Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

میر مجلس گمنام (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 473 - Saadi kay Qalam Say - Meer Majlis Gumnam

میر مجلس گمنام

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 473)

اللہ تعالیٰ اپنے اُس ’’مجاہد‘‘ اور ’’شہید‘‘ بندے کی مغفرت فرمائے… جو آج ہماری اس مجلس رنگ ونور کا ’’مہمان خصوصی‘‘ ہے… اُس نے اپنے وصیت نامہ میں لکھا ہے کہ اس کی شہادت کے بعد نہ ہی اُس کی یاد میں کوئی جلسہ کیا جائے… نہ مضمون لکھا جائے اور نہ ہی کوئی اور تشہیر کی جائے…لاڈلے شہید کا ہر حکم سر آنکھوں پر…ان شاء اللہ نہ جلسہ ہوگا اور نہ مضمون…نہ شہرت ہوگی نہ تشہیر…آج بھی آپ رنگ ونور میں ایک روشنی کے ہالے کی طرح لطیف پردوں کے پیچھے بیٹھ کر ہی مجلس کی صدارت کریں گے…آپ کا نام نہیں لکھوں گا…وہ تو خود مجھے بھی پوری طرح یاد نہیں… کیونکہ آپ کا خط پڑھنے کے بعد آنکھوں پر اتنا پانی تھا کہ نام ٹھیک طرح سے پڑھا ہی نہیں گیا…ہاں نام نہیں لکھا جائے گا مگر آپ کی روشنی اور آپ کی خوشبو کو چھپانا، نہ ہی میرے بس میں ہے اور نہ کسی اور کے…

اِس لاڈلے شہید نے دو خط لکھے ہیں… ایک مختصر اور دوسرا مفصّل…مختصر خط میں بس ایک درخواست تھی… دعا کریں کہ شہادت کے وقت میرے جسم کے زیادہ سے زیادہ ٹکڑے ہوں… میرا اللہ مجھ سے راضی ہوجائے…اور بس…

کتنی عجیب خواہش ہے… آج جو بھی صبح اٹھتا ہے وہ رات کو سونے تک جسم بنانے، جسم سنوارنے، جسم مہکانے اور جسم بھرنے کی ہزاروں فکروں میں لگا رہتا ہے… طرح طرح کی خوراکیں،طرح طرح کے ڈاکٹر، طرح طرح کی دوائیاں، طرح طرح کے لباس، طرح طرح کے میک اپ… اور معلوم نہیں کیا کچھ…

جسم کی حرص… جس قدر بڑھائی جائے… بڑھتی ہی چلی جاتی ہے…جسم کی خواہشات جس قدر پوری کی جائیں ان میںاضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے…جبکہ ایک دیوانہ اس تمنا میں ہے کہ اس کے جسم کے زیادہ سے زیادہ ٹکڑے اللہ تعالیٰ کی راہ میں نچھاور ہوں…

سلام ہو تم پر اے گمنام مسافر…اے عقلمند مسلمان!!

اللہ تعالیٰ کے اولیاء الگ الگ شان والے ہوتے ہیں… بعض یہ وصیت کرجاتے ہیں کہ اُن کی شہادت کے بعد اُن کے شہر میں…جہاد کا عظیم الشان جلسہ ہو…مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُن کے علاقے اور شہر میں جہاد کا پیغام عام ہو… زیادہ سے زیادہ مجاہدین وہاں سے نکلیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کو اَفرادی قوت ملے…یہ اپنے شہر اور علاقے کے ساتھ خیر خواہی کا ایک انداز ہوتا ہے… نہ شہرت پسندی نہ ریاکاری…جبکہ بعض شہداء ’’فنا فی اللہ‘‘ ہوتے ہیں…یہ بھی ولایت کا ایک مقام ہے…یہ حضرات حتیٰ الوسع کوشش کرتے ہیں کہ گمنام رہیں…یہ دل کے بادشاہ ہوتے ہیں… سرجھکاکر اللہ تعالیٰ سے باتیں کرتے ہیں… لوگوں میں بیٹھے ہوں تو بھی دل کا رابطہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ٹوٹنے دیتے…جلوت میں خلوت کے مزے لوٹتے ہیں…لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ سوچ رہے ہیں… حالانکہ وہ اپنے رب سے مناجات میں مشغول ہوتے ہیں… اُن کا دل ان کی زبان بن جاتا ہے… اور جب ان کو حقیقی خلوت اور تنہائی ملے تب اُن کی آنکھیں، ان کی زبان اور ان کے آنسو اُن کے اَلفاظ بن جاتے ہیں…

یہاں پر ایک بڑا اہم نکتہ یاد آگیا…مقبول شہداء کرام کی شہادت ضائع نہیں جاتی…یہ اوپر کا فیصلہ ہے… جسے کوئی بدل نہیں سکتا…کسی شہید کا جلسہ ہو یا نہ ہو…کسی شہید کا تذکرہ ہو یا نہ ہو… کسی شہید پر کوئی مضمون یاکتاب لکھی گئی ہو یا نہ… کسی شہید کو لوگ جانتے ہوں یا نہ …شہداء ہر حال میں زندہ ہیں… ہر حال میں زندہ رہتے ہیں… اُن کا کام زندہ رہتا ہے…اُن کے آثار طیبہ زندہ رہتے ہیں… اُن کا اجر زندہ رہتا ہے… اُن کی فکر زندہ رہتی ہے… وہ چونکہ دینِ اسلام کے لیے مر مٹتے ہیں… تو اس لیے ان کی زندگی اسلام کی آغوش میں آنکھ کھول لیتی ہے… ہر اذان کا اجر انہیں ملتا ہے، ہر نماز،ہر حج اور ہر اسلامی حکم میں ان کے لیے اجر کا حصہ مقرر ہوجاتا ہے…اور پھر ان کی زندگی کو ثابت کرنے کے لیے… قدرت ایسی ایسی کرامات سامنے لاتی ہے کہ انسانوں کی عقل حیران رہ جاتی ہے… ابھی حال ہی کا واقعہ دیکھیں کہ شہید عبداللہ عزامؒ جو افغان جہاد کے پہلے مرحلے کے دوران پشاور میں شہید ہوئے…

اُن کی شہادت کے وقت بھی کئی کرامات ظاہر ہوئیں… مثلاً خون سے مہکتی خوشبو کااُٹھنا، گاڑی کے تین ٹکڑے ہونے کے باوجود جسم کا سلامت رہنا وغیرہ … مگر پھر یہ ہوا ہے کہ ان کی جماعت اور ان کا کام مکمل طور پر بکھرگیا… وہ ادارہ جو اِن کی کتابیں اور کیسٹیں بناتا اور تقسیم کرتا تھا ختم ہو گیا…اُن کی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھی… عرب مجاہدین کی جو جماعت طاقت وربن کر اُبھری وہ شیخؒ سے ذہنی طور پر دور تھی… پھر پاکستان میں آپریشن شروع ہوا اور شیخ ؒ کے بنائے ہوئے تمام ادارے ختم ہوگئے… کسی دورمیں حالت یہاں تک پہنچی کہ وہ شخص جس کی کتابیں اور بیانات کسی دور میں مشرق تامغرب پھیل چکے تھے… اب اس کی ایک کتاب بھی کہیں سے ملنا محال تھی…بس یوں سمجھیں کہ ظاہری طور پر … قصہ ختم، کام ختم… مگر قرآن مجید کا محکم فیصلہ ہے… ’’بل احیائ‘‘ کہ شہداء کی زندگی یقینی ہے… آج پھر آپ کو عراق وشام کے جہاد میں شہید عبداللہ عزام کے قلم کا جہادی گھوڑا… پوری شان سے دوڑتا ہوا نظر آرہا ہے… اور اس کی ٹاپوں سے اڑنے والی چنگاریاں آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہیں…

حضرت سید احمد شہیدؒ کا مختصر ساجہادی قافلہ …جن جن راہوں سے گذرا…وہاں دوصدیاں بیت جانے کے باوجود …ان کے مبارک آثار صاف محسوس ہوتے ہیں … اور شہدائِ بالاکوٹ جس کام کے لئے اٹھے اور مٹے… وہ آج الحمدللہ پورے عالم اسلام میں جاری و ساری ہے… بات کچھ دور نکل رہی ہے واپس اپنے ’’صدرِ مجلس‘‘ کی خدمت میں آتے ہیں… یہ ہمارے ایک گمنام بھائی اور شہید… انہوں نے ایک مفصل خط بھی لکھا ہے… اس خط کے کئی رنگ ہیں اور ہر رنگ دوسرے سے زیادہ روشن ہے… ایک طرف وہ اپنی عفت مآب نشانِ غیرت بہن…عافیہ صدیقی کا تذکرہ کرتے ہیں… ایک دردناک تذکرہ مگر امید کی خوشبو سے مہکتا تذکرہ…وہ کہتے ہیں کہ بہن جی کو جہاد کے عمل کی برکت سے ان شاء اللہ آزادی ملے گی… اور میری شہادت کے بعد ان شاء اللہ آپ لوگ بہن جی… کی آزادی کی خبربھی کسی دن سن لیں گے…

’’اے باوفا شہید! اللہ تعالیٰ تمہارے الفاظ کو مبارک فرمائے…‘‘

اس مفصل خط میں ’’گمنام مؤمن‘‘ نے ایک رات کا تذکرہ بھی کیا ہے…اللہ تعالیٰ مجھے اور القلم کے تمام قارئین کو بھی … آنکھیںکھولنے والی ایسی ’’رات‘‘ نصیب فرمائے… آہ! مسلمانوں کی راتیں کتنی تاریک، کتنی بدبودار اور کتنی غفلت زدہ گزرتی ہیں… یا اللہ! رحم، یااللہ! معافی…

وہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ایک رات تھی …غالبا ًپچیسویں شب… وہ گمنام بندہ، جامع مسجد عثمان و علی رضی اللہ عنہمابہاولپور میں معتکف تھا کہ… اس رات اُس کو خصوصی توجہ عنایت فرمادی گئی…ہاں! اللہ تعالیٰ کی محبت اسی طرح کسی دل پر چپکے سے دستک دیتی ہے… اور پھر سودا ہوجاتا ہے، وہی سودا جس کا قرآن مجید میں والہانہ تذکرہ ہے… اللہ تعالیٰ خریدار بن کر آ گیا… دل پر دستک دی… ارے جان دے دو، ہماری رضا لے لو… ہماری جنت لے لو…ہمارا پیار لے لو… ہماری محبت لے لو…ارے جان دے کر زندگی لے لو… ہمیشہ کی زندگی… اور پھر اس سودے اور اپنی قسمت پر ناز کرو، خوشیاں منائو

فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمُ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِہ

وہ گمنام مومن ہوشیار ہوگیا… اس نے دل پر آنے والی دستک محسوس کرلی… اسے یاد آیا کہ میرے ماضی کی زندگی…کس قدر غفلت میں گذری تھی…پھر کچھ لوگ میری زندگی میں آئے … یہ دیوانوں کی جماعت ’’جیش‘‘ کے لوگ کے تھے… وہ مجھے اس مرکز میں لے آئے… جس مرکز کے ہر چپے پر کسی شہید کے والہانہ ذکر اللہ کی گواہی لکھی ہے… اور پھر میرارخ ’’اللہ تعالیٰ‘‘ کی طرف ہوگیا…ایک جماعت جس نے چند دن میں مجھے ایسی جگہ لا کھڑا کیا کہ آج مجھ جیسے گناہگار کے دل پر محبت کی دستک آرہی ہے…

ہائے کاش! جماعت کے ذمہ دار… جماعت کے ساتھی اور پاکستان کے مسلمان اس جماعت کی قدر کریں…وہ درد کے ساتھ لکھتا ہے:

مجھے اس رات دعا مانگتے مانگتے اور شکر کرتے کرتے یہ بات محسوس ہوئی کہ اس جماعت کی قدر نہ خود جماعت والے ٹھیک طرح سے کررہے ہیں اور نہ پاکستان کے مسلمان مگر میرا عزم ہے کہ اسی جماعت کے پرچم تلے…اپنے جسم کے ٹکڑے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کردوں تاکہ عافیہ بہن رہا ہو جائے اور میری جماعت کی حفاظت ہوجائے…

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم…سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم

میں خط کے یہ الفاظ پڑھ رہا تھا تو سر شرم سے جھک گیا… مجھے بھی جماعت کے دینی، روحانی اِحسانات یاد آنے لگے اور ساتھ یہ بھی کہ میں بھی تو کبھی کبھار جماعت کے کاموں میں سستی یا تاخیر کر جاتا ہوں… تب اسی وقت تمام رکے ہوئے کام یاد کئے اور ایک ایک کو نمٹانا شروع کیا اور بار بار اُس گمنام شہید کا شکر یہ بھی ادا کرتا رہا کہ:

اے سچے عاشق…غفلت کے پردے چاک کرنے کا شکریہ!

یااللہ! ہماری آج کی اس مجلس کا پورا ثواب اس گمنام شہید اور اس کے تینوں رُفقاء کو عطا فرما دیجئے…اور ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمادیجئے، جنہوں نے اس جماعت سے اپنا دین بنایا اور آپ کی محبت اور مقبول شہادت کو پایا…

آمین یاارحم الراحمین

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللھم صل علی سیدنا محمد والہ و صحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor