Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

انسان کی کامیابی کا راز (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 466 - Saadi kay Qalam Say - Insan ki kamyabi ka raaz

انسان کی کامیابی کا راز

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 466)

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک مختصر سورت نازل فرمائی ہے…ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرات صحابہ کرام میں سے جب بھی دو افراد آپس میں ملتے تو وہ پہلے ایک دوسرے کو یہ سورت سناتے…پھر سلام دعاء ہوتی…حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں…اگر لوگ قرآن مجید کی صرف اسی ایک سورت میں غور کریں تو یہ اُن کی ہدایت اور اصلاح کے لئے کافی ہو جائے…یہ کونسی سورت ہے؟آپ سب جانتے ہوں گے یہ ’’سورہ والعصر‘‘ ہے…

والعصران الانسان لفی خسر

العصر،وقت،زمانہ،عمر

’’والعصر‘‘ کے شروع میں جو ’’واو‘‘ ہے اس کا ترجمہ ہے:

’’ میں قسم کھاتا ہوں‘‘

اور ’’العصر‘‘ کہتے ہیں زمانے کو…وہ وقت اور زمانہ جس میں انسان کوئی خیر کا کام کرتا ہے یا گناہ کا کام کرتا ہے…اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں … میں زمانے کی قسم کھاتا ہوں کہ انسان یقیناً خسارے میں ہے…خسارہ یعنی نقصان…وقت گیا، انسان گیا، وقت ختم انسان ختم …نہ بادشاہ،بادشاہ رہا نہ افسر،افسر…نہ کوٹھی کا مالک اپنی کوٹھی کا مالک رہا…اور نہ جائیداد کا مالک اپنی جائیداد کا … ایک منٹ پہلے جو سب کچھ تھا وقت ختم ہوتے ہی کچھ نہ رہا…وہ جو بڑا باخبر تھا اب خود ’’خبر‘‘ بن گیا…وہ جو ہر طرف اڑتا پھرتا تھا اب ایک ’’قبر‘‘ بن گیا…جو کچھ بنایا تھا وہ سارا ’’اِدھر‘‘ رہ گیا…

آہ! جن چیزوں پر اپنی عمر لگائی،اپنا زمانہ لگایا…وہ سب کچھ ایک منٹ میں ہاتھ سے نکل گیا…ارشاد فرمایا:

میں قسم کھاتا ہوں زمانے کی کہ بے شک انسان خسارے میں ہے…

ٹائم بم

ایک بم ہوتا ہے جسے ٹائم بم کہتے ہیں…اس میں گھڑی یا کوئی آلہ لگا کر ایک وقت مقرر کر دیتے ہیں…چند منٹ یا چند گھنٹے یا چند دن… وہ مقرر کیا ہوا وقت جب آ جاتا ہے تو دو تاریں آپس میں ٹکراتی ہیں اور بم پھٹ کر ختم ہو جاتا ہے…اللہ تعالیٰ نے انسان میں بھی ایک گھڑی ایک آلہ لگا دیا ہے…کسی میں چند منٹ کا…کسی میں چند گھنٹوں کا …کسی میں چند مہینوں اور چند سالوں کا… جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو…روح کو جسم کی ڈبیا میں روکنے والی پن ہٹا دی جاتی ہے…اور پھر قصہ ختم…اب ایک منٹ کے لئے بھی مہلت نہیں ملتی کہ انسان کچھ کر سکے…دھماکہ ہوا اور بم پھٹ گیا…معلوم ہوا کہ انسان نام ہے کچھ وقت کا…اس وقت میں سے جتنا وقت کم ہوتا جاتا ہے…انسان بھی اسی قدر کم ہوتا جاتا ہے…کوئی ساٹھ سال کی عمر لایا تھا اب چالیس گذر گئے تو یہ اب بیس سال کا رہ گیا…کوئی دس ہزار دن لایا تھا آج اس کے نو ہزار نو سو نناوے دن گذر گئے ہیں تو اب یہ ایک دن کا انسان رہ گیا ہے…کھا رہا ہے،پی رہا ہے،ہنس رہا ہے،بڑے بڑے سودے کر رہا ہے…بلڈنگ خرید رہا ہے،زمین اور باغ خرید رہا ہے…کسی کو پھنسا رہا ہے،کسی سے وعدے کر رہا ہے…کسی سے جھوٹ بول رہا ہے …کسی کو دھوکہ دے رہا ہے…کسی سے دس سال کا قرضہ لے رہا ہے…کسی سے بیس سال کا ٹھیکہ لے رہا تھا… جب کہ اس کی سوئی آخری دن کی گنتی کر رہی ہے…اگلے دن وہ گنتی پوری ہو گئی…اور یہ قبر میں جا لیٹا…سارے کھیل تماشے ختم…

مالک نے ارشاد فرمایا…

میں زمانے کی قسم کھاتا ہوں انسان گھاٹے میں ہے…

زمانہ گواہ ہے

اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھا کر…یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ …انسان کے گھاٹے اور خسارے کی کہانی تمہیں اگر سمجھ نہیں آتی تو…زمانے سے پوچھ لو…آج جو زندہ ہے اسے تو ایک ’’لمحہ ‘‘مرنے کا خیال نہیں آتا…مگر تھوڑا سا پیچھے تو جھانک کر دیکھو…جن مکانوں میں تم بیٹھے ہو ان کے نیچے تم جیسے بلکہ تم سے زیادہ بھر پور زندگی گزارنے والوں کی لا تعداد لاشیں خاک بن چکی ہیں…بڑے بڑے منصوبہ ساز عقلمند گذرے وہ بھی مر گئے… بڑے نامور حکمران آئے وہ بھی مر گئے…اپنی خاطر دوسروں کو قتل کرنے والے جابر آئے وہ بھی مر گئے…اپنے جادو سے زمین ہلانے والے جادوگر آئے وہ بھی مر گئے…ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی مر گئے…مسیحا کا لقب پانے والے حکیم، طبیب اور ڈاکٹر بھی مر گئے…اپنے ناز اور انداز سے دوسروں کو مارنے والے حسین بھی مر گئے…فخر و تکبر میں گردن نہ جھکانے والے سرکش بھی مر گئے…ہر طرف موت ہی موت ہے،ڈیڑھ دو سو سال پرانا کوئی شخص زندہ نظر نہیں آ رہا…اور اگلے سو پچاس سال میں…آج موجود سب لوگ بھی خاک ہو جائیں گے…

اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا…

میں زمانے کی قسم کھاتا ہوں کہ انسان سراسر نقصان میں ہے…

نقصان اور خسارے کا معنی ہے ’’کمی‘‘…ہر منٹ گذرنے کے ساتھ انسان کم ہو جاتا ہے … اس کی عمر کم ہو جاتی ہے…یہ نقصان نہیں تو اور کیا ہے؟…

رحمت والا اِلّا

عربی زبان میں ’’اِلّا‘‘ کے معنی ہیں ’’مگر‘‘ … اللہ تعالیٰ صرف یہی فرماتے کہ سب انسان خسارے میں ہیں تو …بس اتنے الفاظ سن کر ہی لوگوں کے دل پھٹ جاتے مگر رحمت والے رب نے نہایت رحمت کے ساتھ… ’’اِلّا‘‘  فرما دیا …کہ ہاں مگر کچھ لوگ خسارے میں نہیں ہیں … وہ ہرگز گھاٹے میں نہیں ہیں…وقت کا گذرنا ان لوگوں کو ’’کم‘‘ نہیں کرتا…زمانے کا گذرنا ان لوگوں کا کچھ نہیںبگاڑ سکتا…حتی کہ …پوری عمر کا ختم ہو جانا بھی ان لوگوں کے لئے خسارے کی کوئی بات نہیں ہے…بلکہ یہ لوگ کامیاب ہیں، کامران ہیں…ان کا جینا بھی نفع والا…اور ان کا مرنا بھی نفع والا…وقت کے سال تو کیا صدیاں بھی انہیں پرانا نہیں کر سکتیں…ہاں بے شک سب لوگ خسارے میں ہیں مگر یہ لوگ جن کا تذکرہ ’’الّا‘ ‘ کے بعد آیا ہے یہ نفع ہی نفع میں ہیں…انہوں نے تھوڑا لگا کر زیادہ پا لیا…انہوں نے ادنیٰ قربان کر کے اعلیٰ حاصل کر لیا…انہوں نے اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے زمانے کی قدر کی…اور اس مختصر زمانے کی مختصر محنت کے ذریعے …ہمیشہ ہمیشہ کے عیش و آرام اور کامیابی کو پا لیا…

یہ خوش نصیب کون؟

فرمایا: ’’والعصر‘‘ میں قسم کھاتا ہوں زمانے کی ’’ان الانسان لفی خسر‘‘ یقیناً انسان خسارے میں ہے…سارے انسان خسارے میں ہیں…الاالذین مگر وہ لوگ ہرگز خسارے میں نہیں اٰمنوا جو ایمان لائے وعملواالصالحات اور انہوں نے نیک اعمال کئے وتواصوا بالحق اور انہوں نے حق کی دعوت دی وتواصوا بالصبر اور صبر کی دعوت دی…سبحان اللہ! خسارے سے بچنے کا نصاب معلوم ہو گیا…

ایمان لے آؤ…ایمان لانے کے بعد جن اچھے کاموں کا حکم ہے ان میں لگے رہو…دوسروں کو حق کی دعوت دو…حق پر ڈٹے رہو،مضبوط رہو،ثابت قدم رہو اور دوسروں کو بھی مضبوطی اور ثابت قدمی کی دعوت دیتے رہو…

سب سے پہلے ایمان کو سمجھنا ہے…دل میں اتارنا ہے…اعمال صالحہ معلوم کرنے ہیں اور اپنا وقت ان میںلگانا ہے…حق کی دعوت کو ہر کسی تک پہنچانا ہے… اب تکلیفیں آئیں گی،آزمائشیں آئیںگی…وساوس آئیں گے … مجبوریاں آئیں گی…بڑھاپا آئے گا…مایوسیاں آئیں گی…فتنے آئیں گے…تب بھاگ نہیں جانا، بیٹھ نہیں جانا،گھبرا نہیں جانا…بلکہ خود بھی ڈٹے رہنا ہے اور دوسروں کو بھی استقامت کی طرف بلانا ہے…

بس یہ ہے کامیابی کا نسخہ…جو اس پر اپنا وقت لگائے گا وہ کامیاب ہو جائے گا…اور جو اس میں کمی کرے گا اس کی کامیابی بھی کمزور ہو جائے گی…اور جو اس نسخہ کو نہیں اپنائے گا…وہ دنیا میں جتنا بھی کامیاب سمجھا جائے وہ ناکام ہے…بالکل ناکام ہے…یا اللہ ناکامی سے بچا…

ایک عجیب نکتہ

کامیابی بس ان چار چیزوں ہی میں ہے…اور کسی چیز میں نہیں…

فرعون کی اس دنیا میں ہر خواہش پوری ہوئی …مگر وہ ناکام…اور حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی کوئی خواہش بھی پوری نہ ہوئی…حتی کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہونے کے باوجود ایسی مجبوری آئی کہ …حضرت آقا مدنی ﷺ کے دیدار سے محروم رہے…مگر کامیابی کا نسخہ مکمل تھا…ایسے کامیاب ہوئے کہ حضرت آقا مدنی ﷺنے اپنے جلیل القدر صحابہ کرام سے فرمایا کہ …اویس سے ملنا اور ان سے دعاء کروانا…

حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کی شادی ہوئی…خاوند بھی ایسے کامل مکمل انسان ملے … اللہ کے جلیل القدر نبی اور رسول…حضرات انبیاء علیہم السلام روحانی حسن کے ساتھ ساتھ جسمانی حسن میں بھی کامل ہوتے ہیں…مگر یہ عورت ناکام ہو گئی،جہنم میں جا گری…جبکہ حضرت مریم علیہا السلام کی شادی ہی نہ ہوئی…مگر کامیابی کا نسخہ مکمل تھا تو آج بھی ان کے کامیابی کے ہر طرف چرچے ہیں…اس پر کسی نے یہ عجیب جملہ لکھا ہے…

آج کی مسلمان لڑکیوں نے شادی کو ہی کامیابی سمجھ لیا ہے…اور اسی کی فکر میں روتی کڑھتی رہتی ہیں…کیا انہوں نے حضرت مریم کو نہیں دیکھا…کامیابی ایمان، اعمال صالحہ،حق کی دعوت اور صبر میں ہے…کاش آج کی ہر مسلمان لڑکی اپنا وقت انہیں چار کاموں میں لگائے…شادی میں خیر ہو گی تو خود دروازے پر آ جائے گی…خیر نہیں ہو گی تو ایسی شادی عذاب ہے…کتنی شادی شدہ عورتیں شادی کے بعد برباد ہو گئیں…اور جن کی شادی میں تاخیر ہو رہی ہے وہ بھی…نا شکری،بے صبری نہ کریں…خود کو بد نصیب نہ سمجھیں… حضرت سیدہ خدیجہؓ سالہا سال سے بیوہ بیٹھی تھیں …صبر کا پھل ان کو ایسا ملا کہ حضرت آقا مدنی ﷺ کی زوجہ مطہرہ بنیں…اور آج تک زمانہ ان پر رشک کرتا ہے…

جماعت کی نعمت

کامیابی کے چار نکاتی نصاب پر عمل ’’جماعت‘‘ کی برکت سے آسان ہو جاتا ہے…

حدیث شریف میں آیا ہے

اَلْجَمَاعَۃُ بَرَکَۃٌ

جماعت برکت ہے…

ہم الحمد للہ اس برکت کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ …جو کام انسان صدیوں میں نہیں کر سکتا وہ جماعت کی برکت سے ہفتوں اور مہینوں میں ہو جاتا ہے…کیونکہ جماعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے…ارشاد فرمایا

یداللّٰہ مع الجماعۃ

اللہ تعالیٰ کا ہاتھ…یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد جماعت کے ساتھ ہوتی ہے…دوسری روایت میں ’’یداللّٰہ علی الجماعۃ‘‘ کے الفاظ ہیں…جن کا مطلب یہ کہ جماعت اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتی ہے…اسی لئے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں…

’’فان الفرقۃ ھلکۃ والجماعۃ نجاۃ‘‘

تفرقہ ہلاکت ہے اور جماعت ’’نجات‘‘ ہے…ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی برکت سے انسان،خیانت،دل کے کینے اور نقصان سے محفوظ رہتا ہے،جماعت کی دعوت کلمہ طیبہ ہے…جو ایمان ہے…نماز کی اقامت یہ اعمال صالحہ کا سرتاج ہے…اور جہاد فی سبیل اللہ جو اعمال صالحہ کی بلند چوٹی،حق کی عملی دعوت اور صبر کا اصل میدان ہے…جماعت ہمیں ان کاموں میں لگائے رکھتی ہے اور یوں ہماری زندگی کا زمانہ اور وقت قیمتی بنتا ہے…وگرنہ یہی وقت گناہ ،غیبت،سازش،جھوٹ اور فتنے میں ضائع ہو سکتا ہے…

یا اللہ ہم سب کی ’’خسارے‘‘ سے حفاظت فرما…آمین یا ارحم الراحمین

لاالہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor