Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

اصلی خطرہ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 475 - Saadi kay Qalam Say - Asli Khatra

اصلی خطرہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 475)

اللہ تعالیٰ ہی زندگی اور موت کا مالک ہے…

ہُوَ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ

زندگی کا پوشیدہ نظام

زندگی ہر وقت جاری رہتی ہے…مگر آپ نے کبھی یہ جملہ نہیں سنا ہو گا کہ…فلاں جگہ زندگی رقص کر رہی ہے…حالانکہ روزانہ ہزاروں، لاکھوں افراد پیدا ہوتے ہیں…کتنی نئی روحیں روزآنہ زمین پر اُترتی ہیں…ہمیشہ نئے پیدا ہونے والوں کی تعداد مرنے والوں سے زیادہ ہوتی ہے …اسی لئے زمین کی آبادی ہر دن بڑھ رہی ہے …مگر زندگی کا نظام خاموش ہے…جبکہ موت کا نظام کافی ہنگامہ خیز ہے…جہاں چند افراد زیادہ مرے…وہاں شور پڑ جاتا ہے کہ موت رقص کر رہی ہے…

دراصل موت انسانوں کو اچھی نہیں لگتی… اس لئے اس کا اثر،صدمہ اور شور زیادہ ہوتا ہے… لیکن اگر صرف ایک دن کے لئے موت کا نظام بند کر دیا جائے تو سمندر زمین پر اُبل پڑے…اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائے…ظاہری اسباب کے درجہ میں ’’موت‘‘ ہی نے ’’زندگی‘‘ کو تھام رکھا ہے…اصل تھامنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے …لیکن اللہ تعالیٰ نے زمین پر ایک نظام اتار دیا ہے…اس نظام میں اگر موت نہ ہو، تو زندگی… زندہ نہ رہ سکے…موت نے بہرحال آنا ہے… بس دعاء کرنی چاہیے کہ اچھے وقت،اچھے حالات، اچھے طریقے سے اچھی موت مل جائے…موت کے بعد ایک نیا سفر ہے،ایک نیا جہان اور ایک نئی دنیا…موجودہ دنیا سے بہت بڑی،بہت وسیع… اور ایمان والوں کے لئے بہت لذیذ…خود کو اور آپ کو پھر یاد دلاتا ہوں…یہ دعاء پڑھا کریں:

اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لِیْ فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوتْ

اتفاقی نظام

دنیا میں بعض چیزیں محض اتفاقی ہیں…وہ ہمیشہ کا قانون نہیں ہوتیں…مگر وہ ’’اتفاق‘‘ ایسی ترتیب سے بار بار ہوتا ہے کہ …لوگ اسے ہمیشہ کا قانون سمجھ لیتے ہیں…مثلا بعض لوگ کہتے ہیں …میری زندگی میں منگل کا دن بڑی مصیبت والا ہے…پھر وہ منگل میں اپنے ساتھ پیش آنے والے بعض واقعات کی فہرست سنا دیتے ہیں… اور زندگی بھر وہم اور غلط عقیدے میں مبتلا رہتے ہیں …اس طرح بعض لوگ کسی مہینے کو اپنے لئے ’’منحوس‘‘ کہہ کر…اللہ تعالیٰ کی بجائے اس مہینے کی نحوست سے خوفزدہ رہتے ہیں…یہ بڑا خطرناک اور قابل اصلاح مرض ہے…

اول تو ہم یہ نہیں جانتے کہ…کون سی چیز مصیبت ہے اور کون سی چیز نعمت…ہم اپنی کم علمی کی وجہ سے مصیبت کو نعمت…اور نعمت کو مصیبت سمجھتے رہتے ہیں…

مثلاً ایک شخص قید ہو گیا،گرفتار ہو گیا…وہ سمجھتا ہے کہ یہ ’’مصیبت ‘‘ ہے…حالانکہ اسے اس قید میں توبہ کی قبولیت اور ترقی نصیب ہونا ہوتی ہے…ایک دوسرے شخص کو بہت قیمتی موبائل تحفے میں ملا …وہ سمجھا کہ نعمت ہے…حالانکہ وہ بعد میں اس موبائل کی وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہو گیا …دوسری بات یہ ہے کہ محض چند واقعات ہی کا نام تو زندگی نہیں…زندگی کے چند واقعات اتفاقاً کسی خاص دن یا مہینے میں ہوئے جبکہ ان گنت واقعات …دوسرے دنوں اور مہینوں میں ہوئے…مگر انسان نے چند واقعات کا اثر لیا اور کسی دن یا مہینے کی ’’نحوست‘‘ یا ’’بھاری‘‘ ہونے کا عقیدہ بنا لیا…یہ غلط ہے…جو اس میں مبتلا ہو وہ توبہ کرے…اپنا دل درست کرے…وہم اور بدفالی کے وقت پڑھی جانے والی مسنون دعائیں پڑھے…اور اللہ تعالیٰ کے عرش والے مخفی خزانے کی طاقت پکڑے وہ مخفی خزانہ ہے…لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ…بس یقین اور کثرت سے پڑھے…

لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ، لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ، لاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ

پاکستان کا دسمبر

اتفاقاً چند سالوں سے ’’دسمبر‘‘ کا مہینہ خونی اورخوفناک جا رہا ہے…یہ زمین کا کوئی اٹل قانون نہیں…دسمبر کڑوے بھی آتے ہیں…اور میٹھے بھی…ویسے بھی ہم مسلمانوں کے نزدیک ہجری قمری مہینوں کا اصل عتبار ہے…محرم صفر وغیرہ … اس لئے ہمارے ہاں تو دسمبر کبھی کس مہینے میں آتا ہے اور کبھی کس میں…ہم نے وہ چھ دسمبر بھی دیکھا جس میں پیاری بابری مسجد شہید کی گئی…بڑا عظیم سانحہ تھا ’’بہت دردناک‘‘…اور پھر اکتیس دسمبر بھی دیکھا جب اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو ایک بڑی خوشی اور فتح عطاء فرمائی…آج کل چند سالوں سے دسمبر خونخوار آ رہا ہے…اس ظاہری شر میں معلوم نہیں کیا کیا ’’خیریں‘‘ پوشیدہ ہوں گی… پشاور کا سانحہ ہوا…پورا ملک لرز کر رہ گیا…پھول جیسے بچے ذبح کر دئیے گئے…اور پھر خونخواری اور خونریزی کا ایسا دور چلا کہ…آج کئی دن گذرنے کے بعد بھی فضا میں خون ہی نظر آ رہا ہے…ہاں! جب حکومتیں بھی توازن کھو بیٹھیں تو حالات کبھی درست نہیں ہو سکتے کبھی بھی … بس اللہ تعالیٰ سے رحم کی دعاء ہے:

اَللّٰہُمَّ ارْحَمْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ ﷺ

اپنا ہی قصور ہے

نہ امریکہ پر کوئی الزام ہے نہ انڈیا سے کوئی گلہ شکوہ…وہ تو مسلمانوں کے دشمن ہیں…ان کا کام ہی مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنا ہے…اس وقت پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب یہاں کے اپنے لوگوں کا ہی بویا ہوا ہے…پرویز مشرف پاکستانی تھا…اس نے پاکستان کو ایک حرام جنگ میںدھکیلا…وہ اپنا کام کر کے اپنے آقاؤں کے پاس چلا گیا…مگر بعد کے حکمرانوں نے اسی کی پالیسیوں کو جاری رکھا…امریکہ کی چاپلوسی اور انڈیاسے یاری …غیروں کی غلامی اور اپنوں پر مظالم…اور ایک اندھی جنگ میں بے دریغ تعاون …تب پاکستان میں بھی ایک ایسی قوت وجود میں آ گئی جو ریاست سے جنگ میں الجھ گئی…اور پھر پاکستان خود میدان جنگ بن گیا…اس جنگ کو روکا جا سکتا ہے…اسے امن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے…مگر اب دونوں طرف امن کی خواہش ختم ہو چکی ہے…اور جنگ ان کی مجبوری بن چکی ہے …دونوں فریق اب اپنے فیصلوں میں خود مختار نہیں رہے…دونوں پر شدید دباؤ ہے کہ بس لڑتے رہو، مرتے رہو…اگر ایک قدم بھی پیچھے ہٹے تو ہم تمہاری گردن دبا دیں گے…اب اگر تم نے صلح یا مذاکرات کی بات کی تو ہم تمہارا سب کچھ بگاڑ دیں گے…چنانچہ دونوں فریق لڑ رہے ہیں…جبکہ پاکستان مر رہا ہے…مسلمان مر رہا ہے…بے قصور مر رہا ہے…اور دشمن اوپر سے جعلی اشک اور اندر سے قہقہے برسا رہے ہیں…کوئی ہے جو حکومت  پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کو سمجھا سکے کہ…آپ دونوںیہ جنگ نہیں جیت سکتے… ہاں جنگ سے آپ ایک دوسرے کو ختم نہیںکر سکتے …اب یہ جنگ اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ… آپ دونوں میں سے کوئی فریق مکمل طور پر اسے نہیں جیت سکتا…اور نہ ہی کوئی فریق اس جنگ سے اپنے ’’مقاصد‘‘ حاصل کر سکتا ہے…ہاں اس جنگ میں صرف مارا جا سکتا ہے اور مرا جا سکتا ہے …اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی مرنے میں شریک کیا جا سکتا ہے…میں جانتا ہوں…ان حالات میں یہ بات لکھنا کتنا خطرناک ہے…مگر میرے دل میں مسلمانوں کا درد ہے…اسلام کا درد ہے اور پاکستان کا درد ہے اس لئے میںاپنا فرض ادا کر رہا ہوں…میں جنگوں اور ان کے نتائج کو اچھی طرح سمجھتا ہوں…میں نے جنگ کا پورا نظام ’’قرآن مجید‘‘ سے سمجھا ہے…اس لئے دنیا کی کسی بھی جنگ کو غور سے دیکھ کر اس کے حالات اور نتائج آسانی سے سمجھ سکتا ہوں…افغانستان،عراق اور بہت سی جنگوں کے بارے میں قرآن مجید کی روشنی سے جو کچھ دیکھا…وہی بعد میں سامنے آیا…یہ کوئی علمی یا کشفی دعوی نہیں…اور نہ ہی دعووں کا وقت یا شوق ہے…ہر مسلمان کو قرآن مجید سے روشنی لینی چاہیے…اسی روشنی سے یہ نظر آ رہا ہے کہ …پاکستان میں حالیہ جنگ کے دونوں فریق …ایک لاحاصل ،بے کار اور خونریز جنگ میں الجھ چکے ہیں…اور اب دنیا بھر کے اسلام دشمن عناصر پورا زور لگا رہے ہیں کہ یہ جنگ مزید بھڑک جائے …اور پاکستان صومالیہ بن جائے…

خطرناک لوگ

آزاد گروپ، آزاد ہوتے ہیں… مگر حکومت پر لازم ہے کہ وہ قانون کی پابند رہے…اسے فلمی ڈائیلاگ، انتقامی جملے اور غیر قانونی کارروائیاں زیب نہیں دیتیں…اور جو حکومت اور ملک کسی موقع پر جذبات میں آ کر اپنا توازن کھو بیٹھے…اور قانون کے دائرے سے نکل جائے تو اس ملک کا حال بہت برا ہوتا ہے…پھانسیاں دینی تھیں تو اس ترتیب سے دی جاتیں جس کا تقاضا قانون کرتا ہے نہ کہ بد حواس ہو کر …پھانسیوں کو بھی باقاعدہ ٹارگٹ کلنگ بنا دیا جائے…اور خوف کی فضا پھیلا کر مزید ہلاکت خیز واقعات کی راہ ہموار کی جائے…

امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ ہوا…امریکہ غصے اور جذبات میں اپنا توازن کھو بیٹھا…کوئی حقیقت کی نظر سے دیکھے کہ امریکہ نے جن مقاصد کو حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا،ان میں سے کتنے اس نے پا لئے…جواب یہ ہے کہ ایک بھی نہیں…یہ میرا جواب نہیں خود امریکہ اس کا اعتراف کرتا ہے…جبکہ امریکہ نے کیا کیا کھویا اس کی فہرست بہت طویل ہے…پچاس ہزار فوجیوں کی ہلاکت …ہزاروں فوجیوں کی معذوری،خود کشی اور دماغی بیماری…ساری دنیا سے رعب کا خاتمہ… کھربوں ڈالر کا نقصان…داخلی سیاست کی تباہی …اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جن کو مٹانے نکلا تھا وہ کئی گنا زیادہ بڑھ گئے…اور اب ساری دنیا میں امریکی فوجی اور عوام دھڑا دھڑ مر رہے ہیں…عدم تحفظ کا شکار ہیں…اور امریکہ اس جنگ سے نکلنے کے لئے بے قرار ہے جس میں وہ بڑے سے فخر داخل ہوا تھا…پشاور کے واقعے کو پاکستان کا ’’نائن الیون‘‘ قرار دے کر جو لوگ حکومت کو مزید اندھی جنگ میں دھکیل رہے ہیں…وہ پاکستان کے دوست ہرگز نہیں ہیں …پاکستان کے لئے اصل خطرناک یہی لوگ ہیں…

ڈر اور خوف کی ضرورت نہیں

کسی شاعر نے کہا تھا:

ہے مقصد زندگانی کا کہ کچھ دنیا میں کر جانا

خیال موت بے جا ہے وہ جب آئے تو مر جانا

بعض لوگ ہر موقع پر ضرورت سے زیادہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں…اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی باجماعت خوفزدہ کرتے ہیں…پاکستان میں دینی طبقہ پر ہمیشہ سے شدید دباؤ رہا ہے …اور یہاں موجود سیکولر،ملحد اور بد دین لوگ…اس جنگ کی آڑ میں پاکستان کے دینی طبقے کو ختم کرانا چاہتے ہیں…وہ مدارس اور مساجد کے دشمن ہیں…اور شرعی جہاد کی بات کرنے والی جماعتیں ان کا اصل ہدف ہیں…

نائن الیون کے بعد …اس سیکولر طبقے کو امید تھی کہ…اب پاکستان میں نہ کوئی مدرسہ بچے گا نہ کوئی دینی جماعت…مگر الحمد للہ سب کچھ بچ گیا بلکہ بڑھ گیا…پھر بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا اور پاکستان پر غیر ملکی دباؤ پڑا تو سیکولر چوہے فوراً بلوں سے نکل آئے…اس بار ان کو کچھ کامیابی ملی اور پرویز مشرف نے جہادی جماعتوں کو کالعدم قرار دے کر …اور ان کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کر کے …تحریک طالبان پاکستان بننے کے مواقع کھڑے کر دئیے…اور پاکستان کو ایک داخلی جنگ میں جھونک دیا…مگر پھر بھی پاکستان کے دینی مدارس اور جماعتیں بچ گئیں…پھر بمبئی کا واقعہ ہوا…تو خوب شور ہوا اور دباؤ پڑا…مگر اس وقت پاکستان کی عسکری قیادت عقلمند لوگوں پر مشتمل تھی …اور انہوں نے اس دباؤ میں اپنے ملک کو تباہ نہیں ہونے دیا…اسی طرح جب بھی کوئی سانحہ اور واقعہ ہوتا ہے تو…یہ امریکی چوہے اور انڈین انڈے فوراً باہر نکل آتے ہیں کہ…بس مار دو،جلا دو ،لٹکا دو…کسی مولوی کو نہ چھوڑو، کسی مدرسہ کو نہ چھوڑو…کسی مجاہد کو نہ چھوڑو…ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی داخلی جنگ یہاں کی ایک ایک گلی میں پھیل جائے…مسلمانوں کا یہ ملک ختم ہو جائے اور ان ظالموں کی تنخواہ پکی ہو جائے…ان حالات میں دینی طبقوں سے تعلق رکھنے والے بعض افراد ،ہر موقع پر بہت خوفزدہ ہو جاتے ہیں…اور وہ دوسروں کو بھی خوفزدہ کرتے ہیں…جو اچھا کام نہیں…قرآن مجید میں منافق کی علامت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ ہر مصیبت کا رخ اپنی طرف سمجھتا ہے …یعنی ہمیشہ بوکھلا کر پریشان ہو جاتا ہے… پشاور کے سکول کی قتل وغارت سے…پاکستان کے مدارس کا کیا تعلق؟…پاکستان کی مساجد کا کیا تعلق؟…شرعی جہاد کی دعوت دینے والوں کا کیا تعلق؟…جب کوئی تعلق نہیں تو پھر ڈرنے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟…حکومت اگر ظلم اور غلطی کر کے آپ کا رخ کرے گی تو خود ہی اپنا اور ملک کا نقصان کرے گی…اور مزید جنگ بھڑکائے گی…آپ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنا شرعی،مثبت اور دینی کام کرتے رہیں…پاکستان میں جو رہا سہا امن موجود ہے وہ آپ کے اسی کام کی برکت سے ہے…آج کے حکمرانوں کو اگر غیر ملکی دباؤ کی وجہ سے آپ کے کام کی افادیت نظر نہیں آ رہی تو …نہ نظر آئے…

وہ اگر آپ کی طرف ظلم کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں تو بڑھا لیں…اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و محافظ ہے…پرویز مشرف نے کون سا ہتھیار اور ہتھکنڈا آپ کو ختم کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا؟… زرداری کون سا آپ کا خیرخواہ تھا؟…موجودہ حکمران بھی اگر ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو انہیں جیسے نتائج پائیں گے…آپ کا دینی کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے…آپ کا شرعی جہاد امت مسلمہ کی فلاح کے لئے ہے…

بس اپنے کام میں لگے رہیں…اللہ تعالیٰ کے راستے پر جمے رہیں…اس راستے کی زندگی بھی پیاری ہے…اور اس راستے کی موت بھی میٹھی ہے…

وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤمِنِیْنَ

حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیل

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online