ابینا ابینا (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 477 - Saadi kay Qalam Say - Abaina Abaina

ابینا ابینا

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 477)

اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرتے ہیں … اگر ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت کریں تو بڑے ہی بدنصیب ہیں…اللہ تعالیٰ کیا ہی اچھا ربّ ہے…اور اُس کا دین کیا ہی اچھا دین ہے…

آپ سمجھے؟

اوپر جو الفاظ لکھے ہیں…کیا ان کو پڑھ کر آپ وہ واقعہ سمجھے جس کی طرف اِشارہ کرنا مقصود ہے؟…یہ سخت سردی کا موسم تھا،جیسے آج کل ہمارے ہاں چل رہا ہے…مدینہ منورہ سخت محاصرے میں تھا…دس ہزار کا مسلح لشکر مدینہ منورہ کو گھیر چکا تھا…مدینہ منورہ میں موجود یہودیوں نے بھی خونخوار دانت نکال لیے تھے…اور منافقین کی زبانیں قینچیوں کی طرح چل رہی تھیں…

بس یوں سمجھیں کہ مسلمانوں پر پانچ دشمنوں نے ایک ساتھ حملہ کر دیا تھا:

(۱) مشرکین کا لشکر (۲) مدینہ کے یہودی (۳) داخلی منافقین (۴) سردی (۵) فاقہ

اللہ اکبر کبیرا…حضور اقدس ﷺ اور حضرات صحابہ کرام نے بھوک اور فاقہ کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے…ایسا خوفناک،ہولناک اور دہشت ناک ماحول مسلمانوں کے خلاف بن گیا تھاکہ… کلیجے منہ کو آ رہے تھے اور آنکھیں دہشت سے پتھرا جاتی تھیں…سارا منظر قرآن مجید نے سورۃ اَحزاب میں کھینچ ڈالا ہے…واقعی بہت سخت آزمائش تھی…یوں لگتا تھا کہ بس اسلام کا قصہ ختم، مسلمانوں کا قصہ ختم…

ہر طرف سے آوازیں تھیں کہ…مار دو،ختم کر دو، مٹا دو، جڑ سے اکھاڑ دو…ایک کو بھی نہ چھوڑو…ایسا موقع پھر شاید نہ ملے،اس موقع کا فائدہ اٹھاؤ اور ان کی بنیاد ہی ادھیڑ دو…ایسے حالات میں حضور اقدس ﷺ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر خندق کھود رہے تھے…اور ان اشعار کو اپنی خوبصورت آواز سے عزت بخش رہے تھے…

بِسْمِ اللّٰہِ وَبِہِ بَدَیْنَا

وَلَوْ عَبَدْنَا غَیْرَہُ شَقِیْنَا

بسم اللہ…ہم اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرتے ہیں…اگر ہم اس کے سوا کسی کی عبادت کریں تو بڑے ہی بد نصیب ہیں…اللہ تعالیٰ کتنا اچھا ربّ ہے اور اس کا دین کتنا اچھا دین ہے…سبحان اللہ! ایسے خوفناک حالات میں ایسی مضبوطی،ایسی استقامت…اور دشمنوں کو یہ پیغام کہ… ہم اپنے دین پر مضبوط ہیں،مطمئن ہیں …اور اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ…موت اور خوف کی دہشت پھیلا کر ہمیں ہمارے دین اور ہمارے راستے سے ہٹا دو گے تو یہ تمہاری بھول ہے …ان حالات میں بھی ہم اپنے رب کے وفادار …اپنے دین کے وفادار…اور اپنے رب سے راضی ہیں…

اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْراً، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْراً وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً

ایسا وقت بھی آتا ہے

حضرت آقا مدنی ﷺ کی سیرت مبارکہ … ہر مسلمان کی ہر موقع پر رہنمائی فرماتی ہے… مسلمان خوش نصیب ہیں کہ ان کے پاس اپنے آقا ﷺکی مکمل سیرت محفوظ ہے…اس وقت پاکستان میں جو خوفناک حالات چل رہے ہیں اگر ہم صرف انہیں پر غور کریں تو …دل بیٹھ جائیں اور حوصلے پست ہو جائیں…مگر ہمارے پاس زندہ سیرت موجود ہے…جو ہمیں فوراً۵ھ کے شوال کی سردیوں میں لے جاتی ہے…تب مدینہ منورہ مکمل محاصرے میں تھا اور ظاہری اسباب کے درجے میں مسلمانوں کا مکمل خاتمہ یقینی تھا…عربوں کا اتحادی لشکر مکمل تیاری اور عزم کے ساتھ آیا تھا اور لشکر کی تعداد ایسی تھی کہ …مدینہ منورہ اس کے سائے میں گم ہو سکتا تھا…پھر داخلی طور پر بھی حالات بگڑ گئے تھے اور یہودی اپنا معاہدہ توڑ کر مقابلے پر آ گئے تھے…ایسے حالات میں ’’منافقین‘‘ کے میلے ہو جاتے ہیں…وہ خوف پھیلانے والے دانشور بن کر اُبھرتے ہیں…اپنی عقلمندی کے گیت گاتے ہیں کہ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کا مسئلہ بس چند دن کا ہے…اب ان کو خاتمے سے کوئی نہیں بچا سکتا…وہ کمزور مسلمانوں کو ڈرا ڈرا کر کہہ رہے تھے کہ اسلام چھوڑ دو، واپس اپنے پرانے دین پر آ جاؤ…ادھر موسم بہت سخت تھا…سردی تھی،اور مسلمانوں کے پاس خوراک کی شدید کمی تھی…اب مسلمان کیا کرتے؟…باہر سے حملہ آور لشکر کا مقابلہ کرتے یا اندر یہودیوں سے اپنی عورتوں اور بچوں کو محفوظ کرتے…منافقین کی زبانوں کو پکڑتے یا لشکر کے لئے خوراک کا انتظام کرتے…قرآن مجید نے فرمایا:

وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالاً شَدِیْداً

یعنی ایسے سخت حالات تھے کہ مسلمانوں پر گویا ہر طرف سے زلزلہ ہی زلزلہ تھا…ایسا زلزلہ جو جسموں کے ساتھ روحوں کو بھی لرزا دے…

سیرت مبارکہ کا یہ پورا منظر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ… دین کا کام کرنے والوں اور جہاد کی محنت کرنے والوں پر…ایسے حالات بھی آتے ہیں جو بے حد خوفزدہ کرنے والے ہوتے ہیں…اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ بس اب سارا کام ختم…اب کچھ بھی نہیں بچ سکتا…سیرت مبارکہ کا یہ منظر اہل ایمان کو طرح طرح کی حفاظتی دعائیں ،حفاظتی تدابیر اور عزیمت کے اسباق سکھاتا ہے…غزوہ احزاب کے اسی منظر نے ہمیں وہ دعاء عطاء فرمائی جو دل سے خوف کو نکال کر اطمینان نصیب کرتی ہے…

اَللّٰہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا

یا اللہ! ہمارے عیبوں کو چھپا دیجیے اور ہمارے خوف کو دور فرما دیجیے…

صحابہ کرام نے محاصرے کی شدت اور سختی کے وقت رسول کریم ﷺ سے دعا کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے یہی دعاء سکھائی:

اَللّٰہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا

 اور وجد آفریں دعاء بھی تلقین فرمائی:

اَللّٰہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَ مُجْرِئَ السَّحَابِ وَھَازِمَ الاَحْزَابِ ۔ اِھْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ

یا اللہ! کتاب کو نازل فرمانے والے … بادلوں کو چلانے والے…لشکروں کو شکست دینے والے…انہیں شکست دیجیے اور ان کے مقابلے میں ہماری نصرت فرمائے…

عجیب صورتحال

ایسے لگتا ہے کہ ہمارے حکمران خود کسی ایسے واقعہ کے انتظار میں تھے…جسے وہ نائن الیون قرار دے کر پاکستان کے دینی طبقے کو ختم کر سکیں… امریکہ،یورپ اور انڈیا کا ہمیشہ سے ہمارے حکمرانوں پر دباؤ ہے کہ وہ…پاکستان کے دینی طبقے کو مٹا دیں…

پشاور سکول کا واقعہ پیش آیا تو …حکومت کو موقع مل گیا…اورمنافقین کے میلے ہو گئے… اب صبح،شام متحدہ اجلاس طلب ہو رہے ہیں… ملک میں فوجی عدالتیں قائم ہورہی ہیں… مدارس اور دینی جماعتوں کے خلاف زبانیں گرم ہورہی ہیں … گلی گلی میں حفاظتی دستے ہر داڑھی والے اور پگڑی والے کو پکڑ رہے ہیں ،ستا رہے ہیں…اور فوجی عدالتوں کے بارے میں صاف اعلان ہے کہ… ان میں نہ کسی ڈاکو کا مقدمہ سنا جا سکے گا…نہ کسی چور کا…ڈاکو جب کسی کو قتل کرتے ہیں تو مقتول کی ماں کو اتنی ہی تکلیف پہنچتی ہے جتنی کسی سکول کے مقتول بچے کی ماں کو…مگر حکومت کے نزدیک مذہب سے تعلق رکھنا،چوری ڈاکے اور بدکاری سے بڑاجرم ہے…وہ لسانی تنظیمیں جنہوں نے پاکستان کی بنیادوں تک کو ہلا دیا ہے…اور ہزاروں افراد کو قتل کر دیا ہے…ان کا مقدمہ بھی ان فوجی عدالتوں میں نہیں سنا جا سکے گا…کیونکہ لسانیت کے نام پر ساٹھ ہزار افراد کو قتل کرنا حکومت کے نزدیک جرم نہیں ہے…جبکہ قرآن پاک کی آیاتِ جہاد کو بیان کرنا جرم ہے…

ملک کے سارے سیاسی مگرمچھ پارلیمنٹ ہاؤس میں جمع ہوئے…اور سب نے دینی جماعتوں کے خلاف فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز پر اتفاق کر لیا …کیا ان کو اپنے جرائم یاد نہیں ہیں…ان میں سے کون ہے جو بد عنوانی اور کرپشن میں ملوث نہیں؟…ان میں سے کون ہے جو ناجائز قتل و غارت میں ملوث نہیں؟…ان میں سے کون ہے جو اپنی پارٹی کے عسکری ونگ نہیں رکھتا؟ … پاکستان کے اربوں ڈالر لوٹ کر غیر ملکی بینکوں میں جمع کرانے والے …ہزاروں پاکستانیوں کو قتل کرنے والے یہ سیاستدان…کس منہ سے پاکستان کے مدارس اور دینی جماعتوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں…مگر ہاں! آج کل یہ خوش ہیں، ان کے میلے لگے ہوئے ہیں…ان کو اپنے ارمان پورے ہوتے نظر آ رہے ہیں…ان کو اپنے غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی مل رہی ہے…

مگر یہ سب کچھ فانی ہے…یہ سب کچھ وقتی ہے…یہ سارا ظلم واپس خود ان کی طرف لوٹے گا …وہ جہادی جماعتیں جنہوں نے پاکستان کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا یہ اگر ان جماعتوں پر شب خون ماریں گے تو…اللہ تعالیٰ کے انتقام سے نہیں بچ سکیں گے…اور مخلص فدایانِ اسلام کی آہیں اور بددعائیں ان کے گھروں اور دلوں کو آگ لگا دیں گی…ان شاء اللہ

دو طبقے

سیرت مبارکہ کا یہ منظر جو شوال ۵؁ھ میں سامنے آیا ایک اور بڑی اہم بات سمجھاتا ہے…وہ یہ کہ جب اہل ایمان،اہل جہاد پر حالات سخت ہوتے ہیں تو دو طبقے سامنے آجاتے ہیں…

(۱) ایمانی، تسلیمی…یہ وہ لوگ ہیں جن کو جس قدر بھی ڈرایا جائے وہ اپنے ایمان اور اپنے کام پر ڈٹے رہتے ہیں…بلکہ ان کا ایمان بھی بڑھ جاتا ہے اور ان کی ثابت قدمی بھی بڑھ جاتی ہے…وہ اللہ تعالیٰ سے جڑے رہتے ہیں…اور اللہ تعالیٰ کے کام میں لگے رہتے ہیں…دشمنوں کی کثرت اور حالات کی خرابی…ان کے عزم کو اور مضبوط کر دیتی ہے…اور وہ کہتے ہیں کہ…یہی اصل وقت ہے وفاداری کا اور قربانی کا…

وَمَا زَادَھُمْ اِلَّا اِیْمَاناً وَّتَسْلِیْماً

اس طبقے کی تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیے سورۃ احزاب آیت ۲۲

(۲) فراری…دوسرا طبقہ ان لوگوں کا سامنے آتا ہے جو برے حالات دیکھ کر فورا بھاگ جاتے ہیں…یہ لوگ بڑے عجیب بہانے بناتے ہیں اور دین کے کام سے کٹ جاتے ہیں…کوئی ان کے کان میں کہہ دے کہ اب حالات ٹھیک نہیں رہے تو فوراً…فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں… اور اپنے بچاؤ کے لئے جنت کے راستے کو چھوڑ دیتے ہیں…یار ہم سے قید برداشت نہیں ہوتی …یار دین کا کام تو ٹھیک ہے مگر ڈنڈے کھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے…یار ڈر تو نہیں ہے مگر کچھ گھر کی دیکھ بھال بھی کرنی ہے…

قرآن مجید فرماتا ہے:

اِن یُّرِیْدُوْنَ اِلَّافِرَاراً

اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ بھاگنا چاہتے ہیں، باقی سب بہانے ہیں…اس طبقے کی تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں سورۃ احزاب آیت ۱۳

اَبَیْنَا اَبَیْنَا

غزوۂ احزاب کے مناظر میں ایک بڑا حسین، بہت دلکش اور بے حد ولولہ انگیز منظر بھی آتا ہے…اس منظر کے دو حصے ہیں، پہلے چھوٹا حصہ دیکھتے ہیں پھر بڑا حصہ…

(۱) خوف،بھوک،فاقے اور شدید خطرے کے دوران…حضرات صحابہ کرام خندق کھود رہے تھے…اور ساتھ ساتھ یہ شعر پڑھ رہے تھے:

نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوا مُحَمَّداً

عَلیٰ الْجِہَادِ مَا بَقِیْنَا اَبَداً

ہم ہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے…حضرت محمد ﷺ سے بیعت کی ہے کہ ہم مرتے دم تک جہاد کرتے رہیں گے…

سبحان اللہ!…یہ شعر پڑھنے کا اصل وقت ہی تب ہے جب جہاد کا نام لینے پر پابندی ہو…اور جہاد کا علَم تھامنے پر موت سامنے نظر آتی ہو…کون ہے جو موجودہ حالات میں بھی دل کے یقین کے ساتھ یہ شعر پڑھے اور پھر اس پر سچا رہے،پکا رہے … خواہ قید آئے یا موت!

(۲) دوسرا منظر جو پہلے والے سے بھی زیادہ دلکش ہے…

حضور اقدس ﷺ غزوہ خندق کے موقع پر خود بنفس نفیس مٹی ڈُھو رہے تھے…اس مٹی نے جسم مبارک کو بھی گرد آلود کر دیا تھا…مگر آپ ﷺ یہ اشعار پڑھ رہے تھے:

وَاللّٰہِ لَوْلَا اللّٰہُ مَا اھْتَدَیْنَا

وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا

فَاَنْزِلَنْ سَکِیْنَۃً عَلَیْنَا

وَثَبِّتِ الاَقْدَامَ اِن لَّاقَیْنَا

اللہ کی قسم…اگر اللہ تعالیٰ توفیق نہ دے، تو ہم کبھی ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ دیتے،نہ نماز پڑھتے…یا اللہ! ہم پر سکینہ نازل فرمائیے اور جنگ میں ہمیں ثابت قدمی عطاء فرمائیے…

اب آخری شعر ملاحظہ فرمائیں…جو اس منظر کی ’’جان ‘‘ ہے

اِنَّ الْاُلٰی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا

اِذَا اَرَادُوْا فِتْنَۃً اَبَیْنَا

یہ ہمارے دشمن ہم پر ظلم کرنے کو چڑھ آئے ہیں…یہ اگر ہمیں فتنہ میں ڈالنا چاہتے ہیں… یعنی ہمیں اپنے دین سے ہٹانا چاہتے ہیں تو ہماری طرف سے صاف انکار ہے…

شعر کے آخری الفاظ…اَبَیْنَا اَبَیْنَا کو آپ ﷺبلند آواز سے پڑھتے کہ…اے دین کے دشمنو! ہم تمہارے دباؤ میں آنے سے انکار کرتے ہیں…انکار کرتے ہیں…انکار کرتے ہیں … ہم دین چھوڑنے اور فتنہ میں پڑنے سے انکار کرتے ہیں…انکار کرتے ہیں…اے دین کے دیوانو! کہہ دو:

اَبَیْنَا اَبَیْنَا

سبحان اللہ! کیسا عزت و غیرت والا منظر ہے

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیماکثیراکثیرا

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭