Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

آزمائش (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 462 - Saadi kay Qalam Say - Aazmaish

 آزمائش

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 462)

اﷲ تعالیٰ اپنے غضب اور عذاب سے ہم سب کی حفاظت فرمائے… پہلے وزیرستان کے مسلمان بے گھر ہوئے… ان کی آہ لگی یا کس کی… اب پنجاب اور آزاد کشمیر کے لاکھوں مسلمان بھی خیمہ بستیوں میں ہیں… مقبوضہ کشمیر میں صدی کا سخت ترین سیلاب ہے اور اوپر حکمران بھی کشمیری مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں…

 

حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل

نائن الیون کے واقعہ کو تیرہ سال بیت چلے… اس بار بہت خاموشی سے برسی منائی گئی… تیرہ سال پہلے مسلمانوںکے خلاف جو جنگ شروع کی گئی تھی… اور اُسے دہشت گردی کے خلاف آخری اور حتمی لڑائی کا نام دیا گیا تھا… اُس جنگ نے کیا نتائج حاصل کئے؟… آج صرف اسی موضوع پر لکھنے کا ارادہ تھا… اور خیال جی نے ایک دلچسپ کہانی کے ذریعہ اس موضوع کے ہر پہلو پر بات کی ہے… مگر سیلاب سے تباہ حال مسلمانوں کا درد ایسا ہے کہ اس کی موجودگی میں کسی اورموضوع پر لکھنا اچھا نہیں لگ رہا … جس طرف بھی نظر اٹھائیں درد ہی درد ہے اور حقیقی دردناک کہانیاں… کہیں لوگ اپنے وفات پائے ہوئے عزیزوں کو اُٹھائے پھرتے ہیں کہ پانی نے تدفین کی جگہ ہی نہیں چھوڑی… اور کہیں اسی پانی نے ہنستے کھیلتے آباد علاقوں کو خود ہی قبرستان بنا دیا ہے… پانی میں غرق ہو کر مرنا کافر اور منافق کے لئے دردناک عذاب کا آغاز ہے… فرعون کے عذاب کی ابتداء پانی میں غرق ہونے سے ہوئی… پانی کی موت بڑی سخت ہوتی ہے، بہت تکلیف دہ اور بہت ہیبت ناک… مگر مؤمن کے لئے پانی میں غرق ہو کرمرنا شہادت ہے… جبکہ مجاہد کے لئے دورانِ جہاد پانی میں غرق ہونا… ایک ایسی نعمت ہے جو ساری دنیا کی تمام نعمتوں پر بھاری ہے… ایسے شہید کو دُگنا اجر ملتا ہے اوراس کی روح اللہ تعالیٰ… خود قبض فرماتے ہیں… سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ خود استقبال فرماتے ہیں… درمیان میں فرشتوں کا واسطہ بھی نہیں رہتا…

کوئی انسان نہیں جانتا کہ اس کی موت کیسے آئے گی… ڈوب کر مریں گے یا آگ میں جل کر… چھت گرنے سے مریں گے یا سڑک کے حادثے سے… کوئی پکڑ کر ذبح کر دے گایا گولی مار دے گا… سانپ بچھو کاٹے گا یا کوئی زہر دے ڈالے گا… کوئی پھانسی پر لٹکا دے گا… یا کوئی دواء اُلٹا اثر کر جائے گی… موت کے ہزاروں طریقے ہیں… بعض موتیں دیکھنے میں بڑی خوفناک نظر آتی ہیں مگر حقیقت میں بہت میٹھی ہوتی ہیں… جبکہ بعض موتیں ظاہر میں بڑی پُرسکون نظر آتی ہیں مگر وہ حقیقت میں بہت تکلیف دِہ ہوتی ہیں… مرنے و الے پر جو کچھ بِیت رہا ہوتا ہے وہ اس دنیا میں رہنے والوں کو نہ نظر آتا ہے نہ محسوس ہوتا ہے… ہاں بعض علامات سے کچھ اَندازے لگائے جا سکتے ہیں مگر وہ اندازے بھی حتمی نہیں ہوتے… مثلاً ایک آدمی موت سے پہلے سخت تکلیف میں ہوتا ہے… بہت بے چین بہت بے قرار…لوگ اسے موت کا درد سمجھتے ہیں حالانکہ وہ موت کا درد نہیں ہوتا بلکہ دنیوی بیماری کا درد ہوتا ہے جو آخری لمحے تک اُس انسان کو پاک کرتا رہتا ہے… اور جب اس کی موت شروع ہوتی ہے تو وہ بڑی آسان ہوتی ہے… بس بھائیو! اور بہنو!… موت کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے اور ہمیشہ اچھی موت، اچھے خاتمے اور مقبول شہادت کی فکر اور دعاء کرنی چاہئے…

موت نے تو آنا ہے… اسے یاد کرتے رہو، اس کی تیاری کرتے رہو تو یہ ’’محبوبہ‘‘ بن کر آتی ہے… اور ایسی محبوبہ کہ جس کے آتے ہی سارے دکھ، درد اور تنہائیاں ختم ہوجاتی ہیں…اور موت سے غافل رہو تو موت ایک ایسی مصیبت بن کر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی امان… اس دعاء کو روزآنہ پچیس بار توجہ سے پڑھا کریں:

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِی فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوتْ

 دنیا میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے… ان نعمتوں کی حفاظت کا نسخہ قرآن مجید نے سورۃ الکہف میں سکھا دیا ہے… مگر اکثر لوگ اُس سے غافل ہیں… نسخہ بہت آسان ہے کہ نعمتوں کو دیکھ کر یہ کلمات پڑھو…

مَاشَائَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہْ

اپنے گھر میں داخل ہوئے تو فوراً

مَاشَاء اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہْ

کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ہی عطاء فرمایا ہے… میرا اس میں کوئی ہنر، کوئی کمال نہیں… اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک منٹ میں ’’بے گھر‘‘ کر دے… اس زمانہ میں جبکہ دین پر عمل کمزور ہوچکا ہے کسی مسلمان کا بے گھرہونا ایک بڑی سخت آزمائش ہے…

دین پرعمل ہوتا تو… بے گھر مسلمانوں کے لئے ہر مسلمان کا گھر عزت، احترام اور حفاظت کے ساتھ کھلا رہتا… ناموس کی حفاظت اپنے گھر سے زیادہ دوسرے مسلمانوں کے گھروں میں ہوتی … بہن بیٹی کی عزت سلامت رہتی… اور پناہ دینے والے حقارت اور نفرت کی ایک نظر بھی نہ ڈالتے… مگر اب ماحول بدل گیا ہے… مسلمانوں کے نزدیک’’مہاجر‘‘ کا لفظ نعوذ باللہ، گالی… اور حقارت کا استعارہ بن گیا ہے…اور آنکھوں سے حیاء کی نعمت چھن گئی ہے… ایسے حالات میں اپنے گھر والوں سمیت بے گھر ہوجانا بڑی سخت آزمائش ہے… اس لئے جس کے پاس جیسا بھی مکان ہے… اپنا ہو یا کرائے کا… ذاتی ہو یا کسی نے رہنے کے لئے دے دیا ہو… کچا ہویا پکّا… ہمیشہ اسے دیکھ کر اور اس میں داخل ہوتے وقت دل کے یقین سے پڑھیں:

مَاشَاء اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہْ

یعنی یہ میرے اللہ نے مجھے دیا ہے… یہ میرے اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے… یہ میرے اللہ تعالیٰ کی مجھ پر نعمت ہے… والحمدللہ رب العالمین…

لوگ سمجھتے ہیں کہ’’ماشاء اللہ‘‘ کا مطلب ہے، بہت اچھا، بہت عمدہ… یہ درست نہیں… بلکہ ماشاء اللہ کا مطلب ہے… یہ میرا نہیں میرے اللہ تعالیٰ کا ہے… اور انہون نے محض اپنے فضل سے مجھے عطاء فرمایا ہے… اور اس میں میرا کوئی ہنر اور کمال نہیں… یہی حال ہر نعمت کا ہے… وہ ایمان کی نعمت ہو یا دین کی… وہ صحت کی نعمت ہو یا مال کی… جو فخر کرتا ہے وہ مارا جاتا ہے … جو اپنا کمال سمجھتا ہے وہ محروم رہ جاتا ہے… اورجو اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان سمجھتا ہے وہ کامیاب رہتاہے…

مَاشَاء اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہْ

قرآن مجید میں سب کچھ موجود ہے … سیلاب کے مسئلہ پر قرآن مجید کی ایک پوری سورت بائیسویں پارے میں سورۃ سبا کے نام سے موجود ہے… ایک قوم تھی جس کا نام’’قوم سبأ‘‘ تھا… ان کا ایک شہر تھا جس کا نام’’مأرب‘‘ تھا… یہ قوم پانی کی نعمت سے مالا مال تھی… اور پانی جس کو مل جائے اُسے ہر نعمت مل جاتی ہے کیونکہ زمین پر اللہ تعالیٰ نے پانی کو… ہرنعمت کی بنیاد بنایا ہے… اس قوم سے کہا گیا کہ…

کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْالَہٗ

اپنے رب کی نعمتیں کھاؤ، خوب استعمال کرو… مگر شکر ادا کرتے رہو… ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان سمجھو… ان نعمتوں کو اپنا حق اور اپنا کمال نہ سمجھو… مگر قوم کے لوگوں نے اس نصیحت اور حکم کو بُھلا دیاا ور فخر میں پڑ گئے… وہ ان نعمتوں کو اپنا ہنر اوراپنا کمال سمجھنے لگے… دیکھو! ہم نے کس طرح سے پانی کو بڑا بند اور ڈیم بنا کر… اپنے قابو میں کر لیا ہے … اور اب یہ پانی ہم اپنی مرضی سے استعمال کر کے… باغات اور زمینوں کو آباد کرتے ہیں… دیکھو! ہم تجارت میں کتنے ماہر ہیں کہ بین الاقوامی راستوں پر… اپنا کاروبار چمکا چکے ہیں… اب ہر کوئی ہمارا محتاج ہے… اسی طرح اپنی پلاننگ، اپنی ٹیکنالوجی او ر اپنی تاجرانہ سوچ پر فخر… اللہ تعالیٰ نے پانی کو اشارہ فرمایا… پانی ایسا بپھرا کہ اُن کے بند اور ڈیم تنکوں کی طرح بہہ گئے… بڑے بڑے باغات اور کھیتیاں کھنڈر کھلیان بن گئے… اور تجارت تباہ و برباد ہو گئی… ایک مثال دے کر قرآن مجید نے پانی اور سیلاب کا سارا معاملہ سمجھا دیا… آج ہمارے حکمرانوں کے دماغ پر… صرف اور صرف تجارت سوار ہے… تجارت کی خاطر دین بیچنا پڑے، ضمیر بیچنا پڑے، ملک بیچنا پڑے یہ سب کچھ انہیں گوارہ ہے… تجار ت کی خاطر شہداء کرام کے مقدس خون سے دن رات غداری کی جارہی ہے… تب سیلاب ہی آئے گا کوئی رحمت تو نہیں برسے گی… تجارت کوئی بُری چیز نہیں مگر تجارت ہمیشہ وہی درست ہے جو شریعت کے تابع ہو…ورنہ تجارت محض خسارہ ہی خسارہ ہے… سیلاب کی آزمائش جن مسلمانوں پر نہیں آئی… وہ سیلاب زدہ مسلمانوں کی مدد کریں… اُن کے لئے مستقل دعائیں کریں… اور اُن کی عزت و حرمت کا خیال رکھیں… اور خود استغفار کرتے رہیں… اپنی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر اداکریں اور کثرت سے پڑھیں…

مَاشَاء اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہْ

اگر کبھی پانی سے واسطہ پڑے تو اسماء الحسنیٰ میں سے

یَا حَیُّی یَا قَیُّومُ

کا ورد پانی کے غیض و غضب کو ٹھنڈا کردیتا ہے…

یَا حَیُّی یَا قَیُّومُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ

کتنے ہی مسلمان… ان دومبارک اسماء الحسنیٰ کی برکت سے ڈوبنے سمیت دیگر آبی آفات سے محفوظ رہے… بے شک اللہ تعالیٰ کے ’’ اسماء الحسنیٰ‘‘ میں بڑی تأثیر اور بڑی طاقت ہے… ہمیں ہمارے عظیم رب نے حکم دیا ہے کہ ہم ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مانگا کریں…

او ر وہ مسلمان جو سیلاب کی آفت کا شکار ہیں… وہ اس آفت کو اپنے لئے’’سعادت‘‘ بنا لیں… آزمائش اور ابتلاء اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے… اور یہ ایک مؤمن کو اللہ تعالیٰ کے بہت قریب کرنے کا ذریعہ ہے…

اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو دنیا کی آزمائشوں میں ڈالتے ہیں… تاکہ اُن کا مقام اور اونچا ہو جائے… ان کی منزل اور قریب ہو جائے… اُن کے گناہ معاف ہو جائیں… اُن کے لئے آخرت کا بوجھ بالکل ہلکا ہو جائے… اور اُن کے لئے آخرت کی دائمی نعمتیں پکی ہو جائیں… قرآن و سنت میں غور کریں تو ایک مؤمن مسلمان پر جو دنیوی تکلیفیں اور آزمائشیں آتی ہیں… اُن کے فوائد اور ثمرات بے شمار ہیں… ان میں سے چند یہ ہیں…

(۱) گناہوں کا بالکل مٹ جانا اور معافی نصیب ہونا

(۲) آخرت کے اونچے اونچے درجات کا ملنا

(۳)اس بات کا شعور نصیب ہونا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق میں کتنی کوتاہی کی ہے… اس پر اپنے نفس کو ملامت کرنے کی سعادت ملنا

(۴) اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی، انکساری اورتواضع نصیب ہونا

(۵) توبہ اور استغفار کی زیادہ توفیق ملنا

(۶) دعاء کی زیادہ توفیق ملنا

(۷) بندے کا اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہونا کہ… دنیا میں نعمت ملے یا نہ ملے اللہ تعالیٰ سے تعلق اور محبت قائم رہے…

(۸) محروم اور مصیبت زدہ لوگوں کے درد کو محسوس کرنے کی استعداد پیدا ہونا

(۹) دنیا سے بے رغبتی نصیب ہونا اور دنیا کے فانی ہونے کا یقین مضبوط ہونا

(۱۰) اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہونے کی قوت نصیب ہونا اور اس قوت کی برکت سے ایمان کا مضبوط اور اعلیٰ درجہ نصیب ہونا…

ہماری محبتیں، ہمدردیاں او ر دعائیں… تمام مصیبت زدہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں…آپ حضرات و خواتین… مکمل صبر اور رضا کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کریں… اور اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل یقین کے ساتھ متوجہ ہو جائیں…

دنیا کی طرح یہاں کی مصیبتیں اوریہاں کی نعمتیں سب فانی ہیں… اصل ایمان کی نعمت ہے … اسے زنگ نہ لگنے دیں… اللہ تعالیٰ آپ سب کی آزمائش دور فرمائے اور دنیا و آخرت میں نعمتِ عافیت عطاء فرمائے

آمین یا ارحم الراحمین

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor