Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسلام کی عزت (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 467 - Saadi kay Qalam Say - islam ki izzat

اسلام کی عزت

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 467)

اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں اور سلام نازل ہوں،حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب پر …رضی اللہ تعالیٰ عنہ…سلام اللّٰہ علیہ ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ…جزاہ اللّٰہ خیر الجزاء عنا وعن امۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم…

لیجئے نیا اسلامی ہجری سال شروع ہو چکا ہے …اس کا نام ہے 1436؁ھ…

ہجری سال اور ہجری تقویم یعنی کیلنڈر کا آغاز…حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا…اس سال 1436؁ھ میں جب ’’چھ‘‘ کا ہندسہ نظر آیا تو نبوت کا چھٹا سال یاد آ گیا…دل نے خوش فالی لی کہ جس طرح 6؁ نبوی میں مسلمانوں کو ایک عظیم خوشی ،طاقت اور فتح ملی تھی…تو ان شاء اللہ 1436؁ھ بھی مسلمانوں کے لئے خوشی اور فتوحات کا سال ہو گا…یہ کوئی پیشین گوئی نہیں بلکہ ایک آرزو ہے، ایک دعاء ہے…

’’یا اللہ! اس نئے سال کو امت مسلمہ کے لئے خوشی اور فتوحات کا سال بنا دیجئے‘‘

نبوت کے چھٹے سال صرف تین دن میں مسلمانوں کو دو بڑی خوشیاں اور کامیابیاں ملیں… پہلی یہ کہ عرب کے مثالی بہادر شہسوار،حضرت آقا مدنی ﷺ کے حسین و جمیل اور با کمال چچا محترم…حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول فرمایا…

اس وقت مسلمان مردوں کی تعداد چالیس تک بھی  نہیں پہنچی تھی…بس مظلومیت تھی اور صبح شام کا دردناک تشدد…حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوئے تو یہ جماعت یکایک ایک طاقت بن گئی…آغاز اس قوت کا اس وار سے ہوا جو حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کے سر پر کیا اور اس ملعون کو لہولہان کر دیا…مسلمان مکہ میں بھی اپنی طاقت اور بساط کے مطابق لڑتے تھے…کئی واقعات سیرت کی کتب میں موجود ہیں…مگر عمومی حکم ہاتھ روکنے اور نماز قائم کرنے کا تھا…باقاعدہ جہاد کی اجازت نہ تھی…ہاں! دفاع کا حق اسلام نے کسی مسلمان سے ایک دن کے لئے بھی نہیں چھینا…حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے پر حضرت آقا مدنی ﷺ اور آپ کے حضرات صحابہ کرام کو جو خوشی ہوئی ہو گی…اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا…اللہ کی شان دیکھیں! اس خوشی کو تین دن ہوئے تھے کہ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ…حضرت آقا مدنی ﷺ کے زیر اقامت گھر کے دروازے پر پہنچ گئے…اندر موجود صحابہ کرام نے یہ سمجھا کہ حملہ کرنے آئے ہوں گے تب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی تلوار چمکنے لگی کہ آنے دو…نیت اچھی ہے تو مرحبا! اور اگر کوئی اور ارادہ ہے تو پھر آج زندہ واپس نہ جائیں گے…حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت ستائیس سال کے ایک دراز قد،معاملہ فہم ،عزتمند اور بے حد بہادر نوجوان تھے…اتنی سی عمر میں سرداران قریش میں ان کا شمار ہو تا تھا… رعب ، وجاہت،فصاحت اور ذہانت ایسی تھی کہ…اس وقت وہ اہل مکہ کے باقاعدہ سفیر تھے…باہر سے آنے والے حکام اور سفراء سے مذاکرات آپ کی ذمہ داری تھی…طبیعت شروع سے مضبوط تھی… اپنے آباء و اجداد کے دین پر پکے تھے اور اسلام سے سخت دشمنی تھی…روایات میں آیا ہے کہ حضرت آقا مدنی ﷺ نے…ایک جمعہ کی رات آپ کو اللہ تعالیٰ سے مانگ لیا…سبحان اللہ! کیسی عظیم سعادت ہے…اسلام کی عزت کے لئے سیدنا عمر بن خطاب کو مانگا گیا…

دعاء قبول ہوئی…کچھ حالات و واقعات ایسے بنے کہ دل پر اسلام کا نور چمکا…وہ دل جو ازل سے بناہی اسلام کے لئے تھا فوراً کلمہ طیبہ کے لئے مچل اٹھا…بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی…اسلام قبول کرنے کا اعلان فرمایا تو مظلوم مسلمانوں نے بے اختیار ایسا بلند آہنگ نعرہ لگایا کہ پورا مکہ گونج اٹھا…

اللہ اکبر کبیرا…اللہ اکبر کبیرا…اللہ اکبر کبیرا…

اسلام قبول ہوتے ہی عرض کرنے لگے کہ…جب ہم حق پر ہیں تو پھر کعبہ شریف میں کھلم کھلا سب کے سامنے نماز ادا کریں گے…چالیس مسلمانوں کا قافلہ گھر سے دو صفوں کی صورت میں نکلا…ایک صف کی کمان حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور دوسری صف کی قیادت حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے…

سبحان اللہ! حضرت آقا مدنی ﷺ کے جانثاروں کا پہلا باضابطہ قافلہ سوئے حرم جا رہا تھا…حضرت آقا مدنی ﷺ کی امارت اور امامت میں جب یہ قافلہ حرم شریف کو بڑھ رہا ہو گا تو …یقیناً آسمان بھی جھک جھک کر زمین کو شوق سے دیکھتا اور اس کی قسمت پر رشک کرتا ہو گا…حرم شریف میں روئے زمین کے قدسیوں کا یہ قافلہ داخل ہوا تو مشرکین مکہ ہکّے بکّے رہ گئے…وہ پریشان ہو کر ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ … یہ سب کیسے ممکن ہوا؟…معلوم ہوا کہ عمر بن خطاب مسلمان ہو چکے ہیں…تب مشرکین مکہ دل پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے آج اسلام اور مسلمانوں نے ہم سے عبرتناک بدلہ لے لیا ہے…اس دن سے لے کر یکم محرم 24؁ھ کا وہ دن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روضہ رسول ﷺ کے قرب میں تدفین ہو رہی تھی…اسلام بڑھتا گیا،اسلام بلندیوں کی طرف چڑھتا گیا…اسلام طاقتور ہوتا چلا گیا…اور اسلام دنیا میں پھیلتا چلا گیا…حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کی اس عزت اور ترقی میں اپنا عظیم حصہ ہر دن اور ہر رات پاتے چلے گئے…وہ کون سی سعادت ہے جو آپ نے حاصل نہ کی…وہ کون سا مقام ہے جسے آپ نے پیچھے نہ چھوڑا…اور وہ کون سی خیر ہے جس میں آپ کا حصہ شامل نہ ہوا…اے مسلمانو! سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے احسان کو سمجھو،دیکھو اور تسلیم کرو…اللہ تعالیٰ نے ’’حق‘‘ اور ’’عمر‘‘ کو لازم ملزوم بنا دیا…اور حق کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان اور آپ کے دل پر ڈال دیا…اب جہاں ’’عمر ‘‘ ہوتے ہیں حق بھی وہیں ہوتا ہے…اور جہاں حق ہوتا ہے ’’عمر‘‘ بھی وہیں ہوتے ہیں…جو اسلام قبول کرنے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جڑ گیا اس نے حق کے راستے کو پا لیا…اور جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کٹ گیا وہ حق سے بہت دور جا گرا…اللہ تعالیٰ حضرت علامہ سیوطیؒ کو جزائے خیر عطاء فرمائے…آپ نے حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب پر چالیس احادیث کا ایک مجموعہ مرتب فرمایا ہے…ہر مسلمان کو یہ مجموعہ پڑھنا چاہیے تاکہ ہم حق کے ساتھ دل کی محبت سے جڑے رہیں…علامہ سیوطیؒ نے کمال یہ فرمایا ہے کہ اس مجموعے کی پہلی حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لائے ہیں…

عن علی کرم اللّٰہ وجہہ ان رسول اللّٰہ ﷺ قال: ابو بکر و عمر سیدا کہول اہل الجنۃ من الاولین والآخرین ما خلا النبیین والمرسلین

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ابو بکر و عمر جنت کے تمام پکی عمر والوں کے سردار ہیں…انبیاء اور رسولوں کے علاوہ تمام اولین و آخرین کے…

اس مجموعہ میں ایک روایت یہ بھی ہے:

عمر منی وانا من عمر والحق بعدی مع عمر حیث کان

ارشاد فرمایا: عمر مجھ سے ہیں اور میں عمر سے ہوں اور میرے بعد حق ہرحال میں عمر کے ساتھ ہے…

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں…آپ روحانی دنیا کے بادشاہ اور تاجدار ہیں…شیطان ہمیشہ آپ کے نام تک سے ڈرتا ہے…روایات سے ثابت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کے بعد شیطان جب بھی آپ کے سامنے آیا تو فوراً منہ کے بل زمین پر جا گرا…حضور اقدس ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عرفات کے دن فرشتوں کے سامنے تمام اہل عرفہ پر فخر فرمایا… اور پھر خاص طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر فخر فرمایا…اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے پر فخر فرماتے ہیں تو مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ…ہم ان سے محبت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں…اور اگر کسی مسلمان کے دل میں…حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کچھ دوری ہو تو وہ استغفار کرے…توبہ کرے…اپنے دل کو شیطانی اثرات سے پاک کرے…حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا…جو عمر سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے…

حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ…حضور اقدس ﷺ کے جلیل القدر صحابی،حضور اقدس ﷺ کے زمین پر وزیر…حضور اقدس ﷺ کے محترم سسر اور…حضور اقدس ﷺ کے اہل بیت میں سے ہیں…آپ سابقین اولین مہاجرین میں سے ہیں…آپ اصحاب بدر میں سے ہیں…آپ ان میں سے ہیں جو احد کے دن پسپائی کے وقت آپ ﷺ کے ساتھ ڈٹے رہے…آپ اصحاب بیعت رضوان میں سے ہیں…آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں…آپ الہام و کشف کی دنیا کے امام…اور فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی رضامندی والے کاموںکی سمجھ رکھنے والے ہیں…آپ امیر المومنین اور اسلام کے نامور فاتح ہیں…مصر کی عورتیں آپ کے ایک مختصر خط کی برکت کو …آج بھی یاد کرتی ہیں…ورنہ دریا چلانے کے لئے ان کو زندہ دریا برد کیا جاتا تھا…ہر عفت مآب خاتون جب پردے کے انوارات پاتی ہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دعائیں دیتی ہے…

آپ نے زمین پر ایسی خلافت قائم کی کہ…چودہ سو برس سے زائد کا عرصہ گذر گیا کوئی بھی ایسی حکومت قائم نہ کر سکا…آپ کی روحانی قوت کا حال یہ تھا کہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر اپنے لشکروں کو خود چلاتے اور ان کے لئے راستے ہموار کراتے اور انہیں خطرات سے آگاہ کرتے تھے…آپ نے جس شخص کو بھی کوئی عہدہ دیا اس سے صحابہ کرام کی موجودگی میں یہ عہد لیا کہ…وہ عیاشیوں اور دنیا داریوں میں نہیں پڑے گا…سواری اور کھانے پینے تک میں سادگی اختیار کرے گا…اور اس کا دروازہ ہر وقت رعایا کے لئے کھلا رہے گا…آپ روئے زمین کے بادشاہ تھے مگر جب خطبہ دینے کھڑے ہوتے تو کُرتے پر کئی کئی پیوند نظر آتے…ان تمام فضائل و اعمال کے باوجود…اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کا یہ عالم تھا کہ زیادہ رونے کی وجہ سے چہرے پر آنکھوں کے نیچے باقاعدہ آنسوؤں کے نشانات پڑ چکے تھے…اسلام قبول کرنے کے بعد سے آپ کی ایک بڑی خواہش یہ تھی کہ…آپ کو شہادت کی موت نصیب ہو…شہادت کی فضیلت کی یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے عظیم صاحب علم اس کی شدید خواہش اور تمنا رکھتے تھے…غزوہ احد کے دن آپ نے اپنی زرہ اپنے بھائی کو دینا چاہی تو انہوں نے فرمایا…بھائی! آپ اپنے لئے جو چاہ رہے ہیں مجھے بھی اسی کی خواہش ہے…یعنی شہادت پھر دونوں بھائی بغیر زرہ میدان میں اتر گئے…آخری حج اپنی محترم ماؤں یعنی امہات المومنین کو بھی کرایا…واپسی پر گڑگڑا کر شہادت مانگی مگر ساتھ یہ بھی کہ…مدینہ منورہ میں یہ نعمت ملے…مدینہ منورہ امن کا گہوارہ…اور ہر طرف سے محفوط تھا بظاہر وہاں شہادت ملنے کی کوئی صورت نہ تھی مگر اللہ تعالیٰ نے انتظام فرما دیا…اللہ تعالیٰ حضرت عمر رضی اللہ کی برکات ہم سب کو اور امت مسلمہ کو وافر عطاء فرمائے…

آمین یا ارحم الراحمین…لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ  محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor