Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

اپنا عمل جاری (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 468 - Saadi kay Qalam Say - Apna Amal Jaari

اپنا عمل جاری

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 468)

اللہ تعالیٰ ’’صبر‘‘کرنے والوں کے ساتھ ہے

اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ

اللہ تعالیٰ ’’صبر‘‘ کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں

وَاللّٰہٗ یُحِبُّ الصَّابِرِیْنَ

ایک نظر دنیا پر

Oخبروں پر نظر ڈالی تو ہر طرف ماتم ہی ماتم نظر آیا…زندگی مفلوج،موبائل بند،سیکورٹی الرٹ اور ماتم رواں دواں…حضرت آقا مدنی ﷺ اور آپ کے آل و اصحاب دنیا سے ماتم ختم کرنے کی کوشش فرماتے رہے…مشرکین ’’ماتم‘‘ کے عادی تھے اسلام نے پابندی لگا دی…اسلام نے شہادت کو اعزاز اور تمغہ قرار دیا…شہداء کا مقام ایسا اونچا فرمایا کہ ہر مخلص مسلمان شہادت کا طلبگار ہوا…مگر پھر کچھ لوگ ماتم لے آئے…اس ماتم کا اسلام سے کچھ تعلق نہیں…

Oواقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے…حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو سلام،تمام شہداء کربلا کو سلام،قافلہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم پاکیزہ خواتین کو سلام…بہت بڑی قربانی ہے،بہت ہی بڑی…اور یہ قربانی خالص دین اسلام کے لئے ہے…اس قربانی کا تصور کرتے ہی دل روتا ہے اور ان عظیم ہستیوں کو کانپتے ہوئے خراج عقیدت پیش کرتا ہے…اس واقعہ میں ہم بس اتنا ہی جانتے ہیں اور بس اتنا جاننے میں ہی اپنی نجات سمجھتے ہیں کہ…حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ’’ حق‘‘ پر تھے…آپ کا موقف سچا اور برحق تھا…اور آپ نے جو کچھ کیا وہ سب ٹھیک اور درست تھا…ہم حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو…مشکوک تاریخی تحقیقات کے کٹہرے میں کھڑا کرنا جرم گستاخی اور بے ادبی سمجھتے ہیں…بلکہ اس موضوع پر ہر روز نئی تحقیق، نئے مطالعہ اور نئے انکشافات کو بھی ایک مرض اور فتنہ سمجھتے ہیں…جو لوگ اس مرض اور اس فتنے کا شکار ہیں وہ آل رسول ﷺ کے مقام کو نہ سمجھ سکے…انہیں چاہیے کہ توبہ کریں، اپنے دل پاک کریں، ایسی عظیم پاکیزہ ہستیوں کے لئے اپنے دل میں بغض اور اعتراضات لے کر مریں گے تو …قیامت کے دن کیا منہ لے کر حاضر ہوں گے…تاریخ بہت جھوٹ بکتی ہے…واقعات کو ہر انسان اپنے تناظر سے نقل کرتا  ہے…ہماری آنکھوں کے سامنے بے شمار ایسے واقعات ہیں جنہیں ہر انسان اپنی سوچ کے مطابق بیان کرتا ہے…ہم پر لازم ہے کہ ہمیں ان سے پیار ہونا چاہیے جن سے ہمارے محبوب آقا محمد مدنی ﷺ کو پیار ہے…اور ہم ہر ایسی بات سے دور رہیں جو اس پیار اور محبت کو پھیکا یا کمزور کرنے والی ہو…واقعہ کربلا پر لکھنے والے بھی احتیاط سے لکھا کریں ہمیں تو ابھی تک اس واقعہ پر کچھ لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہو سکی…

Oدنیا میں اس وقت ’’ایبولا‘‘ نامی ایک مہلک بیماری ’’وبا‘‘ کی شکل اختیار کر رہی ہے… افریقہ میں ہزاروں افراد اس بیماری کا لقمہ بن چکے ہیں…اور اب یہ مرض امریکہ تک جا پہنچا ہے…یہ ہے آج کی ترقی اور میڈیکل سائنس کا عروج کہ …ہر روز نئی بیماری اور نئی مصیبت…یہ دنیا ترقی نہیں خود کشی کی طرف بڑھ رہی ہے…انسانوں کی بے صبری نے زمین کو دھوئیں،کثافت اور ایٹمی شعاعوں سے  بھر دیا ہے…حضرت آقا مدنی ﷺ نے ہمیں دعاء سکھا دی ہے کہ …ہم اسے مانگا کریں اور برے امراض سے محفوظ رہیں…

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَسَیِّیِٔ الْاَسْقَامِ

یا اللہ! مجھے اپنی پناہ دے دیجیے کوڑھ، برص، پاگل پن اور ہر بری بیماری سے

آج کل فالج کا مرض بہت عام ہے… خبروں میں آیا ہے کہ پاکستان میں روزآنہ چار سو افراد فالج سے وفات پا رہے ہیں…حدیث شریف میں فالج سے حفاظت کا وظیفہ ارشاد فرمایا ہے…

صبح اور شام …یعنی فجر اور مغرب کے بعد تین بار پڑھیں

سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

یقین کے ساتھ جو دعاء پڑھی جائے وہ ضرور اثر کرتی ہے…اس دعاء میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں…

سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ

کتاب اس وقت ساتھ نہیں وگرنہ مکمل روایت حوالہ کے ساتھ لکھ دی جاتی…ان شاء اللہ اگلے کالم میں آ جائے گی…مگر معمول میں ابھی سے شامل کر لیں تو اچھا ہے…

Oامریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں…اور وہاں بس ایک ہی بات کا شور ہے کہ صدر اوبامہ کی ’’ریٹنگ‘‘ گر رہی ہے…مطلب یہ کہ صدر اوبامہ کی مقبولیت ختم ہو رہی ہے اور وہ امریکہ کا ایسا بے عزت اور ذلیل شہری بن چکا ہے کہ…ہر کوئی اس سے اپنا دامن بچا رہا ہے…گذشتہ دنوں اسے گولف کھیلنے کا شوق ہوا تو اس کے عملے کے افراد جگہ ڈھونڈتے رہ گئے مگر کسی گولف کلب نے اسے اپنے ہاں آنے کی اجازت نہ دی…

اسے کہتے ہیں:

خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ

نہ دنیا ملی نہ آخرت…اس نے ایک مسلمان کے گھر آنکھ کھولی…پھر کفر کی گود میں گرا، جان توڑ محنت کی اور امریکہ کا صدر بنا…مسلمانوں پر مظالم کئے،نامور ہستیوں کو شہید کیا کہ ہیرو بن جائے مگر آج جب زندگی بھی اختتام پر ہے وہ محض ایک ’’زیرو‘‘ ہے…

بس بھائیو! یہی حال ہے دنیا کی عزت کا…جو بھی دنیا کی عزت کے چکر میں پڑتا ہے اور لوگوں میں محبوب و مقبول ہونے کو ہی اپنا ہدف بناتا ہے وہ بالآخر اسی دنیا میں ذلت پاتا ہے…اوبامہ تو ایک کافر ہے…بہت سے مسلمان رات دن مقبولیت و محبوبیت کے چکر میں پڑے رہتے ہیں…اس کے لئے طرح طرح کے وظیفے کرتے ہیں…طرح طرح کے پتھر اپنی انگوٹھیوں میں ڈالتے ہیں…ہرن کی کھال پر نقش بنواتے ہیں…اور معلوم نہیں کیا کچھ کرتے ہیں…اللہ تعالیٰ ایسی فکر سے ہماری حفاظت فرمائے…اصل عزت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہو…اصل عزت دین کی عزت ہے…کبھی نہ ختم ہونے والی عزت،کبھی نہ پرانی ہونے والی عزت…یہ عزت اہل اخلاص کو ملتی ہے…جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو راضی اور خوش کرنے کے لئے اعمال کرتے ہیں…جو دین کی خاطر قربانی دیتے ہیں…جو خود کو مٹاتے ہیں…جو مخلوق کی خدمت کرتے ہیں…اور جو آخرت کے طلبگار ہوتے ہیں…

Oقاتل مودی کا رخ اس وقت کشمیر کی طرف ہے…وہ کشمیر میں انتخابات جیتنا چاہتا ہے اور پھر کشمیر اسمبلی کے ذریعہ…کشمیر کو انڈیا کی مکمل غلامی میں لانا چاہتا ہے…اس کے لئے اس نے بھر پور انتظامات کر لئے ہیں…مگر ’’مودی‘‘ جو کچھ سوچ رہا ہے وہ ان شاء اللہ ہر گز نہیں ہو گا…کشمیر میں انتخابات وہ جیت سکتا ہے کیونکہ اکثر کشمیری مسلمان ووٹ ہی نہیں ڈالتے…مگر وہ نہ تو کشمیریوں کے دل جیت سکتا ہے اور نہ ہی آزادی کی سوچ کشمیریوں کے ذہنوں سے کھرچ سکتا ہے…ہاں! اس کے مظالم البتہ تحریک کو پھر گرم کر دیں گے…اور ان شاء اللہ جہاد کشمیر کا ایک نیا دور دہلی  کے ایوانوں کو لرزا دے گا…

مودی یاد رکھنا! یہ دھمکی یا لفاظی نہیں…زمینی حقیقت ہے جسے ان شاء اللہ دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھے گی…

نیکی جاری رکھیں

آج ’’صبر‘‘ کے موضوع پر لکھنے کا ارادہ تھا…صبر ایمان کا آدھا حصہ اور کامیابی کی چابی ہے…صبر وہ سب سے بھلی اور وسیع نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عطاء فرماتے ہیں…اور صبر کا اجروثواب بے حساب ہے…قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نوّے(90) مقامات پر صبر کا تذکرہ فرمایا ہے،صبر کا حکم دیا ہے …اور صبر کے فضائل،فوائد اور مناقب بیان فرمائے ہیں…صبر کے تین اجزاء ہیں:

(۱) نیکیوں پر ڈٹے رہنا

(۲) مصیبتوں سے نہ لڑکھڑانا

(۳) گناہوں سے خود کو روکنا

اس میں سب سے پہلا اور اہم درجہ یہ ہے کہ …انسان ایمان پر اور نیک اعمال پر مضبوط ہو…حالات جیسے بھی ہوں…نتائج جیسے بھی سامنے آئیں…مسلمان اپنی نیکی اور اپنے عمل کو جاری رکھے…آج ہمارے اندر اس بارے میں بے حد کمزور آ چکی ہے…وہ اعمال جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے شروع کئے جاتے ہیں…اچانک کسی پریشانی،مایوسی یا حالات کی خرابی کی وجہ سے چھوڑ دئیے جاتے ہیں…جو اس بات کا ثبوت بن جاتا ہے کہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں تھا…اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا تو پھر کیوں چھوڑا جاتا؟

ذرا سی تکلیف آئی تو عمل بند…لوگوں نے ذرا سی ناقدری کی تو عمل بند…ذرا سا وسوسہ کسی شیطان نے دل میں اتارا تو عمل بند…دنیاوی نتائج میں تھوڑی سی تاخیر ہوئی تو عمل بند دعاء بند…یہ وفاداروں کا طریقہ نہیں…کامیاب وہی ہوتے ہیں جو ہر طرح کے حالات میں لگے رہتے ہیں،ڈٹے رہتے ہیں…اور نتائج سے بے فکر ہو کر اپنی نیکی اور اپنے عمل کو جا ری رکھتے ہیں…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online