Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مستحکم نظریات (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 461 - Saadi kay Qalam Say - Mustahkam Nazriyat

 مستحکم نظریات

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 461)

اللہ تعالیٰ ’’فتنوں‘‘ سے ہم سب کی حفاظت فرمائے…فتنے ظاہری ہوں یا باطنی…

حضرت آقا محمد مدنی ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ…ہم فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کریں:

اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ

اس دعاء کو اپنی نمازوں میں شامل کر لیں… قعدہ اخیرہ میں سلام سے پہلے اور نوافل کے سجدوں میں…

الحمد للہ! اسلامی جہاد…اپنی شاندار فتوحات کے دور میں داخل ہو رہا ہے…یہ وہ دور ہوتا ہے جب شہرت پسند ریاکار طبقہ بھی جہاد اور مجاہدین کی حمایت میں نکل آتا ہے…اور فتوحات اور تنظیموں کا ناجائز وارث بن بیٹھتا ہے…آپ سب کو امارت اسلامیہ افغانستان کے عروج کا زمانہ یاد ہو گا؟…اس وقت پاکستان میں ہر طرف طالبان کے حمایتی،طالبان کے وارث،طالبان کے سرپرست،اور طالبان کے مشیر نظر آتے تھے…بہت سے لوگوں نے ان جیسی شباہت بھی اختیار کرلی تھی…وہی عمامے،وہی قندھاری کرتے…اور وہی انداز…پھر آزمائش کا دور آیا،امارت اسلامیہ کے سقوط کا دردناک لمحہ آیا تو یہ…ڈھولچی طبقہ ایک دم غائب ہو گیا…

طالبان کے بڑے بڑے رہنما ’’پناہ‘‘ کے لئے دربدر پھرتے تھے مگر انہیں…پاکستان کے اکثر دروازے اپنے لئے بند ملے…لوگوں نے پگڑیاں چھپا لیں،قندھاری کرتے غائب کر دئیے …اور لمبے بال کتروا لئے…اور طالبان کے لئے اپنے دروازے بند کر دئیے…کچھ لوگوں نے ابتداء میں چند زور دار جلوس اور چند بڑی ریلیاں نکالیں اور پھر اپنے کاموں میں مشغول ہو کر… طالبان کو اتحادی فورسز کے سامنے اکیلا ڈال دیا … مگر اہل استقامت اس وقت بھی امارت اسلامیہ کے ساتھ کھڑے رہے اور پھر جنگ و جہاد میں بھی ان کے ساتھ میدان میں موجود رہے…خیر یہ ایک مثال تھی امید ہے کہ منظر آپ کے ذہن میں تازہ ہو گیا ہو گا…اب آتے ہیں موجودہ حالات کی طرف…

عراق و شام میں مظلوم مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی نصرت اتری…اور ’’الدولۃ الاسلامیہ‘‘ نامی جماعت جسے ’’داعش‘‘ بھی کہا جاتا ہے ایک دم چھا گئی…ایک زمانہ جس طرح مسلمانوں نے افغان جہاد کا رخ کیا تھا اور پشاور تا پل خمری دنیا بھر کے مجاہدین سے آباد تھا…یہی صورتحال عراق میں بھی پیش آئی…دنیا بھر کے اکیاسی ممالک کے مجاہدین ’’الدولۃ الاسلامیہ‘‘ تنظیم میں شامل ہیں…صدام حسین شہید کے بچے کھچے رفقاء بھی اس جماعت کا حصہ ہیں…اور یورپ و امریکہ سے آئے ہوئے مجاہدین بھی اس جماعت میں موجود ہیں…جب کوئی علاقہ ظلم و ستم کی آگ میں جلتا ہے تو وہاں جہاد اور مجاہدین کے لئے راستے کھل جاتے ہیں… ترکی کی قدرے اسلام پسند حکومت نے شامی مہاجرین کو جگہ دی اور عراق و شام کے مجاہدین کو کچھ سہولیات دیں…قطر کی قدرے اسلام پسند حکومت نے مالی تعاون کیا…اور عرب دنیا میں موجود اہل خیر نے بھی دل کھول کر مجاہدین کی امداد کی…ادھر پاکستان میں مجاہدین کے لئے راستے بند ہوئے تو بہت سے چیچن اور عرب مجاہدین نے بھی عراق کا رخ کیا…عراق کے سنی قبائل جو ایران کے ظلم و ستم سے سخت اذیت میں تھے انہوں نے اپنے گھر اور دل مجاہدین کے لئے کھول دئے…اُدھر بشار الاسد کے مظالم نے شام کو جہاد کی چنگاری دی جو وہاں کے بہادر اور غیور مسلمانوں نے شعلوں میں بدل دی…ایران کا معاملہ صرف فرقہ پرستی کا نہیں ہے…یہ ملک اور اس کا نظام مسلمانوں کا بدترین دشمن ہے…آپ نے تازہ خبروں میں سن لیا ہو گا کہ…اب ایران نے ’’سوڈان‘‘ کے مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنے کے لئے ایک نئے پلان پر عمل درآمد شروع کر رکھا ہے…اس سے پہلے یہ وسطی ایشیا کی ریاستوں میں بھی اپنی نجاست پھیلا چکا ہے…افغان جہاد کے دوران بھی اس نے مسلمانوں کے خلاف امریکہ اور نیٹو کا بھر پور ساتھ دیا…اور عراق اور شام کی جنگ تو باقاعدہ…ایران کی کمان میں مسلمانوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے … پاکستان میں بد امنی اور فرقہ واریت کے پیچھے بھی ایران کا ہاتھ ہے…مگر پاکستان میں ان کی لابی اتنی مضبوط ہے کہ ایران کے خلاف دو لفظ لکھنے یا بولنے پر…خفیہ ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں اور فوراً فرقہ پرستی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے…ایران کے انڈیا کے ساتھ تو بالکل ویسے ہی گہرے مراسم ہیں جس طرح مشرکین اور مجوسیوں کے ہمیشہ سے رہے ہیں…آپ کبھی ایران کا ریڈیو سنیں…پچھتر فیصد خبریں اور تبصرے پاکستان کے خلاف ہوتے ہیں…مگر پاکستان کی ہر حکومت ایران سے یاری کو اپنا مقدس فریضہ سمجھتی ہے…ایران کے ان مظالم نے غیور مسلمانوں کو ایسا تڑپایا کہ وہ دیوانہ وار جہاد کی طرف دوڑے اور یوں…مسلمانوں کو امارت اسلامیہ افغانستان کے بعد ایک اور بڑی جہادی جماعت’’ الدولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام‘‘ کی صورت میں مل گئی…بلاشبہ یہ ایک اسلامی اور جہادی جماعت ہے…اور افرادی قوت کے اعتبار سے یہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی جہادی تنظیم ہے…امارت اسلامیہ افغانستان کے پاس مقامی مجاہدین لاکھوں کی تعداد میں ہیں…اور ان کے معاونین پاکستانی مجاہدین بھی ہزاروں میں ہیں…جبکہ ’’داعش‘‘ کے پاس مقامی اور غیر مقامی تیس  سے پچاس ہزار تک موجود ہیں…والحمد للہ رب العالمین

داعش کی فتوحات سامنے آنے کے بعد…ڈھولچی طبقہ بھی زمین پر اپنے بلوں سے باہر نکل رہا ہے…بس اسی سے ہوشیار کرنا مقصود ہے…داعش کا جہاد عراق اور شام میں ہے اور ان کے لئے وہاں ابھی کافی کام موجود ہے… افغانستان میں الحمد للہ امارت اسلامیہ افغانستان بر سرپیکار ہے…یہ ایک خالص اسلامی اور منظم جماعت ہے اور اس کے ’’امیر محترم‘‘ زمانے کے معتبر ترین شخص…حضرت ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ تعالیٰ ہیں…اور یہ جماعت باقاعدہ شرعی بیعت کے نظام پر قائم ہے…اور اس جماعت نے اسلام کے ’’نظام نصرت‘‘ کے لئے ایسی عظیم قربانی دی ہے کہ …صدیوں میں اس کی مثال نہیں ملتی…اس جماعت کا جہادی نظام اتنا مؤثر،جدید اور پائیدار ہے کہ…چالیس ملکوں کا اتحادی لشکر دنیا کا ہر اسلحہ اور ہر ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے باوجود…نہ اس جماعت کو توڑ سکا اور نہ اسے کمزور کر سکا…مگر طالبان کا نظام…شہرت پسندی اور کھلی بھرتی سے بہت دور ہے…

یہ حضرات نہ تو خواتین کو بھرتی کرتے ہیں اور نہ ان کی پریڈ لگاتے ہیں…اور نہ جہادی شادیوں کے اشتہار چلاتے ہیں…ان کا ویڈیو آڈیو نظام بھی چمک دمک سے دور اور جہاد کے قریب ہے…یہ اپنے لیڈروں کو میڈیا سے دور رکھتے ہیں اور روز روز نئے ’’ہیرو‘‘ نہیں بناتے…آج ساری دنیا میں جہاں بھی جہاد کی روشنی ہے وہ سب افغانستان سے ہی چمکی ہے…اور افغان جہاد اس زمانے کی تحریکوں کے لئے اصل مرکز اور منبع کی حیثیت رکھتا ہے…اور افغان جہاد کی یہ کامیابی… اخلاص، سادگی اور شریعت کی پابندی کی وجہ سے ہے… ظاہر بات ہے یہ وہ چیزیں ہیں جو شہرت پسند طبقے…اور انٹرنیٹ کے جہادیوں کے لئے کسی بھی طرح کی کوئی کشش نہیں رکھتیں…چنانچہ اب افغانستان اور پاکستان میں بھی ’’داعش‘‘ کے خود ساختہ اور ناجائز ولی وارثوں نے…اپنا کام شروع کر دیا ہے…آپ چند دن تک ایسے افراد بھی دیکھیں گے جو یہ کہتے پھرتے ہوں گے کہ ہم…پاکستان میں ’’داعش‘‘ کے نمائندے ہیں … کچھ لوگوں نے داعش کا لٹریچر بھی انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے چھاپنا شروع کر دیا ہے…اور کئی لوگوں کا یہ دعوی بھی ہے کہ وہ مستقل داعش کے رابطے میں ہیں…افغانستان اور پاکستان میں یہ ساری صورتحال…یقیناً تشویشناک ہے… داعش ایک جہادی جماعت ہے اور جہادی جماعت کی قیادت اس زمانے میں خفیہ ہوتی ہے…تو پھر یہاں موجود افراد کا داعش کی قیادت سے رابطہ کس طرح ممکن ہے؟

 داعش کی قیادت اگر فون اور انٹرنیٹ پر بیٹھی ہوتی تو کب کی شہید ہو چکی ہوتی…وہ حضرات تو ایک بڑی گھمسان کی جنگ میں مشغول ہیں… ہاں ان کے بہت سے حامی انٹرنیٹ پر موجود رہتے ہیں…اور لوگ انہیں سے رابطے کو…قیادت کے ساتھ رابطہ قرار دے دیتے ہیں…

دوسری طرف امت میں ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہو چکا ہے جو…خلافت کے نام پر مسلمانوں کو مسلسل تقسیم اور گمراہ کر رہا ہے…دیکھیں کیسا ستم ہے کہ …خلافت ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کو جوڑنے کا واحد ذریعہ ہے…مگر ان کم عقل لوگوں نے خلافت کے نام کو مسلمانوں میں مزید تقسیم اور تفریق کا ذریعہ بنا لیا ہے…یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم مسلح جہاد نہیں کرتے مگر ہمارا عقیدہ ہمارا اسلحہ ہے اور ہم اسی کے ذریعے خلافت قائم کریں گے…یہ کافی خطرناک اور گمراہ کن نعرہ ہے اور اس تنظیم کی ساری قیادت امریکہ اور برطانیہ میں بیٹھی ہوئی ہے…یہ لوگ جہاد اور خلافت کی جڑوں کو کاٹ رہے ہیں…اور مسلمانوں کو ایک مقدس نام سے گمراہ کر رہے ہیں…جہاد و قتال کے بغیر خلافت کا قیام ایک غیر فطری بات ہے…افغانستان میں جب خالص اسلامی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے ایک پائی یا ایک گولی کی مدد نہیں کی…پھر یہ کون سی خلافت چاہتے ہیں…اب جب ’’الدولۃ الاسلامیہ‘‘ نے فتوحات حاصل کیں تو یہ لوگ ان کی صفوں میں گھس گئے اور وہاں سے ’’خلافت‘‘ کا اعلان کرا دیا…حالانکہ خلافت تو زمین پر ہوتی ہے…

اِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً

زمین فتح ہی نہیں ہوئی تو اس پر خلافت کا کیا مطلب ؟ … ہاں جتنی زمین فتح ہو چکی اس پر خلافت کی طرز سے ا سلامی امارت اور حکومت قائم ہوتی ہے…جو افغانستان میں طالبان نے …اور عراق و شام کے کئی علاقوں میں ’’الدولۃ الاسلامیہ‘‘ نے قائم کی ہے…اور مجھے یقین ہے کہ ’’الدولۃ الاسلامیہ‘‘ اگر عراق کے بعد ایران کو فتح کر لے تب بھی وہ افغانستان میں …امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد سے بیعت کر کے…امارت اسلامیہ کا حصہ بن جائے گی…کیونکہ امارت اسلامیہ کا نظام زیادہ مستحکم،اور شریعت کے زیادہ قریب اور مطابق ہے…جبکہ داعش کو ابھی بننے اور سنبھلنے میں وقت لگے گا…اس میں ہر رنگ،ہر نسل اور طرح طرح کے نظریات کے افراد شامل ہیں…جنگ گرم ہونے کی وجہ سے سب کو قابو میں کرنا اور ایک عقیدہ اور نظام پر لانا آسان نہیں ہے…پچھلے دو ماہ میں داعش اپنے پانچ بڑے کمانڈروں کو معزول اور گرفتار کر چکی ہے…ایک کمانڈر تکفیری تھا…ایک کمانڈر انٹرنیٹ پر جماعت کو بدنام کر رہا تھا…اور باقی تین بھی اسی طرح کے جرائم میں ملوث تھے…

اچھا اب ایک اور بات سنیں…پاکستان میں ’’داعش‘‘ کے کئی نمائندے اور ولی وارث وہ لوگ بنے ہوئے ہیں جو جمہوریت کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہیں…جبکہ’’داعش‘‘ کے اعلان کردہ عقیدے کے مطابق جمہوری انتخابات میں حصہ لینا ’’کفر‘‘ ہے…اب اسی سے آپ ان کی نمائندگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں…اے مسلمانو! جھوٹ،شہرت پسندی اور فضول کاموں سے بچو…قربانی والے فریضے جہاد کو مذاق نہ بناؤ…اللہ تعالیٰ امارت اسلامیہ افغانستان کو فتوحات اور اپنی نصرت عطاء فرمائے…اللہ تعالیٰ ’’الدولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام‘‘ کو بھی فتوحات اور اپنی نصرت عطاء فرمائے…جہاد ایک خالص اسلامی فریضہ ہے جیسا کہ نماز…نماز وہی قبول ہوتی ہے جو شریعت کے مطابق ہو…جہاد بھی وہی قبول ہوتا ہے جو شرعی احکامات کے مطابق ہو…اپنے نظریات کو فتنوں سے بچائیں اور وقتی نعروں اور شور شرابوں سے اپنے نظریات تبدیل نہ کیا کریں…

مستحکم،مضبوط اور مستقل نظریات ہی… مقبول اور پسندیدہ ہوتے ہیں…

کل ہی خبروں میں پڑھا کہ …وہ لوگ جو ہمیں ایجنسیوں کا ایجنٹ قرار دے کر بھاگ گئے تھے…اور پاکستان فتح کرنے کا کہتے تھے…انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ہم اپنی کارروائیاں افغانستان تک محدود کر رہے ہیں…پاکستان میں ہم صرف’’ تبلیغ دین‘‘ کا کام کریں گے…کس منہ سے؟

 کس منہ سے؟…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor