Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مسلسل دعوت (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 457 - Saadi kay Qalam Say - Musalsal Dawat

مسلسل دعوت

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 457)

اللہ تعالیٰ اُن ایمان والے مردوں… اور ایمان والی عورتوں پر ’’رحمت‘‘ فرماتے ہیں… جو نیکیوں کی دعوت دیتے ہیں… اور برائیوں سے روکتے ہیں… والحمدللہ رب العالمین

ایک صاحب یاد آگئے

کراچی میں دعوتِ جہاد کا کام شروع ہوا تو آغاز… چھوٹے چھوٹے رسائل اور چھوٹی چھوٹی نشستوں سے ہوا… چند مختصر رسالے تھے… آہ بابری مسجد، میرا بھی ایک سوال ہے، اسلام اور جہاد کی تیاری، اللہ والے، بنیاد پرستی، جہاد رحمت یا فساد وغیرہ…

پھر ایک ماہنامہ بھی شروع ہوا’’صدائے مجاہد‘‘… اتوار کی شام ناظم آباد کی ایک دوکان میں دعوتِ جہاد کی نشست چلتی تھی… کبھی کبھار چھوٹے جلسے بھی ہو جاتے تھے… جہاد کے معاملے میں کافی اجنبیت اور بے رُخی تھی مگر… اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام آگے بڑھ رہا تھا… جہادی نظموں کی ایک کیسٹ بھی نہیں ملتی تھی… ایک رات عشاء تا فجر محنت ہوئی اور الحمدللہ کیسٹ تیار ہوگئی… خیر یہ سب کچھ اپنی جگہ… اصل بات یہ بتانی ہے کہ ایک دن ایک صاحب تشریف لائے… بڑی عمر کے تھے مگر چاک و چوبند… فرمانے لگے اب بس دعوتِ جہاد ہی اوڑھنا بچھونا ہے… کپڑے کا ایک تھیلا اُن کے پاس تھا اس میں جہادی کتابچے تھے… فرمانے لگے یہ تقسیم کرتا رہتا ہوں اور لوگوں کو دعوت دیتا رہتا ہوں… اپنی دعوت بھی انہوں نے سنائی بندہ نے دعوت کی کچھ تصحیح اور اُن کی حوصلہ افزائی کی… اگر وہ انتقال فرما چکے تو اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے… اور حیات ہیں تو ایمانِ کامل اور حسن خاتمہ اُن کا مقدر بنائے… سائیکل پر چلتے تھے اور دن رات دعوت میں مگن رہتے تھے… بعد میں اُن جیسے کچھ اور حضرات بھی زندگی میں آئے… اُن سب کی عزیمت اور اُن سب کے ذوق کو سلام… جہاد کی بہاریں جہاں جہاں تک پھیلیں اور پھیل رہی ہیںاور جہاں تک ان شاء اللہ پھیلیں گی… اُن سب میں ان باذوق اور محنتی حضرات کا حصہ ہے… سبحان اللہ! ایک ایسا صدقہ جاریہ جس کی وسعت اور پھیلائو کا خود ان حضرات کو بھی کبھی اندازہ نہیں ہوگا… مگر جب اعمال کے دفتر کھلیں گے… تو ایسے لوگ کتنے خوش اور کتنے حیران ہوں گے… اور ان شاء اللہ کیسے جھوم جھوم کر جنت کے بالا خانوں میں جائیں گے… بے شک دعوت کا بڑا مقام ہے… بہت بڑا، بہت بڑا

 الحمدللہ اب بھی ہیں

ایک صاحب برطانیہ میں تھے… کیسٹ سن کر دین پر آئے اور پھر خود کو دعوت کے لیے وقف کر دیا… خود دعوت نہ دے سکتے تھے… زندگی ایک بُرا کلب چلاتے گذری تھی… انہوں نے کیسٹوں کا سہارا لیا… جدید مشینیں خریدیں اور اُس طبقے تک دعوت پہنچائی جس کے شرکے خوف سے شرفاء اُن تک پہنچ ہی نہیں سکتے… کیا معلوم کیسٹیں سنتے، سناتے اور تقسیم کرتے… اللہ تعالیٰ نے اُنکی زبان بھی کھول دی ہو… بعد میں اُن سے رابطہ نہ رہا… جماعت کے رفقاء میں… اس ’’محبوبانہ ذوق‘‘ والے چند افراد اب بھی ہیں… اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے اور اُن کے کام کو خصوصی قبولیت عطاء فرمائے… اس ذوق کو ’’محبوبانہ‘‘ اس لیے لکھا کہ حدیثِ صحیح ہے… رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

احب الناس الی اللّٰہ انفعھم

لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو دوسروں کو زیادہ نفع پہنچانے والا ہو… زیادہ نفع تو صرف ’’دعوت الی اللہ‘‘ کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے… ایمان کی دعوت، نماز کی دعوت، جہاد کی دعوت… اور پورے دین کی دعوت کے ذریعہ… ہاں! کسی کو کھانا کھلانا، کپڑے دینا، علاج کرنا یہ بھی نفع ہے… مگر عارضی… جبکہ کسی کو اللہ تعالیٰ سے جوڑ دینا یہ ہمیشہ کا دائمی نفع ہے… کسی کو جہاد جیسے فلاح کے راستے پر لانا یہ ہمیشہ کا دائمی نفع ہے… پس جسے اللہ تعالیٰ یہ دھن اور فکر عطاء فرما دے… اُس کے محبوب الی اللہ ہونے میں کیا شبہ ہے؟… کاش ایسا ہو کہ … جماعت کے سب ساتھیوں کو یہ ذوق، یہ دُھن اور یہ فکر نصیب ہو جائے… کوئی انہیں کہے یا نہ کہے… مہم کے دن ہوں یا نہ ہوں… کوئی ان کی سنے یا انہیں دھتکارے… وہ غریب مزدوروں کے درمیان بیٹھے ہوں یا جہاز اور ائرپورٹ پر مالداروں کے درمیان… ہر حال میں ہر جگہ دعوت، دعوت اور دعوت… تب پتا ہے کیا ہوگا؟ایسے افراد پر اللہ تعالیٰ کی رحمت چھم چھم برسے گی… خود اُن کا دین پختہ اور مضبوط ہو جائے گا… اور وہ ’’اہل خسارہ‘‘ میں سے نکال دئیے جائیں گے… فرمایا:

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ

بے شک تمام انسان خسارے اور نقصان میں جا رہے ہیں… مگر دین کی دعوت دینے والے… ان اہل خسارہ میں شامل نہیں… وہ تو ایسا نفع کما رہے ہیں… جس نفع کا کھاتہ قیامت تک کھلا رہے گااور بڑھتا رہے گا… افسوس کہ بہت سے مسلمان دین کی دعوت دیتے ہوئے شرماتے ہیں… اور جہاد کی دعوت سے گھبراتے ہیں… اسی وجہ سے اُن کا اپنا معاملہ ایسا کمزور ہو جاتا ہے کہ… ذرا سا دنیاداروں کے ماحول میں جاتے ہیں تو اپنی پگڑی، اپنی ٹوپی اور اپنی پیاری داڑھی… انہیں بوجھ اور عار محسوس ہونے لگتی ہے… آہ افسوس… حضرت آقا مدنی ﷺ کی شان والی، عزت و عظمت والی شباہت جب ایک مسلمان کو عار لگنے لگے تو وہ خود سوچ لے کہ وہ کیسا مسلمان ہے؟ یہی حال مسلمان بہنوں کا ہے… جو دعوت نہیں دیتیں وہ جب بے وقوف عورتوں کے ماحول میں جاتی ہیں تو ان کے طرح طرح کے … فیشنوں سے متأثر ہو جاتی ہیں… ایسے فیشن جن کو سوچ کر بھی الٹی اور ابکائی آتی ہے… ہاے کاش اے بہنا… تیرے دوپٹے پر امی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دوپٹے جیسا پیوند ہوتا… تیرے کرتے پر امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے کرتے جیسا پیوند ہوتا… اور تیرے دل میں ایمان سورج کی طرح… اور تیرے دماغ میں شکر چاند کی طرح چمک رہا ہوتا… اور تو اپنی حالت پر خوش اور مسرور ہوتی… تب تجھ سے خیر کے قیامت تک جاری رہنے والے چشمے پھوٹتے…

 استقامت اور ترقی کا راز

کئی لوگ دیندار تھے… پھر دین سے محروم ہوگئے… کئی نمازوں کے شان والے پکّے تھے پھر ان کی کمر پر شیطان نے تالے ڈال دئیے… کئی جہاد میں نامور تھے مگر پھر وہ جہاد سے اور جہاد اُن سے روٹھ گیا… ایسا کئی وجوہات سے ہوتا ہے… مگر اہم ترین وجہ دعوت نہ دینا ہے… دعوت دیتے رہو، پختگی پاتے رہو… دعوت دیتے رہو ترقی پاتے چلے جائو… دعوت دیتے رہو خیر کے باغات میں رہو… وجہ یہ ہے کہ … دعوت دینے سے انسان کا اپنا دل زندہ رہتا ہے… دعوت دینے سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے… اور دعوت دینے والے کے لیے آسمانی رحمتوں اور نصرتوں کی بوچھاڑ ہوتی ہے…

یہ دیکھیں حدیثِ صحیح… رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ان اﷲ عزوجل و ملائکتہ واھل السمٰوٰت والارض حتی النملۃ فی حجرھا وحتی الحوت لیصلون علی معلم الناس الخیر…

بے شک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے اور آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اور مچھلیاں… اُس شخص پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں جو لوگوں کو خیر سکھاتا ہو…

اللہ تعالیٰ کا ’’صلوٰۃ‘‘ بھیجنا یہ ہے کہ … اللہ تعالیٰ اُس پر اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں… اور اپنے ملائکہ کے سامنے اس کی تعریف فرماتے ہیں… جبکہ مخلوق کا صلوٰۃ بھیجنا… استغفار ہے… کہ ساری مخلوق ایسے شخص کے لیے استغفار کرتی ہے… اور اُس کے لیے رحمت کی دعاء مانگتی ہے…

پس اسی لیے جو دعوت میں لگے رہتے ہیں… اُن کا دین اور ایمان محفوظ رہتا ہے اور وہ جہاد کے راستے میں ترقی کرتے ہیں… مگر جو دعوت چھوڑ دیتے ہیں خود اُن کے اندر کمزوری اور دنیا سے متاثر ہونے کا مرض آجاتا ہے، عبادت میں غفلت اور سستی آجاتی ہے…

ابھی وقت ہے

صرف صرف اپنے فائدے کے لیے… اپنے دین کی مضبوطی کے لیے… اپنی نسلوں میں دین کو جاری رکھنے کے لیے… اپنی قبر، حشر اور آخرت بنانے کے لیے … اور خود کو ملعون دنیا کے دھوکے میں پھنسنے سے بچانے کے لیے… دعوت کا کام شروع کر دیں… اپنے گھر میں تعلیم اور دعوت، اپنے آس پڑوس میں دعوت، دن دعوت، رات دعوت… یہ بڑا اونچا عمل ہے… آپ کی دعوت کے اثرات کہاں تک جائیں گے… آپ کو اندازہ بھی نہ ہوگااور حالت یہ ہوگی کہ… آپ مزے سے سو رہے ہوں گے اور آپ کے نامہ اعمال میں دھڑا دھڑ نیکیاں جمع ہو رہی ہوں گی… دعوت کے لیے نہ لمبی چوڑی تقریر کی ضرورت… نہ سر پر قراقلی اور اونچی آواز کی ضرورت… نہ جلسے اسٹیج اور اعلان کی ضرورت… نصاب آپ کے پاس بہت اونچا اور جامع موجود ہے… کلمہ، نماز اور جہاد فی سبیل اللہ…

سیدھے سادے الفاظ میں… درد کے ساتھ… اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت کرتے ہوئے… دل میں اُمت اور دین کی فکر گرماتے ہوئے… اہل اسلام کے لیے خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ… دشمنان اسلام سے شدید نفرت شدید عداوت کے جوش کے ساتھ… مظلوم مسلمانوں کے ساتھ غیر مشروط وابستگی کے رشتے کے ساتھ… دعوت دیتے جائیں، دعوت دیتے جائیں… آپ جس قدر اس میں محنت کریں گے… تکلیف اٹھائیں گے، اسی قدر راستے کھلتے جائیں گے، روشنی پھیلتی جائے گی… اور اندھیرے دور ہوتے جائیں گے… ان شاء اللہ، ان شاء اللہ

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیراً کثیرا…

 لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor