Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مؤقف اور امکانات (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 432 - Saadi kay Qalam Say - Muaqaf aur Imkanat

مؤقف اور امکانات

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 432)

اﷲ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سؤال ہے:

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃ

حضور اقدسﷺ… اﷲ تعالیٰ سے’’عافیت‘‘ کا سؤال فرماتے تھے اور آپ نے مسلمانوں کو بھی تاکید فرمائی کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے عافیت مانگا کریں… اور آپﷺ نے اپنے محبوب چچا حضرت سیدنا عباس رضی اﷲ عنہ کو بار بار اس بات کی ترغیب دی کہ اے میرے چچا! اﷲ تعالیٰ سے’’عافیت‘‘ مانگا کریں…

ایک ہے’’معافی‘‘ اورایک ہے’’عافیت‘‘ دونوں کا کیا مطلب ہے اور دونوں میں کیا فرق ہے؟

ایک بہت اونچی دعاء جو آپﷺ نے اپنی سب سے عزیز اہلیہ محترمہ حضرت سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کو سکھائی…

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی

اس میں’’معافی‘‘ کا سؤال ہے… یا اﷲ آپ معاف فرمانے والے ہیں، معافی کو پسند کرتے ہیں، مجھے معاف فرمائیں…

لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ’’دعاء‘‘ صرف رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مانگی جاتی ہے… یہ بڑی غلطی ہے… روز مانگا کریں اور بار بار مانگا کریں… آج جب یہ کالم پڑھیں تو فرض کے علاوہ اپنی باقی نمازوں کے رکوع، سجدے، قومے اور جلسے میں دل کی توجہ سے یہ دونوں نعمتیں مانگیں…معافی بھی… اور عافیت بھی، آپ عجیب سکون اور لطف پائیں گے…

معافی سے گناہ ایسے مٹ جاتے ہیں کہ کسی بھی جگہ اُن کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا اور عافیت سے گناہوں کی سزائیں، نعمتوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں…

معافی اور عافیت کا مطلب اور ان دونوںمیں فرق پھر کبھی ان شاء اﷲ… آج کچھ باتیں حالات حاضرہ پر عرض کرنی ہیں…

 مذاکرات کے بارے ہمارا مؤقف

حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان مذاکرات کا ماحول بن رہا ہے… اس بارے میں جو خبریں آرہی ہیں، اُن کو دھرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ آپ سب میڈیا پر مجھ سے زیادہ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں… اس لئے لازمی بات ہے کہ آپ کے علم میں’’خبریں‘‘ بھی مجھ سے زیادہ ہوں گی… ہمارے رفقاء اس بارے ’’جماعت‘‘ کا موقف پوچھتے ہیں… جماعت کا موقف یہ ہے کہ ہم مذاکرات کے حامی ہیں، پاکستان میں ایمان اور امن دیکھنا چاہتے ہیں اور مذاکرات کے بارے میں نیک تمنائیں رکھتے ہیں…

 امکانات

ہمارا موقف تو وہی ہے جو اوپر آپ نے پڑھ لیا… اب آتے ہیں ان مذاکرات کے نتائج اور امکانات کی طرف تو نہایت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اب تک جو اقدامات فریقین کی طرف سے ہوئے ہیں ان میں ان مذاکرات کی کامیابی کا امکان صرف پانچ فیصد ہے… یعنی نہ ہونے کے برابر…

 وجوہات

مذاکرات کے کامیاب نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سے چند اہم وجوہات یہ ہیں…

(۱) مذاکرات میں’’میڈیا‘‘ کا حد سے زیادہ عمل دخل… میڈیا غیروں کے قبضے میں ہے درجنوں چینل ہیں جن کو اپنا پیٹ بھرنے کے لئے خبروں کی ضرورت رہتی ہے… خبریں نہ ملیں تو افواہوں سے کام چلتا ہے…میڈیا شہرت پسندی کے جراثیم پھیلا رہا ہے حالانکہ مسئلہ خون کا ہے، جانوں کا ہے، ملک کی بقا کا ہے… او رایسے مسائل کے حل کے لئے’’اخلاص‘‘ شرط اول ہے… شہرت پسندی مزید خون خرابے کا باعث بنتی ہے…

(۲) دونوںطرف کی کمیٹیاں مؤثرنہیں ہیں… کمیٹیوں میں اگرچہ بعض قابل احترام شخصیات شامل ہیں… مگر بندوقوں کے ٹریگر ان کے قبضے میں نہیں ہیں… مذاکرات صرف اور صرف اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب اس میں ایک طرف مقامی طالبان کے عسکری کمانڈر ہوں اور دوسری طرف پاکستانی افواج کے عسکری کمانڈر…اﷲ تعالیٰ کو جب پاکستان’’امن‘‘ کے قابل نظر آئے گا تو ساری دنیا دیکھے گی کہ حقیقی اور واقعاتی مذاکرات انہیں دو فریقوں کے درمیان ہوں گے…

(۳) پاکستان میں بدامنی کے بنیادی اسباب کی طرف توجہ نہیں دی جارہی… پاکستان میں بدامنی کے بنیادی اسباب دو ہیں…

(الف) پاکستان کا اس صلیبی جنگ میں صلیبیوں کے ساتھ تعاون

(ب) پاکستانی حکمرانوں کی سیکولر انتہا پسندی

ہم اس بارے میں پہلے بھی کئی بار تفصیل سے عرض کر چکے ہیں کہ ایک حرام فیصلے کی آگ سے ہمارا ملک جل رہا ہے… دوسری طرف پاکستان کے حکمران مشرف کے دور سے سیکولر ازم یا بد دینی میں مکمل انتہا پسند بن چکے ہیں… یہ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں جس میں’’دینداری‘‘ ممنوع ہو… حضرات صوفیاء کرام کے وہ اشعار جن میں ’’مسجد گرادو مگر کسی کا دل نہ توڑو‘‘ کے الفاظ ہوں… انہیں بغیر سمجھے بہت پسند آتے ہیں… کیونکہ ان میں مسجد گرانے کا تذکرہ ہوتا ہے… کیا مسجد گرانے سے کسی کا دل نہیں ٹوٹتا؟… جس اﷲ والے بزرگ کے یہ اشعار ہیں ان کی پوری زندگی مسجد ہی میں گذری ہے… جب کہ ہمارے حکمرانوں کو روڈ کے کنارے بنی ہوئی مسجد دیکھ کر بخار آجاتا ہے… بددینی جب اپنی اس’’انتہا‘‘ کو پہنچ چکی ہو تو پھر اس کا ردعمل بھی ’’انتہا پسندی‘‘ کی شکل میں آتا ہے… یاد رکھیں جب تک ملک کے حکمرانوں کے دلوں سے بددینی کی انتہا پسندی نہیں نکلتی… یا ملک کواچھے اور باایمان حکمران نصیب نہیں ہوجاتے یہ ملک اسی طرح(نعوذباﷲ) آفتوں کی زد میں رہے گا… کیونکہ اس ملک کی جڑوں میں لاکھوں شہداء کا خون ہے… اور ان شہداء نے یہ قربانی’’اسلام‘‘ اور’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کے لئے دی ہے تو جب حکمران اس خون سے غداری کریں گے تو ملک میں خون ہی ابلتا اور بہتا رہے گا… پرویز مشرف سے پہلے کے حکمران بھی دیندار نہیں تھے… مگر وہ کھلم کھلا بددینی کی ہمت بھی نہ رکھتے تھے، چنانچہ ملک میں امن تھا… مگر اس منحوس دجال نے حکمرانوں کے لئے بددین انتہا پسندی کو آسان بنا دیا… وہ چلا گیا مگر اس کے بعد جو بھی آرہا ہے وہ اسی کے نقش قدم پر چل رہا ہے… اور تو اور اب تو سرکاری تبادلوں اور ترقیوںتک میں’’دینداری‘‘ سب سے بڑا جرم ہے…مقامی طالبان نے تو حکومت کے ساتھ جنگ کی لیکن جن مجاہدین نے حکومت کے ساتھ جنگ نہیں کی، حکومت نے اُن کو کب چین کا سانس لینے دیا؟ مشرف نے ملک میں بددینی کی جو خبیث عمارت کھڑی کی اب ہر آنے والا حکمران اس عمارت کو مزید مضبوط کر رہا ہے… یہ ملک کافروں کا ہوتا تو اس میں بددینی سے ترقی  آتی مگر یہ مسلمانوں کا ملک ہے اس لئے اس میں’’بددینی‘‘ سے کوئی ترقی نہیں آسکتی صرف بدامنی اور خونریزی ہی آسکتی ہے… اور وہ آچکی ہے…

(۴) مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی چوتھی وجہ… فریقین کا انتشار ہے… حکومت کو بھی ملک کے تمام اداروںپر کنٹرول حاصل نہیں… اور طالبان قیادت کو بھی اپنے تمام افراد پر قابو نہیں… ہمارے وزیراعظم صاحب ہر کسی کے کام میں اپنی بے بسی کارونا روتے رہتے ہیں… اور چپکے سے یہ بتانا نہیں بھولتے کہ فلاںفلاں ادارے بہت گڑ بڑ کر رہے ہیں میں انہیں قابو کرنے کی کوشش میں ہوں… اور دوسری طرف مقامی طالبان کے بھی ان گنت دھڑے ہیں…اور اکثر عسکری کمانڈر اپنے فیصلوںمیں خود مختار ہیں…

(۵) مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی پانچویں اہم وجہ… ملکی معاملات میں غیر ملکیوں کا عمل دخل ہے… پرویز مشرف کی صدارت اور حسین حقانی کی سفارت سے فائدہ اٹھا کر صہیونیوں، صلیبیوں، مشرکوں اور دیگر اسلام دشمن قوتوں نے ملک میں اپنے اڈے مضبوط بنالئے ہیں اور ریاستی مشینری میں اپنے افراد داخل کر لئے ہیں… پنجاب کے سابق مقتول گورنر سلمان تأثیر کے بارے میں یہ خبر فاش ہو گئی تھی کہ وہ… برطانوی خفیہ ایجنسی کا باقاعدہ اہلکارہے… وہ تو چلو مارا گیا مگراس جیسے اور کتنے افراد اہم عہدوں پرہوں گے… حال ہی میں پاکستانی فوج کے ایک سابق جنرل نے کتاب لکھی ہے … وہ مشرف کے زمانے اہم عہدوں پر رہے ہیں… انہوں نے لکھا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں نے انہیں اپنے کام کے لئے بھرتی ہونے کی پیشکش کی تھی… اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے انہوں نے پیشکش ٹھکرا دی… لیکن کیا سب میں اتنا ایمان اور ہمت ہے کہ ایسی بھاری پیشکش ٹھکرا دیں؟… جب دنیا ہی مطلوب اور مقصود بن چکی ہے اور دینداری جرم کے درجے میں داخل ہو چکی ہے تو ماہانہ لاکھوں ڈالر کی تنخواہ پر بکنے والوں کی کیا کمی ہوگی؟… کیا ایسے لوگ جو غیروں کے لئے کام کر رہے ہیں، اس ملک میں امن دیکھنا گوارہ کر لیں گے؟… چند وجوہات اور بھی ہیں مگر آج انہیں پانچ پر اکتفا کرتے ہیں…

 پھر کیا ہوگا؟

پہلے عرض کر دیا کہ… ہم مذاکرات کے حامی ہیں اور ملک میں ایمان اور امن دیکھنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں… ہمیں بھی حکومت کی طرف سے بہت ستایا گیا اور بندوق اٹھانے پر بہت اکسایا گیا مگر ہم نے… حکومت پاکستان اور یہاں کی فورسز کے خلاف ایک کارروائی بھی نہیں کی… اس کی وجہ سے ہمیں طرح طرح کے طعنوں کا سامنا ہے… کوئی ہمیں ایجنسی کا ایجنٹ کہتا ہے تو کوئی بزدلی کے طعنے دیتاہے… لیکن ہم نے کسی کی پرواہ نہیں کی اور دینی علم کی روشنی میں جو کچھ اپنے ایمان اور اپنے جہاد کے لئے مناسب سمجھا وہی کیا… ہم نے حکومت کے خلاف جنگ نہ کر کے کوئی مراعات نہیں لیں اور نہ کبھی اپنے اس عمل کا واسطہ دے کر حکومت سے کوئی بھیک مانگی… ہم نے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک مؤقف شعوری طور پر اختیار کیا ہے… ہم نے اپنے ہاتھ مسلمانوں کے لہو سے پاک رکھنے کی جان توڑ اور مشکل محنت کی ہے… اور اپنا رُخ اُن محاذوں کی طرف رکھا ہے جہاں کفار، مسلمانوں پر حملہ آور ہیں… ہم نے یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کے لئے کیا، اپنے دین، ایمان اور جہاد کے لئے اسے بہتر سمجھا اس لئے ہم اس پر دنیا میں کسی صلے یا اجر کے امیدوار نہیں ہیں… ہماری یہ خواہش بھی نہیں ہے کہ… حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جائیں… اور کل ہم لوگوں سے کہہ سکیں کہ دیکھو! ہمارا تجزیہ بالکل ٹھیک نکلا… ایسا بالکل نہیں بلکہ یہ خواہش ہے کہ ہمارا تجزیہ غلط نکلے اور ملک میں ایمان اورامن قائم ہو جائے… لیکن جو کچھ کھلی آنکھوں سے نظرآرہا ہے اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا…پاکستان میں حالات واقعی خطرناک حدتک خراب ہو چکے ہیں…لیکن ہم مسلمان… کبھی بھی امید کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتے… اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اوروہ اپنے بندوں پر مہربان ہے… الحمدﷲ جہاد کی برکت سے عالم کفر کو شکست ہوئی ہے اور ہمارے پڑوس سے…’’مغضوب علیھم‘‘… اور’’ضالین‘‘ کے قافلے اس سال کے آخر تک اپنے ملکوں کو لوٹ رہے ہیں…’’مغضوب علیھم‘‘ وہ جن پر اﷲ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے… اور اﷲ تعالیٰ کا سب سے بڑا غضب یہ ہے کہ کسی کافر کو اپنے کفر پر اطمینان ہو جائے اوروہ اسی کفر میں مرے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن بن جائے… اور ضالین وہ گمراہ لوگ جو صراط مستقیم سے بھٹک گئے اور انہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنالیا… ہمارے پڑوس میں اتنے گندے اور برے لوگوں کا اجتماع… ایک بڑی نحوست ہے اور افسوس کہ اس نحوست کو ہمارے حکمران پالتے رہے… اب الحمدﷲ وہ سب واپس جارہے ہیں… اُن کے واپس جانے سے بھی ان شاء اﷲ اس خطے پر بہت فرق پڑے گا… انسانوں کے اعمال کا زمین پر بڑا اثر پڑتا ہے…

صلیبی افواج نے افغانستان میں وہ گندے اعمال کئے کہ جنہیں سننا بھی محال ہے… یہ کالم ہماری مسلمان بہنیں اور بچیاں بھی پڑھتی ہیں… اس لئے تفصیل لکھنے کی ہمت نہیں… یہ انسانیت کے لئے کینسر جیسے افراد جب افغانستان سے چلے جائیں گے تو ان شاء اﷲ وہاں اور یہاں اچھی تبدیلیاں شروع ہو جائیں گی…اس لئے مایوسی، ناامیدی اور پریشانی کی بات نہیں ہے … بلکہ سر اونچا کرنے کا وقت ہے کہ حضرت محمد عربی ﷺ کے غلاموں نے… اپنے آقا کی غلامی کا حق ادا کیا اور ایسی سرفروشانہ جنگ کی کہ… دنیا بھر کی عسکری ٹیکنالوجی کو مکڑی کے جالے کی طرح روند ڈالا… سلام ہو فدایان اسلام کو… سلام ہو فقیرعطاء اﷲ شہیدؒ اور اُن کے رفقاء کو… آج مجھے صبح سے وہ یاد آرہے ہیں… سلام ہو استقامت کے ساتھ جہاد پر ڈٹے رہنے والوں کو… اور سلام ہو قابل فخر اُمت محمدیہ، اُمت مسلمہ کو… بس اے بھائیو! اور بہنو! سلامتی کاراستہ کھلا ہے…

(۱) ایمان…’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ کو دل میں بٹھانا اور اس پر کامل یقین رکھنا اور اس کا خوب ورد کرنا(۲) نماز… زندگی کا سب سے اہم اور میٹھا کام نماز… اﷲ تعالیٰ سے ہر نعمت پانے کا ذریعہ نماز(۳) جہاد فی سبیل اﷲ… مغفرت، عزت،غلبے، کامیابی، سعادت، حسنِ خاتمہ، آزادی… اور شہادت جیسی اونچی نعمتیں حاصل کرنے کا ذریعہ… جہاد فی سبیل اﷲ…

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…

 لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor