Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’امیر المومنین‘‘ کی فراست (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 458 - Saadi kay Qalam Say - Amir ul Momineen ki Farasat

’’امیر المومنین‘‘ کی فراست

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 458)

’’اللہ تعالیٰ‘‘ حضرت امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کی حفاظت فرمائے…اور انہیں اس وقت موجود پوری امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطاء فرمائے…ماشاء اللہ انہوں نے تاریخ اسلام کی گود میں ایک بڑی فتح ڈالنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے…ایک ایسی فتح جسے کبھی نہیں بھلایا جا سکے گا…ایک ایسی فتح جو تاقیامت مسلمانوں کا عزم اور حوصلہ بڑھاتی رہے گی…

سبحان اللہ! کارنامہ ہو تو ایسا ہو…نہ سنانے کی ضرورت،نہ منوانے کی حاجت…ساری دنیا خود کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے…افغانستان میں ’’امیر المومنین‘‘ کی فتح اللہ تعالیٰ کی کھلی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے…یہ آیۃ من آیات اللہ ہے…وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی نصرت سے ہو گیا جو کل تک نا ممکن نظر آتا تھا…قارئین سوچتے ہوں گے کہ آج کے ماحول میں…جبکہ ہر طرف جلوس،لانگ مارچ اور دھرنوں کی گہما گہمی ہے…میں یہ کیا موضوع لے کر بیٹھ گیا ہوں…مگر آپ ہی بتائیں کہ دھرنوں اور لانگ مارچوں پر کیا لکھا جائے؟…سب کچھ خبروں میں آ رہا ہے…اخبارات،ٹی وی، اور نیٹ سب پر تازہ ترین صورتحال دستیاب ہے… موجودہ حکومت بھی اس قابل نہیں کہ اس کی حمایت یا وکالت کی جائے … ہندوستان میں مسلمانوں کے قاتل کو جس طرح ساڑھیاں بھیج کر…شہداء کشمیر…شہداء ہند کے مبارک اور معطر خون سے غداری کی گئی…اس کا فوری رد عمل زمین پر جلوہ افروز ہوا کہ…کل تک جو تکبر اور رعونت کا بت بنے بیٹھے تھے…آج وہ خوف،گھبراہٹ اور عدم تحفظ کے احساس میں گردن تک دفن ہیں…شہداء کا وارث اللہ تعالیٰ ہے وہ اپنے ان وفادار عاشقوں کے کام،عمل اور اجر کی حفاظت فرماتا ہے…یہ حکمران بے چارے تو چار دن کھا پی کر…عیاشی کر کے،خزانے جمع کر کے مر کھپ جاتے ہیں…جبکہ شہداء کرام زندہ رہتے ہیں…اور زندہ رہیں گے…کشمیر میں تو ایسے ایسے اللہ والے صدیقین شہید ہوئے کہ وہ…اس زمانے میں اپنی مثال آپ تھے…حالیہ حالات میں اگر موجودہ حکومت ختم ہوئی تو اس کا اصل اور حقیقی سبب ایک ہی ہو گا…اور وہ ہے قاتل انڈیا کے ساتھ ناجائزیاری کا جذبہ…واقعی یہ جذبہ منحوس ہے،ناپاک ہے اور ناجائز ہے…اور آج کل حکومت اسی نحوست کے وبال میں ہے…یہ بات تو ہوئی حکومت کی…جبکہ دوسری طرف دھرنے والے جو دو حضرات ہیں ان کی تائید اور حمایت بھی بہت مشکل کام ہے…ایک تو ان میں کافروں کا چھوڑا ہوا غبارہ ہے…جبکہ دوسرا بالکل بے اعتبارا ہے … اسی لئے اس موضوع پر نہ کچھ لکھا ہے اور نہ ہی لکھنے کا فی الحال ارادہ ہے…الا ان یشاء اللہ

اب سوال یہ ہے کہ حضرت ملا محمد عمر صاحب مدظلہ العالی آج کیسے یاد آ گئے؟…پہلی بات تو یہ ہے کہ  وہ آج یاد نہیں آئے ،روز یاد آتے ہیں اور بار بار یاد آتے ہیں…ان کے ساتھ ہمارا تعلق دنیا کے لئے نہیں آخرت کی کامیابی کے لئے ہیں…اور جو تعلق آخرت میں کام آنے والا ہو وہ بہت قیمتی ہوتا ہے…

جی ہاں! بے حد قیمتی…ایسے تعلق کی حفاظت کے لئے انسان کو جو قربانی دینی پڑے خوشی سے دے دینی چاہیے … کیونکہ آخرت میں ہمیشہ رہنا ہے…حقیقی محبت کا جذبہ انسان کو اندر سے بے حد مضبوط کر دیتا ہے…اور یہ وہ محبت ہوتی ہے جو کسی دنیاوی نقصان سے کم نہیں ہوتی…محبوب سے ملاقات ہوتی ہے یا نہیں؟حقیقی محبت کو اس کی ضرورت نہیں:

’’جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی‘‘

محبوب اس محبت کی قدر کرتا ہے یا نہیں؟…حقیقی محبت کو اس کی بھی ضرورت نہیں…محبت تو انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے…اور یہ محبت خود محبت کرنے والے کو طرح طرح کے فوائد عطا کرتی ہے…اپنی مختصر سی زندگی میں بہت سے اہل دل اور اہل کمال کو دیکھا…اللہ تعالیٰ نے ایک زمانہ میں سیاحت فی الارض بھی آسان فرما دی تھی…ملک ملک نگر نگر کا پانی پیا…اور اصحاب کمال سے ملاقاتیں نصیب ہوئیں… ماشاء اللہ …اللہ تعالیٰ کی زمین کبھی صادقین،صدیقین اور اولیاء کرام سے خالی نہیں ہوتی…

سب اہل دل اور اہل بصیرت کو سلام…مگر حضرت ملا محمد عمر مجاہد کی بات ہی کچھ اور ہے…

اللہم اغفرلہ واحفظہ وبارک لہ

ان سے بہت کم ملاقات رہی…الحمد للہ ایسا تعلق بن گیا تھا کہ مزید صحبت کی امید بن چلی تھی کہ اچانک وہ بادلوں میں چھپ گئے…اپنی رائے کسی پر نہیں ٹھونستا مگر اس کا اظہار ضرور کرتا ہو ں کہ…اپنی زندگی میں ان جیسا باکمال کوئی اور نہیں دیکھا…

ماشاء اﷲ لا قوۃ الا باﷲ وبارک اﷲ علیہ ولہ

اب وہ بادلوں کے پیچھے ہیں…مگر روشنی تو چھم چھم آتی ہے نا؟…وہ روشنی جو مایوسی کی رات نہیں پڑنے دیتی…یہ تو ہوئی پہلی بات…اب آئیے دوسری بات کی طرف کہ آج وہ خاص طور سے کیوں یاد آئے کہ ہماری محفل کو ہی مہکا دیا …دراصل شام و عراق میں مجاہدین کی جماعت…الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام…کے بارے آجکل دینی طبقوں میں طرح طرح کی بحثیں گرم ہیں…کچھ بحثیں تو بالکل فضول،لا یعنی اور ضرر رساں ہیں…ٹویٹر اور فیس بک پر لاکھوں مسلمان…ان لا یعنی بحثوں میں الجھ کر اپنے اعمال اور اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں…القلم کے صفحات پر عزیزم مولانا طلحہ السیف کا اس بارے مضمون بہت عمدہ اور نافع تھا…ان بحثوں میں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفریق اور تفرقے میں اضافہ ہوتا ہے…اور آپس کی طعن تشنیع اور گالم گلوچ سے اعمال بھی برباد ہوتے ہیں…بہت سے افراد کو اپنی زبان کی خارش اور کھجلی دور کرنی ہوتی ہے… یہ لوگ قرآن مجید کا ایک پارہ تلاوت کریں تو تھک جاتے ہیں…جبکہ اس طرح کی بحثوں میں گھنٹوں تک بک بک کرنا یا کمپیوٹر سے جڑے رہنا ان کے لئے آسان ہوتا ہے…اللہ تعالیٰ اس بری عادت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے…شام کا جہاد بھی مبارک ہے… فلسطین کا جہاد بھی مبارک ہے…افغانستان کا جہاد بھی مبارک ہے … کشمیر کا جہاد بھی مبارک ہے…الغرض جہاں بھی شرعی شرائط کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ ہو رہا ہے وہ مبارک ہے…ہمیں اپنی مکمل استطاعت کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں لگ جانا چاہیے…جہادی تربیت لینا،محاذوں پر جانا… جان سے جہاد کرنا،مال سے جہاد کرنا…زبان کے ذریعہ جہاد کی دعوت دینا وغیرہ…اور اس میں ترتیب یہ ہو گی کہ ہمیں جہاد کا جو محاذ میسر ہو ہم اس میں اپنی مکمل صلاحیتیں لگا دیں…نفس اور شیطان کا دھوکہ یہ ہے کہ قریب ہی جہاد موجود ہوتا ہے…اور شیطان بہکاتا ہے کہ نہ ابھی شرکت نہ کرو… حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کی علامات قریب ہیں وہ تشریف لائیں گے تو ان کے ساتھ نکل کر لڑنا…بس اس انتظار میں عمر کٹ جاتی ہے،جسم اور عزائم کمزور ہو جاتے ہیں…اور جہاد میسر ہونے کے باوجود محرومی قسمت بن جاتی ہے…اسی طرح یہ خیال کہ…میں صرف فلاں جگہ جا کر لڑوں گا؟…اللہ کے بندو!جس جہاد کی کمان زمانے کا معتبر ترین مسلمان…ملا محمد عمر مجاہد کر رہا ہو…اس جہاد سے رکے رہنا اور دور دور کی تیاریوں میں اپنا وقت لگانا…یہ کون سی دانش ہے اور کونسا کارنامہ؟…قریب ہی غزوہ ہند کی بہاریں ہیں جس میں حافظ سجاد خان شہید، غازی بابا شہیدؒ… اور افضل گورو شہیدؒ اونچی چوٹیوں سے مسکراتے ہیں…اسے چھوڑ کر بیٹھے رہنا کہ میں نے تو دور جا کر لڑنا ہے…پھر بتائیے کہ اگر یہ سوچ یہاں سب کی ہو گئی تو… ان دشمنان اسلام سے کون لڑے گا؟…اگر یہ سوچ سب کی ہو جاتی تو اسلام کی تاریخ میں اتنی بڑی فتح کیسے لکھی جاتی کہ…آج چالیس ملکوں کے لشکر زخمی زخمی شکست خوردہ اپنا سامان باندھ کر بھاگ رہے ہیں…اور افغانستان میں لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کا ڈنکا بج رہا ہے…خیر یہ بات تو درمیان میں آ گئی…عرض یہ کرنا تھا کہ اس وقت علمی طبقوں میں …مسئلہ خلافت اور مسئلہ امارت بہت شدت کے ساتھ زیر بحث ہے…اور یہ بحث لا یعنی بھی نہیں…کیونکہ زمین پر خلافت قائم کرنا…دین اسلام کے عظیم ترین مقاصد میں سے ہے…اس میں ایک یہ نکتہ سمجھ لیں تو ان شاء اللہ گمراہی سے حفاظت رہے گی…شادی صرف ’’دعوی‘‘ کرنے سے نہیں ہو جاتی…کوئی آدمی دعوی کر دے کہ میں فلاں حکمران کا داماد ہوں…کیا یہ کہہ لینے سے اسے ’’داماد‘‘ کے حقوق مل جائیں گے؟…جواب واضح ہے حقوق تو بالکل نہیں ملیں گے البتہ جوتے وغیرہ پڑ سکتے ہیں…بس اس طرح کوئی یہ دعوی کر دے کہ میں ’’خلیفہ‘‘ ہوں…اس دعوے کا کوئی وزن،کوئی اعتبار اور کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے…آج کل کوئی لوگ ’’مہدی‘‘ ہونے کا دعوی کرتے ہیں…ارے اللہ کے بندو! مہدی کو کسی دعوے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی…وہ خود زمین پر چھا جائیں گے…اور ان کی خلافت و حکومت ہر کسی کو اپنی آنکھوں سے نظر آئے گی…دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اصل میں مسلمانوں کا خلیفہ ساری دنیا میں ایک ہوتا ہے…ایسا کئی صدیوں تک رہا…اور ان شاء اللہ قرب قیامت میں پھر ایسا ہو جائے گا…ایسی خلافت کو ’’خلافت کبری‘‘ کہتے ہیں…تیسری بات یہ ہے کہ جب مسلمانوں سے خلافت کبری کی نعمت چھن گئی اور مسلمان کئی ملکوں اور ٹکڑوں میں بٹ گئے تو ایسے حالات میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان  حاکم کو زمین کے کسی خطے پر غلبہ نصیب ہو جائے…وہ وہاں قبضہ کر لے…اس کا حکم وہاں نافذ ہوتا ہو تو یہ شخص اس خطے کے مسلمانوں کا حاکم یا امیر ہو گا…اسلام اس کی حاکمیت اور امارت کو تسلیم کرتا ہے اور اس کے زیر انتظام مسلمانوں کو اس کی اطاعت کا حکم دیتا ہے…شرط یہ ہے کہ وہ اسلامی حاکمیت کے اصول پورے کرے…اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے خلاف حکم نافذ نہ کرے … اب اگر اس علاقے کے مسلمان اپنے اس حاکم یا امیر کو ’’خلیفہ‘‘ کا لقب دے دیں تو یہ بھی جائز ہے…مگر اس کی امارت یا خلافت بس وہاں تک ہوگی…جہاں تک اس کا حکم نافذ ہوتا ہے…وہ دور کے مسلمان جو دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں…یہ نہ ان کا خلیفہ ہوگا اور نہ ہی امیر… کیونکہ خلیفہ وہ ہوتا ہے کہ جس کی کمان میں جہاد کیا جائے…جو دشمنوں سے تحفظ فراہم کرتا ہو…جو مظالم میں انصاف دے سکے…اب جب آپ ایک ملک میں رہتے ہیں…اور خلیفہ دوسرے ملک میں ہے تو و ہ آپ کا حاکم اور خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے؟…جہاں اس کا حکم ہی نہیں چلتا تو وہ وہاں کا حاکم کیسا؟…اب حضرت امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد…دامت برکاتہم العالیہ کی دینی فراست اور زمینی حقائق پر نظر دیکھیں کہ جب انہوں نے…افغانستان میں قبضہ کیا تو وہاں جو حکومت قائم کی اس کا نام خلافت کی بجائے’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ رکھا…اپنے خلیفۃ المسلمین ہونے کا دعوی نہیں کیا…افغانستان سے باہر کسی مسلمان کو اپنی اطاعت کا حکم نہیں دیا…یہ ہے ایمان اور یہ ہے اسلام کی سمجھ…چنانچہ کوئی فتنہ نہ اٹھا اور امارت اسلامیہ نے سات سال تک مسلمانوں کو…قرون اولیٰ کے مزے یاد کرا دئیے…اور پھر وہ ایک عظیم جہاد میں اتر گئی…اور اب الحمد للہ فاتح ہو گئی…عراق و شام کے مجاہدین نے خلافت اور خلیفہ کا نام استعمال کیا تو…ہر طرف سے شور پڑ گیا اور مسلمانوں میں طرح طرح کی بحثوں نے جنم لے لیا…واللہ اعلم آگے کیا ہو گا…فی الحال تو مسلمانوں کو وہاں برسرپیکار تمام مجاہدین کے ساتھ حسن ظن رکھنا چاہیے…ان کے لئے دل کی توجہ سے خوب دعائیں مانگنی چاہئیں…اور ان کے لئے ہر طرح کے ممکنہ تعاون کا جذبہ دل میں رکھنا چاہیے…’’داعش‘‘ نے خلافت کبری کا علان کیا ہو، ایسا ہمارے علم میں نہیں ہے…جن علاقوں پر آنے کا قبضہ ہے وہاں ان کی شرعی حکومت اور امارت قائم ہو چکی ہے…مسلمانوں کو اس کی حمایت کرنی چاہیے…ایران کا مجوسی عفریت…اور شام کا نصیری اژدھا جس طرح سے عراق و شام میں مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا تھا اسے سن کر دل خون کے آنسو روتا تھا…ان مجاہدین نے وہاں اس ظلم کا مقابلہ کیا ہے…اور کسی حد تک مسلمانوں کے قلوب کو ٹھنڈک پہنچائی ہے…تمام مسلمانوں کو ان کے اس کارنامے کی قدر کرکے اور ان کا ممنون ہونا چاہیے … داعش کے مجاہدین کے خلاف ساری دنیا کا کفر جمع ہو چکا ہے…ایسے حالات میں اہل ایمان کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے…اور خود داعش والوں کے لئے ضروری ہے کہ…وہ دعووں سے دور اور عمل میں مگن رہیں…زمین خود بتا دیتی ہے کہ اس کا حاکم اور خلیفہ کون ہے…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor