ ایک الگ موضوع ہے… رمضان المبارک ختم ہونے کے بعد… کئی مسلمان پہلا جرم یہی کرتے ہیں کہ فجر کی نماز میں سست ہوجاتے ہیں… حالانکہ ہمارے مرشد ’’رمضان المبارک‘‘نے ہمیں انگلی پکڑ کر تیس دن تک یہی سکھایا کہ… دیکھو! فجر کتنی آسان ہے… بس ایک کام کرلو… تہجد کی عادت ڈال لو اور سحری کے وقت کچھ برکت والا طعام کھا پی لیا کرو… بس فجر آسان… رمضان المبارک آتا ہی ہمیں سکھانے اور ہماری تربیت کرنے کے لیے ہے… اس تربیت کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ… مسلمان فجر کی نماز کو مشکل نہ سمجھیں… شیطان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ… فجر اور عشاء کو بھاری بنا دے… اور منافق کی علامات میں بھی یہ شامل ہے کہ… اس کے لیے فجر اور عشاء کی نماز بہت بھاری ہوتی ہے… رمضان المبارک کی عشاء اتنی بڑی ہوتی ہے کہ… ایک مومن کو پورا سال عشاء کی نماز آسان اور ہلکی محسوس ہونے لگتی ہے… ارے واہ! آج تو بیس منٹ میں فارغ ہوگئے… رمضان المبارک میں دو گھنٹے لگتے تھے… اور فجر بھی ایسی آسان کہ مساجد میں جگہ نہیں ملتی… وجہ یہ کہ رمضان نے سکھایا کہ اچھا مسلمان وہ ہے جو فجر کے لیے نہیں… تہجد کے لیے اٹھتا ہے… صبح صبح برکت والا کچھ کھانا کھاتا ہے… اور پھر اہم ترین فرض… نماز فجر کے لیے مکمل چستی کے ساتھ حاضر ہو جاتا ہے… ہم اگر ہر روز فجر کے لیے جاگنے کی کوشش کریں گے تو … شیطان ہمیں گراتا رہے گا… لیکن اگر ہم تہجد میں جاگنے والے ہو گئے تو… ہماری فجر محفوظ ہو جائے گی… اور فجر کو محفوظ کرنا… ہر ایمان والے مرد اور عورت پر لازمی فرض ہے… اصل بات یہ عرض کرنی تھی کہ… شوال آتے ہی ساتھ ’’چھٹیاں‘‘ آجاتی ہیں… اور چھٹیوں میں مسلمانوں کے لیے اکثر نحوست ہوتی ہے… اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ… بہت بُرے ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو صرف رمضان المبارک ہی میں مانتے اور پہچانتے ہیں… یعنی رمضان ختم تو اعمال بھی ختم … چھٹیوں کی جو عمومی نحوست… مسلمانوں کے ایمان اور اعمال پر اثر کرتی ہے اُسے دور کرنے کی ضرورت ہے… شوال کے روزے اس کا بہترین ذریعہ ہیں… ان چھ فضیلت والے روزوں کا موقع شوال کے آخر تک رہتا ہے خواہ اکٹھے رکھیں … یا الگ الگ… دوسرا یہ کہ اپنے دینی کام میں… دوبارہ جوش، جذبے اور محنت سے جڑ جائیں… اور تلاوت و نوافل کا جوذوق… مرشد جی رمضان المبارک کی صحبت میں پایا اس کو… ایک حد تک برقرار رکھنے کی ہم سب دعائ، فکر اور کوشش کریں…

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیراً کثیرا

 لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor