Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مقاماتِ دعاء (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 469 - Saadi kay Qalam Say - Maqamat-e-Dua

مقاماتِ دعاء

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 469)

اللہ تعالیٰ جسے عزت دینا چاہیں…اُسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا…اللہ تعالیٰ جسے رزق دینا چاہیں اسے کوئی رزق سے محروم نہیں کر سکتا…بس یہی بات حقیقت ہے…باقی جو کچھ دل میں آتا ہے وہ سب جھوٹ ہے وہ سب وسوسہ ہے…فلاں مر گیا تو میرا کیا بنے گا؟…فلاں نے مجھے چھوڑ دیا تو میں کہاں جاؤں گا؟…

کسی کے مر نے سے کسی کی روزی بند نہیں ہوتی…کیونکہ رازق اور رزاق صرف اللہ تعالیٰ ہے…وہی ’’رب‘‘ ہے پالنے والا…رب العالمین…کسی کے آنے جانے سے کسی کی ’’عزت‘‘ پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ عزت کا مالک بھی اللہ…اور ذلت کا فیصلہ فرمانے والا بھی اللہ

وتعز من تشاء وتذل من تشاء

کلمہ طیبہ پر یقین …کلمہ طیبہ کا وِرد یہ آخری سانس تک کا وظیفہ ہے…کلمہ طیبہ میں ہم جتنا غور کریں گے،اس کلمہ کو ہم جتنا سمجھیں گے،جتنا پڑھیں گے…اور اس کلمہ کی ہم جس قدر دعوت دیں گے…اسی قدر ہمارا تعلق…اپنے مالک اور خالق سے مضبوط ہو گا…اور ہم مخلوق کی محتاجی سے آزاد ہوں گے

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

کوئی خط میں لکھتا ہے کہ نماز میں سستی ہو رہی ہے…انا للہ وانا الیہ راجعون…کوئی لکھتا ہے کہ کلمہ طیبہ کے ورد میں سستی ہو رہی ہے…انا للہ وانا الیہ راجعون…کوئی کہتا ہے کہ جہاد کا شوق دل میں کمزور ہو رہا ہے…اناللہ واناالیہ راجعون… ہاں! اصل مصیبتیں یہی ہیں اور ان پر دل سے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا چاہیے…پرانے زمانے کا قصہ لکھا ہے کہ ایک صاحب گھر میں داخل ہوئے بے حد پریشان وہ بار بار کہہ رہے تھے…مصیبت آ گئی بڑی مصیبت…ہائے مصیبت…ان کی بیوی بڑے کامل ایمان اور علم والی تھی…اس نے خاوند کو تسلی سے بٹھایا اور عرض کیا…میرے سرتاج! آپ اس قدر پریشان ہیں اور مصیبت مصیبت پکار رہے ہیں… کیا مسلمانوں کے امیر کا انتقال ہو گیا؟امیر المومنین وفات پا گئے…خاوند نے کہا …نہیں…بیوی نے کہا: کیا مسلمانوں کے کسی علاقے پر کافروں نے قبضہ کر لیا ہے؟ … خاوند نے کہا: نہیں …بیوی نے پوچھا…کیا کچھ مسلمانوں کو کافروں نے گرفتار کر لیا ہے؟…خاوند نے کہا: نہیں…بیوی نے پوچھا: کیا کسی محاذ پر مسلمانوں کو کفار سے شکست ہوئی ہے؟خاوند نے کہا: نہیں…بیوی نے پوچھا: کیا کچھ دیندار مسلمانوں نے دین پر عمل چھوڑ دیا ہے؟خاوند نے کہا: نہیں…بیوی نے اطمینان کا سانس لیا اور کہنے لگی…اگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تو پھر کوئی مصیبت نہیں…غم ،بیماری،مالی پریشانی کئی بار انسان کے فائدہ کے لئے ہوتی ہے…جسم میں کینسر بن رہا تھا اچانک ایکسیڈنٹ ہوا ٹانگ میں سخت چوٹ لگی اور اس چوٹ کے درد نے کینسر کو جسم سے اکھاڑ کر نکال دیا…جسم میں شوگر بن رہی تھی…اچانک کہیں شدید درد ہوا اور اس درد کی کڑواہٹ نے شوگر کو جسم میں جمنے سے پہلے نکال پھینکا…کچھ مالی پریشانی آئی تو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا…دن رات کی دعاء اور عبادت نے گناہوں کے گودام کو جلا کر دل کو پاک کر دیا…ہم جن چیزوں کو مصیبت سمجھتے ہیں…ان میں سے اکثر مصیبت نہیں، نعمت ہوتی ہیں…جبکہ اصل مصیبت تو یہ ہے کہ…ابھی سانس جاری ہے اور نماز میں سستی شروع ہو گئی…توبہ توبہ…کیا ایک مسلمان اپنی زندگی میں نماز سے بھی سست ہو سکتا ہے؟…مصیبت ہے،مصیبت…سچ پوچھئے تو کینسر اور شوگر سے بڑی مصیبت کہ مسلمان فرض میں بھی سستی کرنے لگے…کلمہ نہیں تو کیا زندگی…نماز نہیں تو کیا زندگی…جہاد نہیں تو کیا زندگی…امانت نہیں تو کیا زندگی…کوئی ہے جو اپنی نماز درست کرنے کے لئے اتنی فکر کرے جتنی اپنی بیماری کے علاج کی کرتا ہے؟…کئی اللہ والوں کے ہاں بیٹھنا ہوا،دل کو بڑا صدمہ لگا کہ لوگوں کا ہجوم ان سے بھی صرف دنیا کے مسائل حل کرنے کے لئے رجوع کر رہا ہے…کوئی نہیں دیکھا کہ رو رہا ہو کہ…حضرت! خاص دعاء کر دیں کہ مرتے وقت ایمان سلامت رہے،مجھے قبر میں عذاب نہ ہو…میری نماز آخری سانس تک پختہ رہے…ہر کوئی بس دنیا کے مسائل کے لئے پریشان ہے،رو رہا ہے…اور اللہ والوں سے اللہ کا راستہ پوچھنے اور سمجھنے کی بجائے…مال کی کثرت کے تعویذ مانگ رہا ہے…

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

اس میں کوئی شک نہیں کہ…مال بھی انسان کی اہم ضرورت ہے…رزق حلال کے لئے دعاء کرنا اور دعاء کروانا بھی نیکی ہے…رزق حلال کے لئے مسنون اور مشروع وظائف کرنا بھی اچھی بات ہے…اللہ تعالیٰ سے وہی مانگتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ’’رب العالمین‘‘ مانتا ہے…مگر ہمارے اصل مسائل کچھ اور ہیں…بہت اہم،حد سے زیادہ اہم…ہمیں ان کی فکر بھی کرنی چاہیے… ایمان پانا،ایمان کو سلامت رکھنا،فرائض کی پابندی نصیب ہونا…دین کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق ملنا…موت،قبر اور آخرت کی تیاری کرنا …اسلام کی عظمت اور امت مسلمہ کے تحفظ کی فکر کرنا…امت مسلمہ میں دین پھیلانے کی فکر کرنا …اگر ہمیں یہ نعمتیں نصیب ہو جائیں تو پھر دنیا بھر کے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں…خود سوچیں …ایک مسلمان اس مقام پر ہے کہ وہ …شہادت کے لئے ایک ایک لمحہ گن کر گزار رہا ہے…دن رات شہادت مانگتا ہے…خود کو دین کے فدائی کے طور پر پیش کرتا ہے…جبکہ دوسرا مسلمان نماز تک میں غفلت اور سستی کر رہا ہے اور خود کو گلے تک دنیا میں پھنساتا جا رہا ہے…کیا یہ مصیبت زدہ نہیں ہے؟…یہ خود کو مصیبت میں سمجھے گا تبھی اپنا علاج کرائے گا…اپنے روحانی علاج کے لئے دو رکعت نماز ادا کرے گا…اللہ تعالیٰ کے سامنے روئے گا…بار بار بے چین ہو کر دعاء مانگے گا… دل کے درد کے ساتھ اللہ،اللہ پکارے گا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت…اس کی مصیبت کو دور کر دے گی… یہاں ایک اور بات بھی سمجھ لیں …نماز میں اللہ تعالیٰ کی مدد ہے…اور نماز ہمارے مسائل کا حل ہے…نماز میں جو دعائیں مانگی جائیں وہ جلد قبول ہوتی ہیں…مگر آج اکثر مسلمانوں کی نماز میں کوئی دعاء ہوتی ہی نہیں…بس آٹو میٹک نماز…’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر خیالوں میں گم ہوئے اور ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ پر دنیا بھر کی سیر کر کے واپس آ گئے… اب ایسی نماز میں ہم نے اللہ تعالیٰ سے کیا مانگا اور کیا لیا؟…ابھی بالکل تازہ واقعہ ہے کسی نے بتایا کہ اسے سخت مالی پریشانی آ گئی…قریب تھا کہ وہ قرضہ کی مصیبت میں جکڑا جاتا…اس نے فوراً نماز کی طرف توجہ کی…دو رکعت نماز اور اس میں جو دعاء کے مقامات ہیں…ان میں یہ دعا:

اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ

رکوع میں تسبیح پڑھنے کے بعد دس بار یہی دعائ…پھر رکوع سے کھڑے ہو کر سمع اللّٰہ لمن حمدہ،ربنا لک الحمد کے بعددس بار یہی دعائ…پھر سجدے میں دس بار،سجدے سے اٹھ کر دس بار اور دوسرے سجدے میں دس بار … اور التحیات کے آخر میں دس بار…یوں یہ مسنون دعا ء ایک سو دس بار ہو گئی…نماز میں توجہ بھی رہی اور یہ خیال بھی کہ میں اپنا مسئلہ اپنے رب کو پیش کر رہا ہوں…الحمد للہ دو چار دن میں مسئلہ حل ہو گیا…

ایک صاحب نے بتایا کہ وہ ایک مصیبت میں پھنس گئے…انہوں نے نماز میں دعاء کے مقامات پر استغفار شروع کر دیا…دو رکعت نماز میں دو سو بار تین سو بار استغفار

اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَاَتُوبُ اِلَیہِ

اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا اور مصیبت سے نجات عطا فرما دی…

نماز میں دعاء کے مقامات سات ہیں…مگر یہ نفل اور سنتوں میں زیادہ بہتر ہے… (۱)پہلی رکعت میں تکبیر اولیٰ کے بعد قراء ت شروع کرنے سے پہلے(۲) رکوع میں(۳) رکوع سے کھڑے ہو کر یعنی قومہ میں(۴) سجدہ میں(۵) سجدہ سے اٹھ کرجلسہ میں(۶) دوسرے سجدہ میں (۷) آخری قعدہ میں درود شریف کے بعد…

اب جس کو جو حاجت ہو وہ اس کی دعاء ان مقامات پر توجہ اور کثرت سے کر لیا کرے…مثلاً کوئی اپنے اندر حرص اور لالچ محسوس کر رہا ہے… بڑا خطرناک اور ذلیل کرنے والا مرض ہے…وہ دو رکعت نماز میں ان سات مقامات پر حرص اور لالچ سے حفاظت کی دعاء مانگے:

اَللّٰھُمَّ قِنِی شُحَّ نَفْسِی

یا اللہ! مجھے میرے نفس کی حرص اور لالچ سے بچا لیجئے

اور پھر اس وقت تک یہ عمل کرتا رہے جب تک دل پاک نہ ہو جائے…کوئی اپنے اندر سستی اور بے کاری محسوس کر رہا ہے تو وہ یہ دعاء پڑھے

اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ

کوئی اپنے اندر نفاق محسوس کر رہا ہے تو نفاق سے حفاظت کی دعاء پکڑ لے… کوئی بیمار ہے تو شفاء کی دعاء اپنا لے…کسی کو عذاب قبر کا خوف ہے تو وہ عذاب قبر سے حفاظت کی دعاء تھام لے …یوں ہماری نماز بھی جاندار ہوتی جائے گی،دعاء بھی قبول ہو گی…اور ان شاء اللہ مسائل بھی حل ہوں گے…مجاہدین کو خاص طور پر فتنوں سے حفاظت کی دعاء اپنانا چاہیے

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ

مجاہدین اس امت کے خاص اور برگزیدہ لوگ ہیں…سچے امانت دار اور مخلص مجاہدین ہی اس امت کے اولیاء صدیقین ہیں…مجاہدین ہوں گے اور ان کا جہاد جاری رہے گا تو دین کی حفاظت اور عظمت رہے گی…اس لئے شیطانی قوتیں اور ان کے انسانی آلہ کار مجاہدین کو فتنوں میں ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں…نماز اور نماز میں مانگی گئی دعاؤں سے مجاہدین کو مضبوطی حاصل کرنی چاہیے…واستعینوابالصبروالصلوۃ

فالج سے حفاظت کا نسخہ

گذشتہ کالم میں فالج سے حفاظت کا نسخہ عرض کیا گیا تھا…فجر اور مغرب کو تین بار

سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

یہ عمل ایک…مرفوع حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے…یہ حدیث کئی کتابوں میں موجود ہے …مثلاً المعجم الکبیر للطبرانی،مسند احمد،اسد الغابہ لابن الاثیر،عمل الیوم والیلۃ لابن السنی…

یہ ایک بزرگ صحابی ہیں…حضرت قبیصہ بن المخارق الہلالی رضی اللہ عنہ

یہ رسول اللہ ﷺ کے ننہیال میں سے تھے … بعد میں ان کے ایک صاحبزادے مسلمانوں کے بڑے کمانڈر اور سجستان کے گورنر بھی بنے…

انہوں نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بہت بڑھاپے اور کمزوری کی حالت میں حاضری دی…آپ ﷺ نے ان کا اکرام فرمایا اور ان کے علم اور دین سیکھنے کے جذبہ کی تعریف فرمائی… انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا:

 یارسول اللّٰہ! علمنی شیئا ینفعنی اللّٰہ بہ فی الدنیا والآخرۃ

یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجیے جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ مجھے دنیا اور آخرت میں نفع عطا فرمائے

ساتھ یہ بھی عرض کیا کہ…مختصر عمل ہو کیونکہ میں بہت بوڑھا ہوں،زیادہ بھول جاتا ہوں…

آپ ﷺ نے انہیں دو دعائیں تلقین فرمائیں …پہلی یہی کہ صبح کی نماز کے بعد تین بار پڑھا کریں:

سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

اس کی برکت سے چار بیماریوں سے حفاظت رہے گی…(۱) کوڑھ (۲) پاگل پن (۳) اندھا پن (۴) فالج

دراصل بڑھاپے میں انہیں چار امراض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے…

اہل علم نے حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے…مگر ان کلمات کی برکت اور فضیلت کا سب کو اعتراف ہے کیونکہ کئی اور روایات بھی ان مبارک کلمات کے فضائل پر موجود ہیں…

ایک روایت میں تو یہاں تک آیا ہے کہ… جو شخص نماز کے بعد تین بار یہ کلمات پڑھ لے وہ ایسی حالت میں وہاں سے اٹھتا ہے کہ…اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے

سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor