Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

آغاز ِغزوات (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 471 - Saadi kay Qalam Say - Aghaz e Ghazawat

آغاز ِغزوات

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 471)

اللہ تعالیٰ کا نام مبارک…ایسا بابرکت کہ اس کی ’’برکت‘‘ سے ہر ’’نحوست‘‘ دور ہو جاتی ہے…

ہم اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرتے ہیں …نئے ہجری مہینے ’’صفر المظفر‘‘ کو…

’’بِسْمِ اللّٰہِ عَلیٰ شَہْرِ صَفَرْ‘‘

ایک صحابی نے عرض کیا…یا رسول اللہ! میں جہاد میں مصروف رہتا ہوں،میرا مال نہیں بڑھتا…

ارشاد فرمایا: صبح صبح پڑھ لیا کرو…

بِسْمِ اللّٰہِ عَلیٰ نَفْسِیْ ،بِسْمِ اللّٰہِ عَلیٰ اَہْلِیْ وَمَالِی

اللہ تعالیٰ کا نام…میری جان پر…اللہ تعالیٰ کا نام میرے مال اور میری اہل اولاد پر…

اللہ تعالیٰ کا نام آیا تو مال خود بخود بڑھنے لگا…وہ جہاد میں لگے رہے اور مال کو ’’بسم اللہ‘‘ کی برکت بڑھاتی رہی…آج اسلامی سال کے دوسرے مہینے ’’صفر‘‘ کی پہلی تاریخ ہے…اس مہینہ کو کئی لوگ نعوذ باللہ نحوست والا مہینہ سمجھتے ہیں …اور بعض لوگ اس مہینہ کے آخری بدھ کو نحوست والا قرار دیتے ہیں…اسی لئے ابتداء ہی میں نحوست سے حفاظت کا عمل عرض کر دیا کہ…اللہ تعالیٰ کا نام ہر نحوست کو بھگا دیتا ہے…آپ ایک بار نہیں ہزار بار تجربہ کر کے دیکھ لیں…آپ کو ہر اس چیز میں ’’برکت‘‘ اپنی آنکھوں سے نظر آئے گی جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لے لیا جائے…ویسے یاد رکھیں کہ صفر کے مہینے میں کوئی نحوست نہیں…یہ مشرکین کا عقیدہ اور نظریہ تھا …حضور اقدس ﷺ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید فرما دی… حدیث بخاری شریف میں موجود ہے…صفر کے معنی ’’خالی‘‘ مگر خیر سے خالی نہیں…دراصل عرب لوگ اس مہینہ میں جنگوں پر نکل جاتے اور ان کے گھر اور علاقے خالی رہ جاتے تو مہینے کا نام ’’صفر‘‘ پڑ گیا…پچھلے تین مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم میں وہ جنگ نہیں کرتے تھے…مگر جیسے ہی محرم ختم ہوتا وہ فوراً نکل پڑتے…دوسرا یہ کہ عرب کے بہادر قبائل جس پر بھی حملہ کرتے اسے مال و اسباب سے ’’خالی‘‘ کر چھوڑتے…اس مناسبت سے مہینے کا نام صفر پڑ گیا…اللہ تعالیٰ اس مہینہ کو مسلمانوں کے لئے …ہر آفت اور شر سے ’’خالی‘‘ صفر بنا دے…ہم تو اس مہینہ کو اس لئے بھی برکت والا سمجھتے ہیں کہ اسلام کا پہلا ’’غزوہ‘‘اس مہینہ میں ہوا…یہ بات یاد کر لیں کہ ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا عملی آغاز حضور اقدس ﷺ کی ہجرت مبارکہ کے سات ماہ بعد ہی ہو گیا…اسلام کا پہلا جہادی لشکر حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی کمان میں حضور اقدس ﷺ نے روانہ فرمایا…اسی مناسبت سے اسے ’’سریہ حمزہ رضی اللہ عنہ‘‘ کہا جاتا ہے…جبکہ سب سے پہلا غزوہ ہجرت کے بارہویں مہینے میں ہوا…اس غزوہ کا نام…’’غزوہ ابوائ‘‘ ہے اور اسے ’’غزوہ ودّان‘‘ بھی کہتے ہیں…ابواء اور ودان دو قریب قریب علاقوں کے نام تھے…

یہ حضور اقدس ﷺ کا پہلا غزوہ ہے جبکہ آخری غزوہ تبوک ہے…غزوہ اس جہاد کو کہتے ہیں جس میں مسلمانوں کے لشکر کی کمان حضرت آقا مدنی ﷺ نے خود فرمائی…حسن اتفاق دیکھیں… اور خوش بختی کا عروج کہ اسلام کے پہلے ’’سریہ‘‘ کی کمان حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ فرمارہے تھے… اوراسلام کے پہلے غزوہ میں لشکر کا جھنڈا حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا…اس زمانے کی جنگوں میں جھنڈے کی بڑی اہمیت تھی … جب تک لشکر کا جھنڈا بلند رہتا لشکر غالب رہتا … اسی لیے جھنڈا بہت ہی بہادر اور ثابت قدم شخص کے ہاتھ میں دیا جاتا تھا…اور اس کے آس پاس بھی ایسے مضبوط افراد موجود رہتے جو ’’علمبردار‘‘ کی شہادت کی صورت میں فوراً جھنڈا تھام لیتے… حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ راہ جہاد کے ابتدائی مسافر تھے اور آپ کا یہ باسعادت سفر ہجرت کے تیسرے سال غزوہ احد میں…بصورت شہادت مکمل ہوا…

جی ہاں! مزہ تو تبھی ہے جب سفر جہاد کا اختتام مقبول شہادت پر ہو…اس لئے ہر مجاہد کو…دن رات مقبول شہادت کی دعا کا اہتمام کرنا چاہیے…جو مسلمان دل کے یقین کے ساتھ شہادت مانگتا ہے…اسے شہادت کا مقام ضرور ملتا ہے خواہ وہ اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے…پس جب بھی کوئی مقبولیت کی گھڑی دیکھیں…فوراً دل کے شوق سے شہادت مانگ لیں…جب صدقہ دیں تو اس کے بعد شہادت مانگ لیں…جب کوئی ذکر یا وظیفہ کریں تو اس کے بعد اخلاص کے ساتھ شہادت مانگ لیں…یہ بار بار مانگنے کی چیز ہے…یہ مل جائے تو سارے مسئلے حل…اسلام کا پہلا غزوہ ’’صفر المظفر‘‘ کے مہینے میں برپا ہوا…حضرت آقا مدنی ﷺ اپنے ساٹھ جانثاروں کے ساتھ قریش کے ایک قافلہ پر حملہ فرمانے تشریف لے گئے…یہ قافلہ پہلے ہی نکل گیا تھا تو لشکر کا رخ اپنے دوسرے ہدف بنو ضمرہ کی طرف ہوا… بنوضمرہ نے جنگ نہ کی بلکہ صلح اور معاہدہ پر آمادہ ہوئے…یہ جہادی سفر پندرہ دن کا تھا…پندرہ دن بعد یہ لشکر بخیر و خوبی مدینہ منورہ لوٹ آیا…اچھا یہاں ایک بات بتائیں…آپ جب کسی ایسے اسلامی لشکر کا حال پڑھتے ہیں جس کی کمان خود حضرت آقا مدنی ﷺ فرما رہے تھے… توآپ کے دل کا کیا حال ہوتا ہے؟سچی بات ہے کہ دل پر جو کیفیت گذرتی ہے وہ زبان اور قلم سے بیان نہیں ہو سکتی…  ؎

کسی کو کیا خبر دل پر ہمارے کیا گذرتی ہے

کتنے خوش نصیب تھے وہ مجاہدین جو حضور اقدس ﷺ کی قیادت میں …جہاد پر نکلتے تھے …اور خود حضرت آقا مدنی ﷺ اپنے جنگی اور جہادی لباس میں کیسے لگتے ہوں گے؟…سر مبارک پر جنگی خود، جسم اطہر پر سجے ہوئے ہتھیار …ہاتھ مبارک میں چلتی تلوار…ہائے! وہ ’’تلوار ‘‘ بھی اپنی قسمت پر ناز کرتی ہو گی…میرے محبوب آقا مدنی ﷺ کے پاس گیارہ تلواریں تھیں…اور ہر تلوار دوسری سے بڑھ کر تیز اور قیمتی…ایک عام مجاہد کا قدم جب جہاد میں مٹی پر پڑتا ہے تو یہ مٹی…جنت کی زمین بن جاتی ہے…تو اس مٹی کا کیا مقام ہو گا جس پر حضرت آقا مدنی ﷺ کے جہادی قدم مبارک پڑتے ہوں گے…وہ مٹی تو اپنی افضلیت پر آسمانوں کو چیلنج کرتی ہو گی…اور جیت جاتی ہو گی…ہجرت کے ساتویں مہینے حضرت آقا مدنی ﷺ نے جہاد کا جو پرچم مسلمانوں کے حوالے فرمایا…وہ پرچم ان شاء اللہ قیامت تک لہراتا رہے گا…امت کے خوش نصیب افراد اس پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیں گے… اے وہ مسلمانو! جنہیں اس زمانے میں جہاد فی سبیل اللہ کا تعلق نصیب ہے…اپنی خوش نصیبی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو…جہاد کے منکر کبھی مسلمان نہیں ہو سکتے…بے شک ساری رات عبادت میں گذاریں…اور سارا دن دینی کتابوں کی ورق گردانی کریں…کل مینار پاکستان پر کسی نے جہاد و قتال کی بات کر دی تو …مسلمانوں میں گھسے ہوئے فرنگی انڈے چٹخنے لگے…ایک طرف یہ منظر ہے کہ حضور اقدس ﷺ خود تلوار اٹھائے جہاد پر تشریف لے جا رہے ہیں…اور دوسری طرف یہ منظر کہ خود کو مسلمان کہلوانے والے افراد کو…جہاد کا نام سننا بھی گوارا نہیں…یہ مسلمان ہیں یا نگریزی فارمی انڈے؟…یہ امت محمدیہ کے افراد ہیں یا امریکی پالتو چوہے؟…

صفر کے مہینے میں ایک اور بڑا اسلامی غزوہ بھی ہوا…یہ ہے ’’غزوہ خیبر‘‘ اس میں روانگی تو محرم کے آخر میں ہوئی مگر جنگ اور فتح صفر الخیر کے مہینے میں ہوئی…غزوہ خیبر یہودیوں کے خلاف تھا اور اس غزوہ نے مسلمانوں کو بہت مستحکم کر دیا…امید ہے کہ آپ نے غزوہ خیبر کے واقعات پڑھ رکھیں ہوں گے…نہیں پڑھے تو آج ہی سیرت کی کسی کتاب یا فتح الجواد میںپڑھ لیں…موبائل کی آفتوں میں سے ایک آفت یہ بھی ہے کہ مسلمان ’’کتابوں‘‘ سے کٹتے جا رہے ہیں…

اب ہر چیز کانوں سے سنی جاتی ہے…اور کانوں کے ڈاکٹروں کے پاس مریضوں کا ہجوم ہے …کتاب کو پڑھنے سے علم ملتا ہے…آنکھیں تیز ہوتی ہیں…دماغ کو قوت ملتی ہے…اور انسان کے اندر مضبوطی آتی ہے…جبکہ کمپیوٹر اور موبائل کی شعاعوں سے آنکھیں اور دماغ کمزور ہوتے ہیں اور بدن بھی پگھلنے لگتا ہے…ابھی ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹی وی،موبائل اور کمپیوٹر کی سکرین اگر پندرہ بیس منٹ تک مسلسل دیکھی آئے تو اس سے آدمی کی عمر میں ایک دن کی کمی ہو جاتی ہے…عمر کا مسئلہ تو خیر متعین ہے مگر یہ بات یقینی ہے کہ نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے…کتابیں خریدا کریں،کتابیں پڑھا کریں اور اپنے بچوں کو کتابیں پڑھنے کا عادی بنائیں تاکہ …علم سے تعلق مضبوط ہو… مشرکین ، صفر کے مہینے کو ’’نحوست والا‘‘ کہتے تھے…اسلام نے پُر زور تردید کی اور بتایا کہ اس مہینہ میںکوئی نحوست نہیں…مگر دنیا میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں جو ’’شیطانی نظریات‘‘ کے لئے دلیل بن سکتے ہیں…یہ ایک مسلمان کے عقیدے اور توکل کا امتحان ہوتا ہے کہ …کون ثابت قدم رہتا ہے اور کون پھسل جاتا ہے…مثلاً آپ نے کوئی بہت اجر والا کام شروع کیا…اسی اثنا میںکوئی مصیبت آ گئی …اب شیطان کو دلیل مل گئی وہ فوراً آپ کے کان میں پھونکے گا کہ یہ مصیبت اس نیک عمل کی وجہ سے آئی ہے…یا یوں کہے گا کہ یہ عمل تو اچھا ہے مگر بہت بھاری ہے تمہارے بس کا نہیں…آئندہ بھی کرو گے تو ایسی ہی مصیبت آئے گی…چنانچہ بہت سے لوگ ایسے حالات میں عمل چھوڑ دیتے ہیں …حالانکہ اس مصیبت کا اس نیک عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا … بلکہ اگر یہ نیک عمل نہ ہوتا تو وہ مصیبت اپنے ساتھ مزید مصیبتوں کو بھی لے آتی…

حضور اقدس ﷺ کے زمانہ میں بعض ایسے واقعات پیش آئے جنہیں شیطان اس بات کی دلیل بنا سکتا ہے کہ…’’صفر‘‘ کا مہینہ نعوذ باللہ نحوست والا مہینہ ہے…پہلا واقعہ ’’رجیع ‘‘ کا ہے اس میں کئی مسلمان دھوکے سے شہید کئے گئے اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ گرفتار ہوئے اور انہیں سولی دے کر شہید کیا گیا…دوسرا واقعہ ’’بیئر معونہ‘‘ کا پیش آیا اس میں بڑے اونچے مقام والے ستر حفاظ صحابہ کرام کو دھوکے سے شہید کیا گیا…اور تیسرا یہ کہ حضوراقدس ﷺ کے وصال پر ملال کی بیماری صفر سے شروع ہوئی…حالانکہ ان تین واقعات کا نحوست کے ساتھ دور دور کا بھی تعلق نہیں…واقعہ رجیع اور بئر معونہ کے شہداء کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام عطا فرمایا…اسے پڑھ کر دل دھڑکنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ کاش ہمیں بھی اس مقام کا کچھ حصہ نصیب ہو …حضور اقدس ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ ہمارے پاس آئیں یا دنیا میں رہیں …آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو اختیار فرمایا…پھر یہ بھی کہ حضور اقدس ﷺ کا وصال ’’ربیع الاول‘‘ میں ہوا تو کیا ’’ربیع الاول‘‘ کو بھی منحوس قرار دیں گے…حالانکہ یہ مبارک مہینہ حضور اقدس ﷺ کی پیدائش کا مہینہ ہے…واقعہ رجیع اور بئر معونہ جیسے حادثات دوسرے مہینوں میں بھی پیش آئے…فتح اور شکست،بیماری اور موت یہ ہر انسان کے پیچھے لگے رہتے ہیں…اور کسی بھی وقت آ سکتے ہیں…ایک مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ہر وقت نحوست وغیرہ کی فکر اور چکر میں پڑا رہے…صفر کے مہینے میں اسلامی غزوات کا آغاز ہوا…حضور اقدس ﷺ نے اسی مہینہ سے اپنے جہاد مبارک کا آغاز فرمایا…وہ مسلمان جو حضور اقدسﷺ کے امتی ہیں…اور قیامت کے دن آپﷺکی شفاعت کے طلبگار ہیں…مگر وہ ابھی تک جہاد سے دور ہیں…ان سب سے درد مندانہ گذارش ہے کہ آپ بھی اسی ’’صفر‘‘ کے مہینے سے …اپنے جہادی سفر کا آغاز کر دیں…

کامیابی حضور اقدس ﷺ کی اتباع میں ہے …اور جہاد کے بغیر ’’کامل اتباع‘‘ نصیب نہیں ہو سکتا…فریضہ جہاد کو دل سے قبول کیجئے،جہاد کی تربیت حاصل کیجئے…جہاد میں مال لگائیے،جہاد میںجان لگائیے…اور جہاد کی ہر طرح سے خدمت کیجئے…مگر وہی مبارک جہاد…جس میں حضور اقدس ﷺ نے صفر ۲؁ھ غزوہ ابواء کی طرف سفر فرمایا… پھر حنین سے غزوہ خندق…سے گذرتے ہوئے فتح مکہ اور پھر حنین سے غزوہ تبوک تک…یہی حقیقی جہاد فی سبیل اللہ ہے اور یہی اسلام کا محکم فریضہ ہے…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online