مفید مشورے (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 472 - Saadi kay Qalam Say - Mufeed Mashware

مفید مشورے

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 472)

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتے…جو تکبر کرتے ہیں،اکڑتے ہیں اور فخر کرتے ہیں… آج کی مجلس میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں چند مشورے عرض کرنے ہیں…

خود کو دوسروں سے بڑا نہ سمجھیں

اللہ تعالیٰ نے کسی کو مالدار بنایا…اور کسی کو غریب…مگر کوئی مالدار کسی غریب سے ’’بڑا‘‘ نہیں جو مالدار خود کو غریبوں سے بڑا اور افضل سمجھے گا…اور اس پر اکڑے گا وہ ہلاک وبرباد ہو جائے گا…اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں سے نفرت فرماتے ہیں…

اللہ تعالیٰ نے کسی کو اچھی شکل والا بنایا…اور کسی کو کم صورت…مگر کوئی خوبصورت انسان اپنی خوبصورتی کی وجہ سے…کسی کم صورت انسان سے ’’بڑا‘‘ اور افضل نہیں…

جو ایسا سمجھے گا وہ مارا جائے گا…اللہ تعالیٰ تکبر اور فخر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹیوں جیسا حقیر بنا دیں گے…

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کسی کو بڑا عہدہ اور منصب دیا…اور کسی کو عہدہ و منصب نہیں دیا … مگر کوئی عہدیدار اپنے عہدے کی وجہ سے کسی سے بڑا نہیں…

جو عہدیدار اپنے مامورین اور ماتحتو ں کو حقیر سمجھے گا…اورخود کو بڑا سمجھے گا وہ تباہ ہو جائے گا… اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو جنت میں داخل نہیں فرمائیں گے جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ’’تکبر‘‘ ہو گا…بڑائی ہو گی…

پس کامیاب زندگی اور کامیاب آخرت پانے کے لئے ضروری ہے کہ…ہم جو بھی ہیں،جیسے بھی ہیں…خود کو ’’انسان‘‘ سمجھیں…مٹی سے بنا ہوا اللہ تعالیٰ کا بندہ…

جو مسلمان جس قدر تواضع اختیار کرے گا… وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسی قدر اونچا ہو گا… تکبر ،بڑائی،خود نمائی اور عجب یہ سب ’’بدبودار‘‘ صفات ہیں…

جماعت کے ذمہ دار جو مختلف عہدوں پر ہیں …ان کو خاص طور سے ’’تواضع‘‘ کی صفت اپنانی چاہیے…اپنے ماتحت مجاہدین اور ساتھیوں کو ہرگز حقیر یا چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے…ہاں! جماعتی معاملات میں مضبوطی سے ’’اطاعت‘‘ کروائیں …مگر ذاتی معاملات میں ان کو اپنے سے بہتر یا کم از کم برابر سمجھیں…

خواتین دو کام ضرور کر لیں

جو مسلمان خواتین کامیابی چاہتی ہیں… کامیاب زندگی اور کامیاب آخرت …وہ دو کام ضرور کر لیں…پہلا یہ کہ نماز ہمیشہ اول وقت ادا کریں…اپنے پاس اوقات نماز کا نقشہ رکھیں، جیسے ہی وقت داخل ہو فوراً ’’اللہ اکبر‘‘… آپ یقین کریں کہ اس عمل کی برکت سے آپ کی زندگی بدل جائے گی…اس عمل کے فوائد اور فضائل لکھوں  تو آج کا پورا کالم اسی میں لگ جائے گا …خود سوچیں کہ جب نماز کا وقت داخل ہوتا ہے تو فرمایا جاتا ہے…اٹھ میری بندی میرے لئے نماز قائم کر…اب جو پہلی آواز پر ہی دوڑ کر حاضر ہو جائے…اس کا مقام کتنا اونچا ہو گا؟…جو بیوی خاوند کی پہلی آواز پر دوڑتی چلی آئے وہ خاوند کا دل جیت لیتی ہے…نماز کی آواز نماز کا وقت داخل ہوتے ہی آنا شروع ہوتی ہے…اور نماز کا وقت ختم ہونے تک آتی رہتی ہے…جن کو اپنے محبوب رب تعالیٰ سے سچی محبت ہے وہ تو پہلی آواز پر ہی بے تاب ہو کر دوڑتے ہیں…اور پھر وہ اپنے رب کی خاص نعمتوں کو پا لیتے ہیں…

عزیز بہنو! آپ کے پاس بہت علم ہو مگر نماز میں سستی ہو تو یہ علم بھی وبال بن جائے گا…نماز میں اللہ تعالیٰ کی مدد ہے…اس مدد کو آپ ساتھ لیں گی تو کس کی مجال ہے کہ آپ کی ناقدری کرے …آپ کو ستائے…

فجر کا وقت داخل ہوا’’اللہ اکبر‘‘ عصر کا وقت داخل ہوا ’’اللہ اکبر‘‘…یہ وہ دو نمازیں ہیں جو خواتین کا امتحان ہیںکہ …انہیں اللہ تعالیٰ سے کتنی محبت ہے…

جب فجر میں سستی ہوتی ہے تو چہرے بے نور ہو جاتے ہیں…اور جب عصر میں سستی ہوتی ہے تو ہر مصیبت لپک کر آتی ہے…خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی نمازوں کا معاملہ ٹھیک کر لیں … آپ کا ہر مسئلہ ان شاء اللہ ٹھیک ہو جائے گا…

نماز کے لئے بہترین اور پاکیزہ کپڑوں کا جوڑا…نماز کے لئے اچھی سے اچھی خوشبو… نماز کے لئے بہترین مسواک…نماز کے لئے سفید عمدہ جائے نماز…نماز کے لئے توجہ سے کیا ہوا وضو… سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی بندی اپنے رب تعالیٰ کے ساتھ بندگی کا عہد وفا کرنے کے لئے اول وقت حاضر…اور پھر اطمینان سے پوری نماز اور آخر میں دل کی توجہ سے دعائ…یاد رکھیں! اسی سے آپ کی دنیا اور آخرت کے مسائل حل ہوں گے…نماز کا اہتمام کیے بغیر تعویذوں، گنڈوں، دھاگوں، دوائیوں،چالاکیوں سے کوئی کام نہیں بنتا …بالکل نہیں بنتا بلکہ الٹا پریشانیاں بڑھتی ہیں…

دوسرا کام یہ کہ…اپنا پردہ مضبوط کر لیں… نہ کسی غیر محرم کو دیکھیں اور نہ خود کو کسی غیر محرم کے سامنے لائیں…برقع فیشن والا بالکل نہ پہنیں …ایسے برقع کا کیا فائدہ جو غلیظ اور ناپاک نظروں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہو…ایمان والی عورت جب بازار سے برقع منگواتی ہے تو پہن کر اپنی بہنوں اور سہیلیوں سے پوچھتی ہے کہ…یہ مجھے کیسا لگ رہا ہے؟…اگر وہ کہیں کہ بہت اچھا بہت خوب صورت…تو فوراً وہ برقع واپس کر دیتی ہے کہ یہ تو خود کو چھپانے کے لئے پہنا جاتا ہے نہ کہ خود کو دکھانے کے لئے…تنگ اور چست کپڑے ہرگز نہ پہنیں اور پردے کو اپنے لئے رحمت سمجھیں…

جہاد کی تربیت میں تاخیر نہ کریں

ہر وہ مسلمان جو کلمہ طیبہ

لا الہ الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ

پڑھتا ہے اور اس کلمہ پر یقین رکھتا ہے… اس کے لئے لازمی نصیحت ہے کہ وہ جہاد کہ عملی تربیت حاصل کر لے…اور ہر وہ مسلمان جس کی نرینہ اولاد یعنی بیٹے بالغ ہو چکے ہیں اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو جہاد کی تربیت فوراً دلوا دے … جو مسلمان ان دو معاملات میں سستی کرے گا… یعنی خود جہاد کی تربیت نہیں لے گا یا اپنی اولاد کو تربیت نہیں دلوائے گا…وہ اپنے ایمان اور اپنے دین کو خطرے میں ڈال دے گا…جہاد مسلمانوں کے لئے نماز اور روزے کی طرح فرض ہے…اور جہاد رسول کریم ﷺ کا عمل اور آپ ﷺ کی تاکیدی وصیت ہے…قرآن و حدیث میں جہاد کی اتنی تاکید کے باوجود…ایک مسلمان کو جہاد کرنا ہی نہ آئے تووہ کیسا مسلمان ہے؟…اللہ کے لئے اپنا ایمان بچائیں اور سچے مسلمان بنیں…چند دن فضائل جہاد کا عمل کی نیت سے مطالعہ کریں ان شاء اللہ آنکھیں کھل جائیں گی…

خرید و فروخت میں کم گوئی

امانت داری کے ساتھ تجارت کرنے والے …اس امت کے تاجروں کا حشر ’’صدیقین‘‘ کے زمرے میں ہو گا…ایسی کامیاب تجارت کا ایک اہم راز یہ ہے کہ…آپ خرید و فروخت کے وقت بہت کم بولیں…زیادہ بولنے میںجھوٹ، مبالغہ ، دھوکہ اور نہ معلوم کیسے کیسے گناہ ہو جاتے ہیں…بڑا دکھ ہوتا ہے کہ دکاندار اپنے مال اور سامان کو بیچنے کے لئے قسمیں تک کھا جاتے ہیں…قسمیں کھانا نہ تو مال کو بڑھاتا ہے اور نہ رزق کو…آپ کوئی چیز بیچ رہے ہیں وہ گاہک کے سامنے کر دیں قیمت بتا دیں … اور پھر ذکر میں لگ جائیں اس نے خریدنی ہو گی تو ضرور لے جائے گا اگر اس کی قسمت میں نہیں تو آپ فضول گفتگو سے بچ جائیں گے…ملمع سازی اور لفاظی کی مارکیٹنگ جو آج ایک فن بن چکی ہے …وہ مسلمانوں کے لئے زہر قاتل ہے… ہاں! اگر اپنے سامان کا عیب بتا دیں تو آپ کی تجارت خوب نکھر جائے گی…زیادہ خوبیاں گنوانا ، گاہک کو پھنسانے کے لئے لچھے دار گفتگو کرنا … اور بولتے ہی چلے جانا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا …جو لوگ اسے اپنی عقلمندی سمجھتے ہیں وہ بیچارے عقلمند نہیں بیوقوف ہیں…کیونکہ جو کچھ ان کے نصیب کا ہے وہ انہیں یہ سارے گناہ کئے بغیر بھی ضرور مل جائے گا…ماضی کے ان کامیاب مسلمان تاجروں کے حالات پڑھیں جن کی تجارت ان کے لئے جنت کا ذریعہ بن گئی…

خدمت ٹھیک،ٹھیکیداری غلط

ایک منظر دیکھیں! ایک صاحب مسجد کے کونے میں بیٹھے کسی کو چیخ کر بتا رہے ہیں کہ… پنکھے کا بٹن بند کر دو…یار یہ بٹن نہیں اوپر سے تیسرا بٹن…ہاں پانچواں بھی آف کر دو…وہ اپنے گمان میں بڑی نیکی کر رہے ہیں کہ مسجد کی بجلی بچا رہے ہیں…مسجد کی خدمت کر رہے ہیں… حالانکہ وہ اپنے اس شور شرابے کی وجہ سے ایک ’’قبیح گناہ‘‘ میں مبتلا ہو رہے ہیں…پہلا گناہ یہ کہ مسجد میں شور شرابا…دوسرا گناہ یہ کہ نماز پڑھنے والوں کی نماز خراب کرنا…اور تیسرا گناہ یہ کہ اپنے گناہ کو نیکی سمجھنا…اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ’’مساجد‘‘ کے یہ خادم آج کل ہر مسجد میں زیادہ ہو گئے ہیں…مگر حقیقت میں یہ خادم نہیں ٹھیکیدار ہوتے ہیں… جب چاہتے ہیں مائک پکڑ کر طرح طرح کے اعلانات شروع کر دیتے ہیں…نہ کسی کی نماز کا خیال رکھتے ہیں اور نہ کسی کی تلاوت کا…مسجد کے بارے میں تو یہ حکم ہے کہ وہاں کسی کو آواز دے کر پکارنا بھی درست نہیں…مسجد میں ایسی بلند آواز سے ذکر کرنا کہ کسی کی نماز میں خلل ہو جائز نہیں … جب ذکر اللہ کا یہ حکم ہے تو عام باتوں کا کیا حکم ہو گا؟ …ایسے افراد کی چندے کی اپیل بھی بہت جارحانہ ہوتی ہے وہ نمازیوں کو بہت شرمندہ کرتے ہیں … گویا کہ اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کو رسوا کرتے ہیں… آپ مسجد ضرور جائیں، بار بار جائیں مگر جیسے ہی مسجد میں سیدھا قدم رکھیں…اب مکمل طور پر با ادب ہو جائیں…اپنے فون کے ساتھ اپنے گلے کو بھی سائلنٹ (خاموش) کر دیں…اپنے دل میں مسجد کی عظمت کو محسوس کریں…احتیاط سے چلیں …کسی کو ایذاء نہ پہنچائیں…باجماعت نماز میں کھجلی،خارش یا کسی اور کام کے لئے ہاتھ نہ ہلائیں …اس سے دوسروں کی نماز خراب ہوتی ہیں… خود صف میں سیدھے کھڑے ہو جائیں دوسروں کو سیدھا کرنے کی فکر میں شور نہ کریں…یہ آپ کا کام نہیں امام صاحب کا کام ہے…اقامت شروع ہوتے ہی ایسے ہو جائیں جیسے جسم میں حرکت اور جان نہیں مکمل طور پر قبلہ رخ اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ…کئی لوگ اقامت شروع ہونے کے بعد آڑھے ترچھے کھڑے ہو کر کسی کو آگے بلاتے ہیں، کسی کو پیچھے دھکیلتے ہیں…غفلت کی انتہا دیکھیں کہ …اقامت کی آواز سن کر وہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے…سلام کے بعد اپنا رخ قبلہ کی طرف رکھ کر دعائیں پڑھیں…کئی لوگ اس وقت گردن دائیں،بائیں گھما کر دعائیں پڑھتے ہیں تو ان کی دعائیں…دائیں ،بائیں والے نمازیوں کے کان میں سپیکر بن جاتی ہیں… مقصد یہ کہ مسجد میں داخل ہوتے ہی…بس ایک اللہ کی طرف متوجہ ہو جائیں…کسی دوسرے نمازی کو ایذاء یا خلل نہ پہنچائیں…اور مسجد کی خدمت کرنی ہو تو …ادب،تواضع اور خاموشی سے خدمت کریں …ٹھیکیداری نہ کریں…مسجد بہت اونچی جگہ ہے …یہ دنیا میں جنت کے باغات ہیں …اس لئے مکمل احتیاط سے کام لیں…

یہ ہیں…اپنے لئے اور آپ سب کے لئے چند مفید مشورے…دو مزید باتیں بھی تھیں مگر جگہ مکمل ہو گئی…اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے ان مشوروں پر عمل کریں اور دوسرے مسلمانوں تک بھی پہنچائیں…خاص طور پر جہاد فی سبیل اللہ کی تربیت کا ’’حکم الہٰی‘‘ ہر مسلمان تک پہنچا دیں تاکہ کل کوئی یہ نہ کہے کہ ہمیں کسی نے بتایا نہیں تھا…

لاالہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭